اس نے رات کا کھانا ختم کر لیا تھا لیکن ٹیلی ویژن سیٹ پر نہ جانے کا فیصلہ کیا، جیسا کہ وہ ہر دن کرتی تھی۔ بچوں نے آج رات چاول کے ساتھ شیزوان چٹنی والی سبزیاں مانگی تھیں۔ سبزی فروش کے پاس آج صبح لال یا پیلی شملا مرچ نہیں تھی۔ ’’منڈی بند کر دیا، میڈم۔ لاک ڈاؤن تو ہے ہی، اوپر سے کرفیو۔ سبزی کہاں سے لائیں؟ یہ سب بھی ابھی کھیت سے لے کر آتے ہیں،‘‘ اس نے پشیمانی کا اظہار کیا، جب عورت نے اس سے شکایت کی کہ وہ ٹھیلے پر روزانہ وہی پرانی سبزیاں لے کر آتا ہے۔
اس کے بعد اس نے کچھ دیر کے لیے اپنی زندگی کی پریشانیوں کے بارے میں بتانا شروع کر دیا تھا، لیکن عورت نے اس کی بات کو سننا بند کر دیا۔ اس کا دماغ اس تخلیقیت پر تھا جس کی ضرورت بچوں کی مانگ کے مطابق رات کا کھانا پکانے میں ہوگی۔ دن ختم ہونے پر وہ چینی-تھائی شوربے کے ساتھ کوک کے اپنے خیال سے خوش تھی جس نے بچوں کو مطمئن کر دیا۔ لیکن وہ ان دنوں ٹیلی ویژن دیکھنے سے خوش نہیں تھی۔
اسے سب سے زیادہ نفرت نیوز چینلوں سے تھی۔ اسکرین پر ایک ہی تصویریں بار بار دکھائی جاتی ہیں۔ جھگیوں میں پانی کے بنا غریب لوگ، تحفظاتی لباس کے بغیر صفائی ملازمین، اور اس سے بھی بدتر – اپنے گھر لوٹ رہے لاکھوں بھوکے مہاجر مزدور جو آدھے راستے میں پھنسے ہوئے ہیں، یا شہروں میں پھنسے ہوئے ہیں، بنا طبی دیکھ بھال اور کھانے کے مر رہے ہیں، کچھ خودکشی کر رہے ہیں، اور کئی احتجاج کر رہے ہیں، مطالبہ کر رہے ہیں، سڑکوں پر ہنگامہ کر رہے ہیں۔
کب تک کوئی دیمک کے پاگل ہو جانے کا تماشہ دیکھ سکتا ہے؟ وہ وہاٹس ایپ پر جاتی ہے، جہاں ایک گروپ میں سہیلیاں نئے نئے پکوان کے ہنر دکھا رہی ہیں۔ وہ ڈنر ٹیبل سے اپنی خود کی ایک تصویر ڈالتی ہے۔ ایک دوسرے گروپ میں، لوگ ممبئی میں بریچ کینڈی کلب کے پاس سمندر میں ہنسی مذاق کرتی ڈالفن، نوی ممبئی میں فلیمنگو، کوژی کوڈ میں سڑکوں پر گھومتے ہوئے مالابار مشک بلاؤ، چنڈی گڑھ میں سانبر ہرن کے ویڈیو شیئر کر رہے ہیں۔ اچانک اسے لال چیونٹیوں کی ایک قطار دکھائی دیتی ہے جو اس کے موبائل فون پر رینگ رہی ہیں...



