بجرنگ گائکواڑ کا وزن جیسے ہی پانچ کلو کم ہوا، وہ سمجھ گئے کہ انہیں کافی نقصان ہو چکا ہے۔ وہ بتاتے ہیں، ’’پہلے، میں روزانہ بھینس کا چھ لیٹر دودھ پیتا تھا، ۵۰ بادام، ۱۲ کیلے اور دو انڈے کھاتا تھا – اس کے بعد ہر دوسرے دن گوشت کھاتا تھا۔‘‘ اب، انہیں یہ تمام چیزیں سات دنوں میں یا اس سے بھی زیادہ مدت میں کھانے کو ملتی ہیں – اور ان کا وزن گھٹ کر ۶۱ کلو ہو گیا ہے۔
کولہاپور ضلع کے جونی پرگاؤں کے ۲۵ سالہ پہلوان، بجرنگ کہتے ہیں، ’’پہلوان کا وزن کم نہیں ہونا چاہیے۔ اس سے آپ کمزور ہو سکتے ہیں اور کشتی کے دوران ٹھیک سے لڑ نہیں سکتے۔ ہماری خوراک اتنی ہی اہم ہے جتنی کی ہماری ٹریننگ۔‘‘ دیہی مغربی مہاراشٹر کے اپنے جیسے کئی دوسرے پہلوانوں کی طرح ہی، بجرنگ بھی لمبے عرصے سے اپنی مقوی اور بھاری بھرکم غذا کے لیے کشتی سے حاصل ہونے والے پیسے پر منحصر رہے ہیں۔
لیکن، کولہاپور کے ڈونولی گاؤں میں آخری کُشتی لڑے ہوئے بجرنگ کو اب ۵۰۰ سے زیادہ دن ہو چکے ہیں۔ وہ کہتے ہیں، ’’اتنا لمبا بریک (وقفہ) تو میں نے بہت زیادہ زخمی ہونے پر بھی کبھی نہیں لیا ہے۔‘‘













