ریکھا کو صرف ۱۰ دن پہلے اس بات کا احساس ہوا کہ اس کے پاس شادی کرنے کے علاوہ اب کوئی دوسرا راستہ نہیں بچا ہے۔ تب اس کی عمر محض ۱۵ سال تھی اور شادی سے بچنے کے لیے وہ جو کچھ کر سکتی تھی اُس نے کیا۔ لیکن اس کے والدین پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑا۔ اس کی ماں، بھاگیہ شری بتاتی ہیں، ’’وہ بہت روئی اور بولی کہ وہ اور پڑھنا چاہتی ہے۔‘‘
بھاگیہ شری اور ان کے شوہر، اَمر دونوں کی عمر ۳۰ سال ہے اور وہ اپنے بچوں کے ساتھ مہاراشٹر کے بیڈ ضلع میں واقع ایک غریب گاؤں میں رہتے ہیں۔ یہ لوگ ہر سال نومبر کے آس پاس گنّے کی کٹائی کرنے کے لیے مغربی مہاراشٹر یا کرناٹک چلے جاتے ہیں۔ کھیتوں میں چھ مہینے تک کڑی محنت کرنے کے بعد دونوں مجموعی طور پر ۸۰ ہزار روپے کما لیتے ہیں۔ چونکہ ان کے پاس خود اپنی کوئی زمین نہیں ہے، اس لیے گنّے کی کٹائی ہی ان کا واحد ذریعہ معاش ہے۔ اس فیملی کا تعلق متنگ ذات سے ہے، جو کہ ایک دلت برادری ہے۔
ماں باپ جب گنّے کے کٹائی کے لیے باہر چلے جاتے، تو ریکھا اپنے ۱۲ اور ۸ سال کی عمر کے بھائی بہنوں کے ساتھ دادی کی نگرانی میں رہتی تھیں (جن کا پچھلے سال مئی میں انتقال ہو گیا)۔ یہ سارے بھائی بہن اپنے گاؤں کے باہر موجود ایک سرکاری اسکول میں پڑھتے تھے۔ لیکن، مارچ ۲۰۲۰ میں جب وبائی مرض کے سبب اسکول بند ہو گیا، تو ۹ویں کلاس کی طالبہ ریکھا کو گھر پر ہی رہنا پڑا۔ بیڈ ضلع کے تمام اسکول ابھی بھی بند ہیں، جب کہ انہیں بند ہوئے ۵۰۰ سے زیادہ دن ہو چکے ہیں۔
بھاگیہ شری کہتی ہیں، ’’ہمیں لگا کہ اسکول اب جلدی کھلنے والے نہیں ہیں۔ اسکول جب کھلا ہوتا تھا تو اساتذہ اور بچوں کی چہل پہل رہتی تھی۔ گاؤں مصروف رہتا تھا۔ لیکن اسکول بند ہو جانے کی وجہ سے، ہم اسے چھوڑ کر کہیں نہیں جا سکتے تھے کیوں کہ ہم اس کی سلامتی کو لیکر فکرمند تھے۔‘‘
لہٰذا، بھاگیہ شری اور امر نے پچھلے سال جون میں ریکھا کی شادی ۲۲ سال کے آدتیہ کے ساتھ کر دی۔ آدتیہ کے ماں باپ ۳۰ کلومیٹر دور واقع ایک گاؤں میں رہتے تھے اور وہ بھی موسمی مہاجر مزدور تھے۔ نومبر ۲۰۲۰ میں، جب گنّے کی کٹائی کا موسم شروع ہونے والا تھا، ریکھا اور آدتیہ ہجرت کرکے مغربی مہاراشٹر چلے گئے – اور ان کے پیچھے، اسکول کے رجسٹر میں صرف ریکھا کا نام رہ گیا۔
وبائی مرض کی وجہ سے ریکھا اور ان سے چھوٹی عمر کی لڑکیوں کو شادی کرنے کے لیے مجبور کیا جا رہا ہے۔ یونیسیف کے ذریعے مارچ ۲۰۲۱ میں جاری کی گئی ایک رپورٹ بعنوان کووڈ۔۱۹: کم عمری کی شادی کے خلاف ہونے والی پیش رفت کے لیے ایک خطرہ میں متنبہ کیا گیا ہے کہ اس دہائی کے اختتام تک، عالمی سطح پر مزید ۱۰ ملین (یعنی ایک کروڑ) لڑکیوں کو کم عمری میں ہی دلہن بننے کا خطرہ لاحق ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسکولوں کے بند ہونے، غریبی کے بڑھنے، والدین کی موت اور کووڈ۔۱۹ کے سبب اس قسم کے دیگر اسباب کی بناپر، پہلے سے ہی خستہ حالی کی زندگی بسر کر رہی لاکھوں لڑکیاں مزید مشکلوں میں پھنس گئی ہیں۔‘‘
یونیسیف کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ گزشتہ ۱۰ برسوں کے دوران عالمی سطح پر اُن نوجوان عورتوں کا تناسب ۱۵ فیصد گھٹا ہے جن کی شادی کم عمری میں ہوئی تھی، جب کہ تقریباً ۲۵ ملین (ڈھائی کروڑ) کم عمر لڑکیوں کی شادی کو روکا گیا ہے۔ وبائی مرض مہاراشٹر تک میں، حالیہ برسوں کے دوران ہونے والی پیش رفت کے لیے ایک خطرہ بن گیا ہے۔








