وجے کوریتی اور ان کے دوستوں کو جب کوئی حل نظر نہیں آیا، تو انہوں نے پیدل ہی گھر جانے کا فیصلہ کیا۔
یہ ماہ اپریل کا وسط تھا۔ کووڈ- ۱۹ کے پیش نظر ملک بھرمیں سخت لاک ڈاؤن نافذ کردیا گیا تھا۔ وہ حیرت زدہ تھے کہ کب تک گھر سے دور عارضی جھگیوں میں پھنسے رہیں گے۔
’’گھر جانے کی کوشش کر رہے میرے دوستوں کوپولیس نے دو مرتبہ بیچ راستےمیں روکا اور انہیں واپس بھیج دیا،‘‘ کوریتی یاد کرتے ہیں۔ ’’لیکن یکے بعد دیگر وہ سبھی پیدل چلتے ہوئے گھر کے لیے روانہ ہو گئے۔‘‘
دوستوں کا یہ گروپ، جن کے پاس جی پی ایس والے اسمارٹ فون نہیں تھے، ممکنہ راستے پر چل پڑا تھا۔
تلنگانہ کے کومارام بھیم ضلع کا سِرپور– کاغذ نگر، جہاں وہ کپاس کی مِل میں کام کرتے تھے، حیدرآباد– ناگپور ریلوے لائن کے تحت آتا ہے۔
یہاں سے اگر وہ پٹریوں کے ساتھ چلتے، تو مہاراشٹر کے گونڈیا ضلع کی ارجنی مورگاؤں تحصیل میں واقع ان کے گاؤں، زاشی نگر تک کا فاصلہ ۷۰۰ سے ۸۰۰ کلومیٹر ہوتا۔ یہ بھلے ہی تھکا دینے والا تھا، لیکن کوشش کی جا سکتی تھی۔ اور ریلوے لائنوں کے ساتھ چلنے پر پولیس کے ذریعہ پکڑے جانے کا امکان کم تھا۔
اور اس لیے، ملک بھر کے لاکھوں مہاجر مزدوروں کی طرح، ۳۹ سالہ کوریتی، ایک گونڈ آدیواسی جن کے پاس ایک ایکڑ زمین ہے – اور زاشی نگر سے تعلق رکھنے والے دیگر – کاغذ نگر سے اُس مشکل راستے پر چل پڑے، جس کے ذریعہ انہیں اپنے اہل خانہ تک پہنچنے میں ۱۳ راتیں اور ۱۴ دن لگے۔
یہ فاصلہ ٹرین یا بس سے آدھے دن میں طے ہو سکتا تھا۔ لیکن وہ اسے پیدل طے کر رہے تھے۔












