’’تمام ۳۲ تنظیمیں نوجوانوں سے درخواست کرتی ہیں کہ وہ کوئی تباہی نہ مچائیں۔ کوئی کسی کو نقصان نہیں پہنچائے گا۔ کوئی جھگڑا نہیں کرے گا۔ کوئی بھی ہماری اس جدوجہد کو خراب نہیں کرے گا،‘‘ ایک اپیل سنائی دی۔ ’’تمام لوگ دہلی پولیس کے ذریعہ ہمارے لیے طے کیے گئے راستے پر چلیں گے۔ ہم پرامن طریقے سے مارچ کریں گے تاکہ دنیا دیکھے،‘‘ ایک رہنما نے ٹریکٹر پر رکھے لاؤڈ اسپیکر سے کہا۔

یہ ۲۶ جنوری کو صبح پونے ۹ بجے کے آس پاس کی بات ہے، جب ٹریکٹروں کا قافلہ مُنڈکا انڈسٹریل ایریا میٹرو اسٹیشن سے آگے بڑھ رہا تھا، تبھی لاؤڈ اسپیکر سے آواز آنے لگی۔ رضاکار انسانی زنجیر بنانے کے لیے تیزی سے آگے بڑھے اور تمام لوگوں سے کہنے لگے کہ وہ رک کر رہنماؤں کی اپیل سنیں۔

یہ ریلی مغربی دہلی کے ٹیکری سے صبح ۹ بجے شروع ہوئی تھی۔ بھیڑ کے ذریعہ ’کسان مزدور زندہ آباد‘ کے نعرے لگائے جا رہے تھے۔ ٹریکٹر کے قافلہ کے علاوہ، بہت سے احتجاجی اور رضاکار پیدل مارچ کر رہے تھے – کچھ لوگوں کے ہاتھوں میں قومی پرچم تھا، اور باقی لوگوں نے اپنی کسان یونین کے جھنڈے اٹھا رکھے تھے۔ ’’ہم پیدل چلنے والوں سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ٹریکٹروں پر چڑھ جائیں کیوں کہ ہمیں لمبی دوری طے کرنی ہے،‘‘ لاؤڈ اسپیکر پر بولنے والے رہنما نے کہا۔ لیکن ان میں سے کئی لوگوں نے پیدل چلنا جاری رکھا۔

یہ قافلہ حسب معمول جیسے جیسے آگے بڑھ رہا تھا، مُنڈکا میں رہنے والے لوگ زیادہ سے زیادہ تعداد میں باہر نکل کر سڑکوں کے کنارے یا بیچ میں (ڈیوائیڈر پر) کھڑے ہوکر انہیں دیکھنے لگے۔ ان میں سے کئی لوگ اپنے فون پر اس غیر معمولی پریڈ کو ریکارڈ کرنے لگے، کچھ اپنے ہاتھ لہرا رہے تھے، دیگر لوگ ریلی میں بج رہے ڈھول پر رقص کر رہے تھے۔

مُنڈکا کے باشندوں میں ۳۲ سالہ وجے رانا بھی تھے۔ وہ اپنے علاقے سے گزرنے والے کسانوں پر گیندا کے پھول برسانے آئے تھے۔ ’’جب سیاسی لیڈروں کا استقبال پھولوں سے کیا جا سکتا ہے، تو کسانوں کا کیوں نہیں؟‘‘ انہوں نے کہا۔ رانا، جو خود ایک کسان ہیں، مُنڈکا گاؤں میں ۱۰ ایکڑ زمین پر گیہوں، دھان اور لوکی اُگاتے ہیں۔ ’’کسان فوجیوں سے کم نہیں ہیں،‘‘ انہوں نے کہا۔ ’’اگر اس ملک کے فوجی سرحدوں کو چھوڑ دیں، تو کوئی بھی اس ملک پر قبضہ کر سکتا ہے۔ اسی طرح، کسانوں کے بغیر ملک کو بھوکا رہنا پڑے گا۔‘‘

PHOTO • Satyraj Singh ,  Sanskriti Talwar

ٹیکری سے نکنے والی ریلی (اوپر کی قطار): دوپہر کے آس پاس نانگلوئی چوک پر افراتفری شروع ہو گئی (تصویر: ستیہ راج سنگھ)۔ نیچے بائیں: مُنڈکا کے ایک کسان، وجے رانا، پھولوں سے پریڈ کا خیر مقدم کرتے ہوئے۔ نیچے دائیں: نانگلوئی چوک پر رضاکاروں نے انسانی زنجیر بناکر کسانوں کو نجف گڑھ کی طرف جانے کا راستہ دکھایا (تصویر: سنسکرتی تلوار)

اس عظیم الشان ٹریکٹر ریلی کی کال – ہندوستان کے ۷۲ویں یومِ جمہوریہ کے موقع پر – ۳۲ یونین اور تنظیموں کے اتحاد کے ذریعہ دہلی کی تین اہم سرحدوں – ٹیکری (مغرب میں)، سنگھو (شمال مغرب) اور غازی پور (مشرق میں) – سے نکالنے کی دی گئی تھی، جہاں ہزاروں کسان ۲۶ نومبر، ۲۰۲۰ سے تین زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔

یوم جمہوریہ سے پہلے ایک پریس کانفرنس میں پولیس نے بتایا تھا کہ ٹیکری سے تقریباً ۷ ہزار ٹریکٹروں کے روانہ ہونے کا امکان ہے۔ بھارتیہ کسان یونین (ایکتا اُگراہاں) کے پریس کوآرڈی نیٹر، شنگھارا سنگھ مان نے مجھے بتایا کہ ٹیکری سے نکلنے والی پریڈ میں ان کی یونین سے کم از کم ۶ ہزار ٹریکٹروں نے شرکت کی۔ جب کہ پنجاب کسان یونین کی ریاستی کمیٹی کے رکن، سُکھ درشن سنگھ نٹّ نے مجھے بتایا کہ وہ پریڈ میں حصہ لینے والے ٹریکٹروں کی تعداد کا اندازہ نہیں لگا سکتے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا بنیادی مقصد ریلی کو پرامن طریقے سے نکالنا تھا۔ انہوں نے آگے بتایا کہ صبح تقریباً پونے ۹ بجے ان کی یونین کے سبھی ٹریکٹر ٹیکری میں کھڑے تھے۔ اور جب آخری کچھ ٹریکٹر لوٹ کر واپس آئے، تب تک شام کے ۶ بج چکے تھے۔ اس لیے کوئی بھی ان کی گنتی نہیں کر سکتا تھا۔

دہلی پولیس نے ٹیکری میں احتجاج کرنے والوں کے لیے نانگلوئی، نجف گڑھ، جھرودا کلاں، کے ایم پی ایکسپریس وے (دہلی کی مغربی پیری فیری پر) سے گزرتا ہوا ایک دائرہ کار راستہ بنایا تھا، اور پھر اسی راستے سے انہیں ٹیکری واپس آنا تھا – جو کہ کُل ۶۴ کلومیٹر کا راستہ تھا۔ شروع میں، دہلی پولیس کے ذریعہ ٹیکری، سنگھو اور غازی پور سے نکلنے والے قافلہ کے لیے تین راستے منتخب کیے گئے تھے۔ حالانکہ، شنگھارا سنگھ مان نے اَن آفیشیل طریقے سے کہا، پولیس اور یونین کے رہنماؤں کے درمیان نو راستوں پر بات ہوئی اور فیصلہ لیا گیا تھا۔

لیکن دوپہر کے آس پاس، نانگلوئی چوک پر، فلائی اوور کے ٹھیک نیچے، افراتفری شروع ہو گئی۔ پہلے سے طے شدہ راستے کے ذریعہ نجف گڑھ جانے کے لیے دائیں مڑنے کی بجائے، کچھ افراد اور کسانوں کے چھوٹے گروپوں نے سیدھے پیرا گڑھی چوک کی طرف جانے کی کوشش کی، تاکہ وہاں سے وسط دہلی پہنچ سکیں۔ رضاکاروں اور معاونین نے دائیں طرف مڑ کر نجف گڑھ والے راستے پر جانے کے لیے ریلی کی رہنمائی کرنا جاری رکھا۔

تقریباً ۲۰ منٹ بعد، ٹریکٹروں پر سوار کسانوں کے ایک گروپ نے، ان ٹریکٹروں میں بیٹھے لوگوں کے شور شرابہ کے دوران، نانگلوئی چوک پر لگائے گئے بیریکیڈز توڑ دیے۔ مقامی لوگوں نے اپنی چھتوں سے انتشار کو دیکھا، کئی لوگ اسے دیکھنے کے لیے سڑک پر آ گئے۔ پولیس یہ اعلان کرتی رہی کہ وہ شرپسندوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ پولیس نے حالات کو ریکارڈ کرنے کے لیے ایک ڈرون بھی تعینات کیا۔

Still peacefully proceeding at Nangloi (Photos: Satyraj Singh)
PHOTO • Satyraj Singh
Still peacefully proceeding at Nangloi (Photos: Satyraj Singh)
PHOTO • Satyraj Singh

نانگلوئی میں اب بھی پرامن طریقے سے آگے بڑھتا قافلہ (تصویر: ستیہ راج سنگھ)

انتشار کے درمیان، دہلی کے گُردیال سنگھ، ایک رضاکار، نانگلوئی چوک کے ایک کونے میں بنے اسٹیج پر گئے اور سبھی لوگوں سے دوبارہ درخواست کی کہ وہ نجف گڑھ جانے کے لیے سڑک پر دائیں طرف مڑ جائیں۔ ’’اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے مطالبات کو سنا جائے، تو ہمیں صحیح سمت میں جانا چاہیے [دہلی پولیس کے ذریعہ طے کیے گئے راستے پر چلیں]۔ میں تمام لوگوں سے امن اور پیار کے ساتھ اس مارچ کو آگے لے جانے کی درخواست کرتا ہوں،‘‘ انہوں نے کہا۔

’’ریلی میں لاکھوں لوگ شامل ہوئے تھے۔ بہت سے لوگ پڑوسی علاقوں سے بھی شامل ہوئے تھے۔ ہم تمام لوگوں سے متعینہ راستے پر چلنے اور شائستگی برقرار رکھنے کے لیے لگاتار درخواست کر رہے تھے۔ لیکن سبھی پر نظر بنائے رکھنا مشکل تھا،‘‘ جسبیر کور نٹّ نے مجھے بعد میں بتایا۔ وہ پنجاب کسان یونین کی ریاستی کمیٹی کی رکن اور ٹیکری میں کیمپ کرنے والوں میں شامل ہیں۔

نانگلوئی چوک پر دوپہر میں انتشار کے باوجود، پرامن ریلی بنیادی راستے پر آگے بڑھتی رہی۔ اس قافلہ میں پنجاب کسان یونین، آل انڈیا کسان سبھا اور بھارتیہ کسان یونین وغیرہ سے وابستہ کسانوں کے ٹریکٹر شامل تھے۔ بھارتیہ کسان یونین (ایکتا اُگراہاں) کی ایک دیگر ٹکڑی نجف گڑھ روڈ پر، مخالف سمت سے آکر اس میں شامل ہو گئی۔ انہوں نے کے ایم پی ایکسپریس وے راستہ منتخب کیا تھا (متعینہ راستہ دائرہ کار ہے – ٹیکری سے کوئی آدمی یا تو نانگلوئی والا راستہ پکڑ سکتا ہے یا کے ایم پی والا راستہ، دونوں آگے جاکر ایک ہی نقطہ پر ملتا ہے)۔

ٹریکٹر پر سوار ہوکر نانگلوئی- نجف گڑھ روڈ سے گزرنے والوں میں، ہریانہ کے حصار ضلع کے سریوالا گاؤں کی ۳۵ سالہ پونم پٹّر بھی شامل تھیں۔ وہ اپنی فیملی کے ساتھ ۱۸ جنوری کو ٹیکری آئی تھیں۔ تب سے وہ بہادر گڑھ (ٹیکری سرحد کے پاس) میں کھڑی اپنی ٹرالی میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ پونم ایک خاتونِ خانہ ہیں جنہوں نے بتایا کہ انہوں نے اس پریڈ میں شرکت کرنے کے لیے ہی ٹریکٹر چلانا سیکھا ہے۔

’’راج پتھ پر، ہر سال یومِ جمہوریہ کے موقع پر، کھیتوں میں کام کرنے والے کسانوں کے بارے میں ڈرامے کیے جاتے ہیں۔ لیکن یہ حقیقت ہے۔ اس ریلی کے ذریعہ کسان درحقیقت یہ دکھا رہے ہیں کہ وہ اس ملک کو کھانا فراہم کرتے ہیں،‘‘ انہوں نے کہا۔ ’’جب تک احتجاج جاری رہے گا، میں یہیں رہوں گی۔ اگر اس میں ہر کوئی شامل ہوتا ہے، تویہ صحیح اور قابل تعریف کام ہوگا۔‘‘

دیگر ٹریکٹروں کو زیادہ تر مرد چلا رہے تھے جب کہ عورتیں ٹرالیوں میں بیٹھی ہوئی تھیں۔ ’’ہم یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ ہم دہشت گرد نہیں ہیں۔ ہم مودی سرکار کو دکھانا چاہتے ہیں کہ کوئی بھی ہمارے اتحاد کو متزلزل نہیں کر سکتا،‘‘ پنجاب کے سنگرور ضلع کے مہلان گاؤں کی جسوندر کور نے کہا، جو ان ٹرالیوں میں سے ایک میں بیٹھی ہوئی تھیں۔ ’’ہم ان سیاہ زرعی قوانین کی مخالفت کرنے کے لیے یہاں آئے ہیں۔ جب تک یہ قوانین منسوخ نہیں ہوتے، ہم واپس نہیں جائیں گے۔ ہم پرامن طریقے سے اپنا احتجاج جاری رکھیں گے اور کوئی نقصان نہیں کریں گے۔‘‘

But then, a group of farmers in tractors broke the barricades at Nangloi chowk, amidst hooting and shouting from the occupants of some of these tractors
PHOTO • Sanskriti Talwar
But then, a group of farmers in tractors broke the barricades at Nangloi chowk, amidst hooting and shouting from the occupants of some of these tractors
PHOTO • Sanskriti Talwar

لیکن تبھی، ٹریکٹروں پر سوار کسانوں کے ایک گروپ نے، ان ٹریکٹروں میں بیٹھے کچھ لوگوں کے شور شرابہ کے دوران، نانگلوئی چوک پر لگائے گئے بیریکیڈز توڑ دیے (تصویر: سنسکرتی تلوار)

وہ اور دیگر کسان جن زرعی قوانین کی مخالفت کر رہے ہیں، انہیں سب سے پہلے ۵ جون، ۲۰۲۰ کو آرڈیننس کی شکل میں پاس کیا گیا تھا، پھر ۱۴ ستمبر کو پارلیمنٹ میں زرعی بل کے طور پر پیش کیا گیا اور اسی ماہ کی ۲۰ تاریخ کو موجودہ حکومت کے ذریعہ جلد بازی میں قانون میں بدل دیا گیا۔ یہ تینوں قوانین ہیں زرعی پیداوار کی تجارت و کاروبار (فروغ اور سہل آمیزی) کا قانون، ۲۰۲۰ ؛ کاشت کاروں (کو با اختیار بنانے اور تحفظ فراہم کرنے) کے لیے قیمت کی یقین دہانی اور زرعی خدمات پر قرار کا قانون، ۲۰۲۰ ؛ اور ضروری اشیاء (ترمیمی) قانون، ۲۰۲۰ ۔

کسان ان قوانین کو اپنے معاش کے لیے تباہ کن سمجھ رہے ہیں کیوں کہ یہ قوانین بڑے کارپوریٹ کو کسانوں اور زراعت پر زیادہ اختیار فراہم کرتے ہیں۔ یہ کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی)، زرعی پیداوار کی مارکیٹنگ کمیٹیوں (اے پی ایم سی)، ریاست کے ذریعہ خرید وغیرہ سمیت، کاشتکاروں کی مدد کرنے والی بنیادی شکلوں کو بھی کمزور کرتے ہیں۔ ان قوانین کی اس لیے بھی تنقید کی جا رہی ہے کیوں کہ یہ ہر ہندوستانی کو متاثر کرنے والے ہیں۔ یہ ہندوستان کے آئین کی دفعہ ۳۲ کو کمزور کرتے ہوئے تمام شہریوں کے قانونی چارہ جوئی کے حق کو ناکارہ کرتے ہیں۔

جسوندر کور ۲۶ نومبر سے ٹیکری میں ہیں، اور وہاں سے صرف دو بار مہلان گاؤں میں اپنے گھر واپس گئی ہیں۔ ’’میں پچھلے سال اگست سے احتجاج کر رہی ہوں۔ پہلے، ہم نے اپنے گاؤوں میں احتاج کیا۔ پھر ہم احتجاج کرنے پانچ دنوں کے لیے پٹیالہ ضلع گئے،‘‘ انہوں نے بتایا۔ ’’جب کسی ماں کا بیٹا اس سردی میں یہاں احتجاجی مظاہرہ میں بیٹھا ہو، تو اس کی ماں اپنے گھر کے اندر کیسے بیٹھ سکتی ہے؟‘‘ انہوں نے چیف جسٹس کے (۱۱ جنوری کے) بیان – کہ عورتوں، بچوں اور بزرگوں کو ٹھنڈ اور کووڈ- ۱۹ کے سبب احتجاجی مقامات سے واپس جانے کے لیے ’راضی‘ کیا جانا چاہیے – کی جانب اشارہ کرتے ہوئے پوچھا۔

اُدھر سنگرور میں، ان کی فیملی سات ایکڑ زمین پر گیہوں اور دھان کی کھیتی کرتی ہے۔ ’’ہم کئی [دیگر] فصلیں بھی اُگا سکتے ہیں،‘‘ انہوں نے کہا۔ ’’لیکن ایم ایس پی کی قیمتیں صرف گیہوں اور دھان کے لیے طے کی گئی ہیں۔ اس لیے ہم دیگر فصلیں نہیں اُگاتے ہیں۔‘‘ انہیں یاد آیا کہ ایک بار فیملی نے مٹر اُگایا۔ ’’ہم نے وہ مٹر ۲ روپے کلو فروخت کی۔ اس کے بعد ہم نے کبھی بھی گیہوں اور دھان کے علاوہ کوئی دیگر فصل نہیں اُگائی۔ لیکن اگر سرکار ان پر بھی ایم ایس پی کی گارنٹی نہیں دے گی، تو ہم کہاں جائیں گے؟‘‘

اسی ٹرالی میں ۲۴ سالہ سُکھویر سنگھ بھی تھے، جو مہلان گاؤں سے ہی آئے تھے، جہاں ان کی فیملی کے پاس چھ ایکڑ کھیت ہے۔ ’’سرکار کہتی ہے کہ انہوں نے ایک کوئنٹل مکئی کے لیے ۱۸۰۰ روپے طے کیے ہیں،‘‘ انہوں نے کہا۔ ’’لیکن میں نے اسے ۶۰۰ روپے فی کوئنٹل فروخت کیا ہے۔ ہمارے گاؤں کے کسی بھی شخص سے پوچھ لیجئے اگر کسی نے اس قیمت سے زیادہ میں فروخت کیا ہو۔ یہ ہے ہماری حالت۔ اگر سرکار ایم ایس پی کے بارے میں کوئی گارنٹی نہیں دیتی ہے تب کیا ہوگا؟ اسی لیے ہم اپنے حقوق کی مانگ کو لیکر سڑکوں پر نکلے ہیں۔‘‘

جب میں جسوندر اور سکھویر سے بات کر رہی تھی – دونوں بھارتیہ کسان یونین (ایکتا اُگراہاں) کے رکن ہیں – دوسرے ٹریکٹر سے کوئی انہیں یہ بتانے آیا کہ ان کی یونین کے لیڈر سبھی کو واپس لوٹنے کے لیے کہہ رہے ہیں۔

PHOTO • Sanskriti Talwar ,  Naveen Macro

اوپر بائیں: ہریانہ کے حصار ضلع کی پونم پٹّر نے صرف اس پریڈ میں شرکت کرنے کے لیے ٹریکٹر چلانا سیکھا (تصویر: سنسکرتی تلوار)۔ اوپر دائیں: نانگلوئی- نجف گڑھ روڈ پر ایک ٹرالی میں بیٹھی جسوندر کور نے کہا، ’ہم پرامن طریقے سے اپنا احتجاج جاری رکھیں گے اور کوئی نقصان نہیں کریں گے‘۔ نیچے بائیں: پنجاب کے سنگرور ضلع کے سکھویر سنگھ نے کہا، ’ہمیں غلط کام کرنے والے کچھ لوگوں کی وجہ سے لوٹنے کے لیے کہا گیا تھا‘۔ نیچے دائیں: کانن سنگھ نے کہا، ’ہم یہاں تین زرعی قوانین کو ردّ کرانے کے لیے آئے تھے‘ (تصویر: نوین میکرو)

جیسا کہ میں نے امید کی تھی، تقریباً ڈھائی بجے ان کی ٹرالی نے اپنے کیمپوں کی جانب لوٹنے کے لیے جنوب مغربی دہلی کی جھرودا کلاں بستی کے پاس یو ٹرن لیا – یہ بستی نانگلوئی- نجف گڑھ روڈ سے تقریباً ۱۱ کلومیٹر دور ہے۔ تب تک یہ قافلہ ٹیکری سے تقریباً ۲۷ کلومیٹر کی دوری طے کر چکا تھا۔

دوپہر کے آس پاس، میں نے قافلہ سے الگ ہو چکے کم از کم چار ٹریکٹروں کو اپنے ذریعہ منتخب کیے گئے راستے پر آگے بڑھتے دیکھا۔ تب تک پولیس نے کوئی کارروائی نہیں کی تھی۔ لیکن تقریباً ۲ بجے، جب خبریں آنے لگیں کہ سنگھو اور غازی پور میں کسانوں اور افراد کا جو گروپ ٹوٹ کر الگ ہو گیا تھا، وہ اب آئی ٹی او اور لال قلعہ پہنچ گئے ہیں، تب ٹیکری کے کچھ گروپوں نے بھی آگے بڑھنے اور لال قلعہ جانے پر زور دینا شروع کر دیا۔ اسی کے بعد پولیس اور ان گروپوں کے ممبران کے درمیان جھڑپیں شروع ہو گئیں۔ پولیس نےجوابی کارروائی کرتے ہوئے لاٹھیاں اور آنسو گیس کے گولے داغے۔ یہ شام کے ساڑھے ۴ بجے تک چلتا رہا۔

بھارتیہ کسان یونین (ایکتا اُگراہاں) کے جو ٹریکٹر کے ایم پی ایکسپریس وے کی طرف سے ۴ بجے کے آس پاس نانگلوئی چوک پہنچنے والے تھے، انہوں نے بھی ٹیکری کے اپنے کیمپوں میں لوٹنے کا فیصلہ کیا۔

جھرودا کلاں بستی کے پاس ٹریفک کی وجہ سے اپنے ٹریکٹر میں پھنسے سنگرور ضلع کے شیرپور بلاک کے ۶۵ سالہ کانن سنگھ نے کہا، ’’ہم گزشتہ دو مہینے سے سڑکوں پر رہ رہے ہیں۔ ہم تین زرعی قوانین کو منسوخ کرانے کے لیے یہاں آئے تھے۔ ایسا ہونے پر ہی ہم پنجاب کے لیے روانہ ہوں گے۔‘‘

رات ۸ بجے، احتجاجی کسانوں کے اتحاد، سنیُکت کسان مورچہ اور دیگر کسان لیڈروں نے تشدد سے خود کو الگ کر لیا اور اُن واقعات کی سخت مذمت کی۔ ’’ہم ان غیر مطلوبہ اور ناقابل قبول واقعات کی مذمت کرتے ہیں اور افسوس کا اظہار کرتے ہیں جو آج رونما ہوئے ہیں اور اس قسم کے کاموں میں ملوث ہونے والوں سے خود کو الگ کرتے ہیں۔ ہماری تمام کوششوں کے باوجود، کچھ تنظیموں اور افراد نے متعینہ راستے کی خلاف ورزی کی اور قابل مذمت کاموں میں ملوث رہے۔ غیر سماجی عناصر نے پرامن تحریک میں دراندازی کی تھی،‘‘ انہوں نے ایک بیان میں کہا۔

’’ہمیں غلط کام کرنے والے کچھ لوگوں کی وجہ سے لوٹنے کے لیے کہا گیا تھا،‘‘ سکھویر نے بعد میں مجھے بتایا۔ ’’وہ ہمارے لوگ نہیں تھے۔ ہم اس قسم کا کوئی کام کرنے کے لیے دہلی نہیں آئے تھے۔ ہم صرف ان سیاہ قوانین کو منسوخ کرانے کے لیے آئے ہیں۔‘‘

’’اگر سرکار کل ان قوانین کو منسوخ کر دیتی ہے، تو ہم چلے جائیں گے،‘‘ پنجاب کسان یونین کی ریاستی کمیٹی کی رکن جسویر کور نٹّ نے کہا۔ ’’تب پھر ہم یہاں کیوں رکیں گے؟ ہم اسی کے سبب – ان سیاہ قوانین کو منسوخ کرانے کے لیے – یہاں احتجاج کر رہے ہیں۔‘‘

کور فوٹو: ستیہ راج سنگھ

مترجم: محمد قمر تبریز

Mohd. Qamar Tabrez is PARI’s Urdu/Hindi translator since 2015. He is a Delhi-based journalist, the author of two books, and was associated with newspapers like ‘Roznama Mera Watan’, ‘Rashtriya Sahara’, ‘Chauthi Duniya’ and ‘Avadhnama’. He has a degree in History from Aligarh Muslim University and a PhD from Jawaharlal Nehru University, Delhi. You can contact the translator here:

Sanskriti Talwar

Sanskriti Talwar is an independent journalist based in New Delhi. She reports on gender issues.

Other stories by Sanskriti Talwar