پروین کمار بیساکھی کے ساتھ جہاں اسکوٹر پر بیٹھے ہیں، اور ایک ہاتھ میں برش پکڑے اپنے آس پاس کے لوگوں سے بات کر رہے ہیں، وہیں قریب میں ایک بڑا کینوس ہے – ۱۸ فٹ لمبا – جس پر انہوں نے سنگھو میں احتجاج کر رہے کسانوں کی کچھ تصویریں بنائی ہیں۔

پروین لدھیانہ سے تقریباً ۳۰۰ کلومیٹر کا سفر کرکے سنگھو پہنچے ہیں، جہاں وہ آرٹ کے ایک ٹیچر اور مصور ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ اپنا تعاون دینے کے لیے، مجبور ہوکر، وہ ۱۰ جنوری کو ہریانہ- دہلی سرحد پر واقع اس احتجاجی مقام پر پہنچے۔

’’میں اپنی تشہیر نہیں کر رہا ہوں، بھگوان نے مجھے بہت کچھ دیا ہے، مجھے اس کی کوئی فکر نہیں ہے۔ میرے لیے خوشی کی بات یہ ہے کہ میں اب اس تحریک کا حصہ ہوں،‘‘ وہ کہتے ہیں۔

’’میں ۷۰ فیصد معذور ہوں،‘‘ وہ اپنے پیر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں، جو پولیو کی وجہ سے تین سال کی عمر میں فالج زدہ ہو گیا تھا۔ نہ تو یہ، اور نہ ہی ان کی فیملی کی شروعاتی ناراضگی انہیں سنگھو آنے سے روک سکی۔

۴۳ سالہ پروین نے لدھیانہ میں ہی بڑے کینوس پر پینٹنگ شروع کردی تھی اور اسے سنگھو تک لے آئے، جہاں وہ – احتجاجیوں کے درمیان سڑک پر بیٹھے ہوئے – اس پر تب تک کام کرتے رہے جب کہ یہ تیار نہیں ہو گیا۔

Praveen Kumar, whose painting covers the stages of the protests, says, 'What makes me happy is that I am now a part of this agitation'
PHOTO • Anustup Roy
Praveen Kumar, whose painting covers the stages of the protests, says, 'What makes me happy is that I am now a part of this agitation'
PHOTO • Anustup Roy

پروین کمار، جن کی پینٹنگ احتجاج کے مختلف مراحل کا احاطہ کرتی ہے، کہتے ہیں، ’میرے لیے خوشی کی بات یہ ہے کہ میں اب اس تحریک کا حصہ ہوں‘

دہلی کی سرحد پر واقع سنگھو اور دیگر احتجاجی مقامات پر، لاکھوں کسان تین زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں، جسے سب سے پہلے ۵ جون، ۲۰۲۰ کو آرڈیننس کی شکل میں جاری کیا گیا تھا، پھر ۱۴ ستمبر کو پارلیمنٹ میں زرعی بل کے طور پر پیش کیا گیا اور اسی ماہ کی ۲۰ تاریخ کو قانون کے طور پر پاس کر دیا گیا۔

احتجاجیوں کا کہنا ہے کہ یہ قوانین بڑے پیمانے پر تباہی کا باعث بنیں گے – زرعی پیداوار کی تجارت و کاروبار (فروغ اور سہل آمیزی) کا قانون، ۲۰۲۰ ؛ کاشت کاروں (کو با اختیار بنانے اور تحفظ فراہم کرنے) کے لیے قیمت کی یقین دہانی اور زرعی خدمات پر قرار کا قانون، ۲۰۲۰ ؛ اور ضروری اشیاء (ترمیمی) قانون، ۲۰۲۰ ہیں۔ ان قوانین کی اس لیے بھی تنقید کی جا رہی ہے کیوں کہ یہ ہر ہندوستانی کو متاثر کرنے والے ہیں۔ یہ ہندوستان کے آئین کی دفعہ ۳۲ کو کمزور کرتے ہوئے تمام شہریوں کے قانونی چارہ جوئی کے حق کو ناکارہ کرتے ہیں۔

پروین کی پینٹنگ میں ان قوانین کے خلاف ہو رہے احتجاج کے مختلف مراحل کا احاطہ کیا گیا ہے۔ یہ کینوس اس تحریک کی ایک اہم عکاسی ہے – کسانوں کے ذریعہ ریلوے کی پٹریوں پر رخنہ ڈالنے کے دن سے لیکر آنسو گیس کے گولے اور پانی کی بوچھار کا سامنا کرنے سے آج تک، جب وہ دہلی کی سرحدوں پر ڈٹے ہوئے ہیں۔

انہوں نے کینوس پر کڑی محنت سے کام کیا ہے، لیکن آنے والے وقت میں اسے مزید وسعت دینا چاہتے ہیں، اور کہتے ہیں، ’’میں اسے اس کے آخری نتیجہ تک لے جانا چاہتا ہوں‘‘ – احتجاج کی کامیابی اور زرعی قوانین کو منسوخ کرنے تک۔

مترجم: محمد قمر تبریزِ

Mohd. Qamar Tabrez is PARI’s Urdu/Hindi translator since 2015. He is a Delhi-based journalist, the author of two books, and was associated with newspapers like ‘Roznama Mera Watan’, ‘Rashtriya Sahara’, ‘Chauthi Duniya’ and ‘Avadhnama’. He has a degree in History from Aligarh Muslim University and a PhD from Jawaharlal Nehru University, Delhi. You can contact the translator here:

Anustup Roy

Anustup Roy is a Kolkata-based software engineer. When he is not writing code, he travels across India with his camera.

Other stories by Anustup Roy