کان کی ریت میں احتجاجی قدموں کے نشان

یوپی کے باندہ ضلع میں کسانوں کا ایک چھوٹا، بہادر گروپ ریت مافیا کے ذریعہ اپنی زمینوں اور کین ندی کو ہوئے نقصان کے خلاف لڑ رہا ہے۔ ۵ جون کو عالمی یوم ماحولیات سے کچھ دن پہلے، انہوں نے جل ستیاگرہ کیا

۶ جون، ۲۰۲۰| جگیاسا مشرا

’ہمیں لگتا ہے کہ ۱۵۰۰۰ درخت پہلے ہی کاٹے جا چکے ہیں‘

اوڈیشہ کے تالابیرا کوئلہ کان کی راہ ہموار کرنے کے لیے، دو ہفتے سے بے شمار درختوں کو کاٹا جا رہا ہے۔ گاؤوں والے بہت غمزدہ اور غصے میں ہیں، فرضی طریقے سے منظوری حاصل کرنے کا الزام لگا رہے ہیں، اور اس تباہ کاری کی مخالفت کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں

۱۸ دسمبر، ۲۰۱۹ | چترانگدا چودھری

’لیکن محکمہ جنگلات کا کہنا ہے کہ یہ زمین ان کی ہے‘

ساگوان کی شجر کاری، بے گھر کیا جانا، زمین کا مالکانہ حق نہ ہونا – گزشتہ ہفتہ دہلی میں آدیواسی خواتین نے ان پر اور ان سے متعلق دیگر مسائل پر بات کی اور حق جنگلات قانون کو نافذ کرنے کا مطالبہ کیا۔ سپریم کورٹ میں ایف آر اے کے خلاف زیر سماعت ایک معاملہ میں حتمی فیصلہ کا ابھی انتظار ہے

۲۵ نومبر، ۲۰۱۹ | چترانگدا چودھری

’انہیں جانوروں سے ووٹ مانگنے دیں‘

حق جنگلات قانون کو نافذ کرنے کا مطالبہ لے کر پچھلے ہفتہ دہلی میں ایک ریلی کے دوران کئی لوگوں نے محکمہ جنگلات کے ساتھ اپنے تصادم، جنگلات سے متعلق اپنے حقوق کو حاصل کرنے کی لڑائیوں کے بارے میں بتایا، اور ایک جاری معاملے میں ایف آر اے کو بچانے کا عہد کیا

۸ مارچ، ۲۰۱۹ | جانہوی متل

جنگلات کے حقوق کی لڑائی کے حاشیہ پر

’’زندگی میں پہلی بار، میں نے خود کو مضبوط محسوس کیا،‘‘ اتر پردیش کے سون بھدر ضلع کے مجھولی گاؤں میں، زمین اور جنگل کے حقوق کا مطالبہ کرنے کے لیے اپنی آدیواسی برادری کو متحد کرنے کے بارے میں سُکالو گونڈ کہتی ہیں۔

۱ نومبر، ۲۰۱۸ | شویتا ڈاگا

’مجھے معلوم تھا کہ میں اُس دن جیل جاؤں گی...‘

آدیواسی جب جنگلات کے روایتی حقوق اور زمین کو دوبارہ حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کرتے ہیں، تو انھیں جیل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جو کہ خاص طور سے خواتین کے لیے مشکل ہوتا ہے – جیسا کہ اتر پردیش کے سون بھدر ضلع کی راجکماری اور سُکالو کے ساتھ ہوا

۳۰ اکتوبر، ۲۰۱۸ | شویتا ڈاگا

’ہمیں لے جاؤ، ہماری زمین لینے سے یہ بہتر ہے‘

زمین اور جنگل سے متعلق حقوق کی لڑائی میں مضبوط آواز بننے والی خواتین کو اکثر تشدد، جھوٹے الزامات اور جیل جانے کا خطرہ رہتا ہے – جیسے کہ یوپی کے سون بھدر ضلع کی دو دلت کارکن لالتی دیوی اور شوبا بھارتی ہیں

۳۱ جولائی، ۲۰۱۸ | شویتا ڈاگا

’جنگلات کے افسر ہماری فصل کاٹ کر لے گئے‘

ناسک سے ممبئی تک کے تاریخی لمبے مارچ کے بعد، ۳ مئی کو وِجے ریلی نکالنے کے لیے ۳۵ ہزار آدیواسی کسان ڈہانو میں جمع ہوئے، اپنے اس پختہ ارادے کا اشارہ دینے کے لیے کہ اپنے مطالبات کو لے کر ان کی یہ لڑائی جاری رہے گی

۱۰ مئی، ۲۰۱۸ | سدھارتھ اڈیلکر

جنگل سے اجاڑ کر کنکریٹ میں بند کیے گئے آدیواسی

میگا سٹی ممبئی کے اندر، میٹرو کار ڈپو بنانے کے لیے ایک آدیواسی گاؤں کو توڑ کر برابر کر دیا گیا، اور یہاں کے باشندوں کو ایس آر اے بلڈنگ کے ماچس کے ڈبوں جیسے فلیٹوں میں ٹھونس دیا گیا ہے

۶ مارچ، ۲۰۱۸ | جیوتی شنولی

ہندوستان میں جنگلات کی حالت پر رپورٹ

ہندوستان میں جنگلات کی حالت پر رپورٹ ۲۰۱۷ کو ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت کے تحت کام کرنے والی قومی تنظیم، ہندوستانی جنگلات کا سروے کے ذریعہ شائع کیا گیا ہے۔ ۱۹۸۷ سے سال میں دو بار شائع ہو رہی یہ رپورٹ، ملک بھر کے جنگلاتی علاقے میں ہو رہی تبدیلی کے بارے میں بتاتی ہے۔

۱۲ فروری، ۲۰۱۸ | ہندوستانی جنگلات کا سروے

زوئلیانی کی لکڑی سے بھری ٹوکری

ہمیفانگ، میزورم میں پہاڑوں کے او پر واقع جنگل میں لکڑیاں جمع کرتی خاتون

۲۴ جنوری، ۲۰۱۷ | ڈیوڈ سی ونلل فکاوما اور ٹی آر شنکر رمن

۷۹ ہزار کروڑ روپے کے جنگل کو کیسے چُرایا جائے

کیونجھار کے سات گاؤوں کے آدیواسیوں کو اس بات کے لیے راضی کیا گیا کہ وہ اپنے جنگلات کو خام لوہے کی کان میں تبدیل کر دیں

۲۶ فروری، ۲۰۱۶ | چترانگدا چودھری

صرف ایک کوئلہ بلاک نہیں

مقامی آدیواسی گروہوں اور ماحولیاتی کارکنوں کی سخت مخالفت کے باوجود، چھتیس گڑھ کے ہسدیو ارند جنگلاتی علاقہ کو حکومت کے ذریعہ جلد بازی میں کانکنی کے لیے کوئلہ بلاکوں کی نیلامی سے خطرہ پیدا ہو گیا ہے

۲ جنوری، ۲۰۱۵ | چترانگدا چودھری

کوئلے سے مالامال اڑیسہ میں بغاوت

معدنیات سے بھرپور علاقوں میں دیہی باشندوں کا غصہ ہندوستان کی ناقص ترقیاتی پالیسیوں کو اجاگر کرتا ہے

۱۸ دسمبر، ۲۰۱۴ | چترانگدا چودھری

مترجم: محمد قمر تبریز

Mohd. Qamar Tabrez is PARI’s Urdu/Hindi translator since 2015. He is a Delhi-based journalist, the author of two books, and was associated with newspapers like ‘Roznama Mera Watan’, ‘Rashtriya Sahara’, ‘Chauthi Duniya’ and ‘Avadhnama’. He has a degree in History from Aligarh Muslim University and a PhD from Jawaharlal Nehru University, Delhi. You can contact the translator here: