ایڈیٹر کا نوٹ:

یہ گانا (اور ویڈیو) مشہور اطالوی لوک احتجاجی گیت بیلا چاؤ (الوداع، حسینہ) کی ایک شاندار پنجابی شکل ہے۔ اصل اطالوی گیت کی تخلیق ۱۹ویں صدی کے آخر میں شمالی اٹلی کی پو وادی میں خواتین کسانوں کے درمیان ہوئی تھی۔ کئی برسوں کے بعد، اطالوی فسطائیت (فاشزم) مخالف تحریک کے ممبران نے اس کے الفاظ کو بدل دیا اور اس گیت کا استعمال مسولنی کی تاناشاہی کے خلاف جدوجہد میں کیا جانے لگا۔ تب سے اس گیت کی مختلف شکلوں کو فسطائیت مخالف آزادی اور تحریک کی علامت کے طور پر دنیا بھر میں گایا جاتا رہا ہے۔

یہ پنجابی گانا پوجن ساحل کے ذریعہ لکھا اور بہت خوبصورتی سے گایا گیا ہے۔ اس دلکش ویڈیو کو کاروانِ محبت کی میڈیا ٹیم کے ذریعہ بہت خوبصورتی کے ساتھ فلمایا، ایڈٹ اور پیش کیا گیا ہے۔ ہرش مندر کی قیادت میں شروع کی گئی کاروانِ محبت مہم ہندوستانی آئین میں اتحاد، برابری، آزادی اور انصاف کی ہمہ گیر قدروں کو وقف ہے۔

حالیہ ہفتوں میں، دہلی- ہریانہ، پنجاب اور ملک کے دیگر حصوں میں بڑے پیمانے پر جو احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں، وہ مرکزی حکومت کے ذریعہ ستمبر میں پارلیمنٹ سے پاس کیے گئے – حالانکہ زراعت ریاستی موضوع ہے – تین نئے زرعی قوانین کے خلاف ہیں، جو کسانوں کو خطرناک طریقے سے نقصان پہنچانے والے ہیں۔ نیچے پیش کیے گئے ویڈیو اور گیت میں ان قوانین کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے، جیسا کہ احتجاج کر رہے کسانوں کا مطالبہ ہے۔

ویڈیو دیکھیں (کاروانِ محبت کی اجازت سے دوبارہ شائع کیا گیا)

مترجم: محمد قمر تبریز

Mohd. Qamar Tabrez is PARI’s Urdu/Hindi translator since 2015. He is a Delhi-based journalist, the author of two books, and was associated with newspapers like ‘Roznama Mera Watan’, ‘Rashtriya Sahara’, ‘Chauthi Duniya’ and ‘Avadhnama’. He has a degree in History from Aligarh Muslim University and a PhD from Jawaharlal Nehru University, Delhi. You can contact the translator here: