مجھے آج بھی وہ دن یاد ہے۔ اپنی ماں کے بغل میں ایک کمبل میں گھُسا، میں ان کی کہانی سن رہا تھا – ’’اور سدھارتھ نے زندگی کے حقیقی معنی کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑ دیا،‘‘ وہ بولیں۔ پوری رات بارش ہوتی رہی، ہمارے کمرے سے زمین کی بدبو آ رہی تھی، موم بتی سے نکلنے والا کالا دھواں چھت کو چھونے کی کوشش کرتا رہا۔
’’سدھارتھ کو اگر بھوک لگی تب کیا ہوگا؟‘‘ میں نے پوچھا۔ میں کتنا بیوقوف تھا؟ سدھارتھ کے لیے تو بھگوان ہیں۔
پھر، ۱۸ سال بعد، میں اسی کمرے میں واپس آیا۔ بارش ہو رہی تھی – بوندیں کھڑکی کے شیشوں پر ٹپک رہی تھیں۔ میرے بغل میں ایک کمبل میں لپٹی، میری ماں خبر سن رہی تھیں۔ ’’۲۱ دن قبل لاک ڈاؤن کی شروعات کے بعد سے اب تک ہندوستان کے بڑے شہروں سے پانچ لاکھ مہاجرین اپنے گاؤوں جا چکے ہیں۔‘‘
وہی سوال آج بھی بنا ہوا ہے: اگر انہیں بھوک لگی تب کیا ہوگا؟



