’’بنگال کے بہت سے کسان ان قوانین سے واقف نہیں ہیں۔ اس لیے میں اپنے گاؤں سے چند لوگوں کو لیکر آیا ہوں تاکہ وہ یہاں موجود لیڈروں کی باتیں سنیں، وہ جو کچھ کہہ رہے ہیں انہیں سمجھیں اور آج گھر واپس جانے کے بعد اپنے پڑوسیوں اور دوستوں کو بھی بتائیں،‘‘ سُبرت اڈک نے کہا۔

۳۱ سالہ کسان، سبرتا تقریباً ۱۰ کلومیٹر دور واقع اپنے گاؤں، باڑا کملاپور سے ۱۴ مارچ کو سنگور کی اس احتجاجی میٹنگ میں آئے تھے۔ تین زرعی قوانین کے خلاف دہلی کی سرحدوں پر احتجاج کرنے والے کسانوں کی متحدہ تنظیم، سمیُکت کسان مورچہ کے لیڈران، قوانین کے خطرات کے بارے میں بیداری پیدا کرنے کے لیے وسط مارچ میں مغربی بنگال آئے تھے۔ سنگور کے علاوہ، انہوں نے آسنسول، کولکاتا اور نندی گرام میں بھی میٹنگیں کیں۔

سنگور کے ناباپلّی علاقہ میں صبح ۱۱ بجے سے دوپہر ۱ بجے تک منعقد ہونے والی چھوٹی سی میٹنگ میں شریک ہونے والے کسانوں اور حامیوں کی تعداد کا الگ الگ اندازہ لگایا گیا – جو ۵۰۰ سے ۲۰۰۰ کے درمیان تھے۔ کولکاتا سے تقریباً ۴۰ کلومیٹر شمال مغرب میں واقع اس شہر میں سال ۲۰۰۶-۰۷ میں ٹاٹا موٹر کی نینو کار فیکٹری کے لیے تقریباً ۹۹۷ ایکڑ زرعی زمین کی تحویل کے خلاف ایک تاریخی احتجاج ہوا تھا۔ سپریم کورٹ نے ۲۰۱۶ میں ایک آرڈر کے ذریعہ ریاستی حکومت سے کسانوں کو زمین لوٹانے کا حکم دیا تھا، لیکن ان میں سے زیادہ تر کھیت آج بنجر ہیں۔

’’میں خود ایک کسان ہوں، اس لیے ہندوستان میں زراعت کی حالت کو جانتا ہوں،‘‘ سبرت نے کہا، جو آٹھ بیگھہ کھیت (مغربی بنگال میں ایک بیگھہ صفر اعشاریہ ۳۳ ایکڑ کے برابر ہوتا ہے) میں آلو اور پیاز کی کھیتی کرتے ہیں۔ ’’ہندوستان جب آزاد نہیں ہوا تھا تب بھی، انگریزوں نیل کے کاشتکاروں کا استحصال کیا تھا۔ موجودہ حکومت ایک بار پھر وہی صورتحال پیدا کر رہی ہے۔ آلو کی کھیتی کرنے کی لاگت کافی بڑھ چکی ہے، بیجوں کی قیمت بڑھ گئی ہے۔ اگر اتنا سب کچھ کرنے کے بعد بھی ہمیں پیسے نہیں ملیں گے اور اصل منافع کارپوریٹوں کو ہونے لگے گا، تو ہم جئیں گے کیسے؟‘‘

Left: Farmers from Singur and nearby areas gathered for the 'mahapanchayat' on March 14. Centre: Amarjeet Singh, who came from the Dunlop locality, said: 'We couldn't go to Delhi [to join the farmers’ protests} but we have come here, and until the black laws are repealed, we will support the agitation'. Right: Jitendra Singh and Navjyot Singh were there because they want the farmers of West Bengal to know more about MSP and the fallouts of the three farm laws
PHOTO • Anustup Roy
Left: Farmers from Singur and nearby areas gathered for the 'mahapanchayat' on March 14. Centre: Amarjeet Singh, who came from the Dunlop locality, said: 'We couldn't go to Delhi [to join the farmers’ protests} but we have come here, and until the black laws are repealed, we will support the agitation'. Right: Jitendra Singh and Navjyot Singh were there because they want the farmers of West Bengal to know more about MSP and the fallouts of the three farm laws
PHOTO • Anustup Roy
Left: Farmers from Singur and nearby areas gathered for the 'mahapanchayat' on March 14. Centre: Amarjeet Singh, who came from the Dunlop locality, said: 'We couldn't go to Delhi [to join the farmers’ protests} but we have come here, and until the black laws are repealed, we will support the agitation'. Right: Jitendra Singh and Navjyot Singh were there because they want the farmers of West Bengal to know more about MSP and the fallouts of the three farm laws
PHOTO • Anustup Roy

بائیں: سنگور اور اس کے آس پاس کے علاقوں کے کسان ۱۴ مارچ کی ’مہا پنچایت‘ کے لیے اکٹھا ہوئے۔ درمیان میں: امرجیت کور، جو ڈنلوپ علاقہ سے آئی تھیں، نے کہا: ’ہم [کسانوں کے احتجاج میں شامل ہونے کے لیے] دہلی نہیں جا سکے، لیکن ہم یہاں آئے ہیں اور جب تک کالے قانون واپس نہیں لے لیے جاتے، ہم احتجاج کی حمایت کرتے رہیں گے‘۔ دائیں: جتیندر سنگھ اور نوجیوت سنگھ وہاں اس لیے گئے تھے کیوں کہ وہ چاہتے ہیں کہ مغربی بنگال کے کسان ایم ایس پی اور تین زرعی قوانین کے نقصانات کے بارے میں مزید جانیں

’’ہم احتجاج کرنا بند نہیں کریں گے، ہم چاہتے ہیں تینوں قوانین کو واپس لے لیا جائے،‘‘ ۶۵ سالہ امرجیت کور نے کہا، جو تقریباً ۳۰ کلومیٹر دور واقع شمالی ۲۴ پرگنہ ضلع کی باڑا نگر میونسپلٹی کے ڈنلوپ علاقہ سے سنگور آئی تھیں۔ ’’سرکار نے ہمارا کافی نقصان کیا ہے،‘‘ کور نے کہا، جن کا آبائی گھر لدھیانہ ہے، جہاں ان کی فیملی عام طور سے دھان اور گیہوں کی کھیتی کرتی ہے۔ ’’وہ نوٹ بندی لے کر آئے تھے، کسی کے پاس نوکری نہیں ہے۔ ہم [کسانوں کے احتجاج میں شامل ہونے کے لیے] دہلی نہیں جا سکے، لیکن ہم یہاں آئے ہیں اور جب تک کالے قانون واپس نہیں لے لیے جاتے، ہم احتجاج کی حمایت کرتے رہیں گے۔‘‘

کسان جن قوانین کی مخالفت کر رہے ہیں، وہ زرعی پیداوار کی تجارت و کاروبار (فروغ اور سہل آمیزی) کا قانون، ۲۰۲۰ ؛ کاشت کاروں (کو با اختیار بنانے اور تحفظ فراہم کرنے) کے لیے قیمت کی یقین دہانی اور زرعی خدمات پر قرار کا قانون، ۲۰۲۰ ؛ اور ضروری اشیاء (ترمیمی) قانون، ۲۰۲۰ ہیں۔ انہیں سب سے پہلے ۵ جون، ۲۰۲۰ کو آرڈیننس کی شکل میں پاس کیا گیا تھا، پھر ۱۴ ستمبر کو پارلیمنٹ میں زرعی بل کے طور پر پیش کیا گیا اور اسی ماہ کی ۲۰ تاریخ کو موجودہ حکومت کے ذریعہ جلد بازی میں قانون میں بدل دیا گیا۔

کسان ان قوانین کو اپنے معاش کے لیے تباہ کن سمجھ رہے ہیں کیوں کہ یہ قوانین بڑے کارپوریٹ کو کسانوں اور زراعت پر زیادہ اختیار فراہم کرتے ہیں۔ ان قوانین کی اس لیے بھی تنقید کی جا رہی ہے کیوں کہ یہ ہر ہندوستانی کو متاثر کرنے والے ہیں۔ یہ ہندوستان کے آئین کی دفعہ ۳۲ کو کمزور کرتے ہوئے تمام شہریوں کے قانونی چارہ جوئی کے حق کو ناکارہ کرتے ہیں۔

اس میٹنگ میں، سنگور سے تقریباً ۲۵ کلومیٹر دور واقع بالّی قصبہ کے ۵۵ سالہ جتیندر سنگھ بھی موجود تھے۔ ٹرانسپورٹ کا کاروبار کرنے والے جتیندر سنگھ نے کہا، ’’ہماری [ملک کی] بنیادی دولت زراعت ہے، اور ان زرعی قوانین نے اس شعبہ کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ بہار کو دیکھیں جہاں منڈی نظام ۲۰۰۶ میں بند کر دیا گیا تھا۔ بہار کے کسان اپنے پاس زمین ہونے کے باوجود، معاش کمانے کے لیے پنجاب اور ہریانہ جاتے ہیں۔‘‘

Left: Kalyani Das, Swati Adak and Sontu Das walked to the meeting from Bara Kamalapura, around 10 kilometers away. Middle: Lichu Mahato, a daily wage labourer, said: 'I have come here to know about the farm laws. My life is already in a bad shape and I don't want it to worsen further'. Right: Parminder Kaur and her sister-in-law Manjeet Kaur: 'We haven't come to Singur to support any political party, we have come for our farmers'
PHOTO • Anustup Roy
Left: Kalyani Das, Swati Adak and Sontu Das walked to the meeting from Bara Kamalapura, around 10 kilometers away. Middle: Lichu Mahato, a daily wage labourer, said: 'I have come here to know about the farm laws. My life is already in a bad shape and I don't want it to worsen further'. Right: Parminder Kaur and her sister-in-law Manjeet Kaur: 'We haven't come to Singur to support any political party, we have come for our farmers'
PHOTO • Anustup Roy
Left: Kalyani Das, Swati Adak and Sontu Das walked to the meeting from Bara Kamalapura, around 10 kilometers away. Middle: Lichu Mahato, a daily wage labourer, said: 'I have come here to know about the farm laws. My life is already in a bad shape and I don't want it to worsen further'. Right: Parminder Kaur and her sister-in-law Manjeet Kaur: 'We haven't come to Singur to support any political party, we have come for our farmers'
PHOTO • Anustup Roy

بائیں: کلیانی داس، سواتی اڈک اور سونٹو داس تقریباً ۱۰ کلومیٹر دور، باڑا کملا پورہ سے پیدل چل کر اس میٹنگ میں آئے تھے۔ درمیان میں: لیچھو مہتو، یومیہ مزدور، نے کہا: ’میں یہاں زرعی قوانین کے بارے میں جاننے کے لیے آیا ہوں۔ میری زندگی کی حالت پہلے سے ہی خراب ہے اور میں اسے مزید بدتر ہوتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہتا‘۔ دائیں: پرمندر کور اور ان کی بھابھی منجیت کور: ’ہم کسی سیاسی پارٹی کی حمایت کرنے کے لیے سنگور نہیں آئے ہیں، ہم اپنے کسانوں کے لیے آئے ہیں‘

’’وہ [حکومت] ایم ایس پی [کم از کم امدادی قیمت] کے بارے میں کیوں نہیں بول رہے ہیں؟‘‘ ۳۰ سالہ نوجیوت سنگھ سوال کرتے ہیں، یہ بھی بالّی سے سنگور آئے تھے، جہاں وہ ریستوراں چلاتے ہیں۔ ان کی فیملی پنجاب کے برنالا ضلع کے شیخا گاؤں میں ۱۰ ایکڑ زمین پر دھان اور گیہوں کی کھیتی کرتی ہے۔ ’’یہ میٹنگیں بنگال کے کسانوں کو ایم ایس پی کے بارے میں [مزید] بیدار کرنے کے لیے منعقد کی جا رہی ہیں۔‘‘

ہُگلی ضلع کے سیرامپور قصبہ سے یہاں آنے والی، ۵۰ سالہ پرمندر کور نے کہا، ’’اگر زرعی قوانین نافذ کر دیے جاتے ہیں، تو ایسی کوئی مقررہ قیمت نہیں ہوگی جس پر ہم اپنی فصلیں فروخت کر سکیں۔‘‘ ان کا تعلق پنجاب کے لدھیانہ سے ہے، جہاں ان کی فیملی کے کچھ ارکان ۱۰ ایکڑ زمین پر عام طور سے دھان اور گیہوں کی کھیتی کرتے ہیں۔ ان کی فیملی مغربی بنگال میں ٹرانسپورٹ کا کاروبار کرتی ہے۔ ’’ہم کسی سیاسی پارٹی کی حمایت کرنے کے لیے سنگور نہیں آئے ہیں،‘‘ انہوں نے مزید کہا۔ ’’ہم اپنے کسانوں کے لیے آئے ہیں۔‘‘

۴۲ سالہ کلیانی داس، سنگور سے تقریباً ۱۰ کلومیٹر دور واقع باڑا کملاپور سے پیدل چل کر یہاں آئی تھیں۔ وہ اپنے دو بیگھہ کھیت میں آلو، بھنڈی، دھان اور جوٹ اُگاتی ہیں۔ ’’ہر چیز کی قیمت بڑھ گئی ہے،‘‘ انہوں نے کہا۔ ’’تیل، گیس اور روزمرہ کی اشیاء جو ہم کیرانے کی دکان سے خریدتے ہیں، سب کی۔ ہم اپنے کھیت پر مسلسل کام کرتے ہیں اور فصلیں مقامی بازار میں بیچتے ہیں، لیکن ہمیں ڈر ہے کہ اگر اپنی فصل فروخت کرنے سے ہمیں مناسب پیسے نہیں ملے، تو آخرکار ہم بھوک سے مر جائیں گے۔‘‘

کلیانی کی پڑوسن، ۴۳ سالہ سواتی اڈک نے کہا، ’’ہمارے پاس تین بیگھہ کھیت ہے۔ چونکہ آلو کی کھیتی کرنے میں زیادہ لاگت آتی ہے، اس لیے ہم زیادہ آلو نہیں اُگاتے۔ آلو کی کھیتی کرنے والے بہت سے کسانوں نے خود کشی کر لی کیوں کہ کڑی محنت کرنے کے باوجود انہیں مناسب پیسے نہیں ملے۔‘‘

اس میٹنگ میں ۵۱ سالہ لیچھو مہتو نے بھی شرکت کی تھی۔ وہ سنگور میں زرعی مزدور کے طور پر کام کرتے ہیں۔ وہ مہتوپاڑا میں رہتے ہیں، جو ہُگلی ضلع کے بالا گڑھ بلاک کا ایک گاؤں ہے، جہاں وہ کھیت کے ایک چھوٹے ٹکڑے پر دھان اُگاتے ہیں۔ ’’مجھے ایک دن کے صرف ۲۰۰ روپے [بطور مزدوری] ملتے ہیں،‘‘ انہوں نے کہا۔ ’’اگر میری فیملی مجھ سے دوپہر میں کھانے کے لیے مچھلی لانے کو کہے، تو میں اتنے کم پیسے میں کیسے لا سکتا ہوں؟ میرا بیٹا ٹرینوں میں گھوم کر پانی بیچتا ہے۔ میں یہاں زرعی قوانین کے بارے میں جاننے آیا ہوں۔ میری زندگی کی حالت پہلے سے ہی خراب ہے اور میں اسے مزید بدتر ہوتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہتا۔‘‘

مترجم: محمد قمر تبریز

Mohd. Qamar Tabrez is PARI’s Urdu/Hindi translator since 2015. He is a Delhi-based journalist, the author of two books, and was associated with newspapers like ‘Roznama Mera Watan’, ‘Rashtriya Sahara’, ‘Chauthi Duniya’ and ‘Avadhnama’. He has a degree in History from Aligarh Muslim University and a PhD from Jawaharlal Nehru University, Delhi. You can contact the translator here:

Anustup Roy

Anustup Roy is a Kolkata-based software engineer. When he is not writing code, he travels across India with his camera.

Other stories by Anustup Roy