بانس سے بنی ایک تنگ جھونپڑی میں چھوٹا سا تخت پڑا ہے، جس پر کپڑوں کا انبار لگا ہے۔ موہنی کور کو ان کپڑوں کی سلائی یا ان کی مرمت کرنی ہے۔ نئی دہلی کے سوروپ نگر سے نومبر ۲۰۲۱ میں سنگھو کے احتجاجی مقام پر آنے والی ۶۱ سالہ موہنی نے بتایا، ’’میں کپڑے کی سلائی کرنے میں اتنی ماہر نہیں ہوں، لیکن جتنا کر سکتی ہوں اُتنا کر رہی ہوں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’میں یہاں احتجاج کر رہے کسانوں کی سیوا (خدمت) کرنے آئی تھی۔ وہ ہمارے لیے اناج اُگاتے ہیں، میں ان کے لیے کم از کم اتنا تو کر ہی سکتی ہوں۔‘‘ کسان یونینوں نے ۹ دسمبر، ۲۰۲۱ کو جب اپنا احتجاج واپس لینے کا اعلان کیا، اس سے پہلے موہنی لوٹ کر کبھی اپنے گھر واپس نہیں گئیں، ایک بار بھی نہیں۔

دہلی-ہریانہ کی سرحد پر واقع سنگھو میں اُن کے بطور رضاکار کام کرنے کی خبر جب ’اجیت‘ نامی ایک پنجابی اخبار میں چھپی، تو پنجاب کے ایک قاری کو اس نے کافی متاثر کیا اور وہ موہنی کی مدد کے لیے وہاں پہنچ گئے۔ اس سال جولائی میں، ۲۲ سالہ ہرجیت سنگھ موہنی کی اس جھونپڑی میں ان کے ساتھ کام کرنے سنگھو بارڈر پر پہنچ چکے تھے۔

پنجاب کے لدھیانہ ضلع میں واقع کھنّا شہر میں ہرجیت کی درزی کی ایک دکان ہے۔ ان کے والد ایک کسان ہیں جو اپنے چار ایکڑ کھیت میں چاول، گیہوں اور مکئی اُگاتے ہیں۔ ’’میں نے اپنی دکان دو کاریگروں کے حوالے کر دی اور اس سال جولائی میں موہنی جی کی مدد کرنے سنگھو آ گیا۔ یہاں پر بہت سارا کام پڑا ہے؛ وہ اکیلے اسے پورا نہیں کر سکتیں۔‘‘

اس جھونپڑی میں ایک تخت (چارپائی) اور کام کرنے کے لیے ایک میز کے علاوہ، سلائی کی دو مشینیں اور ایک پورٹیبل پنکھا رکھا ہوا تھا۔ ان تمام چیزوں کی وجہ سے اندر اتنی بھی جگہ نہیں بچی تھی کہ کوئی آسانی سے چل پھر سکے۔ دودھ ابالنے کے لیے فرش پر ایک پورٹیبل گیس کنستر والا چولہا رکھا تھا۔ موہنی یا ہرجیت سے بات کرنے کے لیے ایک وقت میں صرف ایک آدمی ہی اندر جا سکتا تھا۔ ’گاہک‘ جو عام طور پر کسان یا احتجاجی مقام پر موجود دوسرے لوگ ہوا کرتے تھے، انہیں دروازے پر ہی کھڑا رہنا پڑتا تھا۔

The bamboo shed at Singhu, where Mohini Kaur set up her tailoring unit.
PHOTO • Namita Waikar
Harjeet Singh (left) and Mohini at their worktable
PHOTO • Namita Waikar

بائیں: سنگھو پر بانس سے بنی جھونپڑی، جسے موہنی کور نے سلائی کا کام کرنے کے لیے بنایا تھا۔ دائیں: کام کرنے کی میز پر ہرجیت سنگھ (بائیں) اور موہنی

میز کے ایک کونے پر کپڑوں کے نئے بنڈل پڑے تھے۔ ’’یہ اصلی کاٹن ہے اور قیمت اتنی ہی ہے جتنی کہ بازار میں۔ میں سنتھیٹک نہیں رکھتی،‘‘ موہنی نے ایک خاص کپڑے کے بارے میں پوچھ رہے ایک آدمی کو بتایا۔ ’’اس کی قیمت ۱۰۰ روپے میٹر ہے۔‘‘ وہ اپنے گاہکوں سے صرف میٹریل کے پیسے لیتی تھیں، اپنی محنت کے نہیں جسے وہ مفت فراہم کرتی تھیں۔ اگر لوگ اپنی خوشی سے انہیں سلائی کے کچھ پیسے دیتے، تو وہ اسے رکھ لیتی تھیں۔

موہنی نے ۱۹۸۷ میں بنگلورو سے نرس کی ٹریننگ حاصل کی تھی۔ لیکن، یہ کام انہوں نے کچھ ہی سالوں تک کیا اور پہلی بار ماں بننے کے بعد اسے چھوڑ دیا۔ اب وہ اکیلے رہتی ہیں – ۲۰۱۱ میں ان کے شوہر کا انتقال ہو گیا تھا۔ ان کی بیٹی، شادی کے بعد جنوب مغربی دہلی کے دوارکا میں رہتی ہیں۔ پانچ سال پہلے، چیچک کی چپیٹ میں آنے کی وجہ سے موہنی کے ۲۰ سالہ بیٹے کی موت ہو گئی تھی۔ ’’بیٹے کو کھونے کا غم جھیلنا اتنا آسان نہیں تھا۔ اسی لیے، میں نے سوچا کہ کیوں نہ کسانوں کی مدد کی جائے۔ اس سے مجھے کام کرتے رہنے کا حوصلہ ملتا ہے اور تنہائی کا بھی احساس نہیں ہوتا۔ ہرجیت انہیں ’ماں‘ کہہ کر پکارتے ہیں۔ اپنی گردن میں پیمائشی ٹیپ لٹکائے انہوں نے کہا، ’’اب میں ان کا بیٹا ہوں۔‘‘

۲۶ نومبر کو سنگھو کے احتجاجی مقام پر واقع اسٹیج سے دعائیں ہو رہی تھیں، تقاریر کی جا رہی تھیں، کسانوں کے احتجاج کے ایک سال مکمل ہونے کی یاد میں وہاں جمع  بے شمار مرد و خواتین گا رہے تھے اور تالیاں بجا رہے تھے۔ لیکن موہنی اور ہرجیت اپنے کام میں مصروف تھے۔ انہیں کپڑے کی پیمائش کرنے، اسے کاٹنے اور سلائی مشین چلانے سے فرصت ہی نہیں تھی۔ انہیں صرف دو بار ہی وقفہ لینے کا موقع ملتا تھا – کھانا کھانے کے لیے یا پھر رات میں سونے کے لیے۔ موہنی تو اسی جھونپڑی میں سو جاتی تھیں، جب کہ ہرجیت کچھ فاصلہ پر کھڑے اپنے ٹریکٹر کی ٹرالی میں سوتے تھے۔

ویڈیو دیکھیں: کسانوں کی خدمت میں مصروف بڑے دل اور تیز رفتار ہاتھ

انہیں صرف دو بار ہی وقفہ لینے کا موقع ملتا تھا – کھانا کھانے کے لیے یا پھر رات میں سونے کے لیے۔ موہنی تو اسی جھونپڑی میں سو جاتی تھیں، جب کہ ہرجیت کچھ فاصلہ پر کھڑے اپنے ٹریکٹر کی ٹرالی میں سوتے تھے۔

موہنی اور ہرجیت چاہتے تھے کہ وہ تب تک کسانوں کو اپنی خدمات (کپڑے کی سلائی سے متعلق) مہیا کراتے رہیں جب تک وہ احتجاج کے مقام پر موجود ہیں – اور انہوں نے ایسا ہی کیا۔ موہنی کا کہنا تھا، ’’سیوا سے کبھی دل نہیں بھرتا۔‘‘

۹ دسمبر، ۲۰۲۱ کو کسانوں کے احتجاج کا ۳۷۸واں دن تھا، جب سمیکت کسان مورچہ کے لیڈروں نے اعلان کیا کہ کسان اب دہلی کی سرحدوں پر موجود احتجاج کے مقامات کو خالی کر دیں گے۔ وہ پچھلے سال یہاں احتجاجاً دھرنے پر بیٹھے تھے جب حکومت نے ۵ جون، ۲۰۲۰ کو بطور آرڈیننس تین زرعی قوانین پاس کر دیے، پھر ۱۴ ستمبر کو اسے زرعی بل کے طور پر پارلیمنٹ میں پیش کیا، اور بڑی تیزی دکھاتے ہوئے ۲۰ جون، ۲۰۲۰ کو اسے قانونی شکل دے دی۔

پارلیمنٹ میں اسے جتنی تیزی سے پاس کیا گیا تھا، اتنی ہی تیزی سے ۲۹ نومبر، ۲۰۲۱ کو اسے ردّ بھی کر دیا گیا۔ یہ قوانین تھے: زرعی پیداوار کی تجارت و کاروبار (فروغ اور سہل آمیزی) کا قانون، ۲۰۲۰ ؛ کاشت کاروں (کو با اختیار بنانے اور تحفظ فراہم کرنے) کے لیے قیمت کی یقین دہانی اور زرعی خدمات پر قرار کا قانون، ۲۰۲۰ ؛ اور ضروری اشیاء (ترمیمی) قانون، ۲۰۲۰ ۔

کسانوں کی یونین نے ۹ دسمبر، ۲۰۲۱ کو اپنا احتجاج واپس لے لیا جب حکومت نے ان کے زیادہ تر مطالبات مان لیے۔ لیکن ان کا کہنا تھا کہ ’کم از کم امدادی قیمت‘ (یا ایم ایس پی) کے لیے قانونی گارنٹی پر بات چیت جاری رہے گی۔

Mohini Kaur came to the Singhu protest site in November 2020 and volunteered to stitch and mend the protesting farmers' clothes. "They grow food for us, this was something I could do for them," she says
PHOTO • Namita Waikar

موہنی کور سنگھو کے احتجاجی مقام پر نومبر ۲۰۲۰ میں آئیں اور مظاہرہ کر رہے کسانوں کے کپڑے سلنے اور ان کی مرمت کرنے کا کام بطور رضاکار کرنے لگیں۔ وہ کہتی ہیں، ’کسان ہمارے لیے اناج اُگاتے ہیں، میں ان کے لیے کم از کم اتنا تو کر ہی سکتی ہوں‘

سنگھو سے تقریباً ۴۰ کلومیٹر دور، ٹیکری بارڈر ہے جو مغربی دہلی کے قریب واقع ہے۔ وہاں، ڈاکٹر ساکشی پنّو پورے ہفتے صبح ۹ بجے سے دن کے ۳ بجے تک ہیلتھ کیلنک چلاتی تھیں۔ انہوں نے بتایا، ’’یہاں میرے پاس روزانہ ۱۰۰ مریض آتے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر لوگ مجھ سے کھانسی زکام اور بخار کی دوائیں مانگتے ہیں۔ کچھ لوگوں کو ذیابیطس اور ہائی بلڈ پریشر کی شکایت ہوتی ہے۔ یہاں، احتجاج کے مقام پر، کیمپوں میں رہنے سے کئی لوگوں کا پیٹ بھی خراب رہتا ہے۔‘‘

ساکشی سے جب نومبر میں ہماری ملاقات ہوئی تھی، تب ان کی کلینک میں بڑی تعداد میں مریض آ رہے تھے۔ وہ ایک مریض سے زکام کی دوا کے لیے اگلے دن آنے کو کہہ رہی تھیں کیوں کہ اُس دن دوا ختم ہو چکی تھی۔ اس کلینک کو دیہی ہریانہ کی ایک سماجی تنظیم، عظمیٰ بیٹھک، کے ذریعے دوائیں اور طبی آلات مہیا کرائے جا رہے تھے۔

ساکشی نے بتایا کہ وہ کلینک کو دیر تک کھلے رکھنا چاہتی تھیں، لیکن ’’مجھے اپنے ۱۸ مہینے کے بیٹے، واستک کے ساتھ گھر پر کچھ وقت گزارنا پڑتا ہے۔ مجھے اس کی بھی دیکھ بھال کرنی ہے۔‘‘ پنّو اس سال اپریل سے ہی یہاں پر بطور رضاکار کام کر رہی تھیں، اور جب وہ کلینک میں مصروف ہوتیں، تو کسانوں کے اس احتجاج کو اپنی حمایت دینے والے ان کے ساس سسر اپنے پوتے کو ساتھ لے جاتے اور کلینک سے کچھ ہی فٹ کے فاصلہ پر، دعائیہ تقریب اور میٹنگوں میں شریک ہوتے تھے۔

ساکشی پنو کے دادا جموں کے ایک کسان تھے اور ان کے ساس سسر بنیادی طور پر ہریانہ کے جیند ضلع کے جھمولا گاؤں سے تعلق رکھتے ہیں۔ ساکشی نے بتایا، ’’ہم لوگ ابھی بھی اپنے گاؤں سے جڑے ہوئے ہیں، اور کسانوں کے مطالبات اور زرعی قوانین کے خلاف ان کے احتجاج کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔‘‘

The free health clinic (left) that was set up for  farmers camping at the Tikri border site. Dr. Sakshi Pannu (in the pink dress) ran it every day since April
PHOTO • Namita Waikar
The free health clinic (left) that was set up for  farmers camping at the Tikri border site. Dr. Sakshi Pannu (in the pink dress) ran it every day since April
PHOTO • Amir Malik

ٹیکری بارڈر پر ٹھہرے کسانوں کے لیے بنایا گیا مفت ہیلتھ کلینک (بائیں)۔ ڈاکٹر ساکشی پنّو (گلابی لباس میں) اسے اپریل سے روزانہ چلا رہی تھیں

ساکشی اپنے بیٹے واستک، شوہر امت، اور ساس سسر کے ساتھ ہریانہ کے بہادر گڑھ قصبہ میں رہتی ہیں، جو کہ ٹیکری کے احتجاجی مقام سے تقریباً پانچ کلومیٹر دور ہے۔ سال ۲۰۱۸ میں نئی دہلی کے لیڈی ہارڈنگ میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس ڈگری مکمل کرنے کے بعد، ساکشی ایک سال تک کالج کے ہی اسپتال میں کام کرتی رہیں۔ اب انہوں نے وہاں سے چھٹی لے لی ہے۔ وہ چاہتی ہیں کہ ان کا بیٹا تھوڑا بڑا ہو جائے تو وہ جنرل میڈیسن میں پوسٹ گریجویٹ کی ڈگری کے لیے کہیں داخلہ لیں۔

ساکشی نے بتایا، ’’میں ہمیشہ سے یہی چاہتی تھی کہ عام لوگوں کے لیے کچھ کروں۔ اس لیے کسان جب یہاں، ٹیکری بارڈر پر، جمع ہوئے تو میں نے اس کلینک میں آ کر بطور ڈاکٹر ان کی سیوا (خدمت) کرنے کا فیصلہ کیا۔ کسان جب تک اس احتجاجی مقام پر رہیں گے، میں یہ کام کرتی رہوں گی۔‘‘

گھر واپس جانے کے لیے کسانوں کو اپنا سامان پیک کرتے ہوئے دیکھ کر موہنی خوشی سے کہتی ہیں، ’’فتح ہو گئی۔‘‘ جذبات اور خوشی سے معمور ساکشی کہتی ہیں، ’’ایک سال کی [کسانوں کی] کڑی محنت رنگ لائی ہے۔‘‘ خود ان کی خدمت کا جذبہ پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہوا ہے، اور وہ کہتی ہیں، ’’میں یہاں پر آخر تک رہوں گی، جب تک کہ آخری کسان اپنے گھر کو نہ لوٹ جائے۔‘‘

مضمون نگار اس اسٹوری کی رپورٹنگ میں مدد کے لیے عامر ملک کا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہیں۔

مترجم: محمد قمر تبریز

Namita Waikar is a writer, translator and Managing Editor at the People's Archive of Rural India. She is the author of the novel 'The Long March', published in 2018.

Other stories by Namita Waikar
Translator : Mohd. Qamar Tabrez

Mohd. Qamar Tabrez is the Translations Editor, Hindi/Urdu, at the People’s Archive of Rural India. He is a Delhi-based journalist, the author of two books, and was associated with newspapers like ‘Roznama Mera Watan’, ‘Rashtriya Sahara’, ‘Chauthi Duniya’ and ‘Avadhnama’. He has a degree in History from Aligarh Muslim University and a PhD from Jawaharlal Nehru University, Delhi.

Other stories by Mohd. Qamar Tabrez