شہیدوں کی مٹی، سنگھو کی لڑائی کی مٹی

یہ ایک اثر انگیز اور جذباتی لمحہ تھا، جب بھگت سنگھ، راج گرو اور سکھدیو کے یومِ شہادت پر پنجاب میں واقع ان کے گاؤوں کی مٹی سے بھرے آٹھ گھڑے سنگھو میں احتجاج کر رہے کسانوں کے پاس پہنچے

۶ اپریل، ۲۰۲۱ | عامر ملک

سنگھو سے سنگور تک کا سفر

تین زرعی قوانین کے خلاف دہلی کی سرحدوں پر احتجاج کرنے والے کسانوں کی متحدہ تنظیموں نے وسط مارچ میں مغربی بنگال میں ایک میٹنگ منعقد کی۔ یہ رپورٹ ہُگلی ضلع کے سنگور میں ہونے والی اسی میٹنگ پر مبنی ہے

۱ اپریل، ۲۰۲۱ | انوستُپ رائے

’جب تک ممکن ہوا ہم احتجاج کرتے رہیں گے‘

اتراکھنڈ اور شمال مغربی یوپی کے کسان – جن میں سے اکثر نے احتجاجی مظاہرہ میں حصہ لیا – کا کہنا ہے کہ ریاست کے ذریعہ چلائی جانے والی منڈیاں، خامیوں سے بھری ہونے کے باوجود، ان کے وجود کے لیے ضروری ہیں

۲۴ مارچ، ۲۰۲۱  | پارتھ ایم این

خواتین کسانوں کے اعزاز میں، سنگھو پر یوم خواتین

ملک میں یوم خواتین کی سب سے بڑی تقریب میں، ۸ مارچ ۲۰۲۱ کو خواتین کسانوں اور تین زرعی قوانین کے خلاف جاری احتجاجی مظاہرے میں ان کے رول کے اعزاز میں ہزاروں خواتین سنگھو بارڈر پر جمع ہوئیں

۱۱ مارچ، ۲۰۲۱ | عامر ملک

غازی پور کے کسانوں کے لیے شَوروں میں اُبلتے برتن

مظفر نگر کے شَوروں گاؤں کے لوگ غازی پور میں نئے زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کر رہے کسانوں کے لیے کھانا بھیجنے کے لیے وسائل جمع کر رہے ہیں۔ گنّے کی کھیتی کرنے والے کئی لوگ قرض میں ڈوبے ہونے کے باوجود راشن دے رہے ہیں

۹ مارچ، ۲۰۲۱ | پارتھ ایم این

باغپت کے کسان: ’جھوٹ کب تک چلے گا؟‘

دہلی کی سرحدوں کے اُس پار کسانوں کا احتجاج جاری ہے۔ اتر پردیش میں واقع ایسے ہی ایک احتجاجی مقام کو دیر رات میں ہونے والی کارروائی کے بعد اجاڑ دیا گیا – کیوں کہ راجدھانی میں یوم جمہوریہ پر ہونے والے تشدد میں کچھ لیڈروں کو ’مشتبہ‘ قرار دیا گیا تھا

۳ مارچ، ۲۰۲۱ | پارتھ ایم این

رقص اور گانے کے ذریعہ کسانوں کا احتجاج

جنوری کے آخر میں ممبئی کے آزاد میدان میں کسانوں کے احتجاجی مظاہرہ میں، مہاراشٹر کے ڈہانو تعلقہ کی آدیواسی برادریوں کے دھُمسی اور تارپا بجانے والوں نے رقص اور گانے کے ذریعہ نئے زرعی قوانین کی مخالفت کی

۲۴ فروری، ۲۰۲۱ | اورنا راؤت اور ریا بہل

’اگر ہم ان کے ساتھ نہیں کھڑے ہوں گے، تو کون ہوگا؟‘

احتجاج شروع ہونے کے بعد آمدنی کا نقصان ہونے کے باوجود، ہریانہ- دہلی سرحد پر واقع سنگھو اور ارد گرد کے بہت سے چھوٹے کاروباری، دکاندار، کامگار اور سامان فروش کسانوں کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہیں

۲۳ فروری، ۲۰۲۱ | انوستپ رائے

کسان تحریک میں پیٹواڑ کی خواتین کا تعاون

ہریانہ کے پیٹواڑ گاؤں کی سونیا پیٹواڑ، شانتی دیوی اور دیگر خواتین اپنے طریقے سے کسان تحریک کا تعاون کر رہی ہیں – ٹیکری میں راشن بھیجنے کے ساتھ ساتھ وہ احتجاجی مظاہروں میں بھی شریک ہو رہی ہیں

۱۷ فروری، ۲۰۲۱ | سنسکرتی تلوار

جمبھالی کے کسان: ہاتھ ٹوٹا، حوصلہ نہیں

نارائن گائکواڑ ہاتھ ٹوٹنے کے باوجود، کسانوں سے بات کرنے اور نئے زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے جنوری میں آزاد میدان پہنچے۔ کولہاپور کے یہ کسان زرعی مسائل کو لیکر پورے ہندوستان میں کئی ریلیوں میں شرکت کر چکے ہیں

۱۲ فروری، ۲۰۲۱ | سنکیت جین

’سات بارہ کے بغیر، ہم کچھ نہیں کر سکتے‘

ارونا بائی اور ششی کلا – دونوں آدیواسی برادریوں کی بیوائیں، اور اورنگ آباد ضلع میں کسان اور زرعی مزدور ہیں – نئے زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کرنے اور اپنی زمین کا مالکانہ حق مانگنے کے لیے ممبئی آئیں

۸ فروری، ۲۰۲۱ | ریا بہل

’کیا کارپوریٹ والے ہمیں مفت میں کھلائیں گے؟‘

پی ڈی ایس راشن کی کمی، جمع خوری، غذائی اجناس کی بڑھتی ہوئی قیمتیں – مہاراشٹر کے کسان، جو ممبئی کے آزاد میدان میں احتجاج کر رہے تھے، وہ ان مسائل اور زرعی قوانین کے دیگر ممکنہ طویل مدتی اثرات سے فکر مند ہیں

۸ فروری، ۲۰۲۱ | جیوتی شنولی

سرکھنی میں، سات بارہ سے لیس ایک لمبی لڑائی

آدیواسی کسان، انوسایا کمارے اور سرجا بائی آدے اپنی زمین کے حقوق کے لیے مہاراشٹر کے سرکھنی گاؤں میں جنوری سے احتجاج کر رہی ہیں؛ وہ تین نئے زرعی قوانین کے خلاف ممبئی کے احتجاج میں شامل ہوئیں

۸ فروری، ۲۰۲۱ | شردھا اگروال

امیر کسان، عالمی سازش، مقامی بیوقوفی

دہلی کی سرحدوں پر احتجاج کر رہے کسانوں کو منتشر کرنے کی کوششیں ناکام ہونے کے بعد، عالمی سازش کی بات کرکے مقامی ظلم و جبر کو درست کہا جا رہا ہے۔ کیا آئندہ کسی اور سیارے کا ہاتھ ہونے کا پتا لگانے کی کوشش کی جائے گی؟

۶ فروری، ۲۰۲۱ | پی سائی ناتھ

بنگلورو میں: ’ہمیں کارپوریٹ منڈیاں نہیں چاہئیں‘

دہلی کی ٹریکٹر پریڈ کی حمایت کرنے اور کارپوریٹ پر مرکوز زرعی پالیسیوں کے خلاف اپنا احتجاج درج کرانے کے لیے، یوم جمہوریہ پر شمالی کرناٹک کے کسان ٹرینوں اور بسوں سے بنگلورو پہنچے

۳ فروری، ۲۰۲۱ | گوکل جی کے اور ارکتاپا باسو

’وہ ہمارا ہی گیہوں ہمیں تین گنی قیمت پر فروخت کرتے ہیں‘

زمین کے حقوق کے لیے اپنی لڑائی جاری رکھنے والی خواتین کسان اور زرعی مزدور نئے زرعی قوانین کے خلاف ممبئی میں احتجاج کر رہی تھیں تاکہ انہیں اپنی مزید فصلوں کو ایم ایس پی سے کم قیمت پر فروخت نہ کرنا پڑے

۱ فروری، ۲۰۲۱ | سنکیت جین

بنگال میں پیروں کے نیچے سے کھسکتی زمین کیلئے لڑتیں خواتین

۱۸ جنوری کو خواتین کسانوں کے دن کے موقع پر مغربی بنگال کے گاؤوں سے کسان اور زرعی مزدور خواتین نئے زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کرنے اور کئی دیگر تشویشوں کا اظہار کرنے کے لیے کولکاتا پہنچیں

۲۹ جنوری | اسمیتا کھٹور

جیجا بائی: یومِ جمہوریہ پر آزادی کی مانگ

چھوٹی عمر میں آدیواسی کسانوں کی تشویشوں کے بارے میں جاننے میں مدد کرنے کے لیے ۱۰ سال کی نوتن کو اس کی دادی، جیجا بائی نئے زرعی قوانین کے خلاف ناسک سے ممبئی تک نکالے گئے مارچ میں اپنے ساتھ لے آئیں

۲۸ جنوری، ۲۰۲۱ | پارتھ ایم این اور ریا بہل

’ایک دن ایسا آئے گا جب کوئی کسان نہیں ہوگا‘

پورے کرناٹک کے کسانوں کا کہنا ہے کہ نئے زرعی قوانین ہندوستان بھر کے کسانوں کو متاثر کرتے ہیں۔ ان میں سے کئی دہلی میں جاری کسانوں کے احتجاج کی حمایت میں یوم جمہوریہ پر بنگلورو میں نکالی جانے والی ٹریکٹر ریلی میں شرکت کی

۲۷ جنوری، ۲۰۲۱ | تمنا نصیر

ٹریکٹر ریلی تقسیم: ’وہ ہمارے لوگ نہیں تھے‘

ٹیکری سے کسانوں کے ٹریکٹروں کا قافلہ پرامن طریقے سے آگے بڑھ رہا تھا، تبھی ایک چھوٹا گروپ اس سے الگ ہو گیا، جس نے نانگلوئی چوک پر انتشار پھیلایا اور شہریوں کی ایک غیر معمولی اور شائستہ یوم جمہوریہ پریڈ میں رخنہ ڈال دیا

۲۷ جنوری، ۲۰۲۱ | سنسکرتی تلوار

’ہم اب بھی زمین کے مالک نہیں ہیں‘

ناسک کی آدیواسی کسان بیواؤں – بھیما ٹنڈالے، سُمن بومبالے اور لکشمی گائکواڑ کے لیے زمین کا مالکانہ حق بنیادی تشویش کا موضوع ہونے کے باوجود وہ نئے زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کی حمایت کرنے کے لیے ممبئی آئی ہیں

۲۶ جنوری، ۲۰۱۱ | پارتھ ایم این

’ٹیکری میں ۵۰ کلومیٹر تک ٹریکٹروں کی لائن‘

۲۶ جنوری کی ٹریکٹر ریلی کے لیے ٹیکری بارڈر پر ہزاروں ٹریکٹروں کی قطار لگ چکی ہے۔ خواتین کسان اس کی قیادت کریں گی، اور تمام منصوبوں پر احتیاط سے کام چل رہا ہے

۲۵ جنوری، ۲۰۲۱ | شیوانگی سکسینہ

’ٹریکٹر چلاتے وقت مجھے لگتا ہے کہ میں پرواز کر رہی ہوں‘

سربجیت کور ٹریکٹر چلاتے ہوئے پنجاب کے اپنے گاؤں سے ۴۰۰ کلومیٹر سے زیادہ دوری طے کرکے کسانوں کے احتجاجی مقام، سنگھو تک پہنچی ہیں اور اب ۲۶ جنوری کو ٹریکٹر ریلی میں شریک ہونے کے لیے تیار ہیں

۲۵ جنوری، ۲۰۲۱ | اسنگدھا سونی

’میں دہلی تک اپنا ٹریکٹر خود چلا کر لے جاؤں گا‘

ہریانہ کے کندرَولی گاؤں کے ایک نوجوان کسان، چیکو ڈھانڈا کسانوں کے احتجاج میں شامل ہونے کے لیے پانچ بار سنگھو جا چکے ہیں۔ وہ پھر جا رہے ہیں، اس بار ۲۶ جنوری کی ٹریکٹر ریلی میں شرکت کرنے کے لیے

۲۵ جنوری، ۲۰۲۱ | گگن دیپ

’آپ نے پورے ملک کو بیدار کر دیا ہے‘

ایک انتہائی معروف ہندوستانی بحریہ کے سابق سربراہ، جو طویل عرصے سے خود کھیتی کر رہے ہیں، زرعی قوانین کے خلاف دہلی اور ملک بھر میں احتجاج کر رہے کسانوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں

۲۴ جنوری،۲۰۲۱ | ایڈمرل لکشمی نارائن رام داس

سنگھو میں کئی شاندار خدمات کا نیٹ ورک

’پگڑی لنگر‘ سے لیکر درزی، ٹرکوں سے جڑے چارجنگ پورٹ اور آئینے، مفت لانڈری، مالش، جوتے کی سلائی تک – سنگھو میں بڑی تعداد میں غیر کسان بھی موجود ہیں، جو اپنی اِن خدمات کے ذریعہ یکجہتی کا اظہار کر رہے ہیں

۲۳ جنوری، ۲۰۲۱ | جوئے دیپ مترا

پنجاب کے زرعی مزدور: ’ہمیں کیڑوں کی طرح دیکھا جاتا ہے‘

مغربی دہلی کے ٹیکری احتجاجی مقام پر، ۷۰ سالہ تاراونتی کور پنجاب کے اُن دلت زرعی مزدوروں میں سے ایک ہیں، جن کا ماننا ہے کہ مرکز کے نئے قانون انہیں مزید غریبی میں دھکیل دیں گے

۲۱ جنوری، ۲۰۲۱ | سنسکرتی تلوار

کسان تحریک کے ساتھ خواتین: ’ہم دوبارہ تاریخ رقم کر رہے ہیں‘

ہندوستان میں خواتین زراعت میں مرکزی رول ادا کرتی ہیں، اور اس وقت بہت ساری خواتین – کسان اور غیر کسان، نوجوان اور بزرگ، مختلف طبقات اور ذاتوں سے تعلق رکھنے والی – دہلی کے ارد گرد کسانوں کے احتجاجی مقامات پر پورے عزم کے ساتھ موجود ہیں

۱۶ جنوری، ۲۰۲۱ | شردھا اگروال

پنجاب سے لیکر سنگھو تک: پینٹنگ کے ذریعہ احتجاج

لدھیانہ سے تعلق رکھنے والے آرٹ کے ایک ٹیچر نے کسانوں کی تحریک میں اپنے تعاون کے طور پر سنگھو کے احتجاجی مقام پر ایک بڑے کینوس پر پینٹنگ کی ہے

۱۴ جنوری، ۲۰۲۱ | انوستپ رائے

’زرعی قوانین امیر اور غریب دونوں کسانوں کو متاثر کرتے ہیں‘

شاہجہاں پور میں، کسانوں کی یکجہتی میں طبقہ کا کوئی امتیاز نظر نہیں آتا، اور مہاراشٹر کے آدیواسی کسان – جن میں سے کئی کے پاس زمین کے چھوٹے ٹکڑے ہیں – شمالی ہند کے اپنے کسان ساتھیوں کی بہتات اور کشادہ دلی سے کافی متاثر ہوئے

۱۴ جنوری، ۲۰۲۱ | پارتھ ایم این

’میرا خون کافی بہہ رہا ہے، یہ مجھے لوگوں نے بتایا‘

ستّر سالہ سردار سنتوکھ سنگھ ۲۷ نومبر کو پنجاب کے اپنے گاؤں سے جب سنگھو آئے، تو اُس دن آنسو گیس کا گولہ لگنے سے وہ زخمی ہو گئے تھے – لیکن زخم کے باوجود، وہ احتجاج کے مقام پر ڈٹے ہوئے ہیں

۹ جنوری، ۲۰۲۱ | کنیکا گپتا

’کھیتی ہمارا مذہب ہے، ہمیں لوگوں کو کھلانا پسند ہے‘

پنجاب کے گرودیپ سنگھ اور راجستھان کے بلاول سنگھ شاہجہاں پور کے احتجاجی مقام پر لنگر چلاتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ اس حکومت کو بھوکے احتجاجیوں سے نمٹنے کی عادت ہے، اس لیے وہ یہاں ہر کسی کا پیٹ اچھی طرح بھرنے کو یقینی بنا رہے ہیں

۲ جنوری، ۲۰۲۱ | پارتھ ایم این

’میں کسانوں کے مسائل پر بیداری پھیلانے کیلئے گاتی ہوں‘

ناسک ضلع کی ۱۶ سالہ بھیل آدیواسی زرعی مزدور اور گلوکار- موسیقار، سویتا گُنجل نے اپنی شاندار گیتوں سے مہاراشٹر کے کسانوں کے ذریعہ دہلی تک کے جتھّے میں تمام لوگوں کے جوشش و حوصلہ کو بڑھائے رکھا

۳۱ دسمبر، ۲۰۲۰ | شردھا اگروال

کسانوں کے احتجاجی مظاہرہ میں مٹر چھیلتا ہرفتح سنگھ

راجستھان- ہریانہ سرحد پر ۱۰۰ لوگوں کے لیے آلو مٹر کی سبزی بنانے میں اپنی فیملی کی مدد کرنے کے لیے سب سے کم عمر کا ایک احتجاجی سامنے آتا ہے

۳۱ دسمبر، ۲۰۲۰ | شردھا اگروال

کسانوں کے لیے نئی لڑائی میں شامل ہوئے جنگ کے ہیرو

دہلی کے دروازے پر موجود لاکھوں کسان احتجاجیوں کے درمیان مسلح افواج کے کئی ہیرو بھی ہیں، جن میں سے کچھ ہندوستان کے لیے لڑی جانے والی جنگ میں ۵۰ سے زیادہ تمغے جیت چکے ہیں

۲۹ دسمبر، ۲۰۲۰ | عامر ملک

’’ہم ہنستے، گاتے اور جھومتے ہوئے دہلی پہںچیں گے‘‘

مہاراشٹر کے مختلف ضلعوں سے تقریباً ۱۰۰۰ کسان، جن میں سے زیادہ تر آدیواسی ہیں – گاڑی، ٹیمپو، جیپ اور کاروں کے ذریعہ دہلی کے احتجاجی مظاہرین کے ساتھ شامل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ ایک خوبصورت اور پر عزم قافلہ ہے

۲۴ دسمبر، ۲۰۲۰ | شردھا اگروال

دہلی کے دروازے پر کسانوں کا ’بیلا چاؤ‘

پچھلے مہینے سے دہلی کے دروازے پر کسانوں اور ان کے حامیوں کے احتجاجی مظاہرے کئی دلکش نظموں اور گیتوں کی تخلیق کا باعث بنے ہیں۔ لیکن یہ گیت یقینی طور پر گزشتہ کئی برسوں کے سب سے بہتر احتجاجی گیتوں میں سے ایک ہے

۲۳ دسمبر، ۲۰۲۰ | پوجن ساحل اور کاروان محبت میڈیا ٹیم

’خواتین کسانوں کو نیا قانون نہیں چاہیے‘

ہندوستان میں خواتین زراعت میں مرکزی رول ادا کرتی ہیں، لیکن انہیں کبھی کسان کے طور پر تسلیم نہیں کیا جاتا – گزشتہ ہفتے ان میں سے کئی عورتیں نئے زرعی قوانین کو ختم کرنے کی تحریک کی حمایت کرتے ہوئے پونہ میں جمع ہوئیں

۱۸ دسمبر، ۲۰۲۰ | ودیا کلکرنی

’اس سردی میں ہمارے دل جلتے ہوئے انگارے ہیں‘

کسانوں کے احتجاجی مقام، سنگھو اور براڑی کے عارضی کیمپوں میں ٹھہرے مظاہرین ہر دن کے آخر میں لمبی رات گزارنے اور بھائی چارے کے جذبہ اور نئے عزم کے ساتھ آگے کی لڑائی لڑنے کی تیاری کرتے ہیں

۱۵ دسمبر، ۲۰۲۰ | شاداب فاروق

’میں یہاں کھانے کے لیے آتی ہوں‘

سنگھو بارڈر پر کسانوں کے احتجاجی مظاہرہ نے ارد گرد کے فٹ پاتھوں اور جھگی بستیوں میں رہنے والے بہت سے کنبوں کو متوجہ کیا ہے، جو خاص طور سے لنکر – مفت کھانا – کے لیے آتے ہیں اور یہ اجتماعی باورچی خانے تمام لوگوں کا خیر مقدم کرتے ہیں

۱۴ دسمبر، ۲۰۲۰ | کنیکا گپتا

’کسان ہرجیت سنگھ چل نہیں سکتے، لیکن مضبوطی سے کھڑے ہیں‘

دہلی- ہریانہ سرحد کے سنگھو بارڈر پر ڈٹے کسان بہت سی مشکلوں کا سامنا کرتے ہوئے سینکڑوں کلومیٹر دور سے آئے ہیں۔ انہی میں سے ایک ہرجیت سنگھ بھی ہیں، جو ٹوٹے کولہے اور زخمی ریڑھ کے باوجود یہاں تک پہنچے ہیں

۱۲ دسمبر، ۲۰۲۰ | عامر ملک

اور آپ نے سوچا کہ یہ صرف کسانوں کے بارے میں ہے؟

نئے زرعی قوانین صرف کسانوں کو ہی نہیں، بلکہ تمام شہریوں کو آئینی تحفظ سے محروم کر رہے ہیں – جو کہ ۱۹۷۵-۷۷ کی ایمرجنسی کے بعد سے اب تک نہیں دیکھا گیا تھا۔ دہلی کے دروازے پر موجود کسان ہم تمام لوگوں کے حقوق کے لیے لڑ رہے ہیں

۱۰ دسمبر، ۲۰۲۰ | پی سائی ناتھ

’اے پی ایم سی سے متعلق قانون موت کا وارنٹ ہے‘

دہلی- ہریانہ کے احتجاجی مظاہروں میں، کسانوں کے مطالبات میں تین نئے زرعی قوانین کو ردّ کرنا شامل ہے – اور وہ کانٹے دار تاروں، بیریکیڈز، اپنے خود کے نقصان، بے عزتی وغیرہ کا سامنا کرنے کو تیار ہیں

۳۰ دسمبر، ۲۰۲۰ | عامر ملک

پالگھر میں احتجاج: ’ہم آج پیچھے نہیں ہٹیں گے‘

ہریانہ- دہلی میں چل رہے احتجاجی مظاہروں کو اپنی حمایت دینے اور اپنے ۲۱ مطالبات کو لیکر، آدیواسی برادری کے کسان ۲۶ نومبر کو مہاراشٹر کے پالگھر ضلع میں جمع ہوئے

۲۸ دسمبر، ۲۰۲۰ | شردھا اگروال

مترجم: محمد قمر تبریز

Mohd. Qamar Tabrez is PARI’s Urdu/Hindi translator since 2015. He is a Delhi-based journalist, the author of two books, and was associated with newspapers like ‘Roznama Mera Watan’, ‘Rashtriya Sahara’, ‘Chauthi Duniya’ and ‘Avadhnama’. He has a degree in History from Aligarh Muslim University and a PhD from Jawaharlal Nehru University, Delhi. You can contact the translator here: