’’مقدس دھواں!‘‘ صبح کی فلٹر کافی کا کپ نیچے رکھتے ہوئے اس نے کہا۔ اب وہ دونوں ہاتھوں سے اپنا فون پکڑے ہوئے، اسے اپنے شوہر کے لیے اونچی آواز میں پڑھتی ہے، جو اپنے دفتر کے ای میل میں مصروف تھا: ’’مہاراشٹر میں اورنگ آباد کے پاس مال گاڑی کے ذریعے ۱۶ مہاجر مزدور کچل دیے گئے – تم نے یہ دیکھا؟ کیا تماشہ چل رہا ہے؟‘‘ خاموشی چھا جانے سے ایک منٹ پہلے کافی اتنی ٹھنڈی ہو چکی تھی کہ اس کی چسکیاں لیتے ہوئے آگے کی باقی اسٹوری پڑھی جا سکے۔ ’’ہے بھگوان! اتنے سارے لوگ – اور وہ سبھی کہاں سے آئے تھے؟‘‘ پہلے کے مقابلے اس بار اس کی آواز میں حیرت زیادہ تھی۔
’’وہ بتا رہے ہیں کہ اس گروپ کے کچھ لوگ امریا کے تھے۔ منو، کیا ہم پچھلے دسمبر میں اس جگہ پر نہیں گئے تھے؟‘‘ اس چھٹی کے ذکر نے کم بخت ای میل میں دوبارہ مصروف ہونے سے پہلے اسے تھوڑی دیر کے لیے اوپر دیکھنے اور اس کا دل رکھنے کے لیے مجبور کیا۔ ’’ہاں،‘‘ اس نے کہا۔ ’’باندھو گڑھ نیشنل پارک۔ مدھیہ پردیش کے سب سے پس ماندہ ضلعوں میں سے ایک میں۔ کوئی حیرانی کی بات نہیں ہے کہ یہ لوگ کام کی تلاش میں اتنا دور چل کر جالنہ آئے ہوں گے۔ لیکن پٹریوں پر سونا؟ وہ اتنے بیوقوف بھی ہو سکتے ہیں؟‘‘
’’اوہ، کافی خوبصورت تھا،‘‘ ایسا لگ رہا تھا کہ وہ کسی اور سیارے پر پہنچ گئی ہے، ‘‘شیش شیا یاد ہے؟ وشنو کی وہ عظیم مورتی اور سال کے سرسبز جنگلات سے گھرے ہوئے جھرنے... لاک ڈاؤن ختم ہونے پر ہمیں وہاں دوبارہ جانا چاہیے...‘‘



