۸۵- ماحولیاتی صحافت میں پریم بھاٹیہ صحافتی ایوارڈ برائے مہارت، ۲۰۲۵
اگست ۲۰۲۵ میں پاری کی ایگزیکٹو ایڈیٹر پریتی ڈیوڈ کو، ماحولیاتی صحافت میں پریم بھاٹیہ صحافتی ایوارڈ برائے مہارت کی رکن ججز رمی چھابڑا اور سُجاتا مڈھوک کے ذریعہ خصوصی تعریف سے نوازا گیا۔ ان کی یہ تعریف ’’راجستھان کی ریگستانی ایکولوجی اور مویشی پروری پر شمسی اور بادی قابل تجدید توانائی کے پروجیکٹوں سے ہونے والے اثرات پر ان کی شاندار رپورٹ کے ساتھ ساتھ کونو نیشنل پارک سے کی گئی رپورٹنگ رپورٹنگ کے لیے کی گئی جس میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح ۲۳ سال پہلے ۲۴ گاؤوں کے قبائلیوں اور دلتوں کو ان کی زمینوں سے اجاڑ دیا گیا، تاکہ شیروں کے لیے راہ ہموار کی جا سکے، حالانکہ وہ شیر کبھی وہاں پہنچے ہی نہیں۔‘‘
۸۳- یشونت راؤ چوہان ریاستی سطح کا یوتھ ایوارڈ برائے صحافت ۲۰۲۵
مئی ۲۰۲۵ میں، پاری کی سینئر رپورٹر جیوتی کو مہاراشٹر کے اورنگ آباد میں یشونت راؤ چوہان ریاستی سطح کا یوتھ ایوارڈ برائے صحافت ۲۰۲۵ سے نوازا گیا۔ یہ ایوارڈز ہر سال سماج، کھیل، سرمایہ کاری، تھیٹر آرٹس، ادب، صحافت اور نئی دریافت کے شعبے میں نمایاں کارکردگی انجام دینے والے با صلاحیت نوجوانوں کو دیے جاتے ہیں۔
۸۱- میریکو اِنّوویشن فاؤنڈیشن کا انڈین انوویشن آئیکنز ۲۰۲۵
مارچ ۲۰۲۵ میں پاری کو ’سوشل‘ کیٹیگری کے تحت سال ۲۰۲۵ کے میریکو اِنّوویشن فاؤنڈیشن کے انڈین انوویشن آئیکنز ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اس ایوارڈ کے ذریعہ یہ تسلیم کیا گیا کہ پاری ایک ایسا انوکھا ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے جو دیہی ہندوستان کی متنوع آوازوں کو بچانے اور انہیں محفوظ کرنے میں لگا ہوا ہے۔
۸۰- ٹی ایم کرشنا-پاری انعام
دسمبر ۲۰۲۴ میں لابنی جنگی کو ٹی ایم کرشنا-پاری انعام کے پہلے ایڈیشن کا فاتح قرار دیا گیا۔ اس کے تحت فن اور صحافت کی دنیا میں نمایاں کارنامے انجام دینے والے افراد کو اعزاز سے نوازا جاتا ہے۔ اس کے لیے ایک لاکھ روپے کا انعام مشہور و معروف کرناٹک موسیقار اور کارکن ٹی ایم کرشنا کے ذریعہ شروع کیا گیا ہے۔ اس کی اولین فاتح لابنی، سال ۲۰۲۰ سے ہی پاری سے جڑی ہوئی ہیں، جب وہ پاری فیلو تھیں۔ ان کے ذریعہ متعدد نظموں، مضامین کے ساتھ ساتھ پاپولیشن فاؤنڈیشن آف انڈیا کی پہل کے طور پر خواتین کی صحت پر شروع کی گئی خصوصی سیریز والے مضامین کے لیے بنائی گئی تصویروں نے پاری کی ملٹی میڈیا کے ذریعہ کہانی سنانے کی روایت کو تقویت بخشی اور اس میں پاری کی کافی مدد کی۔
۷۹- آرودھم جرنلزم فیلوشپ
دسمبر ۲۰۲۴ میں، پاری کی جیوتی شنولی کو تعلیم کے میدان میں کام کرنے والی کرناٹک کی ایک غیر منافع بخش تنظیم ’آرودھم انٹرنیشنل‘ کے ذریعہ آرودھم جرنلزم فیلوشپ سے نوازا گیا۔ یہ تنظیم پورے ہندوستان کے دیہی علاقوں میں رہنے والی حاشیہ بردار برادریوں کے طلباء پر توجہ مرکوز کرتی ہے۔ جیوتی کو یہ فیلوشپ پانچ سال کے لیے دی گئی ہے، جس کے تحت وہ ’’ان مسائل کا احاطہ کریں گی جس سے دیہی لوگ متاثر ہوتے ہیں، خاص کر حاشیہ پر زندگی بسر کرنے والے لوگ اور معاشرہ کے محروم طبقات۔‘‘ آرودھم کا کہنا ہے کہ وہ خاص کر جیوتی کی اس اسٹوری سے متاثر ہوئے ہیں: اسکول سے محروم کیے جا رہے ہیں پسماندہ بچے
۷۸- تکشلا-پاری سینئر فیلوشپ
دسمبر ۲۰۲۵ میں، اُمیش کمار رائے کو جنوری ۲۰۲۵ سے شروع ہونے والی تکشلا-پاری سینئر فیلوشپ سے نوازا گیا۔ امیش نے پاری کے لیے کئی شاندار اسٹوریز کی ہیں اور وہ اس فیلوشپ کے تحت بہار کے آدیواسیوں کے درمیان معاش، تدریس اور زمین کے زیاں پر کام کریں گے۔ سال ۲۰۰۰ میں بہار کی تقسیم کے بعد صرف جھارکھنڈ کے آدیواسیوں پر توجہ مرکوز کی جاتی رہی ہے، جب کہ بہار میں کم تعداد میں رہنے والے آدیواسیوں پر کم توجہ دی گئی ہے، حالانکہ وہ زیادہ کمزور ہیں۔ تکشلا ایجوکیشن سوسائٹی (ٹی ای ایس) نے یہ نئی فیلوشپ شروع کی ہے اور امیش اسے حاصل کرنے والے پہلے شخص ہیں۔
۷۷- رین بو لٹ فیسٹ، سال ۲۰۲۴ کا فیچر
دسمبر ۲۰۲۴ میں، اسمیتا تومولورو کو ان کی اسٹوری ’لوگوں نے مجھے اسی شکل میں قبول کر لیا ہے‘ کے لیے رین بو لٹ فیسٹ – کویئر اینڈ انکلوزیو کے ذریعہ ۲۰۲۴ سال کے فیچر سے نوازا گیا۔ یہ اسٹوری ایرولر برادری سے تعلق رکھنے والی ٹرانس جینڈر تلسی کے بارے میں ہے۔
۷۳- ڈاکٹر گی پائیٹواں میموریل پرائز
اگست ۲۰۲۴ میں، پاری کی مینیجنگ ایڈیٹر نمیتا وائیکر اور گرائنڈ مل سانگز پروجیکٹ کو اولین ڈاکٹر گی پائیٹواں میموریل پرائز سے سرفراز کیا گیا۔ اس ایوارڈ کے ذریعہ سوشل ورک کے شعبہ میں ڈاکٹر پائیٹواں کے ساتھ پاری کے اشتراک، اور گرائنڈ مل سانگز پروجیکٹ اور گوانگجو، برلن اور لندن میں اس کی نمائش کے ذریعہ دیہی ہندوستان کے ساتھ ہمارے کام کی پذیرائی کی گئی۔
۶۷۔ ریکارڈو میموریل پرائز برائے نشریاتی میڈیا ۲۰۲۳
شالنی سنگھ نے ریکارڈو میموریل پرائز برائے نشریاتی میڈیا ۲۰۲۳ کا سلور جیتا ہے، جو یو این کرسپانڈنٹس (یو این سی اے) نے انہیں سال ۲۰۲۰-۲۰۱۹ میں پاری کے لیے ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق اسٹوریز کرنے کے لیے دیے تھے۔
۶۶۔ سنجوئے گھوش میڈیا ایوارڈز ۲۰۲۳
جگیاسا مشرا کے نام کا اعلان ’ریکگنائزنگ ایکسیلنس اِن رورل رپورٹنگ اینڈ امپاورنگ ینگ وائسز‘ والے زمرہ میں سنجوئے گھوش میڈیا ایوارڈز کی مشترکہ فاتح کے طور پر کیا گیا ہے۔ یہ ایوارڈ ان کی اسٹوری ’’جھن جھنوں میں شادی کے لیے دلہن خریدنی پڑتی ہے‘‘ کے لیے انہیں دیا گیا ہے۔
۶۵۔ لاڈلی میڈیا ایوارڈز ۲۰۲۳، ججوں کی طرف سے سند توصیفی
اکتوبر ۲۰۲۳ میں، پاری-ایم ایم ایف فیلو سنکیت جین نے لاڈلی میڈیا ایوارڈز ۲۰۲۳ میں ججوں کی طرف سے سند توصیفی حاصل کیا، جو ایتھلیٹوں کی ذہنی صحت پر ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات سے متعلق ان کی اس اسٹوری کے لیے تھا۔
۶۴۔ لاڈلی میڈیا ایوارڈز ۲۰۲۳، ججوں کی طرف سے سند توصیفی
اکتوبر ۲۰۲۳ میں، پاری فیلو امرتا کوسورو نے لاڈلی میڈیا ایوارڈز ۲۰۲۳ میں ججوں کی طرف سے سند توصیفی حاصل کیا، جو میلا ڈھونے والوں کی بیواؤں سے متعلق ان کی اس اسٹوری کے لیے تھا۔
۶۳۔ کورنگ کلائمیٹ ناؤ صحافتی ایوارڈز، ۲۰۲۳
ستمبر ۲۰۲۳ میں، سنکیت جین نے ذہنی صحت پر ماحولیات کے اثرات کا احاطہ کرنے والی تین قسطوں پر مبنی سیریز کے لیے کورنگ کلائمیٹ ناؤ کا ’سال کا ابھرتا ہوا صحافی ایوارڈ‘ جیتا۔
۶۱۔ چنتا روی میموریل ایوارڈ، ۲۰۲۳
جولائی ۲۰۲۳ میں، پاری کے بانی ایڈیٹر پی سائی ناتھ نے کیرالہ کے کوزی کوڈ میں چنتا روی میموریل ایوارڈ حاصل کیا۔
سند توصیفی میں درج ہے: ’چنتا روندرن فاؤنڈیشن، پیپلز آرکائیو آف رورل انڈیا (پاری) کے بانی ڈاکٹر پی سائی ناتھ کو چوتھا چنتا روی میموریل ایوارڈ دیتے ہوئے فخر محسوس کر رہا ہے۔ پاری کل ہند سطح پر واحد ملٹی میڈیا نیٹ ورک ہے جو پوری طرح سے دیہی ہندوستان کے لیے وقف ہے اور ’دیہی ہندوستان کی تاریخ کے ایک آرکائیو اور زندہ رسالہ‘ کے طور پر کام کر رہا ہے اور ’عام لوگوں کی روزمرہ کی زندگی…‘ کو درج کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
۶۰۔ ٹرو اسٹوری ایوارڈ، ۲۰۲۳
جون ۲۰۲۳ میں، اپرنا کارتکیئن اُن ۱۲ صحافیوں میں شامل تھیں جن کا انتخاب ٹرو اسٹوری ایوارڈز ٹرو اسٹوری ایوارڈز، برن، سوئٹزرلینڈ کے لیے کیا گیا تھا۔ ان کی تمل ناڈو کے نمک کے کھیتوں پر مبنی اسٹوری کو فائنل لسٹ میں جگہ ملی تھی۔
۵۹۔ ایشین کالج آف جرنلزم ایوارڈز، ۲۰۲۳
مئی ۲۰۲۳ میں، پارتھ ایم این کو سماج پر صحافت کا اثر والے زمرہ میں ایشین کالج آف جرنلزم ایوارڈز میں اسپیشل مینشن (خصوصی ذکر) حاصل ہوا۔ انہیں اتر پردیش میں عوامی صحت تک رسائی سے متعلق سلسلہ وار کی گئی اسٹوریز کے لیے یہ اعزاز دیا گیا تھا۔
۵۷۔ امیجننگ دا نیشن اسٹیٹ گرانٹ، ۲۰۲۲
نومبر ۲۰۲۰ میں، پاری کے فوٹوگرافر پلنی کمار کو ان کی سماجی طور پر ذمہ دار فوٹوگرافی کے لیے چنئی فوٹو بائی اینئیل فاؤنڈیشن کی طرف سے امیجننگ دا نیشن اسٹیٹ گرانٹ سے نوازا گیا تھا۔
۵۶۔ روری پیک ایوارڈز میں مارٹن ایڈلر پرائز، ۲۰۲۲
نومبر ۲۰۲۲ میں، پارتھ ایم این لندن کے روری پیک ایوارڈز میں مارٹن ایڈلر پرائز کے رنر اَپ تھے۔ یہ ایوارڈ دنیا کے کسی ایک آزاد صحافی کو دیا جاتا ہے۔ اور یہ لگاتار دوسری بار تھا جب پارتھ کو اس ایوارڈ کا رنر اپ بنایا گیا۔
۵۵۔ ارتھ جرنلزم نیٹ ورک ایشیا پیسیفک فیلوشپ، ۲۰۲۲
سنکیت جین کو ۲۴ اگست، ۲۰۲۲ کو دیہی مہاراشٹر میں ماحولیاتی تبدیلی اور ذہنی صحت پر مبنی تین حصوں کی سیریز کے لیے ارتھ جرنلزم نیٹ ورک ایشیا پیسیفک فیلوشپ سے نوازا گیا۔
۵۴۔ زی تمل کا ’تمیڑا تمیڑا ایوارڈ‘، ۲۰۲۲
جون ۲۰۲۲ میں، پلنی کمار کو زی تمل کے ’تمیڑا تمیڑا ایوارڈ‘ کی شکل میں ایک بڑا انعام ملا۔ یہ ایوارڈز اُن لوگوں کو دیے جاتے ہیں، جو اپنے کام سے ریاست تمل ناڈو اور اس کی زبان کی شان و شوکت کو آگے بڑھاتے ہیں۔
۵۱۔ پی وی سُکھاتمے گولڈ میڈل، ۲۰۲۲
انڈین سوشل سائنس اکیڈمی (آئی ایس ایس اے) نے ۲۸ مارچ، ۲۰۲۲ کو چنئی کے ونڈلور میں منعقد ۴۵ویں سوشل سائنس کانگریس میں، پاری کے بانی ایڈیٹر پی سائی ناتھ کو پی وی سُکھاتمے گولڈ میڈل سے نوازا۔ آئی ایس ایس اے نے اپنے سند توصیفی میں لکھا کہ پاری ’’سوشل سائنسز، ہیومینٹیز اور عام لوگوں کے درمیان علم کی سطح پر موجود خلیج کو دور کرنے کی کوشش کرتا ہے… اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ پاری ۱۳ زبانوں میں اشاعت کا کام کرتا ہے اور یہ سب کے لیے مفت میں دستیاب ہے، یہاں سبسکرپشن کی کوئی فیس نہیں ہے۔‘‘
۵۰۔ مرنالنی مکھرجی فاؤنڈیشن گرانٹ، ۲۰۲۲
سنکیت جین کو مارچ ۲۰۲۲ میں مرنالنی مکھرجی فاؤنڈیشن گرانٹ ملی تھی جو ان کی پاری سینئر فیلوشپ کے لیے دی گئی تھی۔ فاؤنڈیشن دیہی کاریگروں اور ان کے ختم ہوتے ذریعہ معاش پر سنکیت جین کے جاری کام سے کافی متاثر ہوا تھا۔ فاؤنڈیشن نے ان کے ذریعہ تورن بنانے والے کاریگروں پر کی گئی اسٹوری کا خاص طور پر ذکر کیا تھا۔
۴۹۔ الفریڈ فرینڈلی فیلوشپ، ۲۲-۲۰۲۱
پارتھ ایم این کو اپریل ۲۰۲۲ میں امریکہ کا دورہ کرنے اور تربیت حاصل کرنے کے لیے جون ۲۰۲۱ میں الفریڈ فرینڈلی فیلوشپ سے نوازا گیا تھا۔ پروگرام میں کولمبیا کی مسوری یونیورسٹی کے مسوری اسکول آف جرنلرم سے تین ہفتے کی ٹریننگ حاصل کرنا شامل ہے۔ اس کے بعد وہ ڈھائی مہینے تک لاس اینجلیس ٹائمز میں کام کریں گے۔
۴۸۔ سنٹر فار پیسٹورلزم گرانٹ، ۲۰۲۲
پاری کے سینئر فیلو اور فوٹوگرافر رتائن مکھرجی کو فروری ۲۰۲۲ میں گجرات کے بھُج میں واقع سنٹر فار پیسٹورلزم نے سیاحتی گرانٹ سے نوازا۔ اس گرانٹ سے انہیں ہندوستان کی خانہ بدوش چرواہا برادریوں سے متعلق اپنے موجودہ کام کو جاری رکھنے میں مدد ملے گی۔
۴۷۔ ٹھاکر فاؤنڈیشن فیلوشپ، ۲۰۲۱
پارتھ ایم این کو جنوری ۲۰۲۲ میں ٹھاکر فاؤنڈیشن فیلوشپ سے نوازا گیا، تاکہ وہ پاری کے لیے ہندوستان میں حفظان صحت تک رسائی کے مسائل اور شہریوں کی آزادی کی صورتحال کا احاطہ کر سکیں۔
۴۶۔ رامناتھ گوئنکا ایوارڈ، ۲۰۲۱
پاری کی ٹیم کو دسمبر ۲۰۲۱ میں ماحولیات، سائنس اور ٹیکنالوجی سے متعلق رپورٹنگ کے زمرے میں رامناتھ گوئنکا ایوارڈ کا فاتح قرار دیا گیا۔ یہ انعام ’’کسانوں، مزدوروں، ماہی گیروں، جنگل کے باشندوں، سمندری گھاس اکٹھا کرنے والوں، خانہ بدوش چرواہوں اور شہد جمع کرنے والوں وغیرہ‘‘ کے ذریعہ بیان کردہ اور ان کی زندگی کے تجربات پر مبنی پاری کی ماحولیاتی تبدیلی پر جاری سیریز کے لیے دیا گیا تھا۔ ایوارڈ میں ذکر کیا گیا ہے کہ یہ سیریز پاری کی ۱۴ رکنی ٹیم کے ذریعہ کی گئی ’’۲۰ سے زیادہ اسٹوریز پر مبنی ہے، جس کے تحت ہندوستان کے طول و عرض کا احاطہ کیا گیا ہے‘‘ اور ان نامہ نگاروں نے ’’جنگلات، سمندر، ندی کے طاس، موتیوں کے جزیرے، ریگستان، خشک اور نیم خشک خطوں، دیہی اور شہری علاقوں کا احاطہ کیا (اور) قارئین کو اس بحران سے روبرو کرایا۔‘‘
۴۳۔ پریس انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا – آئی سی آر سی ایوارڈ، ۲۰۲۱
پاری کی رپورٹر جگیاسا مشرا کو ۱۰ مئی، ۲۰۲۱ کو شائع ہونے والی ان کی اسٹوری یوپی پنچایت انتخابات میں ہلاک ہونے والے اساتذہ کے لیے نومبر ۲۰۲۱ میں پریس انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا – انٹرنیشنل کمیٹی آف دا ریڈ کراس (آئی سی آر سی) ایوارڈز میں اسپیشنل مینشن سے نوازا گیا۔ پی آئی آئی – آئی سی آر سی ایوارڈز کے اس ۱۵ویں ایڈیشن کا تھیم ’سپر ہیروز: بیٹلنگ ایٹ دا فرنٹ لائن اِن دا ٹائم آف کرائسس‘ تھا۔
۴۲۔ مارٹن ایڈلر پرائز (روری پیک ایوارڈز)، ۲۰۲۱
پاری فیلو (۲۰۱۷) پارتھ ایم این، نومبر ۲۰۲۱ میں لندن کے روری پیک ایوارڈز میں مارٹن ایڈلر پرائز کے رنر اَپ تھے۔ روری پیک ٹرسٹ ہر سال دنیا کے کسی ایک آزاد صحافی کو اعزاز سے نوازتا ہے اور پاری میں پارتھ کے جاری کام کی وجہ سے انہیں تین صحافیوں کی آخری فہرست میں شامل کیا گیا۔
۴۱۔ تھامسن فاؤنڈیشن ینگ جرنلسٹ ایوارڈ، ۲۰۲۱
پاری فیلو (۲۰۱۷) پارتھ ایم این نے (کام کے ایک مجموعہ کے لیے جو مکمل طور پر پاری پر موجود ہے) نومبر ۲۰۲۱ میں تھامسن فاؤنڈیشن ینگ جرنلسٹ ایوارڈ کے لیے ۵۵ ممالک کے ۲۵۰ سے زیادہ امیدواروں میں سے منتخب کیے گئے ۱۰ صحافیوں میں اپنا نام درج کرایا۔
۴۰۔ ٹھاکر فاؤنڈیشن فیلوشپ، ۲۰۲۱
جگیاسا مشرا کو پاری کے لیے عوامی صحت اور شہریوں کی آزادی، اور متعلقہ موضوعات پر رپورٹ کرنے کے لیے ٹھاکر فاؤنڈیشن فیلوشپ سے نوازا گیا۔ یہ اگست ۲۰۲۰ میں انہیں ملی اسی فیلوشپ کی توسیع ہے۔
۳۹۔ پی آر سی آئی کے چانکیہ ایوارڈز برائے صحافت، ۲۰۲۱
پاری کی ایگزیکٹو ایڈیٹر شرمیلا جوشی نے ستمبر ۲۰۲۱ میں پبلک رلیشنز کونسل آف انڈیا کے چانکیہ ایوارڈز برائے صحافت میں ماحولیاتی بیداری پر بہترین اسٹوری کا ایوارڈ جیتا، جو ۲ جون ۲۰۲۰ کو شائع ہوئی ان کی اسٹوری چورو: گرم لہر، سرد لہر – زیادہ تر گرم کے لیے دیا گیا تھا۔
۳۷۔ پی آر سی آئی کے چانکیہ ایوارڈز برائے صحافت، ۲۰۲۱
پاری کی رپورٹر جگیاسا مشرا نے ستمبر ۲۰۲۱ میں پبلک رلیشنز کونسل آف انڈیا کے چانکیہ ایوارڈز برائے صحافت میں پانی کے بندوبست پر بہترین اسٹوری کا ایوارڈ جیتا، جو ۶ جون، ۲۰۲۰ کو شائع ہونے والی ان کی اسٹوری کان کی ریت میں احتجاجی قدموں کے نشان کے لیے دیا گیا تھا۔
۳۶۔ فوکوؤکا گرانڈ پرائز، ۲۰۲۱
پاری کے بانی ایڈیٹر پی سائی ناتھ کو ستمبر ۲۰۲۱ میں ان کی شاندار صحافت اور پاری کے بانی کے طور پر فوکوؤکا گرانڈ پرائز (جاپان) سے سرفراز کیا گیا۔ یہ ایوارڈ ہر سال ان افراد کی عزت افزائی کے لیے دیا جاتا ہے جنہوں نے ایشیائی تحقیق، ایشیائی فن اور ایشیائی ثقافت کے شعبوں میں اپنا تعاون دیا ہے۔ مزید پڑھیں
۳۵۔ ’سماج پر کووڈ۔۱۹ کے اثرات‘ سے متعلق سیریز کے لیے پولٹزر سنٹر گرانٹ، ۲۰۲۱
پاری فیلو (۲۰۱۷) پارتھ ایم این نے ستمبر ۲۰۲۱ میں مراٹھواڑہ علاقے سے اسٹوریز کی ایک سیریز کے لیے پولٹزر سنٹر گرانٹ حاصل کیا۔ پاری کی ۲۰ حصوں پر مشتمل اس سیریز میں معاشرے کے چند سب سے پس ماندہ طبقوں پر وبائی مرض کے بعد لگائے گئے لاک ڈاؤن کے اثرات کا جائزہ لیا گیا ہے۔
۳۳۔ عظیم پریم جی یونیورسٹی ریسرچ گرانٹ، ۲۰۲۱
عظیم پریم جی یونیورسٹی نے اپریل ۲۰۲۱ میں اپرنا کارتکیئن کو ریسرچ گرانٹ دیا۔ اس سے انہیں ستمبر ۲۰۲۱ سے جاری پاری کی انتہائی کامیاب سیریز کو کرنے میں مدد ملی – جس کے تحت تمل ناڈو کے کسانوں کے سات گروپوں کا ان کی فصل اور کاشتکاری کے حوالے سے احاطہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
۳۲۔ بودھی ورکش ایوارڈ، اسپورتی دھمّ، ۲۰۲۱
پاری کے بانی ایڈیٹر پی سائی ناتھ کو ان کی شاندار صحافت اور پاری کے بانی کے طور پر بودھی ورکش ایوارڈ سے سرفراز کیا گیا۔ یہ ایوارڈ ہر سال اُن افراد کو دیا جاتا ہے، جنہوں نے اپنے بامعنی کاموں کے ذریعے سماجی طور پر خارج کر دی گئی برادریوں کو طاقتور اور با اختیار بنانے کے لیے اپنی زندگی وقف کر دی ہے۔ سائی ناتھ کو یہ ایوارڈ ۶ اپریل، ۲۰۲۱ کو دیا گیا۔
۳۱۔ وان – اِفرا جنوبی ایشیائی ڈیجیٹل میڈیا ایوارڈز، ۲۰۲۲
پاری کی ٹیم کو ۲۰۲۰ میں وان – اِفرا کے جنوبی ایشیائی ڈیجیٹل میڈیا ایوارڈز کے سلور پرائز کا فاتح قرار دیا گیا۔ اس ایوارڈ کا اعلان ۳ دسمبر، ۲۰۲۰ کو کیا گیا تھا، جس میں پاری نے ’کووڈ۔۱۹ کے لیے بہترین اسپیشل پروجیکٹ‘ کے زمرہ میں سلور (چاندی کا تمغہ) حاصل کیا۔ مارچ ۲۰۲۰ کے آخری ہفتہ سے شروعات کرتے ہوئے، پاری نے ہندوستان کے سب سے کمزور طبقوں کے معاش اور روزمرہ کی زندگی پر لاک ڈاؤن کے اثرات سے متعلق (دسمبر ۲۰۲۱ کے آخر تک) تقریباً ۲۰۰ بہترین اسٹوریز شائع کیں (جو پاری کی لائبریری میں شائع ہونے والی متعدد رپورٹوں کے علاوہ تھیں)۔ مزید پڑھیں
۳۰۔ ٹھاکر فاؤنڈیشن فیلوشپ، اگست ۲۰۲۰
کویتا مرلی دھرن کو پاری کے لیے عوامی صحت، شہریوں کی آزادی اور متعلقہ موضوعات پر معیاری مواد اور رپورٹ پیش کرنے کے لیے اگست ۲۰۲۰ میں ٹھاکر فاؤنڈیشن فیلوشپ دی گئی۔
آنند وکٹن – سال ۲۰۱۹ کے دس سرکردہ انسان
پاری کے فوٹوگرافر پلنی کمار کو ان کے متعدد کاموں اور خاص کر غیر حساس دنیا میں میلا ڈھونے والوں کے کام کو منظر عام پر لانے کے لیے، جنوری ۲۰۲۰ میں تمل زبان کی ایک مشہور اشاعت آنند وکٹن نے سال ۲۰۱۹ کے دس سرکردہ انسان میں سے ایک قرار دیا۔
۲۷۔ پریم بھاٹیا ایوارڈ برائے صحافت، ۲۰۲۰
پاری کی ٹیم نے ماحولیات اور ترقیات سے متعلق مسائل پر ’’ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات اور دیہی ہندوستان پر وبائی مرض کے اثرات سمیت بڑے پیمانے پر زمینی سطح کی رپورٹنگ کرنے کے لیے‘‘ پریم بھاٹیا ایوارڈ برائے صحافت جیتا (جو اسے پریم بھاٹیا میموریل ٹرسٹ، نئی دہلی کی طرف سے دیا گیا تھا)۔ مزید پڑھیں
۲۵۔ پی آر سی آئی کے چانکیہ ایوارڈز برائے صحافت، ۲۰۲۰
پاری کی رپورٹر جیوتی شنولی نے ۱۷ جون، ۲۰۱۹ کو شائع ہونے والی اسٹوری سمردھی شاہراہ کے بلڈوزر تلے پاردھی اسکول کے لیے پبلک رلیشنز کونسل آف انڈیاز کمیونی کیٹر آف دا ایئر: سال کے بہترین مواد کا ایوارڈ جیتا۔
۲۳۔ جیو ایم اے ایم آئی ممبئی فلم فیسٹیول، ۲۰۱۹
پاری فیلو (۲۰۱۷) یشسوِنی رگھونندن کی فلم ’دَیٹ کلاؤڈ نیوَر لیفٹ‘اکتوبر ۲۰۱۹ میں منعقد جیو ایم اے ایم آئی ممبئی فلم فیسٹیول کی انڈیا گولڈ کیٹیگری کے لیے منتخب کی گئی۔
۲۲۔ فیلاف فلم فیسٹیول، ۲۰۱۹
پاری فیلو (۲۰۱۷) یشسوِنی رگھونندن نے اپنی فلم ’دَیٹ کلاؤڈ نیوَر لیفٹ‘کے لیے ۲۰۱۹ میں فرانس میں منعقدہ فیسٹیول انٹرنیشنل ڈو لیورے ڈی آرٹ ایٹ ڈو فلم (فیلاف فلم فیسٹیول) کا گولڈ فیلاف جیتا۔
۲۰۔ بہترین تجرباتی ڈاکیومینٹری فلم ایوارڈ، ۲۰۱۹
پاری فیلو (۲۰۱۷) یشسوِنی رگھونندن نے اپنی فلم ’دَیٹ کلاؤڈ نیوَر لیفٹ‘کے لیے دسمبر ۲۰۱۹ میں شارجہ فلم پلیٹ فارم میں بہترین تجرباتی ڈاکیومینٹری فلم کا ایوارڈ جیتا۔
۱۹۔ کیسلیر ڈوک فلم فیسٹیول، ۲۰۱۹
پاری فیلو (۲۰۱۷) یشسوِنی رگھونندن کی فلم ’دَیٹ کلاؤڈ نیوَر لیفٹ‘کو نومبر ۲۰۱۹ میں جرمنی کے کیسل میں منعقدہ کیسلیر ڈوک فلم فیسٹیول میں اسپیشل مینشن کا ایوارڈ حاصل ہوا۔
۱۸۔ انٹرنیشنل فلم فیسٹیول راٹرڈم، ۲۰۱۹
جنوری ۲۰۱۹ میں پاری فیلو (۲۰۱۷) یشسوِنی رگھونندن کی فلم ’دَیٹ کلاؤڈ نیوَر لیفٹ‘ (نیدرلینڈ کے) مشہور انٹرنیشنل فلم فیسٹیول راٹرڈم میں دکھائی گئی۔
۱۲۔ ساؤتھ ایشین شارٹ فلم فیسٹیول، کولکاتا، ۲۰۱۸
پاری کی ۱۵ ویڈیوز/فلمیں ایس اے ایس ایف ایف – ۲۰۱۸ کے لیے منتخب کی گئیں: جن میں سے ۱۳ کا انتخاب مقابلہ: ڈاکیومینٹری سیکشن کے لیے اور ۲ کا انتخاب آفیشل پینورما ویونگ کیٹیگری میں کیا گیا تھا۔ (ان ویڈیوز اور فلموں کی مکمل فہرست اس صفحہ کے آخر میں ملاحظہ کریں، جہاں پر ۲۰۱۹ کے ایس اے ایس ایف ایف کے مقابلہ: ڈاکیومینٹری سیکشن کے لیے منتخب ہونے والی پاری کی پانچ فلموں/ویڈیوز کی فہرست بھی دی گئی ہے۔)
۱۱۔ پاریگی ہنومنت راؤ جرنلزم ایوارڈ، ۲۰۱۸
پاری فیلو (۲۰۱۷) راہل ایم نے پاری پر شائع ہونے والی اپنی اسٹوریز کے لیے سال ۲۰۱۸-۲۰۱۷ کا پاریگی ہنومنت راؤ جرنلزم ایوارڈ حاصل کیا (جو انہیں آندھرا پردیش کے پاریگی ہنومنت راؤ فاؤنڈیشن کی طرف سے دیا گیا تھا)۔
۷۔ سی – شیل میڈیا اور لٹریری ایوارڈز، ۲۰۱۷
’’دیہی ہندوستان کی غیر معمولی اور گہرائی کے ساتھ رپورٹنگ اور منفرد حصولیابی یعنی پاری‘‘ کے لیے سی – شیل جرنلزم پرائز ۲۰۱۷ (دبئی)۔
۲۔ پرفل بدوئی میموریل پرائز، ۲۰۱۶
پاری اور اس کے بانی ایڈیٹر پی سائی ناتھ کو ’’زرعی بد حالی پر ان کے رپورتاژ اور تبصروں اور اطلاعات و ترغیب کا ذریعہ یعنی پاری‘‘ کے لیے (پرفل بدوئی میموریل کمیٹی، نئی دہلی کی طرف سے) پہلا پرفل بدوئی میموریل پرائز۔ مزید پڑھیں