سبھاش کباڈے اپنی بہن کی موت کے بارے میں بتاتے ہوئے کہتے ہیں، ’’مجھے یہ نہیں معلوم کہ اس کی موت کی وجہ کیا ہے، لیکن میں اتنا ضرور جانتا ہوں کہ اس کی صحیح دیکھ بھال نہیں کی گئی۔‘‘
ضلع کے سول اسپتال میں داخل اُن کی بہن لتا سُروَسے کے انتقال سے ایک رات قبل، ایک ڈاکٹر نے انہیں فوری طور پر دو انجیکشن لگانے کی صلاح دی تھی۔ لہٰذا سبھاش ایک قریبی میڈیکل اسٹور پر پہنچے اور کچھ ہی منٹوں میں انجیکشن لیکر واپس آ گئے۔ لیکن، تب تک ڈاکٹر وہاں سے جا چکے تھے۔
۲۵ سالہ سبھاش بتاتے ہیں، ’’انہیں کئی مریضوں کو دیکھنا تھا، اس لیے وہ دوسرے وارڈ میں چلے گئے۔ میں نے نرس سے کہا کہ وہ میری بہن کو انجیکشن لگا دیں، لیکن انہوں نے لتا کی فائل دیکھ کر کہا کہ اس میں اس انجیکشن کے بارے میں کوئی ذکر نہیں ہے۔ میں نے انہیں بتانے کی کوشش کی کہ یہ انجیکشن انہیں کچھ ہی منٹ پہلے ڈاکٹر نے لانے کو کہا تھا، اسی لیے فائل میں اس کا کوئی ذکر نہیں ہوگا۔‘‘
لیکن نرس نے ان کی بات نہیں سنی۔ جب انہوں نے انجیکشن کو لیکر ان کے ہاتھ پیر جوڑے، تو سبھاش بتاتے ہیں، ’’وارڈ کے انچارج نے سیکورٹی گارڈ کو بلانے کی دھمکی دی۔‘‘ تقریباً ایک گھنٹہ انہی سب میں ضائع ہو گیا، اس کے بعد جاکر مریض کو انجیکشن دیا گیا۔
اگلی صبح، ۱۴ مئی کو لتا کا انتقال ہو گیا۔ وہ ۲۳ اپریل سے ہی اسپتال میں داخل تھیں، جس دن ان کی کورونا رپورٹ پازیٹو آئی تھی۔ بیڈ ضلع میں ایک وکیل کے طور پر کام کرنے والے سبھاش بتاتے ہیں، ’’اس میں صحت یاب ہونے کی علامت نظر آ رہی تھی...‘‘ وہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ اگر وقت رہتے ان کی بہن کو انجیکشن دے دیا جاتا، تو ان کی جان بچائی جا سکتی تھی۔ لیکن انہیں لگتا ہے کہ اسپتال میں ڈاکٹروں کی کمی ہے۔ وہ کہتے ہیں، ’’اس سے مریضوں کی صحت پر برا اثر پڑ رہا ہے۔‘‘
کورونا کی دوسری لہر نے، جس کی شروعات اس سال مارچ میں ہوئی تھی، یہ واضح کر دیا کہ دیہی ہندوستان میں صحت عامہ کے ڈھانچہ پر کتنا بوجھ ہے۔ دیہی علاقوں میں طبی سہولیات کا عالم یہ ہے کہ اسپتالوں میں ملازمین کی کمی، ان پر کام کا دباؤ، اور مریضوں کو صحیح دیکھ بھال نہ مل پانا اتنا عام ہے کہ اس سے لاکھوں لوگوں کی صحت متاثر ہو رہی ہے۔








