سُپاری پُتیل کو ٹھیک سے یاد نہیں ہے کہ انہوں نے ایک دہائی میں کتنا وقت اسپتالوں میں گزارا ہے۔

اتنے لمبے سالوں تک، وہ اپنے ۱۷ سالہ بیٹے کے علاج کے لیے اوڈیشہ اور چھتیس گڑھ کے اسپتالوں کا دورہ کرتی رہیں۔ اور پھر، کچھ وقت کے لیے، اپنے شوہر سُریشور کے لیے، ممبئی کا سفر کیا۔

۲۰۱۹ میں چار مہینے کے اندر ہی دونوں کا انتقال ہو گیا، جس کی وجہ سے سُپاری مصیبتوں میں گھر گئیں۔

ان کے شوہر، سُریشور صرف ۴۴ سال کے تھے۔ ستمبر ۲۰۱۹ میں، وہ اور سُپاری ممبئی ہجرت کر گئے تھے – جو اوڈیشہ کے بلانگیر ضلع میں واقع ان کے گھر سے تقریباً ۱۴۰۰ کلومیٹر دور ہے۔ مزدوروں کے ایک مقامی ایجنٹ نے انہیں تعمیراتی مقام کی نوکری کے لیے بھرتی کیا تھا۔ ’’ہم اپنا قرض چکانے اور اپنے گھر [کی عمارت] کو پورا کرنے کے لیے کچھ پیسے کمانے گئے تھے،‘‘ سُپاری نے کہا۔ دونوں نے مل کر، یومیہ مزدوری کے طور پر ۶۰۰ روپے کمائے۔

’’ایک شام، ممبئی میں تعمیراتی مقام پر کام کرتے وقت میرے شوہر کو تیز بخار ہو گیا،‘‘ ۴۳ سالہ سُپاری، تُریکیلا بلاک میں ۹۳۳ لوگوں کی آبادی والے گاؤں، ہیال میں اپنے مٹی کے گھر کے سامنے زمین پر بیٹھی، یاد کرتے ہوئے کہتی ہیں۔ وہ اور ان کی فیملی کا تعلق مالی ذات، او بی سی سے ہے۔

سُپاری اور تعمیراتی مقام کا سپروائزر سُریشور کو آٹورکشہ اور ایمبولینس سے شہر کے تین اسپتالوں میں لے گئے، اور آخر میں شمال وسطی ممبئی کے ساین واقع لوک مانیہ تلک میونسپل جنرل ہاسپٹل پہنچے۔

’’ہر اسپتال ہمیں دوسرے اسپتال بھیجتا رہا کیوں کہ [اُس وقت] ہمارے پاس ہمارے آدھار کارڈ اور دیگر کاغذات نہیں تھے،‘‘ سُپاری نے بتایا۔ ’’انہیں یرقان [کی علامت] تھا۔ ان کے جسم کو کمر سے نیچے لقوہ مار گیا تھا، اس لیے میں ان کے پیروں کو سہلاتی رہتی تھی،‘‘ وہ بتاتی ہیں، لیکن مرض کے بارے میں انہیں صحیح جانکاری نہیں تھی۔ اگلے دن، ۶ نومبر ۲۰۱۹ کو سریشور کا اسپتال میں انتقال ہو گیا۔

Supari Putel in front of her mud house and the family's incomplete house (right) under the Pradhan Mantri Awaas Yojana: 'This house cost me my husband'
PHOTO • Anil Sharma
Supari Putel in front of her mud house and the family's incomplete house (right) under the Pradhan Mantri Awaas Yojana: 'This house cost me my husband'
PHOTO • Anil Sharma

سُپاری پُتیل اپنے مٹی کے گھر کے سامنے اور (دائیں) پردھان منتری آواس یوجنا کے تحت فیملی کا نصف تعمیر شدہ مکان: ’اس گھر نے میرے شوہر کی جان لے لی‘

’’سپروائزر نے مجھ سے ممبئی میں ہی ان کی آخری رسومات ادا کرنے کے لیے کہا کیوں کہ لاش کو اوڈیشہ لے جانے میں کافی پیسے خرچ ہوتے۔ میں نے ان کی بات مان لی،‘‘ سپاری کہتی ہیں۔ ’’آخری رسومات کے اخراجات سپروائزر نے ہی برداشت کیے اور میرے بقیہ پیسے لوٹانے کے بعد مجھے واپس بھیج دیا۔ ایک ہاتھ میں میرے شوہر کی استھی (جلانے کے بعد لاش کی باقیات) تھی اور دوسرے ہاتھ میں ان کی موت کا سرٹیفکیٹ،‘‘ وہ کہتی ہیں۔ مزدوری کے طور پر ملے ۶ ہزار روپے میں سے انہوں نے کچھ پیسے ۱۱ نومبر، ۲۰۱۹ کو اپنے بھائی کے ساتھ ٹرین سے گھر لوٹنے کے لیے ٹکٹ پر خرچ کیے۔ ان کا بھائی انہیں واپس لانے کے لیے بلانگیر کے کرلابہلی گاؤں سے ممبئی آیا تھا۔

ممبئی جانے سے پہلے، سپاری اور سریشور اپنے ہی گاؤں میں، بلانگیر کے کَنتابنجی شہر یا چھتیس گڑھ کے رائے پور شہر میں مزدوری کا کام کرتے تھے، اور ان میں سے ہر ایک ۱۵۰ روپے روزانہ کماتا تھا۔ (حکومت اوڈیشہ کے جولائی ۲۰۲۰ کے نوٹیفکیشن میں اس ’’غیر ہنرمند‘‘ زمرہ کے محنت کشوں کے لیے کم از کم مزدوری ۳۰۳ اعشاریہ ۴۰ روپے طے کی گئی ہے)۔ سریشور کے چھ بھائیوں کے ساتھ ان کی مشترکہ زمین تھی (سپاری یہ نہیں بتا سکیں کہ ان کے پاس کتنی زمین تھی)، لیکن اس علاقے میں پانی کی کمی کے سبب وہ اس پر کھیتی نہیں کرتے تھے۔

سپاری بتاتی ہیں کہ ۲۰۱۶ اور ۲۰۱۸ کے درمیان، وہ دو بار اینٹ بھٹوں پر کام کرنے ’مدراس‘ گئے تھے۔ ’’چونکہ میرے بچے بڑے ہو رہے تھے اور بدیادھر بیمار پڑنے لگا تھا، اس لیے ہمیں پیسے کی ضرورت تھی۔ وہ ۱۰ سال تک بیمار رہا۔‘‘

بدیادھر ان کا منجھلا بچہ تھا۔ سپاری کی ایک بڑی بیٹی، ۲۲ سالہ جننی، اور ایک چھوٹا بیٹا، ۱۵ سالہ دھنودھر ہے۔ ان کی ۷۱ سالہ ساس، سُپھُل بھی فیملی کے ساتھ ہی رہتی ہیں۔ وہ اپنے شوہر لُکاناتھ پُتیل کے ساتھ ایک کسان کے طور پر کام کرتی تھیں (ان کا انتقال ہو چکا ہے) اور اب بڑھاپا پنشن سے کام چلاتی ہیں۔ جننی کی شادی ۱۸ سال کی عمر میں، ۲۰۱۷ میں نواپاڑہ کے سیکوآن گاؤں کی ایک فیملی میں ہوئی تھی۔ اور دھنودھر، ۱۰ویں کلاس کا طالب علم، اپنے بھائی کے مرنے کے بعد اپنی بہن کے گھر چلا گیا کیوں کہ اس کے والدین کام کرنے کے لیے ممبئی چلے گئے تھے۔

سپاری کو معلوم نہیں ہے کہ ۱۷ سال کی عمر میں ان کے بیٹے کو کس قسم کا کینسر ہو گیا تھا۔ بدیادھر ۱۰ سال سے اس بیماری میں مبتلا تھا، اور فیملی نے اس کے علاج کے لیے مختلف اسپتالوں کے چکر کاٹے۔ ’’ہم تین سال بُرلا اسپتال [سمبل پور ضلع میں] گئے، تین سال بلانگیر کے ایک اسپتال گئے اور رام کرشن اسپتال گئے،‘‘ وہ بتاتی ہیں۔ آخرالذکر رائے پور کا ایک پرائیویٹ اسپتال ہے، جو سپاری کے گاؤں سے تقریباً ۱۹۰ کلومیٹر دور ہے۔ وہاں جانے کے لیے وہ کنتابنجی سے ٹرین پکڑتے تھے، جو کہ ہیال کا سب سے قریبی ریلوے اسٹیشن ہے۔

ان برسوں میں فیملی نے بدیادھر کے علاج کے لیے دوستوں، رشتہ داروں اور مقامی ساہوکاروں سے پیسے قرض لیے۔ سپاری نے اپنے بیٹے کے علاج کے لیے ۵۰ ہزار روپے کا انتظام کرنے کے لیے، کنتابنجی کی ایک دکان پر جننی کے زیورات بھی گروی رکھ دیے تھے۔

Suphul Putel (left), still grieving too, is somehow convinced that Supari, her daughter-in-law, is not being truthful about how Sureswara died: 'My son talked to me on the phone and he seemed to be well...'
PHOTO • Anil Sharma
Suphul Putel (left), still grieving too, is somehow convinced that Supari, her daughter-in-law, is not being truthful about how Sureswara died: 'My son talked to me on the phone and he seemed to be well...'
PHOTO • Anil Sharma

سُپھُل پُتیل (بائیں) اب بھی صدمہ میں ہیں، اور ان کا ماننا ہے کہ ان کی بہو، سپاری نے اس بارے میں سچ نہیں بتایا کہ سریشور کی موت کیسے ہوئی تھی: ’میرے بیٹے نے مجھ سے فون پر بات کی تھی اور وہ ٹھیک لگ رہا تھا...‘

جب قرض مزید بڑھ گیا، تو چکانے کے دباؤ میں، میاں بیوی مارچ ۲۰۱۹ میں ممبئی چلے گئے۔ لیکن اُس سال جون میں، جب ان کے بیٹے کی حالت خراب ہونے لگی، تو سپاری فوراً ہیال لوٹ آئیں، اور سریشور بھی جولائی میں گاؤں واپس آ گئے۔ ’’وہ کئی مہینوں سے بیمار تھا، اور آخرکار رتھ یاترا کے دوران [جولائی میں] اس نے دم توڑ دیا،‘‘ سپاری یاد کرتی ہیں۔

بدیادھر کے انتقال کے فوراً بعد، فیملی کو پردھان منتری آواس یوجنا (گرامین) کے تحت ایک گھر منظور کیا گیا تھا۔ انہیں نیا گھر بنانے کے لیے قسطوں میں ایک لاکھ ۲۰ ہزار روپے ملنے والے تھے۔ لیکن سپاری اور سریشور کو اپنے بیٹے کے علاج کے واسطے لیے گئے قرض چکانے کے لیے پیسے کا ایک حصہ اُدھر موڑنے پر مجبور ہونا پڑا، جس سے گھر کی تعمیر ادھوری رہ گئی۔ ’’مجھے تین قسطیں ملیں – پہلی ۲۰ ہزار روپے کی تھی، دوسری ۳۵ ہزار روپے کی اور تیسری ۴۵ ہزار روپے کی تھی۔ پہلی اور دوسری قسط کا استعمال ہم نے اپنے گھر کے لیے مختلف اشیاء جیسے سیمنٹ اور پتھر خریدنے میں کیا، لیکن آخری قسط ہم نے اپنے بیٹے کے علاج پر خرچ کیا،‘‘ سپاری بتاتی ہیں۔

اگست ۲۰۱۹ میں جب تریکیلا کے بلاک ڈیولپمنٹ آفس کے افسر گھر کا معائنہ کرنے آئے، تو انہوں نے اسے آدھا ادھورا پایا اور میاں بیوی کو پھٹکار لگائی۔ ’’انہوں نے ہمیں گھر پورا کرنے کے لیے کہا ورنہ وہ ہمارے خلاف معاملہ درج کر دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم گھر کو پورا نہیں کرتے ہیں، تو ہمیں آخری قسط کے پیسے نہیں ملیں گے،‘‘ سپاری بتاتی ہیں۔

’’میرے بیٹے کی موت کو تقریباً ایک مہینہ ہوا تھا، لیکن جلد ہی ہم پھر سے [ستمبر ۲۰۱۹ میں] ممبئی ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے تاکہ گھر کی تعمیر مکمل کرنے کے لیے ہم کچھ پیسے کما سکیں،‘‘ سپاری اپنے مٹی کے گھر سے تقریباً ۲۰ میٹر دور نصف تعمیر شدہ ڈھانچے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتی ہیں۔ اس میں چھت، کھڑکیاں یا دروازے نہیں ہیں، اور دیواروں پر اب تک پلاسٹر نہیں کیا گیا ہے۔ ’’اس گھر نے میرے شوہر کی جان لے لی،‘‘ وہ کہتی ہیں۔

سپاری کی ساس سپھُل اب بھی کافی صدمے میں ہیں، اور ان کا ماننا ہے کہ ان کی بہو نے اس بارے میں سچ نہیں بتایا کہ سریشور کی موت کیسے ہوئی تھی۔ ’’میرے بیٹے نے مجھ سے فون پر بات کی تھی اور وہ ٹھیک لگ رہا تھا۔ میں یقین نہیں کر سکتی کہ وہ کچھ دنوں کے بعد مر گیا،‘‘ وہ کہتی ہیں۔ سُپھُل کو لگتا ہے کہ تعمیراتی مقام پر کام کرتے وقت ان کے بیٹے کی حادثہ میں موت ہو گئی تھی، اور سپاری اصلی وجہ کو چھپا رہی ہے کیوں کہ وہ نہیں چاہتی کہ اس کے لیے اسے قصوروار ٹھہرایا جائے۔ حالانکہ سپاری زور دے کر کہتی ہیں: ’’وہ ہمیشہ مجھ پر بلاوجہ الزام لگاتی رہتی ہیں جب کہ ایسا کچھ بھی نہیں ہوا تھا۔‘‘

After losing his father and brother, Dhanudhar (left), her youngest son, says Supari, has lost interest in studying
PHOTO • Anil Sharma
After losing his father and brother, Dhanudhar (left), her youngest son, says Supari, has lost interest in studying

اپنے والد اور بھائی کو کھونے کے بعد دھنودھر (بائیں)، ان کے سب سے چھوٹے بیٹے کی پڑھائی میں دلچسپی ختم ہو گئی ہے، سپاری کہتی ہیں

فیملی کو دسمبر ۲۰۱۹ میں نیشنل فیملی بینیفٹ اسکیم کے تحت ۲۰ ہزار روپے ملے تھے، اس اسکیم کے تحت معاش کمانے والے اہم رکن کی موت پر فیملی کو مالی مدد فراہم کی جاتی ہے۔ ’’میں نے اس پیسے کا استعمال اپنے شوہر کی آخری رسومات کے لیے رشتہ داروں سے لیے گئے قرض کی ادائیگی کرنے میں کیا،‘‘ سپاری بتاتی ہیں۔ انہیں دسمبر ۲۰۱۹ سے بیوہ پنشن کے طور پر ہر مہینے ۵۰۰ روپے بھی مل رہے ہیں۔

تعمیراتی مقام پر کام کرنے والے مزدور کے طور پر سریشور کی فیملی اصولی طور پر، اوڈیشہ کے عمارت اور دیگر تعمیراتی کارکن کے فلاحی بورڈ سے ۲ لاکھ روپے کے ’ناگہانی موت‘ کے فائدہ کا بھی حقدار ہونا چاہیے۔ لیکن یہ فیملی اس رقم کا دعویٰ کرنے کے لیے اہل نہیں ہے کیوں کہ سریشور نے ڈسٹرکٹ لیبر آفس میں رجسٹریشن نہیں کرایا تھا۔ ’’اگر ہمیں تھوڑے بھی پیسے ملتے ہیں، تو یہ ایک بڑی مدد ہوگی،‘‘ سپاری کہتی ہیں۔ ان کے گھر کی تعمیر ابھی ادھوری ہے، اور انہیں اپنے رشتہ سے لیے گئے قرض میں سے کم از کم ۲۰ ہزار روپے لوٹانے باقی ہیں۔

سپاری اب گھر کی واحد کمانے والی رکن ہیں۔ وہ ہیال گاؤں اور اس کے ارد گرد مزدوری کرکے ایک دن میں ۱۵۰ روپے کماتی ہیں۔ ’’مجھے مسلسل کام نہیں ملتا۔ ہم کبھی کبھی بھوکے رہ جاتے ہیں،‘‘ وہ بتاتی ہیں۔ دھنودھر اپنی بہن کے گاؤں سے ہیال لوٹ آیا ہے۔ ’’میرا بیٹا پڑھائی نہیں کر رہا ہے۔ پڑھائی میں اس کی دلچسپی ختم ہو گئی ہے،‘‘ سپاری کہتی ہیں۔ ’’اس نے اسکول جانا چھوڑ دیا ہے اور اس سال بورڈ کا امتحان [اپریل ۲۰۲۱ میں] نہیں دے گا۔‘‘

گھر اب بھی ادھورا ہے، نصف تعمیر شدہ دیواروں اور فرش پر گھاس اور پودے اُگ رہے ہیں۔ سپاری کو نہیں معلوم کہ وہ اسے بنانے کے لیے کب اور کیسے پیسے کا انتظام کر پائیں گی۔ ’’اگر چھت نہیں ڈالی گئی، تو بارش کے موسم میں یہ [اور بھی زیادہ] خستہ حال ہو جائے گا۔ پچھلے سال کی بارش نے اس کی دیواروں کو پہلے ہی خستہ حال کر دیا تھا۔ لیکن اگر میرے پاس پیسے نہیں ہیں، تو میں کیا کر سکتی ہوں؟‘‘

نوٹ: ایک مقامی اخبار سے سریشور کی موت کے بارے میں اطلاع ملنے کے بعد، اس رپورٹر اور ایک دوست نے ہیال گاؤں کا دورہ کیا۔ انہوں نے کنتابنجی کے وکیل اور سماجی کارکن، بی پی شرما کے ساتھ فیملی کی حالت کے بارے میں بات کی، جنہوں نے ضلع کلکٹر کو خط لکھ کر مالی مدد کا مطالبہ کیا تھا۔ جواب میں، کلکٹر نے تریکیلا کے بلاک ڈیولپمنٹ افسر کو غمزدہ فیملی کو نیشنل فیملی بینیفٹ اسکیم کے تحت مالی مدد کو منظوری دینے کی ہدایت دی۔ اس کے بعد سپاری کو اپنے بینک کھاتے میں ۲۰ ہزار روپے حاصل ہوئے اور انہیں بیوہ پنشن کارڈ جاری کیا گیا۔

مترجم: محمد قمر تبریز

Mohd. Qamar Tabrez is PARI’s Urdu/Hindi translator since 2015. He is a Delhi-based journalist, the author of two books, and was associated with newspapers like ‘Roznama Mera Watan’, ‘Rashtriya Sahara’, ‘Chauthi Duniya’ and ‘Avadhnama’. He has a degree in History from Aligarh Muslim University and a PhD from Jawaharlal Nehru University, Delhi. You can contact the translator here:

Anil Sharma

Anil Sharma is a lawyer based in Kantabanji town, Odisha, and former Fellow, Prime Minister’s Rural Development Fellows Scheme, Ministry of Rural Development, Government of India.

Other stories by Anil Sharma