’’ہم فکرمند تھے کہ موت کے بعد ہمارے والد کی آخری رسومات ٹھیک سے ادا نہیں ہو پائیں گی۔‘‘
پنچ ناتھن سبرامنیم کی موت کے دو مہینے بعد، ان کے بیٹے ایس رمیش آج بھی صدمہ کا اظہار کرتے ہیں: ’’کووڈ- ۱۹ کی علامتوں کے بعد جب ہم نے ان کو تنجاور کے سرکاری اسپتال میں داخل کیا، تو ہم نے کبھی یہ نہیں سوچا تھا کہ یہاں سے ہمیں انہیں مردہ حالت میں واپس لے جانا پڑے گا۔‘‘
تعجب کی بات یہ ہے کہ ہندوستانی فوج میں ایک اہم عہدہ پر فائز رہنے کے بعد، ریٹائر ہو چکے ۶۸ سالہ سبرامنیم کسی بڑے مرض میں مبتلا نہیں تھے۔ فوج میں ہونے کی وجہ سے انہیں اپنے اوپر ناز تھا ’’اور انہوں نے اپنی صحت کا اچھی طرح خیال رکھا تھا۔ وہ روزانہ چہل قدمی کرنا کبھی نہیں بھولتے تھے اور اپنی غذا کو لیکر بھی کافی سخت تھے،‘‘ تمل ناڈو کے کُمبکونم قصبہ کے رہائشی، ۴۰ سالہ رمیش بتاتے ہیں۔ ’’ان کو اسپتال میں داخل کراتے وقت بھی، ہم یہی سوچ رہے تھے کہ وہ ٹھیک ہو جائیں گے۔‘‘
لیکن ۱۴ اگست کو جب سبرامنیم کا انتقال ہو گیا، تو رمیش اور ان کی فیملی کے دیگر لوگ کافی پریشان ہوئے – اور ان کی یہ پریشانی صرف اس لیے نہیں تھی کہ انہوں نے ان کو کھو دیا تھا۔ وہ یہ دیکھ چکے تھے کہ ریاست میں کووڈ- ۱۹ کے متاثرین کی آخری رسومات کو لیکر کس قسم کا تعصب برتا جاتا ہے اور اس بات کو لیکر کافی فکرمند تھے کہ آگے کیا کیا جائے۔ ’’ہمیں دوستوں اور رشتہ داروں سے زیادہ مدد نہیں ملی،‘‘ رمیش کہتے ہیں۔ ’’یہ بات تو سمجھ میں آتی ہے کیوں کہ کورونا کی وجہ سے موت ہونا بڑی تشویش کا باعث ہے۔‘‘
تبھی غیر متوقع طور پر، ریاست کی ایک غیر سرکاری تنظیم – تمل ناڈو مسلم مونیتر کڑگم (ٹی ایم ایم کے) کی جانب سے بہت ہی عملی مدد حاصل ہوئی۔ سبرامنیم کی موت کے کچھ دیر بعد ہی، ٹی ایم ایم کے کے چھ رضاکار فیملی کی مدد کے لیے وہاں پہنچ گئے – انہوں نے اسپتال میں لاش حاصل کرنے سے لیکر، ان کے ہوم ٹاؤن کُمبکونَم میں عزت کے ساتھ ان کی تدفین (کچھ ہندو برادریاں اپنے مُردوں کو جلانے کی بجائے انہیں دفن کرتی ہیں) کرنے تک میں مدد کی۔
فیملی کے لیے یہ ایک طرح سے حسن اتفاق تھا۔ حالانکہ ٹی ایم ایم کے کے لیے سبرامنیم ان ۱۱۰۰ لوگوں میں سے ایک تھے، جن کی تدفین انہوں نے مارچ کے آخر سے لیکر اب تک تمل ناڈ اور پڈوچیری بھر کے مختلف علاقوں میں کی تھی۔ یہ تدفین مرنے والے کی برادری یا ذات کی پرواہ کیے بغیر کی جاتی ہے – آخری رسومات فیملی کی مذہبی روایات اور خواہشوں کے مطابق ادا کی جاتی ہیں۔ کووڈ- ۱۹ سے ہونے والی تصدیق شدہ موت کے معاملے میں، ٹی ایم ایم کے نے مقامی انتظامیہ کے ضابطوں پر عمل کرتے ہوئے انہیں آٹھ فٹ گہری قبر میں دفن کیا۔









