بالاجی ہٹگلے ایک دن گنّے کی کٹائی کر رہے تھے۔ اگلے دن ان کا کوئی پتہ نہیں تھا۔ ان کے ماں باپ افسوس کرتے ہیں کہ کاش انہیں کچھ پتہ ہوتا۔ ان کے والد، بابا صاحب ہٹگلے کہتے ہیں، ’’غیر یقینی کی حالت ہمیں جینے نہیں دے رہی ہے۔‘‘ جولائی کی ایک دوپہر میں جب آسمان میں بادل گھر آئے تھے، تو ان کے ایک کمرے کے اینٹ کے گھر پر منڈلا رہے گہرے سیاہ بادلوں کا سایہ ان کی زندگی میں دبے پاؤں گھُس آئے اندھیرے کو جیسے اور گاڑھا کر رہا تھا، ان کی کانپتی ہوئی آواز جیسے نا امیدی بھری اداسی کو کہانی کی طرح بیان کرتی ہے، ’’کاش! کہیں سے ہمیں صرف یہ بات ہی معلوم ہو جاتی کہ وہ زندہ بھی ہے یا نہیں۔‘‘
بابا صاحب اور ان کی بیوی سنگیتا نے سال ۲۰۲۰ کے نومبر مہینہ میں کسی روز اپنے ۲۲ سالہ بیٹے کو آخری بار دیکھا تھا۔ بالاجی مہاراشٹر کے بیڈ ضلع کے کاڈی وڈ گاؤں واقع اپنے گھر سے کرناٹک کے بیلگاوی ضلع (یا بیلگام) میں گنے کے کھیتوں میں کام کرنے کے لیے آئے تھے۔
وہ اُن لاکھوں سیزنل مہاجر مزدوروں میں سے ایک تھے جو مراٹھواڑہ سے گنے کی کٹائی کے کام کے لیے سال میں ۶ مہینے کے لیے مغربی مہاراشٹر اور کرناٹک جاتے ہیں۔ ہر سال دیوالی کے ٹھیک بعد نومبر مہینہ میں مزدوروں کا یہ دستہ کام کے سلسلے میں اپنا گاؤں چھوڑ کر جاتا ہے اور مارچ یا اپریل تک واپس لوٹتا ہے۔ لیکن اس سال کی واپسی میں بالاجی اپنے گھر نہیں پہنچے۔
ایسا پہلی بار تھا کہ بالاجی اس کام کے سلسلے میں اپنے گھر سے نکلے تھے جسے ان کے ماں باپ تقریباً دو دہائیوں سے کرتے آ رہے تھے۔ بابا صاحب بتاتے ہیں، ’’میری بیوی اور میں تقریباً ۲۰ سالوں سے مہاجر مزدور کے طور پر گنّے کی کٹائی کا کام کر رہے ہیں۔ ایک سیزن میں ہماری ۶۰ سے ۷۰ ہزار روپے تک کی کمائی ہو جاتی ہے۔ یہی ہماری آمدنی کا واحد ذریعہ ہے۔ عام دنوں میں بھی بیڈ میں دہاڑی مزدوری کا کام ملنا کوئی پکا نہیں ہوتا اور کووڈ وبائی مرض کے بعد اس کا امکان اور بھی کم ہو گیا ہے۔
فیملی کے لیے وبائی مرض کے دوران کھیتوں میں اور تعمیراتی مقاماتپر دہاڑی مزدوری کا کام پانا بے حد مشکل رہا ہے۔ بالا صاحب کہتے ہیں، ’’سال ۲۰۲۰ میں مارچ سے نومبر تک ہماری نہ کے برابر کمائی ہوئی۔‘‘ کووڈ۔۱۹ وبائی مرض سے پہلے جب وہ بیڈ ضلع کے وڈونی تعلقہ واقع اپنے گاؤں میں ہوتے تھے، تب ان مہینوں میں بابا صاحب عام طور پر ہفتہ میں ۳-۲ دن کام کرتے تھے اور کام کے بدلے روزانہ انہیں ۳۰۰ روپے ملتے تھے۔
پچھلے سال نومبر میں جب ایک بار پھر سے کام کے لیے مہاجرت کرنے کا وقت آیا تو بابا صاحب اور سنگیتا نے گھر پر ہی رکنے کا فیصلہ کیا، کیوں کہ بابا صاحب کی بوڑھی ہو چکی ماں کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی اور انہیں ہر وقت دیکھ بھال کی ضرورت تھی۔ بابا صاحب کہتے ہیں، ’’لیکن اپنا پیٹ پالنے کے لیے ہمیں کچھ تو کرنا ہی تھا۔ اس لیے ہماری جگہ ہمارا بیٹا گیا۔‘‘









