صبح کے نو بجے ہیں اور ممبئی کا آزاد میدان نوجوان کرکٹروں کی گہما گہمی سے آباد ہے۔ وہ یہاں کھیلنے کے بہانے اپنا اختتام ہفتہ خوشگوار طریقے سے گزارنے کے لیے جمع ہوئے ہیں۔ کھیل کے جوش کے درمیان کبھی کبھی غصے اور خوشی میں ملی ان کے چیخنے اور چہکنے کی آوازیں صاف سنی جا سکتی ہیں۔

ان سے بمشکل ۵۰ میٹر دور خاموشی کے ساتھ ایک دوسرا ’کھیل‘ بھی جاری ہے، جس میں تقریباً ۵۰۰۰ عورتیں شامل ہیں۔ یہ کھیل نسبتاً لمبے عرصے سے کھیلا جا رہا ہے، اور اس میں داؤ بھی اونچے ہیں۔ ہزاروں کی تعداد میں اکٹھا ہوئی ان منظوری یافتہ سماجی صحت کارکنوں، یعنی آشا طبی ملازمین کو اس کھیل کا کوئی اختتام ہوتا نظر نہیں آ رہا ہے۔ وہ ممبئی کے آزاد میدان میں پچھلے مہینے احتجاج درج کرانے کے لیے اکٹھا ہوئی تھیں۔ گزشتہ ۹ فروری سے شروع ہوئے اس احتجاجی مظاہرہ کے پہلے ہفتے میں ہی ۵۰ سے زیادہ خواتین کو اسپتال میں داخل کرانا پڑا۔

مصروف سڑک سے صاف صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ ۳۰ سال کے آس پاس کی ایک آشا کارکن میدان میں بیٹھی ہیں۔ اپنے ارد گرد دیکھتی ہوئی وہ تھوڑی گھبرائی ہوئی ہیں اور پاس سے گزرتے لوگوں کی نظروں سے بچنے کی کوشش کرتی ہیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے عورتوں کا ایک گروپ انہیں چاروں طرف سے گھیر لیتا ہے اور دوپٹوں اور ایک چادر سے انہیں ڈھانپ لیتا ہے۔ پردے کے اندر وہ تیزی سے اپنے کپڑے بدل لیتی ہیں۔

کچھ گھنٹے بعد کھانے کے وقت دوپہر کی تیز دھوپ کے نیچے آشا کارکن اپنی ساتھی ریٹا چاورے کو گھیر کر کھڑی ہو جاتی ہیں۔ ان سب کے ہاتھوں میں خالی ٹفن باکس، پلیٹ اوریہاں تک کہ بڑے ڈھکن بھی ہیں۔ سبھی تحمل کے ساتھ اپنی باری کا انتظار کر رہی ہیں۔ ریٹا (۴۷) انہیں ایک ایک کر کے گھر کا بنا کھانا پیش کر رہی ہیں۔ ’’میں یہاں دھرنے میں ۸۰ سے ۱۰۰ آشا کارکنوں کو روزانہ کھانا کھلاتی ہوں،‘‘ ریٹا کہتی ہیں۔ وہ تھانے ضلع کے تسگاؤں سے آزاد میدان تک پہنچنے کے لیے ہر دن دو گھنٹے کا سفر کرتی ہیں۔ ان کے ساتھ ۱۷ دیگر آشا کارکن بھی آتی ہیں۔

’’ہم باری باری سے ان کے کھانے کا انتظام کرتے ہیں اور اس کا پورا خیال رکھتے ہیں کہ ایک بھی آشا کارکن بھوکی نہ رہیں۔ لیکن اب ہم بھی خود کو تھکا ہوا اور بیمار محسوس کرنے لگے ہیں۔ ہم اب پست ہو چکے ہیں،‘‘ سال ۲۰۲۴ کی فروری کے آخر میں پاری سے بات کرتے ہوئے وہ کہتی ہیں۔

PHOTO • Swadesha Sharma
PHOTO • Swadesha Sharma

ہزاروں کی تعداد میں اکٹھا ہوئیں منظوری یافتہ سماجی صحت کارکن (آشا) پچھلے مہینے ممبئی کے آزاد میدان میں احتجاجی مظاہرہ کر رہی تھیں۔ ریٹا چاورے اور ۱۷ دیگر آشا کارکن ۲۱ دنوں تک روزانہ کلیان سے آزاد میدان آتی تھیں اور احتجاج کر رہی عورتوں کو کھانا کھلاتی تھیں۔ سال ۲۰۰۶ میں بطور آشا کارکن کام شروع کرنے والی ریٹا (دائیں)، مہاراشٹر کے تسگاؤں میں ۱۵۰۰ سے زیادہ کی آبادی کی دیکھ بھال کرتی ہیں

PHOTO • Swadesha Sharma
PHOTO • Ujwala Padalwar

ریاست کے ۳۶ ضلعوں کی آشا کارکن احتجاجی مظاہرہ کے لیے جمع ہوئی تھیں اور انہوں نے کئی دن اور راتیں دھرنا دیتے ہوئے کاٹیں۔ ان میں سے کئی کو بیمار ہونے کی وجہ سے اسپتال میں داخل کرانا پڑا

جب ۲۱ دن کے بعد، یعنی یکم مارچ کو وزیر اعلیٰ نے اعلان کیا، ’’آشا چی نراشا سرکار کرنار ناہی [حکومت آشا کارکنوں کو مایوس نہیں کرے گی]، تو آشا کارکن آخرکار اپنے گھر لوٹ گئیں۔‘‘ وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے اُس دن صبح کو مہاراشٹر کی ریاستی اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں بول رہے تھے۔

آشا ۷۰ سے بھی زیادہ خدمات فراہم کرنے والی صحت سے متعلق خدمت گاروں کی ایک تنظیم ہے، جس کی رکن صرف عورتیں ہیں۔ انہیں مربوط ترقی اطفال اسکیم (آئی سی ڈی ایس) اور قومی دیہی صحت مشن (این آر ایچ ایم) کے تحت صرف ’رضا کار (والنٹیئر)‘ کے طور پر درج کیا گیا ہے۔ اس لیے ان کے ذریعے فراہم کی جانے والی صحت سے متعلق خدمات کے عوض انہیں جو پیسے دیے جاتے ہیں اسے تنخواہ یا محنتانہ کی جگہ ’اعزازیہ‘ کہا جاتا ہے۔

اعزازیہ کے علاوہ، وہ پی بی پی (کارکردگی پر مبنی ادائیگی یا بھتہ) پانے کی حقدار ہیں۔ این آر ایچ ایم کے مطابق، آشا کارکنوں کو ہمہ گیر ٹیکہ کاری، تولیدی اور بچوں کی صحت (آر سی ایچ) اور دیگر پروگراموں سے متعلق خدمات پر مبنی کارکردگی کے مطابق بھتہ دیا جاتا ہے۔

ظاہر ہے کہ انہیں ملنے والا پیسہ کافی نہیں ہے، جیسا کہ رما منتکر کہتی ہیں، جو خود بھی ایک آشا کارکن ہیں، ’’بن پگاری، فل ادھیکاری [پیسہ نہیں، صرف ذمہ داری]! وہ ہم سے سرکاری ملازمین کی طرح کام کرنے کی امید رکھتے ہیں، لیکن ہمیں پیسے نہیں دینا چاہتے ہیں۔‘‘

وزیر اعلیٰ سے حال ہی میں ملی یقین دہانی اس رپورٹ کے شائع ہونے تک سرکاری تجویز (جی آر) کی شکل میں سامنے نہیں آئی ہے۔ پچھلے کچھ مہینوں میں حکومت کی سطح پر آشا کارکنوں کو ایسی کئی یقین دہانیاں کرائی جا چکی ہیں، لیکن ابھی تک ان وعدوں کو پورا کیا جانا باقی ہے۔

احتجاجی مظاہرہ میں شامل ہزاروں آشا کارکن مہاراشٹر انتظامیہ کو ان کی یقین دہانیوں کی یاد دلانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ تنخواہ میں اضافہ کے بارے میں جی آر جاری کرنے سے متعلق ان کو پہلی یقین دہانی اکتوبر ۲۰۲۳ میں کرائی گئی تھی۔

PHOTO • Ritu Sharma
PHOTO • Ritu Sharma

بائیں: ناگپور کی ون شری پھلبندے ۱۴ سالوں سے آشا کارکن کے طور پر کام کر رہی ہیں۔ دائیں: یوتمال ضلع کی آشا کارکن پریتی کرمنکر (سب سے بائیں) اور انت کلا مورے (سب سے دائیں) کا کہنا ہے کہ انہیں دسمبر ۲۰۲۳ سے کوئی پیسہ نہیں ملا ہے

’’عام لوگ آشا کارکنوں پر اپنی فیملی سے بھی زیادہ یقین کرتے ہیں! محکمہ صحت ہمارے اوپر ہی منحصر ہے،‘‘ یہ کہتی ہوئی ون شری پھلبندے محروم طبقوں تک صحت سے متعلق سہولیات اور خدمات کو پہنچانے میں آشا کارکنوں کے بنیادی کردار کا ذکر کرنا بھی نہیں بھولتی ہیں۔ ’’جب کبھی بھی نئے ڈاکٹروں کی پوسٹنگ ہوتی ہے، وہ پوچھتے ہیں، ’آشا کہاں ہے؟ کیا ہمیں ان کا نمبر ملے گا؟‘‘

ون شری گزشتہ ۱۴ برسوں سے آشا کارکن کے طور پر کام کر رہی ہیں۔ ’’میں نے ۱۵۰ روپے سے شروع کیا تھا…کیا وہ وَن واس کی طرح نہیں ہے؟ جب بھگوان شری رام ۱۴ سالوں کے بعد ایودھیا لوٹے، تو سب نے ان کا پرتپاک خیرمقدم کیا، ہے کہ نہیں؟ آپ ہمارا خیرمقدم مت کیجئے، لیکن کم از کم ہمیں وہ مان دھن [اعزازیہ] تو دیجئے، تاکہ ہم عزت اور ایمانداری کے ساتھ زندہ رہ سکیں؟‘‘ وہ کہتی ہیں۔

ان کا ایک دوسرا مطالبہ بھی ہے کہ انہیں ہر مہینے ان کا اعزازیہ برائے کرم اسی طرح وقت پر دیا جائے، جیسے دوسروں کو ملتا ہے۔ ہر بار انہیں تین مہینے کی تاخیر سے ادائیگی کی جاتی ہے۔

’’اگر ہمیں اسی طرح تاخیر سے ادائیگی کی جاتی رہے گی، ہم کیسے اپنا کام کر پائیں گے؟‘‘ آشا کارکن پریتی کرمنکر پوچھتی ہیں، جو یوتمال کی ضلع نائب صدر (ضلع اُپادھیَکش) بھی ہیں۔ ’’ایک آشا کارکن دوسروں کی خدمت کرتی ہے، لیکن یہ کام وہ اپنا پیٹ بھرنے کے لیے بھی کرتی ہے۔ اگر اسے پیسے نہیں ملیں گے، تو وہ کیسے گزارہ کرے گی؟‘‘

یہاں تک کہ لازمی ورکشاپوں اور محکمہ صحت کے ذریعے منعقد ضلع سطحی میٹنگوں میں شرکت کی خاطر جانے کے لیے ملنے والے سفر کے بھتہ میں بھی تین سے پانچ مہینے کی تاخیر ہونا ایک عام بات ہے۔ ’’ہم نے ۲۰۲۲ سے محکمہ صحت کے ذریعے منعقدہ پروگراموں کی ادائیگی ابھی تک حاصل نہیں کی ہے،‘‘ یوتمال کے کلمب سے آئیں انت کلا مورے کہتی ہیں۔ وہ مزید کہتی ہیں، ’’دسمبر ۲۰۲۳ میں ہم ہڑتال پر تھے۔ انہوں نے جذام (لیپروسی) کا ایک سروے کروانے کے لیے ہم سے ہڑتال ختم کرنے کو کہا۔ لیکن انہوں نے ابھی تک ہماری بقایا ادائیگی نہیں کی ہے۔‘‘ پریتی کہتی ہیں، ’’ہمیں تو ابھی تک پچھلے سال کا پولیو، ہتّی روگ [ہاتھی پاؤں فائلیریا] اور جنت ناشک [ڈی وارمنگ] پروگراموں کے پیسے بھی نہیں ملے ہیں۔‘‘

*****

ریٹا نے ایک آشا کارکن کے طور پر سال ۲۰۰۶ میں ۵۰۰ روپے ماہانہ کے اعزازیہ پر اپنی شروعات کی تھی۔ ’’ابھی مجھے ۶۲۰۰ روپے ہر مہینے ملتے ہیں، جن میں ۳۰۰۰ روپے کی مدد مرکزی حکومت کے ذریعے کی جاتی ہے اور بقیہ پیسے میونسپل کارپوریشن سے آتے ہیں۔‘‘

پچھلے سال، ۲ نومبر ۲۰۲۳ کو ریاست کے وزیر صحت تاناجی راؤ ساونت نے اعلان کیا تھا کہ مہاراشٹر کی ۸۰ ہزار آشا کارکنوں اور ۳۶۶۴ گٹ پرورتکوں (گروپ پروموٹرز) کو بالترتیب ۷۰۰۰ روپے اور ۶۲۰۰ روپے کے اضافہ کے ساتھ ساتھ سبھی کو ۲۰۰۰ روپے کا دیوالی بونس بھی دیا جائے گا۔

PHOTO • Courtesy: Rita Chawre
PHOTO • Swadesha Sharma

وبائی مرض کے دوران، آشا کارکن ایمرجنسی ہیلتھ سروسز کی فراہمی کو یقینی بنانے میں سب سے پہلی قطار میں تھیں۔ ان کی حوصلہ افزائی ’کورونا واریئرز‘ کے طور پر بھی کی گئی تھی، لیکن بدلاپور کی آشا کارکن (دائیں طرف بیٹھی ہوئیں) ممتا کا کہنا ہے کہ انہیں نہ کے برابر حفاظتی ساز و سامان دیے گئے تھے

PHOTO • Courtesy: Ujwala Padalwar
PHOTO • Swadesha Sharma

بائیں: احتجاج کے پہلے ہفتے میں ہی ۵۰ سے زیادہ خواتین کو اسپتال میں داخل کرانا پڑا، لیکن احتجاجی مظاہرہ کے منتظمین میں سے ایک اُجولا پڈلوار (نیلے کپڑوں میں) کا کہنا تھا کہ اسپتال سے چھٹی ملنے کے بعد ان میں سے کئی دوبارہ میدان میں آ ڈٹیں۔ دائیں: کئی دنوں کے دھرنے کے بعد، جب یکم مارچ، ۲۰۲۴ کو وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وہ آشا کارکنوں کو مایوس نہیں کریں گے، تو آشا کارکن آخرکار اپنے گھر لوٹ گئیں

غصے سے بھری ہوئی ممتا کہتی ہیں، ’’دیوالی ہوؤن آتا ہولی آلی [دیوالی گزر گئی اور اب ہولی آنے کو ہے]، لیکن ابھی تک ہمارے ہاتھ کچھ نہیں آیا ہے۔‘‘ وہ مزید کہتی ہیں، ’’ہم نے ۷۰۰۰ یا ۱۰ ہزار کے اضافہ کا مطالبہ کبھی نہیں کیا۔ اکتوبر میں ہماری شروعاتی ہڑتال اضافی آن لائن کاموں کے خلاف تھی۔ ہم سے پردھان منتری ماتری وندن یوجنا (پی ایم ایم وی وائی) کے لیے ۱۰۰ گاؤوں کو روزانہ رجسٹر کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔‘‘

جیسا کہ سرکاری ویب سائٹ پر کہا گیا ہے، ’’حمل کے دوران اعزازیہ میں ہوئے نقصان کی تلافی میں یہ اسکیم جزوی معاوضے کے طور پر نقد بھتہ دینے کے لیے پابند عہد ہے۔‘‘ کم و بیش یہی بات ابھی حال ہی میں شروع کیے گئے ’یو-وِن‘ ایپ کے لیے بھی کہی گئی تھی، جس کا مقصد حاملہ ماؤں اور بچوں کی ٹیکہ کاری کا ریکارڈ رکھنا ہے۔

اس سے پہلے، فروری ۲۰۲۴ میں ۱۰ ہزار سے زیادہ آشا کارکنوں نے شاہ پور سے تھانے ضلع کلکٹر کے دفتر تک کا احتجاجی مارچ نکالتے ہوئے ۵۲ کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا تھا۔ ’’چالون آلوئے، ٹنگڑیا ٹوٹلیا [ہم پورے راستے پیدل چلے، ہماری ٹانگیں ٹوٹ چکی تھیں]۔ ہم نے پوری رات تھانے کی سڑکوں پر گزاری،‘‘ ممتا یاد کرتے ہوئے کہتی ہیں۔

کئی مہینوں سے جاری ان احتجاجی مظاہروں نے آشا کارکنوں سے قیمت بھی وصول کی ہے۔ سنٹر آف انڈین ٹریڈ یونینز (ایس آئی ٹی یو) کی ریاستی سکریٹری اور احتجاجی مظاہرہ کے منتظمین میں سے ایک اجولا پڈلوار بتاتی ہیں، ’’شروع میں آزاد میدان میں ۵۰۰۰ سے زیادہ کی تعداد میں آشا کارکن جمع ہوئی تھیں۔ ان میں سے بہت سی کارکن حاملہ تھیں، اور کچھ تو اپنے نوزائیدہ بچوں کو ساتھ لے کر آئی تھیں۔ یہاں کھلے میں ان کے لیے رہنا بہت مشکل کام تھا، اس لیے ہم نے ان سے گھر لوٹ جانے کی درخواست کی۔‘‘ اجولا کے مطابق، بہت سی عورتوں نے سینے اور پیٹ میں درد کی شکایت کی، کئی دوسری عورتیں سر درد اور جسم میں پانی کی کمی (ڈی ہائیڈریشن) کی شکار تھیں اور انہیں اسپتال لے جانا پڑا۔

حالانکہ، آشا کارکن اسپتال سے چھٹی ملنے کے بعد دوبارہ میدان میں آ ڈٹیں اور متحد ہو کر انہوں نے نعرہ بلند کیا، ’’آتا آمچا ایکاچ نارا، جی آر کاڑھا! [ہمارا صرف ایک نعرہ ہے، جی آر جلد لاگو کرو]۔‘‘

*****

PHOTO • Swadesha Sharma

سال ۲۰۲۳ کے اکتوبر مہینے میں، مہاراشٹر کے وزیر صحت نے اعلان کیا تھا کہ آشا کارکنوں کو ۲۰۰۰ روپے کا دیوالی بونس دیا جائے گا۔ ممتا کہتی ہیں، ’دیوالی گزر گئی اور اب ہولی آنے کو ہے، لیکن ابھی تک ہمارے ہاتھ کچھ نہیں آیا ہے‘

کاغذ پر آشا کارکنوں کا کردار عوامی صحت سے متعلق خدمات کو گھر گھر تک پہنچانا ہے۔ لیکن برسوں تک یہ عوامی خدمت کرنے کے بعد وہ عموماً اپنے متعینہ کاموں سے بڑھ کر اپنی ذمہ داریاں پوری کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر، آشان کارکن ممتا کو لیا جا سکتا ہے، جنہوں نے ستمبر ۲۰۲۳ میں بدلاپور کے سونی ولی گاؤں کی ایک حاملہ آدیواسی خاتون کو سمجھا کر گھر کی بجائے اسپتال میں ڈیلیوری (زچگی) کرانے کے لیے راضی کیا تھا۔

وہ یاد کرتے ہوئے کہتی ہیں، ’’اس عورت کے شوہر نے اس کے ساتھ آنے سے صاف منع کردیا اور کہا، ’اگر میری بیوی کو کچھ ہوتا ہے، تو آپ کی ذمہ داری ہوگی‘۔‘‘ جب اس ماں کو درد زہ شروع ہوا، تو ’’میں اسے بدلاپور سے الہاس نگر اکیلی لے کر گئی،‘‘ ممتا بتاتی ہیں۔ ڈیلیوری ہوئی، لیکن بدقسمتی سے ماں کو نہیں بچایا جا سکا۔ بچہ کوکھ میں پہلے ہی دم توڑ چکا تھا۔

ممتا بتاتی ہیں، ’’میں ایک بیوہ عورت ہوں۔ اس وقت میرا بیٹا ۱۰ویں جماعت میں تھا۔ میں ۶ بجے صبح ہی گھر سے نکلی تھی اور اس عورت کی موت رات کے ۸ بجے ہوئی۔ مجھ سے اسپتال کے برآمدے میں رات کے ڈیڑھ بجے تک انتظار کرنے کے لیے کہا گیا۔ پنچ نامہ ہو جانے کے بعد انہوں نے کہا، ’آشا تائی اب آپ جا سکتی ہیں‘۔ ڈیڈ واجتا می ایکٹی جاؤ؟ [کیا میں اکیلے ڈیڑھ بجے رات میں گھر لوٹ سکتی تھی]؟‘‘

اگلے دن اس واقعہ کو ریکارڈ میں درج کرنے کے لیے جب وہ گاؤں گئیں، تب کچھ لوگوں نے، جن میں اس عورت کا شوہر بھی شامل تھا، ان کے ساتھ گالی گلوچ کرنے لگا اور اپنی بیوی کی موت کے لیے انہیں ذمہ دار بتایا۔ ایک مہینہ کے بعد ممتا سے پوچھ گچھ کرنے کے لیے انہیں ضلع سمیتی بلایا گیا۔ ’’انہوں نے مجھ سے پوچھا ’ماں کی موت کیسے ہوئی اور آشا تائی نے کیا غلطی کی تھی؟‘ اگر تمام ذمہ داریاں آخر میں ہمارے اوپر ہی تھوپ دی جانی ہیں، تو ہمارا مان دھن کیوں نہیں بڑھایا جاتا ہے؟‘‘ وہ پوچھتی ہیں۔

وبائی مرض کی پوری مدت میں حکومت نے آشا کارکنوں کی تعریف کی اور دوائیں بانٹنے اور ریاست کے دور افتادہ علاقوں میں کووڈ متاثرہ مریضوں کی نشاندہی کرنے کے لیے انہیں ’’کورونا واریئر‘ کا نام دیا، جب کہ ان کو وائرس سے اپنی حفاظت کرنے کے لیے کسی بھی قسم کے ’حفاظتی ساز و سامان‘ نہیں دیے گئے تھے۔

PHOTO • Swadesha Sharma
PHOTO • Swadesha Sharma

کاغذ پر آشا کارکنوں کا کردار عوامی صحت سے متعلق خدمات کو گھر گھر تک پہنچانا ہے۔ لیکن برسوں تک یہ عوامی خدمت کرنے کے بعد وہ عموماً اپنے متعینہ کاموں سے بڑھ کر اپنی ذمہ داریاں پوری کرتی ہیں۔ مندا کھتن (بائیں) اور شردھا گھوگلے (دائیں) نے ۲۰۱۰ میں آشا کارکن کے طور پر کام شروع کیا تھا، اور وہ آج مہاراشٹر کے کلیان میں ۱۵۰۰ کی آبادی کا خیال رکھتی ہیں

مندا کھتن اور شردھا گھوگلے، جو کلیان میں نندی والی گاؤں کی آشا کارکن ہیں، وبائی مرض کے دوران اپنے تجربات کو یاد کرتے ہوئے کہتی ہیں، ’’ایک بار ایک حاملہ عورت ڈیلیوری کے بعد کی جانچ میں کووڈ پازیٹو پائی گئی۔ جب اسے وائرس کے چپیٹ میں آنے کا پتہ چلا، تب وہ گھبرا کر اپنے نوزائیدہ بچے کے ساتھ اسپتال سے ہی بھاگ گئی۔‘‘

’’اسے لگا کہ وہ اپنے بچے کے ساتھ پکڑ لی جائے گی اور دونوں کو مار ڈالا جائے گا،‘‘ شردھا بتاتی ہیں۔ وائرس کے بارے میں لوگوں کو اتنی زیادہ غلط فہمی تھی، اور اس کی دہشت سے لوگ اتنے خوفزدہ تھے!

’’کسی نے ہمیں بتایا کہ وہ اپنے ہی گھر میں چھپی ہوئی تھی۔ ہم اس کے گھر پہنچے، لیکن اس نے دروازہ اندر سے بند کر لیا،‘‘ مندا بتاتی ہیں۔ اس بات سے ڈر کر کہ کہیں وہ کوئی غلط قدم نہ اٹھا لے، لوگ رات ڈیڑھ بجے تک اس کے گھر کے باہر کھڑے رہے۔ ’’ہم نے اس سے کہا، ’تمہیں اپنے بچے سے پیار ہے یا نہیں؟‘ ہم نے اسے سمجھایا کہ اگر وہ اپنے بچے کو اپنے ساتھ رکھے گی، تو بچے کو انفیکشن ہو جائے گا اور اس کی زندگی خطرے میں پڑ جائے گی۔‘‘

تقریباً تین گھنٹے تک سمجھانے کے بعد ماں نے دروازہ کھولا۔ ’’ایمبولینس پہلے سے تیار کھڑی تھی۔ میرے ساتھ کوئی دوسرا طبی ملازم یا گرام سیوک نہیں تھا۔ صرف ہم دونوں ہی تھے۔‘‘ بولتے بولتے ممتا کی آنکھیں نم ہو گئیں، ’’وہاں سے نکلنے سے پہلے اس عورت نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور بولی، ’میں اپنے بچے کو اس لیے چھوڑ کر جا رہی ہوں، کیوں کہ میں تمہاری بات پر یقین کرتی ہوں۔ مہربانی کر کے اس کا خیال رکھنا۔‘ اگلے آٹھ دنوں تک ہم روزانہ نوزائیدہ بچے کو دودھ پلانے اس کے گھر جاتے رہے۔ ہم بچے کو ویڈیو کال کے ذریعے اسے دکھاتے تھے۔ آج بھی وہ ماں ہمیں فون کرتی ہے اور ہمارا شکریہ ادا کرتی ہے۔‘‘

’’ہم نے پورے ایک سال تک اپنے بچوں کو خود سے دور رکھا،‘‘ مندا کہتی ہیں، ’’لیکن ہم نے دوسروں کے بچوں کی جانیں بچائیں۔‘‘ ان کا بچہ تب آٹھویں جماعت میں پڑھتا تھا، جب کہ شردھا کا بچہ صرف پانچ سال کا تھا۔

PHOTO • Cortesy: Shraddha Ghogale
PHOTO • Courtesy: Rita Chawre

بائیں: آشا کارکن شردھا کو لاک ڈاؤن کے دوران کووڈ مریضوں کو سنبھالنا پڑتا تھا۔ ان کے مطابق، انہیں اپنے ۵ سال کے بچے اور اپنی فیملی سے دور رہنا پڑا۔ دائیں: حفاظتی ساز و سامان اور ماسک کی کمی کے سبب، ریٹا (سب سے بائیں) خود کو وائرس سے بچانے کے لیے چہرے پر دوپٹہ باندھتی تھیں

شردھا کو اچھی طرح وہ سب یاد ہے، جب گاؤں کے لوگ انہیں دیکھ کر اپنے گھر کے دروازے بند کر لیا کرتے تھے۔ ’’وہ ہمیں پی پی ای [پرسنل پروٹیکشن ایکوئپمنٹ] پہنے ہوئے دیکھ کر بھاگ جاتے تھے۔ ان کو لگتا تھا کہ ہم انہیں جبراً پکڑ کر ساتھ لے جانے آئے تھے۔‘‘ یہی نہیں، ’’ہمیں پورے دن کِٹ پہنے رہنا ہوتا تھا۔ کئی بار تو ہمیں دن بھر میں چار کٹ بدلنے پڑتے تھے۔ ہمیں انہیں پہنے ہوئے ہی دھوپ میں گھومنا ہوتا تھا۔ ہمارے بدن میں تیز خارش (کھجلی) اور سوزش (جلن) ہوتی تھی۔‘‘

مندا درمیان میں ہی ٹوکتی ہوئی کہتی ہیں، ’’لیکن پی پی ای اور ماسک تو بہت بعد میں آئے۔ ہمارا زیادہ تر وقت تو اپنا پلّو اور دوپٹہ چہرے پر لپیٹے گھومتے ہوئے گزرا تھا۔‘‘

’’[وبائی مرض کے دوران] کیا ہماری زندگی کی کوئی اہمیت نہیں تھی؟‘‘ ممتا پوچھتی ہیں، ’’کیا آپ نے ہمیں کوئی الگ کوَچ [حفاظت] دیا تھا کہ ہم کورونا سے لڑ سکیں؟ جب وبائی مرض پھیلا، آپ نے [حکومت نے] ہمیں کچھ نہیں دیا تھا۔ جب ہماری آشا تائیوں کو کووڈ ہونے لگا، تو ان کی زندگی کا بھی وہی حشر ہوا، جو باقی لوگوں کا ہوا۔ یہاں تک کہ جب ویکسین کو آزمایا جا رہا تھا، تو شروعاتی ٹیکہ کاری بھی آشا کارکنوں کی ہی ہوئی۔‘‘

ون شری کی زندگی میں ایک ایسا بھی وقت آیا تھا، جب انہوں نے طے کر لیا تھا کہ اب انہیں آشا کارکن کے طور پر کام نہیں کرنا چاہیے۔ ’’میرے دماغ اور صحت پر اس کا بہت برا اثر پڑنے لگا تھا،‘‘ وہ کہتی ہیں۔ ون شری (۴۲) پر ناگپور ضلع کے وڈوڈا گاؤں کے ۱۵۰۰ سے زیادہ لوگوں کی دیکھ بھال کرنے کی ذمہ داری ہے۔ ’’مجھے یاد ہے کہ ایک بار کڈنی میں اسٹون کے سبب مجھے بہت تیز درد اٹھا۔ میں نے اپنی کمر میں چاروں طرف ایک کپڑا باندھ کر کام کرنا جاری رکھا تھا۔‘‘

ایک مریض اور اس کا شوہر ون شری کے گھر آئے تھے۔ ’’وہ عورت پہلی بار ماں بننے والی تھی۔ دونوں تھوڑا گھبرائے ہوئے سے تھے۔ میں نے انہیں سمجھایا کہ میں ان کی مدد کرنے کی حالت میں نہیں ہوں، لیکن وہ ولادت کے وقت میرے ان کے پاس موجود رہنے کی بات پر بضد تھے۔ میرے لیے بھی انہیں منع کر پانا مشکل ہو گیا اور مجھے ان کے ساتھ جانا پڑا۔ میں اس عورت کے ساتھ دو دن اسپتال میں رہی اور اس کی ڈیلیوری کے بعد ہی واپس آئی۔ ان کے رشتہ داروں نے جب میری کمر پر کپڑا بندھا ہوا دیکھا، تو مجھ سے مذاق میں ہی پوچھا، ’’بچے کو اس کی ماں نے جنم دیا ہے یا آپ نے!‘‘

PHOTO • Ritu Sharma
PHOTO • Ritu Sharma

ون شری (چشمے میں) اور پورنیما، ممبئی میں احتجاجی مظاہرہ میں شامل ہونے کے لیے ۷ فروری، ۲۰۲۴ کو ناگپور میں واقع اپنے گاؤوں سے نکلی تھیں۔ دھرنے کے نویں دن ون شری اپنی فیملی سے فون پر بات کر رہی ہیں

لاک ڈاؤن کے دوران اپنے معمول کو یاد کرتے ہوئے وہ بتاتی ہیں کہ آشا کارکن کے طور پر اپنا کام پورا کرنے کے بعد وہ علیحدہ رکھے گئے مریضوں تک کھانا پہنچانے کا کام کرتی تھیں۔ ’’زیادہ کام کے بوجھ سے میری صحت پر برا اثر پڑنے لگا۔ کچھ دنوں تک ہائی بلڈ پریشر کی وجہ سے مجھے لگا کہ میں یہ کام چھوڑ دوں گی۔‘‘ لیکن ون شری کی چچی نے ان سے کہا کہ ’’بھگوان کے اس نیک کام میں، میں کیوں رخنہ ڈال رہی ہوں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ دو زندگیاں [اپنی ماں اور بیٹی کی] تم پر منحصر ہیں۔ تمہیں یہ کام کرتے رہنا ہوگا۔‘‘

اپنی کہانی سناتے وقت وہ بیچ بیچ میں اپنے فون پر بھی نظر رکھتی رہتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں، ’’میری فیملی مجھ سے پوچھتی رہتی ہے کہ میں گھر کب لوٹوں گی۔ میں یہاں ۵۰۰۰ روپے کے ساتھ آئی تھی۔ اب میرے پاس صرف ۲۰۰ روپے بچے ہیں۔‘‘ انہیں دسمبر ۲۰۲۳ سے اپنا ماہانہ اعزازیہ نہیں ملا ہے۔

پورنیما وسے، ناگپور کے پاندھورنا گاؤں کی آشا کارکن ہیں۔ وہ بتاتی ہیں، ’’میں نے ایمبولینس میں ایک ایچ آئی وی پازیٹو عورت کی ڈیلیوری کرائی تھی۔ جب اسپتال کے لوگوں کو پتہ چلا کہ وہ عورت ایچ آئی وی پازیٹو ہے، تو گویا زلزلہ آ گیا۔‘‘ پورنیما (۴۵) کے مطابق، ’’میں نے انہیں سمجھانے کی کوشش کی کہ ایک آشا کارکن ہونے کے ناطے میں نے تو دستانے یا دوپٹے کے علاوہ کوئی اور حفاظتی ساز و سامان نہ ہونے کے باوجود ڈیلیوری کرانے میں مدد کی تھی۔ انہیں اس طرح سے برتاؤ کرنے کی کیا ضرورت ہے؟‘‘

سال ۲۰۰۹ سے آشا کارکن کے طور پر کام کر رہیں پورنیما ۴۵۰۰ سے زیادہ لوگوں کی دیکھ بھال کرتی ہیں۔ ’’میں ایک گریجویٹ ہوں،‘‘ وہ بتاتی ہیں۔ ’’مجھے نوکریوں کے بہت سے آفر ملتے ہیں، لیکن آشا کارکن بننے کا فیصلہ میرا خود کا تھا۔ مجھے پیسے ملیں یا نہ ملیں، لیکن مجھے خدمت کرنی ہے تو مرتے دم تک آشا کا کام کروں گی۔‘‘

آزاد میدان میں کرکٹ کا کھیل جاری ہے۔ وہیں، آشا کارکنوں نے اپنی لڑائی فی الحال ملتوی کر دی ہے۔

مترجم: محمد قمر تبریز

Ritu Sharma

Ritu Sharma is Content Editor, Endangered Languages at PARI. She holds an MA in Linguistics and wants to work towards preserving and revitalising the spoken languages of India.

Other stories by Ritu Sharma
Swadesha Sharma

Swadesha Sharma is a researcher and Content Editor at the People's Archive of Rural India. She also works with volunteers to curate resources for the PARI Library.

Other stories by Swadesha Sharma

P. Sainath is Founder Editor, People's Archive of Rural India. He has been a rural reporter for decades and is the author of 'Everybody Loves a Good Drought' and 'The Last Heroes: Foot Soldiers of Indian Freedom'.

Other stories by P. Sainath
Translator : Qamar Siddique

Qamar Siddique is the Translations Editor, Urdu, at the People’s Archive of Rural India. He is a Delhi-based journalist.

Other stories by Qamar Siddique