رشی کیش گھڑگے ۵ اگست کو جاپان میں اپنا اولمپک سلور میڈل لینے کے لیے پوڈیم پر چڑھ رہے پہلوان، روی دہیا کو دیکھ کر جذباتی ہو گئے تھے۔ کافی دنوں کے بعد انہیں خوشیوں سے بھرا اس قسم کا پر لطف نظارہ دیکھنے کو ملا تھا۔
مارچ ۲۰۲۰ میں جب کووڈ۔۱۹ کی شروعات ہوئی، تب سے لیکر اب تک کے ان ۱۸ مہینوں میں مہاراشٹر کے لاتور ضلع کے ۲۰ سالہ پہلوان، رشی کیش مایوسی کے شکار ہیں۔ اور ایسا نہیں لگتا کہ مستقبل قریب میں یہ حالت بہتر ہونے والی ہے۔ وہ کہتے ہیں، ’’مایوسی بھرا ماحول ہے۔ ایسا لگ رہا ہے کہ وقت میرے ہاتھ سے نکلتا جا رہا ہے۔‘‘
معنی خیز مسکراہٹ کے ساتھ وہ سب سے بنیادی مسئلہ اٹھاتے ہیں: ’’کُشتی اور جسمانی فاصلہ پر ایک ساتھ کیسے عمل کیا جا سکتا ہے؟‘‘
خود کو خوش رکھنے کے لیے، رشی کیش نے عثمان آباد شہر کے مضافات میں واقع پہلوانوں کی ایک اکادمی، ہٹلئی کُشتی سنکُل میں اپنے دوستوں کے ساتھ ٹوکیو ۲۰۲۰ اولمپکس دیکھا۔ ۸ اگست کو جب ان کھیلوں کا اختتام ہوا، تو ہندوستان کی جھولی میں سات تمغے آئے – جن میں سے دو کُشتی کو ملے تھے۔
دہیا کو سلور میڈل اور بجرنگ پونیا کو برونز میڈل بالترتیب مردوں کی ۵۷ کلو اور ۶۵ کلو کے زمرہ کی فری اسٹائل کشتی میں ملے – جس نے غریب گھروں سے تعلق رکھنے والے رشی کیش جیسے پہلوانوں کو کافی حوصلہ بخشا ہے۔ ۲۳ سالہ دہیا ہریانہ کے نہری گاؤں کے ایک بٹائی دار کسان کے بیٹے ہیں۔ سلور میڈل جیتنے کے بعد دہیا نے ٹوکیو میں پریس ٹرسٹ آف انڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی فیملی نے انہیں کامیاب دیکھنے کے لیے کافی قربانیاں دی ہیں۔ لیکن ان کے گاؤں میں بنیادی سہولیات کی کمی ہے، جب کہ یہ گاؤں ابھی تک تین اولمپک کھلاڑی پیدا کر چکا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’اسے ہر ایک چیز کی ضرورت ہے... اچھے اسکولوں سے لیکر کھیل کی تمام سہولیات تک۔‘‘












