’’ایک عام دن میں، میں ۴۰-۵۰ کلومیٹر سائیکل چلاکر پلاسٹک کے سامان بیچتا ہوں، جیسے کہ بالٹیاں اور برتن،‘‘ اے شیو کمار بتاتے ہیں۔ ناگ پٹّینم ضلع کی ایک آدیواسی بستی، اراسُر میں ۳۳ سالہ اس نوجوان کے لیے ایسے دن کی شروعات صبح ۵ بجے ہوتی ہے۔ ان کی اس سائیکل کے چاروں طرف رنگین پلاسٹک کے سامان بندھے ہوتے ہیں، جنہیں وہ اپنا گھر چلانے کے لیے بیچتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ ایک عام دن میں وہ ۳۰۰-۴۰۰ روپے کما لیتے ہیں – جو کہ ان کی چھ رکنی فیملی کا پیٹ بھرنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔
یہ عام دن نہیں ہیں۔
لاک ڈاؤن نے ان کی اس سرگرمی کو روک دیا ہے – اور اسی کے ساتھ، ان کی فیملی کا ذریعہ معاش بھی رک گیا ہے۔ لیکن شیو کمار کووِڈ- ۱۹ بحران کے سیاہ بادلوں میں امید کی ایک کرن دیکھ رہے ہیں۔ ’’اگر وانَوِل نہیں ہوتا، تو ہم بھوکے مر جاتے،‘‘ وہ کہتے ہیں۔
تمل زبان میں ’قوس قزح‘ کو وانَوِل کہتے ہیں۔ اس ضلع کے ناگ پٹّینم بلاک کے سِکّل گاؤں میں پرائمری اسکول کا بھی یہی نام ہے۔ ۲۱ اپریل تک ۴۴ لوگوں میں کورونا وائرس کے معاملے پازیٹو پائے جانے کی وجہ سے، ناگ پٹّینم تمل ناڈو کے کووڈ- ۱۹ ہاٹ اسپاٹ میں شامل ہے۔
یہ اسکول بنیادی طور سے خانہ بدوش قبیلوں کے طلبہ کی نگہداشت کرتا ہے اور یہ – یہاں پر کلاسیں نہیں ہو رہی ہیں تب بھی – ارسُر اور دیگر گاؤوں میں رہنے والوں کے لیے کھانے پینے کی چیزوں کا انتظام کر رہا ہے۔ لاک ڈاؤن کا اثر چونکہ گہرا ہوتا جا رہا ہے، لہٰذا یہ اسکول جن کنبوں کی مدد کر رہا ہے ان کی تعداد بڑھ کر اب ۱۲۲۸ ہو چکی ہے – جن میں سے تقریباً ۱۰۰۰ کا تعلق انتہائی پس ماندہ جماعتوں سے ہے۔ یہاں کے ہزاروں غریب لوگوں کے لیے، یہ اسکول اب غذائی تحفظ کا مرکز ہے۔










