html زوئلیانی کی لکڑی سے بھری ٹوکری

اکتوبر کے وسط کی دوپہر میں، سورج کی شعائیں بھلے ہی ہمیفانگ، میزورم میں بادل سے ڈھکے پہاڑوں کے اوپر سے چھن کر آ رہی ہوں، لیکن سدا بہار سرسبز درختوں کے گھنے جنگلوں میں ہمیشہ سردی اور اندھیرا رہتا ہے۔ پورے جنگل میں مکمل خاموشی ہے، یہاں صرف ایک ہی آواز سنائی دیتی ہے اور وہ ہے پرندوں کی آواز یا پھر لکڑیاں جمع کرنے والی خاتون کی ٹھک ٹھک کی آواز۔

وہ جھکی ہوئی ہے، اپنے کام میں پوری طرح مصروف، جلانے والی لکڑیوں کا ایک گٹھر پہلے سے ہی اس کے آس پاس لائن سے رکھا ہوا ہے۔ لال زوئلیانی، یا زوئلیانی جو کہ ان کو پکارنے والا نام ہے، ۶۵ سال کی ہیں، پاس کے اپنے ہمیفانگ گاؤں میں واقع اپنے گھر کے لیے لکڑیاں جمع کرنے میں مصروف ہیں۔ ان کے پاؤں کے قریب موگری ہے۔ اس کا پتلا اور بھاری بلیڈ آخری سرے پر لکڑی کے دستے سے کسا ہوا ہے، تاکہ اسے استعمال کرنے میں آسانی ہو۔ اس کی مدد سے انھوں نے بٹلانگ کین درخت (کروٹن لِسو فائلس) کی لکڑی کو آسانی سے ۳ یا ساڑھے فٹ کے ٹکڑوں میں کاٹ رکھا ہے۔ جمع کی گئی لکڑی، جو ابھی پوری طرح سے خشک نہیں ہے، تقریباً ۳۰ کلوگرام وزن کی ہے۔

ایسے میں جب کہ وہ ان لکڑیوں کو گھر لے جانے کے لیے تیار کر رہی ہیں، ان کے ہاتھ میں موجود داؤ (خنجر) تیز اور اثردار طریقے سے حرکت کر رہا ہے، جسے وہ بڑی آسانی سے ادھر ادھر گھما رہی ہیں، یہ کئی برسوں کی روزانہ کی ورزش کا نتیجہ ہے۔

PHOTO • T. R. Shankar Raman

میزورم کے آئیزول ضلع کی ۱۶۰۰ میٹر اونچی لوشائی پہاڑیوں پر واقع ہمیفانگ کا گھنا جنگل، جو آئیزول شہر سے تقریباً ۵۰ کلومیٹر جنوب میں ہے

PHOTO • T. R. Shankar Raman

اپنے کام میں مصروف، ۶۵ سالہ زوئلیانی، ہاتھ میں داؤ (خنجر) پکڑے ہوئے، لکڑی کو نیچے تک صاف کرنے کے لیے کائی اور گندگی کو ہٹا رہی ہیں

PHOTO • David C. Vanlalfakawma

زوئلیانی لکڑیوں کے گٹھر کو اور اونچا بنا رہی ہیں۔ ان کے پیچھے وہ ٹوکری موجود ہے، جس پر انھوں نے اپنا پھولوں کے رنگ کا کپڑا رکھا ہوا ہے

لکڑی کے فریم میں اپنا چہرہ لگائے ہوئے، زوئلیانی اپنی ٹوکری کے پیچھے آلتی پالتی مارے بیٹھی ہوئی ہیں۔ وہ احتیاط کے ساتھ لکڑیوں کو اس ٹوکری میں سجا رہی ہیں، جسے وہ پہاڑی کے اوپر سے ہوکر ڈھلان سے واپس اپنے گھر کئی کلومیٹر تک ڈھوکر لے جائیں گی

PHOTO • T. R. Shankar Raman

ہاتھ میں لکڑی پکڑے ہوئے، زوئلیانی تھوڑی دیر کے لیے اپنے کام سے نظر اوپر اٹھاتی ہیں۔ ان کی پیشانی اور بھنووں پر موجود جھریاں بتا رہی ہیں کہ وہ عمر کی چھ دہائی پار کر چکی ہیں۔ ان کا ٹی شرٹ سبز رنگ کا ہے، جیسا کہ ان کے پیچھے موجود جنگل کا 

PHOTO • T. R. Shankar Raman

زوئلیانی ٹوکری میں موجود لکڑی کے بوجھ کا اندازہ لگا رہی ہیں، جب کہ ڈھلاؤنی زمین پر لکڑی کا ایک ٹکڑا ٹوکری کو سہارا دیے ہوئے ہے۔ ’’ہم ایل پی جی نہیں خرید سکتے اور گیس سلنڈر کی سپلائی یہاں کی ڈیمانڈ کو پورا نہیں کر پاتی،‘‘ وہ کہتی ہیں

PHOTO • David C. Vanlalfakawma

زوئلیانی اپنے سر پر ٹانگنے سے پہلے اپنی ٹوکری کو چیک کرتی ہیں، جو پوری طرح سجا کر رکھی ہوئی ہے، پوری طرح متوازن ہے، خود ان کی لمبائی کے برابر۔ ہاتھ سے بنے ہوئے کین (جسے مقامی زبان میں ’ہنام‘ کہتے ہیں) والی مضبوط رسی کا استعمال کرتے ہوئے، وہ ٹوکری کی طرف اپنی پیٹھ کرکے بیٹھتی ہیں، اور اپنے سر پر پٹے کو لگا کر بوجھ کو اٹھانے کی تیاری کر رہی ہیں

PHOTO • T. R. Shankar Raman

مشق کی وجہ سے پوری آسانی اور آرام کے ساتھ، زوئلیانی اپنے پیروں پر کھڑی ہوتی ہیں، جب کہ لکڑی کی ٹوکری سے بھرا بوجھ ان کے سر پر بندھا ہوا ہے اور وہ اپنے سر پر ٹوکری کے نیچے کپڑے کا ایک گدا رکھتی ہیں

PHOTO • T. R. Shankar Raman

اپنی ٹوکری میں جمع کی ہوئی لکڑی کے گٹھر والے دوپہر بعد کے کام کے ساتھ، زوئلیانی جنگل سے ہوتے ہوئے اپنے گھر واپس لوٹ رہی ہیں

Mohd. Qamar Tabrez is PARI’s Urdu/Hindi translator since 2015. He is a Delhi-based journalist, the author of two books, and was associated with newspapers like ‘Roznama Mera Watan’, ‘Rashtriya Sahara’, ‘Chauthi Duniya’ and ‘Avadhnama’. He has a degree in History from Aligarh Muslim University and a PhD from Jawaharlal Nehru University, Delhi. You can contact the translator here:

T. R. Shankar Raman

T. R. Shankar Raman is a wildlife biologist working with the Nature Conservation Foundation, Mysore.

Other stories by T. R. Shankar Raman
David C. Vanlalfakawma
cfakawma@gmail.com

David C. Vanlalfakawma is a national post-doctoral fellow at Mizoram University and a member of the Biodiversity and Nature Conservation Network (BIOCONE), Aizawl.

Other stories by David C. Vanlalfakawma