سنیتا دیوی کے پیٹ کا حجم جب بڑھنے لگا، تو وہ اسے دیکھ کر فکرمند رہنے لگیں۔ وہ بھر پیٹ کھانا نہیں کھا پاتی تھیں اور کھاتے ہی انہیں متلی آنے لگتی تھی۔ شروع کے دو مہینے تک تو انہوں نے اسے نظر انداز کیا، لیکن جب یہ ٹھیک نہیں ہوا تو آخرکار وہ اپنے گھر کے قریب واقع ایک پرائیویٹ اسپتال کے ڈاکٹر کو دکھانے گئیں۔ اور جب ڈاکٹر نے یہ کہا کہ ’’آپ کو بچہ ٹھہر گیا ہے،‘‘ تو انہیں بالکل بھی یقین نہیں ہوا۔

انہیں یہ بات سمجھ میں نہیں آئی کہ چھ مہینے پہلے ہی تو انہوں نے حمل کو روکنے کے لیے کاپر ٹی لگوائی تھی، پھر یہ ممکن کیسے ہوا۔

سال ۲۰۱۹ کے اس واقعہ کو یاد کرتے وقت، ان کا پہلے سے ہی پیلا پڑ چکا چہرہ مزید کمزور دکھائی دینے لگتا ہے۔ انہوں نے اپنے بالوں میں کنگھی کرکے پیچھے کی طرف خوبصورت جوڑے بنا رکھے ہیں؛ لیکن ان کی دھنسی ہوئی آنکھوں سے تھکاوٹ صاف جھلک رہی ہے۔ ان کے چہرے پر صرف ایک چیز ہے جو چمک رہی ہے، اور وہ ہے ان کی پیشانی پر چپکی ہوئی ’بِندی‘۔

سنیتا (یہ ان کا اصلی نام نہیں ہے) ۳۰ سال کی ہیں، جن کے چار بچے ہیں۔ ان میں سے دو بیٹیاں اور دو بیٹے ہیں، جو ۴ سے ۱۰ سال کی عمر کے ہیں۔ مئی ۲۰۱۹ میں، جب ان کا سب سے چھوٹا بچہ ۲ سال کا تھا، تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ مزید بچے پیدا نہیں کریں گی۔ انہوں نے اپنے علاقے میں آنے والی ایک آشا کارکن سے خاندانی منصوبہ بندی (فیملی پلاننگ) کے طریقوں کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ مانع حمل کے کئی متبادل پر غور کرنے کے بعد، انہوں نے ’انترا‘ کا انتخاب کیا، جو کہ انجیکشن کے ذریعے دیا جانے والا مانع حمل ہے جس کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اس سے تین مہینے تک حاملہ ہونے سے بچا جا سکتا ہے۔ وہ بتاتی ہیں، ’’میں نے سوچا کہ چلو اس انجیکشن کو آزما کر دیکھتے ہیں۔‘‘

ہم لوگ ان کے ۸ بائی ۱۰ فیٹ کے کمرے میں فرش پر بچھی چٹائی پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ کمرے کے ایک کونے میں خالی پڑے گیس سیلنڈر کے اوپر کئی اور چٹائیاں رکھی ہوئی ہیں۔ بغل والے کمرے میں سنیتا کے شوہر کے ایک بھائی کی فیملی رہتی ہے۔ وہاں ایک اور کمرے کو بھی دیکھا جا سکتا ہے، جو اُن کے ایک اور دیور (برادر نسبتی) کا ہے۔ یہ گھر جنوب مغربی دہلی ضلع کے نجف گڑھ میں واقع مہیش گارڈن علاقے میں ہے۔

سنیتا کے گھر سے گوپال نگر پرائمری ہیلتھ سنٹر (پی ایچ سی) تقریباً دو کلومیٹر دور ہے۔ ’انترا‘ انجیکشن لگوانے کے لیے وہ آشا کارکن کے ساتھ اسی سنٹر میں گئی تھیں۔ لیکن پی ایچ سی میں تعینات ڈاکٹر نے کچھ اور ہی مشورہ دینا شروع کر دیا۔ سنیتا بتاتی ہیں، ’’ڈاکٹر نے مجھے (انجیکشن کی بجائے) کاپر ٹی کے بارے میں بتانا شروع کیا۔ اس نے کہا کہ کاپر ٹی لگوانا زیادہ محفوظ ہے۔‘‘ اس کے بعد وہ پرزور آواز میں کہتی ہیں، ’’میں نے ڈاکٹر سے کاپر ٹی کے بارے میں پوچھا ہی نہیں تھا۔ لیکن وہ ضد کرتی رہی کہ یہی صحیح رہے گا۔ اس نے مجھ سے کہا کہ ’کیا تم نہیں چاہتی کہ مزید بچے پیدا نہ ہوں؟‘۔‘‘

Patients waiting outside the Gopal Nagar primary health centre in Delhi, where Sunita got the copper-T inserted
PHOTO • Sanskriti Talwar

دہلی میں واقع گوپال نگر پرائمری ہیلتھ سنٹر کے باہر انتظار کرتے ہوئے مریض۔ سنیتا نے یہیں سے کاپر ٹی لگوایا تھا

اُس وقت سنیتا کے شوہر (جن کا نام وہ ظاہر نہیں کرنا چاہتیں) – جو نجف گڑھ میں پھل بیچتے ہیں – بہار کے دربھنگہ ضلع میں واقع اپنے گاؤں، کولہنتا پٹوری گئے ہوئے تھے۔ سنیتا پرانے واقعہ کو یاد کرتے ہوئے آگے بتاتی ہیں، ’’ڈاکٹر اپنی بات پر بضد تھی، اور کہنے لگی: ’اس سے تمہارے شوہر کا کیا لینا دینا ہے؟ یہ تو تمہارے ہاتھ میں ہے۔ اسے استعمال کرنے کے بعد، اگلے پانچ سالوں تک تم حاملہ نہیں ہوگی‘۔‘‘

لہٰذا، سنیتا نے انجیکشن کے ذریعے دیے جانے والے مانع حمل (انترا) کو چھوڑ کر کاپر ٹی لگوانے کا فیصلہ کر لیا۔ انہوں نے اپنے شوہر کو پہلے اس کے بارے میں نہیں بتایا تھا۔ کاپر ٹی لگوانے کے ۱۰ دنوں کے بعد، جب وہ اپنے گاؤں سے لوٹ کر دہلی آئے تب انہیں بتایا۔ ’’میں نے انہیں بتائے بغیر، خفیہ طریقے سے یہ لگوا لیا تھا۔ وہ مجھ سے بہت ناراض ہوئے۔ بلکہ، انہوں نے تو آشا کارکن کو بھی بہت ڈانٹا جو مجھے ہیلتھ سنٹر لے کر گئی تھی۔‘‘

کاپر ٹی لگوانے کے بعد اگلے دو مہینوں تک، سنیتا کو حیض کے دوران بہت زیادہ خون آنے لگا۔ انہیں لگا کہ شاید کاپر ٹی لگوانے کی وجہ سے ایسا ہو رہا ہے، لہٰذا اسے نکلوانے کے لیے وہ جولائی ۲۰۱۹ میں دو بار گوپال نگر ہیلتھ سنٹر گئیں۔ لیکن، ہر بار انہیں دوائیں تھما دی گئیں اور کہا گیا کہ اس سے خون آنا بند ہو جائے گا۔

نومبر ۲۰۱۹ کے آس پاس انہیں حیض آنا بند ہو گیا اور پیٹ کا حجم بڑھنے لگا۔ اس کے بعد نجف گڑھ کے وکاس ہسپتال میں ’’باتھ روم جانچ‘‘ کرانے پر (جس سے ان کی مراد حاملہ ہونے کی جانچ کرانا ہے) اس بات کی تصدیق ہوئی کہ وہ حاملہ ہیں، ساتھ ہی یہ بھی پتہ چلا کہ مانع حمل آلہ (آئی یو ڈی سی) لگوانے سے کوئی فائدہ نہیں ہوا۔

مغربی دہلی ضلع میں امراض خواتین کی ماہر کے طور پر کام کرنے والی ڈاکٹر پونم چڈھا بتاتی ہیں کہ کاپر ٹی لگوانے والی عورتوں کا حاملہ ہو جانا عام بات ہے۔ وہ اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہتی ہیں، ’’ایسا ہونے کا امکان ۱۰۰ میں سے ۱ (عورت) میں رہتا ہی ہے۔ اس کی کوئی خاص وجہ نہیں بتائی جا سکتی۔ کسی بھی [مانع حمل] طریقے کے ناکام ہونے کا امکان رہتا ہی ہے۔‘‘ آئی یو سی ڈی کو تو ویسے زیادہ محفوظ اور زیادہ مؤثر متبادل تصور کیا جاتا ہے، لیکن اس کے ناکام ہونے پر غیر مطلوبہ حمل ٹھہر جاتا ہے، جس کے نتیجہ میں مجبوراً اسقاط حمل کرانا پڑتا ہے۔

سنیتا کہتی ہیں، ’’میں تو اسی بھروسے بیٹھی ہوئی تھی۔ مجھے پورا یقین تھا کہ کاپر ٹی لگوا لینے کی وجہ سے میرا حمل نہیں ٹھہرے گا۔ ڈسپینسری [پی ایچ سی] کی ڈاکٹر نے گارنٹی دی تھی کہ یہ پانچ سال تک کام کرے گا۔ لیکن ایک سال کے اندر ہی یہ سب ہو گیا۔‘‘

The room used by Sunita and her husband in the house
PHOTO • Sanskriti Talwar
PHOTO • Sanskriti Talwar

بائیں: جنوب مغربی دہلی ضلع کی وہ گلی جس میں سنیتا اور ان کی فیملی ایک کرایے کے مکان میں رہتی ہے۔ دائیں: گھر کا وہ کمرہ جسے سنیتا اور ان کے شوہر استعمال کرتے ہیں

نیشنل فیملی ہیلتھ سروے ۲۱-۲۰۱۹ ( این ایف ایچ ایس – ۵ ) کے مطابق، ہندوستان میں ۱۵ سے ۴۹ سال تک کی عمر کی صرف ۱ء۲ فیصد شادی شدہ خواتین ہی کاپر ٹی جیسی آئی یو سی ڈی کا استعمال کرتی ہیں۔ حمل کو روکنے کا سب سے عام طریقہ ہے عورتوں کی نس بندی – جس کا استعمال ۳۸ فیصد شادی شدہ خواتین کرتی ہیں۔ سروے کی رپورٹ بتاتی ہے کہ ۳-۲ بچوں کی پیدائش کے بعد، شادی شدہ خواتین مانع حمل کا استعمال زیادہ کرنے لگتی ہیں۔ ایسا ہی سنیتا نے بھی کیا، جنہیں پانچواں بچہ نہیں چاہیے تھا۔

لیکن، وکاس ہاسپیٹل سے وہ اسقاط حمل نہیں کرا سکتی تھیں، کیوں کہ وہاں پر اس کی فیس ۳۰ ہزار روپے ہے۔

سنیتا ایک خاتونِ خانہ ہیں، جب کہ ان کے شوہر پھل بیچ کر ہر مہینے تقریباً ۱۰ ہزار روپے کما لیتے ہیں۔ تین بیڈ روم والے اس کرایے کے مکان میں اپنی اپنی فیملی کے ساتھ رہنے والے ان کے شوہر کے دو بھائی، اسی علاقے میں کپڑے کی ایک دکان پر کام کرتے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک، ماہانہ ۲۳۰۰ روپے اپنے حصہ کے کرایے کے طور پر دیتا ہے۔

انہوں نے لال شلوار قمیض پہن رکھی ہے، جس پر سبز اور زرد رنگ کے مثلث چھپے ہوئے ہیں۔ اپنی پتلی کلائی میں انہوں نے اس چمکدار سوٹ سے میچ کرتی ہوئی رنگ برنگی چوڑیاں بھی پہن رکھی ہیں۔ پیروں میں چاندی کی پازیب ہے، جس کا رنگ اڑ چکا ہے، ساتھ ہی انہوں نے اپنے پاؤں میں سرخی مائل آلتا بھی لگا رکھا ہے۔ وہ ہم سے بات کرتے وقت اپنی فیملی کے لیے دوپہر کا کھانا پکا رہی ہیں، حالانکہ خود انہوں نے برت (روزہ) رکھا ہوا ہے۔ کسی زمانے میں اپنے چمکدار چہرے کو یاد کرتے ہوئے وہ کہتی ہیں، ’’شادی کو ابھی چھ مہینے بھی نہیں ہوئے تھے کہ میرے چہرے کی تمام چمک دمک غائب ہو گئی۔‘‘ ان کی شادی ۱۸ سال کی عمر میں ہوئی تھی، تب ان کا وزن ۵۰ کلو ہوا کرتا تھا۔ لیکن، اب وزن گھٹ کر ۴۰ کلو ہو چکا ہے، جب کہ ان کی لمبائی ۵ فٹ ایک انچ ہے۔

سنیتا کے جسم میں خون کی کمی (انیمیا) ہے، شاید اسی لیے ان کا چہرہ زرد پڑ گیا ہے اور انہیں ہر وقت تھکان محسوس ہوتی ہے۔ وہ ہندوستان کی ۱۵ سے ۴۹ سال کی عمر کی اُن ۵۷ فیصد خواتین میں شامل ہیں، جو انیمیا کی شکار ہیں۔ سنیتا، ستمبر ۲۰۲۱ سے ہی نجف گڑھ کے ایک پرائیویٹ کیلنک میں اپنا علاج کرا رہی ہیں، جہاں انہیں ہر ۱۰ دنوں میں ایک بار جانا پڑتا ہے۔ ڈاکٹر سے صلاح لینے اور دوائیں خریدنے پر، انہیں ہر بار ۵۰۰ روپے خرچ کرنے پڑتے ہیں۔ کووڈ۔۱۹ کے خوف سے وہ سرکاری اسپتالوں میں جانے سے پرہیز کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ، اس کلینک میں ایک فائدہ یہ ہے کہ وہ یہاں اپنے گھریلو کام ختم کرنے کے بعد شام کو بھی جا سکتی ہیں، اور یہاں لمبی قطاروں میں بھی نہیں کھڑا ہونا پڑتا ہے۔

دوسرے کمرے سے بچوں کی چیخنے کی آوازیں ہماری بات چیت میں رخنہ ڈالتی ہیں۔ ’’میرا پورا دن ایسے ہی نکلتا ہے،‘‘ بچوں میں شاید جھگڑا ہو گیا ہے، جس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سنیتا کہتی ہیں، اور اب انہیں وہاں جا کر ان بچوں کو سمجھانا پڑے گا۔ اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے وہ کہتی ہیں، ’’حاملہ ہو جانے کے بارے میں جب پتہ چلا، تو میں کافی تناؤ میں رہنے لگی۔ میرے شوہر نے کہا کہ ’جو ہو رہا ہے ہونے دو‘۔ لیکن تکلیف تو مجھے ہی جھیلنی پڑتی، ہے نا؟ بچہ تو مجھے ہی پالنا پڑتا، اور سارا کام بھی کرنا ہوتا۔‘‘

The wooden cart that belongs to Sunita's husband, who is a fruit and vegetable seller.
PHOTO • Sanskriti Talwar
Sunita's sewing machine, which she used before for tailoring clothes to earn a little money. She now uses it only to stitch clothes for her family
PHOTO • Sanskriti Talwar

بائیں: لکڑی کا وہ ٹھیلہ جس پر سنیتا کے شوہر پھل اور سبزیاں بیچتے ہیں۔ دائیں: سنیتا کی سلائی مشین، جسے پہلے وہ کپڑے سی کر کچھ پیسے کمانے کے لیے استعمال کرتی تھیں۔ اب وہ اسے صرف اپنے گھر والوں کے کپڑے کی سلائی کرنے میں استعمال کرتی ہیں

سنیتا کو جب حمل ٹھہر جانے کا پتہ چلا، تو کچھ دنوں بعد انہوں نے نجف گڑھ – دھنسا روڈ پر واقع ایک پرائیویٹ کلینک سے ۱۰۰۰ روپے خرچ کرکے الٹرا ساؤنڈ کروایا۔ وہاں تک ان کے ساتھ جانے والی آشا کارکن، بعد میں انہیں جعفر پور کے سرکاری راؤ تُلا رام میموریل ہسپتال لے گئی جو کہ ان کے گھر سے نو کلومیٹر دور ہے۔ سنیتا، کاپر ٹی نکلوا کر اپنا اسقاط حمل کروانا چاہتی تھیں۔ سرکاری اسپتال میں یہ مفت ہوتا ہے۔

’’جعفر پور میں، انہوں نے [ڈاکٹر نے] کہا کہ کاپر ٹی کو نہیں نکالا جا سکتا، بچے کی پیدائش کے وقت یہ اپنے آپ ہی نکل جائے گا۔‘‘ ڈاکٹر نے سنیتا سے کہا کہ چونکہ ان کے پیٹ میں پل رہا بچہ اب تقریباً تین مہینے کا ہو چکا ہے، اس لیے اسقاط حمل کرانا نہ صرف مشکل ہوگا بلکہ جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ سنیتا بتاتی ہیں، ’’وہ [ڈاکٹر] خطرہ مول لینے کو تیار نہیں تھے۔‘‘

انہوں نے مجھے بتایا، ’’مجھے اپنی جان کی کوئی پرواہ نہیں تھی۔ مجھے اور بچے پیدا ہی نہیں کرنے تھے۔‘‘ اس معاملے میں وہ اکیلی نہیں ہیں۔ این ایف ایچ ایس۔۵ کے مطابق، ۸۵ فیصد سے زیادہ شادی شدہ عورتوں کی بھی یہی خواہش ہوتی ہے کہ دوسرے (زندہ) بچے کی پیدائش کے بعد مزید بچے پیدا نہ ہوں۔

اس کے بعد سنیتا نے اپنا اسقاط حمل کرانے کے لیے دوسرے سرکاری اسپتال جانے کا فیصلہ کیا۔ فروری ۲۰۲۰ میں جب وہ چار مہینے کی حاملہ تھیں، تو ایک دوسری آشا کارکن انہیں وسطی دہلی ضلع میں واقع لیڈی ہارڈنگ اسپتال لے گئی، جو کہ نجف گڑھ سے ۳۰ کلومیٹر دور ہے۔ دونوں عورتیں دہلی میٹرو سے وہاں تک گئیں، جس کے لیے ان میں سے ہر ایک کو اس دن ۱۲۰ روپے خرچ کرنے پڑے۔ لیڈی ہارڈنگ اسپتال کی ڈاکٹر نے گوپال نگر پی ایچ سی کی ڈاکٹر سے اس کیس کے بارے میں بات چیت کرنے کے بعد سنیتا کا اسقاط حمل کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

سنیتا بتاتی ہیں، ’’مجھے نہیں معلوم کہ ان کے درمیان کیا بات چیت ہوئی۔ صرف ڈاکٹروں نے آپس میں بات کی، اور پھر انہوں نے آپریشن کرنے کا فیصلہ کر لیا۔‘‘ انہیں یاد ہے کہ ڈاکٹروں نے سب سے پہلے خون کے کچھ ٹیسٹ کیے اور کچھ دوائیں استعمال کیں۔ سنیتا کہتی ہیں، ’’مجھے نہیں معلوم کہ وہ کون سی دوا تھی۔ انہوں نے کچھ دوائی اندر ڈال کر صفائی کی تھی۔ اندر کافی جلن ہو رہی تھی اور مجھے چکّر آنے لگا تھا۔‘‘ اس دن ان کے شوہر بھی ساتھ تھے، لیکن بقول سنیتا، ’’وہ اسقاط حمل کروانے کے حق میں نہیں تھے۔‘‘

ڈاکٹر نے کاپر ٹی کو باہر نکالنے کے بعد سنیتا کو دکھایا۔ اسپتال تک ان کے ساتھ جانے والی آشا کارکن، سونی جھا نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پیٹ کے اندر پل رہے جس بچے (جنین) کا اسقاط حمل کرایا گیا، وہ تقریباً چار مہینے کا تھا۔ ’’اسے ’نارمل ڈیلیوری‘ کے ذریعے باہر نکالا گیا کیوں کہ ان کا کیس کافی حساس تھا۔‘‘

Sunita remained determined to get the tubal ligation done, but Covid-19 struck in March 2020.  It was a year before she could undergo the procedure – in Bihar this time
PHOTO • Priyanka Borar

سنیتا نے اپنی نس بندی کرانے کا پختہ فیصلہ کر لیا تھا، لیکن مارچ ۲۰۲۰ میں کووڈ۔۱۹ آ گیا۔ اس بار یہ کام انہیں ایک سال پہلے، بہار میں کرانا تھا

اسقاط حمل کرانا تو ان کے لیے صرف ادھورا کام تھا۔ سنیتا اپنی نس بندی کرانا چاہتی تھیں، جس میں حمل کو روکنے کے لیے بچہ دانی کی نلیوں کو بند کر دیا جاتا ہے۔ یہ کام وہ اسی اسپتال میں اگلے دن ہی کرانا چاہتی تھیں جہاں انہوں نے اپنا اسقاط حمل کرایا تھا، لیکن ڈاکٹروں نے اُس دن کرنے سے منع کر دیا۔ سنیتا بتاتی ہیں، ’’میں آپریشن والے لباس پہن چکی تھی تبھی مجھے کھانسی ہونے لگی۔ وہ [ڈاکٹر] خطرہ مول نہیں لینا چاہتے تھے۔‘‘ اسقاط حمل کے چار دن بعد، انہیں ’انترا‘ کا اجیکشن دے کر اسپتال سے چھٹی دے دی گئی۔

سنیتا نے اپنی نس بندی کرانے کا پختہ فیصلہ کر لیا تھا، لیکن مارچ ۲۰۲۰ میں کووڈ۔۱۹ آ گیا۔ اس بار یہ کام انہیں ایک سال پہلے، بہار میں کرانا تھا۔ فروری ۲۰۲۱ میں سنیتا اور ان کی فیملی کے لوگ ہنومان نگر بلاک میں واقع اپنے گاؤں، کولہنتا پٹوری گئے ہوئے تھے، جہاں ان کے برادر نسبتی کی شادی تھی۔ وہاں پر، سنیتا نے ایک آشا کارکن سے رابطہ کیا، جو انہیں دربھنگہ کے ایک سرکاری اسپتال لے کر گئی۔ سنیتا بتاتی ہیں، ’’آشا کارکن اب بھی فون کرکے میری خبر خیریت دریافت کرتی ہے۔‘‘

وہ یاد کرتے ہوئے بتاتی ہیں، ’’وہاں [دربھنگہ میں] وہ آپ کو پوری طرح بیہوش نہیں کرتے، بلکہ آپ کو جگا کر رکھتے ہیں۔ اگر آپ چیخیں گی تب بھی کوئی پرواہ نہیں کرے گا۔‘‘ نس بندی کروانے کے لیے سنیتا حکومت سے ۲۰۰۰ روپے کا معاوضہ پانے کی حقدار ہیں۔ ’’لیکن مجھے معلوم نہیں کہ وہ پیسہ میرے [بینک] اکاؤنٹ میں آیا ہے یا نہیں۔ میں نے کسی کو چیک کرنے کے لیے نہیں کہا ہے۔‘‘

’’اچھی بات ہے کہ میں نے آخرکار یہ کرا ہی لیا۔ اب میں پوری طرح سے محفوظ ہوں، ورنہ کبھی نہ کبھی کوئی نہ کوئی مسئلہ ضرور پیدا ہوتا۔ اس کو کرائے ہوئے اب ایک سال ہو چکا ہے اور میں پوری طرح سے ٹھیک ہوں۔ اگر دو چار بچے اور پیدا ہوئے ہوتے، تو میں مر گئی ہوتی۔‘‘ اپنی باتیں ختم کرتے ہوئے ان کے چہرے پر ایک طرح کا سکون ہے۔ لیکن انہیں غصہ بھی آتا ہے، ’’اس کے لیے مجھے مختلف اسپتالوں اور کلینک کے ڈھیر سارے ڈاکٹروں کو دکھانا پڑا۔ آپ ہی بتائیے، میری بے عزتی نہیں ہوئی؟‘‘

پاری اور کاؤنٹر میڈیا ٹرسٹ کی جانب سے دیہی ہندوستان کی بلوغت حاصل کر چکی لڑکیوں اور نوجوان عورتوں پر ملگ گیر رپورٹنگ کا پروجیکٹ پاپولیشن فاؤنڈیشن آف انڈیا کے مالی تعاون سے ایک پہل کا حصہ ہے، تاکہ عام لوگوں کی آوازوں اور ان کی زندگی کے تجربات کے توسط سے ان اہم لیکن حاشیہ پر پڑے گروہوں کی حالت کا پتہ لگایا جا سکے۔

اس مضمون کو شائع کرنا چاہتے ہیں؟ براہِ کرم [email protected] کو لکھیں اور اس کی ایک کاپی [email protected] کو بھیج دیں۔

مترجم: محمد قمر تبریز

Sanskriti Talwar

Sanskriti Talwar is an independent journalist based in New Delhi, and a PARI MMF Fellow for 2023.

Other stories by Sanskriti Talwar
Illustration : Priyanka Borar

Priyanka Borar is a new media artist experimenting with technology to discover new forms of meaning and expression. She likes to design experiences for learning and play. As much as she enjoys juggling with interactive media she feels at home with the traditional pen and paper.

Other stories by Priyanka Borar
Translator : Mohd. Qamar Tabrez

Mohd. Qamar Tabrez is the Translations Editor, Urdu, at the People’s Archive of Rural India. He is a Delhi-based journalist.

Other stories by Mohd. Qamar Tabrez