وہ بولنا شروع کرتی ہیں، لیکن بیچ میں ہی رک جاتی ہیں۔ گہری سانس لینے کے بعد دوبارہ کوشش کرتی ہیں۔ لیکن اُن کی آواز لڑکھڑاتی ہے۔ وہ نیچے دیکھتی ہیں، اور ان کی ٹھڈی کانپنے لگتی ہے۔ انیتا سنگھ تقریباً ایک سال سے بڑی بہادری سے زندگی کا سامنا کر رہی ہیں۔ لیکن ان کے شوہر کی یاد انہیں غمگین کر دیتی ہے۔ ۳۳ سالہ انیتا سنگھ کہتی ہیں، ’’ہماری ایک چھوٹی سی خوشحال فیملی تھی۔ شوہر ہی ہماری طاقت اور سہارا تھے۔‘‘
انیتا کے شوہر، ۴۲ سالہ جے کرن سنگھ، اتر پردیش کے بلند شہر قصبہ سے ۲۰ کلومیٹر دور لکھاوٹی گاؤں کے ایک پرائمری اسکول میں ٹیچر تھے۔ انہیں اپریل ۲۰۲۱ کے پہلے ہفتہ میں کووڈ۔۱۹ کی علامتیں نظر آنی شروع ہوئی تھیں۔ جب ہم شہر میں انیتا سے ان کے گھر پر ملے، تو انہوں نے بتایا، ’’انہیں کھانسی، سردی اور بخار تھا۔ جب دوسری لہر چل رہی تھی، تب بھی ٹیچروں کو اپنے اسکول جانے کے لیے کہا گیا تھا۔ انہیں اُن دنوں میں ہی کورونا ہوا ہوگا۔‘‘
۲۰ اپریل، ۲۰۲۱ کو جے کرن کورونا وائرس سے متاثر پائے گئے۔ جب ان کی سانس پھولنے لگی، تو شہر کے کسی بھی اسپتال میں آکسیجن بیڈ (بستر) دستیاب نہیں تھا۔ انیتا یاد کرتی ہیں، ’’میں نے کئی اسپتالوں سے مدد مانگی، لیکن انہوں نے صاف منع کر دیا۔ ہم نے کئی فون گھمائے، کیوں کہ ان کی طبیعت بہت بگڑ رہی تھی۔ لیکن کہیں سے کوئی مدد نہیں ملی۔ ہمیں ان کا علاج گھر پر ہی کرنا پڑ رہا تھا۔‘‘
ایک مقامی ڈاکٹر نے جے کرن کے بخار اور کھانسی کا علاج کیا۔ انیتا کے اہل خانہ نے کسی طرح آکسیجن سیلنڈر کا انتظام کیا۔ انیتا کہتی ہیں، ’’ہمیں یہ بھی نہیں معلوم تھا کہ اس کا استعمال کیسے کرنا ہے۔ اس کا پتہ ہمیں خود ہی لگانا تھا۔ لیکن ہم اسپتالوں میں بستر کی تلاش کرتے رہے۔‘‘
وبائی مرض نے ظاہر کر دیا کہ ہندوستان میں صحت عامہ کا بنیادی ڈھانچہ کس حد تک کمزور ہے، خاص کر گاؤوں اور چھوٹے قصبوں میں۔ اگر صحت کے شعبہ میں ملک کے عوامی خرچ کو ذہن میں رکھا جائے، جو کہ (۱۶۔۲۰۱۵ میں) گھریلو مجموعی پیداوار (جی ڈی پی) کا صرف ایک اعشاریہ صفر دو (۰۲ء۱) فیصد رہا ہے، تو لوگوں کے لیے سہارے کی کوئی امید نہیں بچتی۔ نیشنل ہیلتھ پروفائل ۲۰۱۷ کے مطابق، ملک میں ۱۰ ہزار ۱۸۹ افراد کے لیے صرف ایک سرکاری ایلوپیتھک ڈاکٹر موجود تھا، اور ہر ۹۰ ہزار ۳۴۳ لوگوں کے لیے صرف ایک عوامی اسپتال تھا۔







