’’کیا میں اپنی زندگی کی کہانی کو لیکر آپ پر بھروسہ کر سکتی ہوں؟‘‘
اتنا سیدھا اور چیلنج بھرا سوال آپ سے شاید ہی کبھی پوچھا گیا ہو۔ اور سوال کرنے والے کے پاس اسے پوچھنے کی معقول وجہ تھی۔ جیسا کہ تمل ناڈو کے وِلّوپورم ضلع کے ایک چھوٹے سے گاؤں کی جننی (بدلا ہوا نام)، اپنی زندگی کی کہانی کے بارے میں کہتی ہیں: ’’تپ دق نے اسی پوری طرح سے بدل دیا ہے۔‘‘
ان کی شادی کو ڈیڑھ سال ہی ہوئے تھے اور ان کا ایک چار مہینے کا بیٹا تھا جب وہ ٹی بی میں مبتلا ہوئیں۔ ’’یہ مئی ۲۰۲۰ کی بات ہے۔ اس سے تقریباً ایک مہینہ قبل مجھے اس کی علامات [طویل مدتی کھانسی اور بخار] تھیں۔‘‘ جب تمام باضابطہ ٹیسٹ ناکام ہو گئے، تو ڈاکٹروں نے انہیں ٹی بی کا ٹیسٹ کرانے کی صلاح دی۔ ’’جب انہوں نے تصدیق کر دی کہ یہ تپ دق ہی ہے، تو میں ٹوٹ گئی۔ یہ میرے کسی بھی شناسا کو نہیں ہوا تھا، اور میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ یہ مجھے ہو جائے گا۔
’’میرے گاؤں میں اس بیماری کو رسوائی کا سبب مانا جاتا ہے، ایک ایسا مرض جو تمام سماجی رشتوں کو ختم کر دیتا ہے – کہ یہ مجھے بھی ہو سکتا ہے!‘‘
اُس دن سے، ۲۷ سالہ جننی کے شوہر جو کبھی اُن سے بہت محبت کرتے تھے، انہیں اس بیماری کے لیے لگاتار طعنہ دینے لگے کہ وہ انہیں بھی متاثر کر سکتی ہیں۔ ’’وہ مجھے زبانی اور جسمانی اذیت دیتے تھے۔ ہماری شادی ہونے کے ایک سال بعد ہی ان کی ماں کا انتقال ہو گیا تھا – کیوں کہ انہیں پہلے سے ہی گردے سے متعلق بیماری تھی۔ لیکن میرے شوہر کہنے لگے کہ ان کی موت میری وجہ سے ہوئی ہے۔‘‘
اگر اُس وقت کسی کو سب سے زیادہ خطرہ تھا، تو وہ خود جننی تھیں۔
تپ دق یا ٹی بی اب بھی ہندوستان میں سب سے مہلک بیماریوں میں سے ایک ہے۔










