کورونا وائرس پر اپنی پہلی تقریر میں وزیر اعظم نریندر مودی نے ہمیں تالی، تھالی اور گھنٹی بجاکر بدروحوں کو دور بھگانے کے لیے کہا تھا۔
پھر اپنی دوسری تقریر سے انہوں نے ہم سبھی کو ڈرا دیا تھا۔
انہوں نے اس بارے میں ایک لفظ بھی نہیں کہا کہ آنے والے ہفتوں میں عوام، خاص کر غریب لوگ کھانا اور دیگر ضروری اشیاء تک کیسے پہنچیں گے، جس کی وجہ سے اتنی افراتفری پھیلی، گویا ایسا ہونے ہی والا تھا۔ متوسط طبقہ کے لوگ بڑی تعداد میں دکانوں اور بازاروں میں پہنچنے لگے – ایسا کرنا غریبوں کے بس کی بات نہیں ہے۔ ان مہاجرین کے لیے بھی نہیں، جو شہر چھوڑ کر گاؤوں کی طرف جا رہے ہیں۔ چھوٹے مال فروشوں، گھروں میں کام کرنے والوں، زرعی مزدوروں کے لیے بھی نہیں۔ اُن کسانوں کے لیے بھی نہیں جو ربیع کی فصل کاٹنے کے لائق نہیں ہیں – یا جنہوں نے کاٹ تو لیا ہے لیکن آگے کی کارروائی کو لیکر پھنس گئے ہیں۔ ہزاروں، لاکھوں پس ماندہ ہندوستانیوں کے لیے بھی نہیں۔
وزیر خزانہ کا پیکیج – جس کا اعلان انہوں نے کل، یعنی ۲۶ مارچ کو کیا تھا – اس میں بھی معمولی راحت کی بات کی گئی ہے: پبلک ڈسٹربیوشن سسٹم (عوامی تقسیم کا نظام)، یعنی پی ڈی ایس کے تحت جو ۵ کلو اناج پہلے سے دیا جا رہا ہے، اس میں اضافہ کرتے ہوئے ہر ایک شخص کو ۵ کلو گیہوں یا چاول اگلے تین مہینے تک مفت دیا جائے گا۔ اگر ایسا ہوتا بھی ہے تو – یہ بالکل واضح نہیں ہے کہ کیا پہلے سے ملنے والا یا اب ملنے والا اضافی ۵ کلو اناج مفت ہوگا یا اس کے لیے پیسے دینے ہوں گے۔ اگر اس کے لیے پیسہ دینا پڑا، تو یہ کام نہیں کرے گا۔ اس ’پیکیج‘ کے زیادہ تر عناصر پہلے سے موجود اسکیموں کے لیے مختص رقم ہیں۔ منریگا کی مزدوری میں ۲۰ روپے کا اضافہ ویسے بھی زیر التوا تھا – اور اس میں اضافی دنوں کا کوئی ذکر نہیں ہے؟ اور اگر وہ ایک ہی بار میں زمین پر اترتے ہیں، جب کہ یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ کام کس قسم کا ہوگا، تو سماجی دوری (سوشل ڈسٹینسنگ) بنائے رکھنے کے پیمانہ کو وہ کیسے پورا کریں گے؟ اتنے بڑے پیمانے پر کام مہیا کرانے میں جتنے دن لگیں گے، اتنے ہفتوں تک لوگ کیا کریں گے؟ کیا ان کی صحت اس لائق ہوگی؟ ہمیں منریگا کے ہر مزدور اور کسان کو تب تک مزدوری دیتے رہنا چاہیے جب تک یہ بحران برقرار ہے، کوئی کام دستیاب ہو یا نہ ہو۔
پردھان منتری کسان سمّان ندھی (پی ایم-کسان) کے تحت ۲۰۰۰ روپے کا فائدہ پہلے سے ہی تھا اور بقایا تھا – اس میں نیا کیا ہے؟ سہ ماہی کے آخری مہینے میں ادائیگی کرنے کی بجائے، اسے آگے بڑھاکر پہلے مہینے میں کر دیا گیا ہے۔ وزیر خزانہ نے اس وبا اور لاک ڈاؤن (تالا بندی) کے جواب میں جو ۱ء۷ لاکھ کروڑ روپے کے پیکیج کا اعلان کیا ہے، اس میں کہیں پر بھی اس کی ذیلی تفصیلات موجود نہیں ہیں – اس کے نئے اجزاء کیا ہیں؟ اس رقم کا کون سا حصہ پرانی یا موجودہ اسکیموں کا ہے، جنہیں آپس میں جوڑ کر یہ نمبر تیار کیا گیا ہے؟ وہ ناگہانی ترکیبوں کی شکل میں شاید ہی مفید ہیں۔ اس کے علاوہ، پنشنروں، بیواؤں اور معذوروں کو ۱۰۰۰ روپے کی رقم اگلے تین مہینوں تک دو قسطوں میں یک مشت ملے گی؟ اور جن دھن یوجنا کے کھاتہ والی ۲۰ کروڑ عورتوں میں سے ہر ایک کو ۵۰۰ روپے اگلے تین مہینے تک ملیں گے؟ یہ ٹوکن سے بھی بدتر ہے، یہ فحش ہے۔
سیلف ہیلپ گروپس (ایس ایچ جی) کے لیے قرض کی حد بڑھا دینے سے وہ صورتحال کیسے بدل جائے گی، جہاں موجودہ قرض کے پیسے حاصل کرنا پہاڑ کھودنے جیسا ہے؟ اور یہ ’پیکیج‘ دور دراز کے علاقوں میں پھنسے ان بے شمار مہاجر کامگاروں کی کتنی مدد کرے گا، جو اپنے گھر اور گاؤں لوٹنے کی کوشش کر رہے ہیں؟ یہ دعویٰ کہ اس سے مہاجرین کی مدد ہوگی، غیر تصدیق شدہ ہے۔ اگر ناگہانی علاجوں کے سنجیدہ سیٹ کو تیار کرنے میں ناکامی خطرناک ہے، تو وہیں پیکیج کا اعلان کرنے والوں کا رویہ خوف پیدا کرنے والا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ انہیں زمین پر پیدا ہو رہی صورتحال کا اندازہ نہیں ہے۔






