سنیل گپتا گھر سے کام نہیں کر سکتے۔ اور ان کا ’آفس‘، یعنی گیٹ وے آف انڈیا، لاک ڈاؤن کے سبب گزشتہ ۱۵ مہینے کی طویل مدت سے لوگوں کے لیے بند ہے۔
’’یہ ہمارے لیے دفتر ہے۔ اب ہم کہاں جائیں؟‘‘ وہ جنوبی ممبئی کی اس تاریخی عمارت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں۔
لاک ڈاؤن سے پہلے، سنیل صبح ۹ بجے سے رات کے ۹ بجے تک اس مقبول سیاحتی مقام پر اپنے کیمرے کے ساتھ تصویریں کھنچوانے والوں کا انتظار کیا کرتے تھے۔ لوگ جیسے ہی گیٹ وے کی طرف جانے والے چیک پوائنٹ کو پار کرتے تھے، وہ اور وہاں انتظار کر رہے دیگر فوٹوگرافرز فوری طور پر کلک اور پرنٹ کیے گئے البم دکھا کر ان کا خیر مقدم کرتے، اور ان سے کہتے: ’ایک منٹ میں فُل فیملی فوٹو‘ یا ’ایک فوٹو پلیز۔ صرف ۳۰ روپے میں‘۔
ممبئی میں اس سال وسط اپریل میں، کووڈ۔۱۹ کے معاملوں میں تیزی سے اضافہ ہونے کے بعد وہاں نئی پابندیاں عائد کر دی گئی تھیں۔ اس کی وجہ سے ان فوٹوگرافروں کا کام دوبارہ بہت کم ہو گیا۔ ’’میں یہاں صبح سویرے آیا تو دیکھا کہ یہاں ’نو انٹری‘ (داخلہ ممنوع) کا بورڈ لگا ہوا ہے،‘‘ ۳۹ سالہ سنیل نے اپریل میں مجھے بتایا تھا۔ ’’ہم آمدنی حاصل کرنے کے لیے پہلے ہی جدوجہد کر رہے تھے اور اب ہم گھاٹے [کی کمائی] میں جا رہے ہیں۔ اب میں مزید نقصان برداشت نہیں کر سکتا۔‘‘


















