جب وکرم اس رات گھر واپس نہیں لوٹے تو ان کی ماں پریہ کو ان کی فکر نہیں ہوئی تھی۔ وہ کما ٹھی پورہ کی ایک دوسری گلی میں ایک گھر والی کے یہاں کام کر رہے تھے اور عام طور پر ۲ بجے رات کو گھر واپس لوٹتے تھے یا اگر وہیں سو گئے تو کبھی کبھی اگلی صبح کو ہی واپسی ہوتی تھی۔
پریہ نے انہیں کال کرنے کی کوشش کی، لیکن کوئی جواب نہیں ملا۔ جب اگلے دن ۸ اگست کی شام کو بھی وہ واپس نہیں لوٹے، تو پریہ کو ان کی فکر ستانے لگی۔ انہوں نے وسطی ممبئی کے نزدیکی ناگپاڑہ پولیس اسٹیشن میں گم شدہ افراد کی شکایت درج کرائی۔ اگلی صبح پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج کی جانچ شروع کردی۔ پریہ کہتی ہیں، ’’اسے ممبئی سینٹرل کے ایک فٹ برج کے نزدیک ایک مال کے پاس دیکھا گیا تھا۔‘‘
اب پریہ کی تشویش بڑھنے لگی تھی۔ وہ سوچ رہی تھیں، ’’اگر کوئی اسے اٹھا لے جائے تو کیا ہوگا؟ کیا اسے یہ نئی بیماری [کووڈ] لگ گئی ہے؟ اس علاقے میں کسی کے ساتھ کچھ بھی ہو جائے کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا ہے۔‘‘
وکرم نے خود ہی سفر کا انتخاب کیا تھا۔ اس کی تیاری انہوں نے پہلے سے کر رکھی تھی۔ اپنی عمر کا ۳۰ سال گزار چکیں ان کی ماں ایک سیکس ورکر ہیں۔ لاک ڈاؤن کے دوران وہ کوئی کام نہیں کر سکتی تھیں۔ وکرم اپنی ماں کی خستہ ہوتی مالی حالت اور بڑھتے ہوئے قرضوں کا بوجھ دیکھ رہے تھے۔ ان کی نو سالہ بہن رِدھی مدن پورہ کے قریبی علاقے میں واقع اپنے ہاسٹل سے گھر واپس آگئی تھیں۔ کنبے کا گزارہ غیر سرکاری اداروں (این جی او) کی جانب سے تقسیم کردہ راشن کے تھیلوں پر ہو رہا تھا۔ (اس اسٹوری کے تمام نام تبدیل کر دیے گئے ہیں۔)
۱۵ سالہ وکرم بھائیکھلا کے جس میونسپل اسکول میں پڑھتے تھے اسے مارچ میں لاک ڈاؤن کے ساتھ ہی بند کر دیا گیا تھا۔ چنانچہ انہوں نے چھوٹے موٹے کام کرنے شروع کر دیے۔
کھانا بنانے میں استعمال ہونے والے کیروسین تیل کے لیے اس کنبہ کو روزانہ ۶۰ سے ۸۰ روپے کی ضرورت ہوتی تھی۔ انہیں کماٹھی پورہ میں اپنے چھوٹے سے کمرے کا کرایہ ادا کرنے میں دشواریوں کا سامنا تھا۔ دوائیں خریدنے اور پرانے قرضوں کی ادائیگی کے لیے رقم کی ضرورت تھی۔ پریہ اپنے گاہکوں اور مقامی افراد سے مزید قرض لیتی رہیں۔ ساہوکار سے لیا گیا قرض سود سمیت بڑھتے بڑھتے ۶۲ ہزار روپے ہو گیا تھا۔ اس کے علاوہ وہ گھر والی (مکان مالکن یا کوٹھے کی میڈم) کو چھ مہینے سے زیادہ عرصہ سے صرف آدھا ہی ادا کر رہی تھیں۔ کمرے کا کرایہ ۶۰۰۰ روپے مہینہ تھا۔ اوپر سے انہوں نے گھر والی سے ۷۰۰۰ روپے ادھار بھی لیے تھے۔











