تقریباً ۸۳ سال کے گنگپّا نے ۷۰ سال تک زرعی مزدوری کرنے کے بعد، اب مہاتما گاندھی جیسا حلیہ بنانا شروع کر دیا ہے۔ اگست ۲۰۱۶ سے وہ گاندھی جیسا لباس پہن کر مغربی آندھرا پردیش کے اننت پور قصبہ میں عوامی مقامات پر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ لوگوں کی طرف سے انہیں جو بھیک ملتی ہے وہ اس آمدنی سے کہیں بہتر ہے جو انہیں زرعی مزدوری کرکے ملتی تھی۔

گنگپّا کا دعویٰ ہے کہ بچپن میں اننت پور کا دورہ کرتے وقت جب وہ گاندھی جی سے ملے تھے، تو ان سے کہا تھا، ’’سوامی، آپ کی عمر کا ہونے پر میں بھی آپ کے جیسا کپڑا پہنوں گا۔ میں اپنے والدین کے ساتھ تھا، جو اس وقت پیرورو کی ٹنکی پر بطور مزدور کام کر رہے تھے۔‘‘ گنگپّا کی پیدائش چینّم پلّی میں ہوئی تھی، جہاں سے پیرورو بہت زیادہ دور نہیں ہے۔ گاندھی جی کی اپنے مقصد کو حاصل کرنے کی صلاحیت، طاقتور سے طاقتور پر حکم چلانے کی اہلیت نے چھوٹی عمر کے گنگپّا پر کافی اثر ڈالا۔

اس بات کی تصدیق کرنا بہت مشکل ہے کہ مہاتما گاندھی سے ملاقات کرنے کا گنگپّا کا دعویٰ صحیح ہے، یا وہ کون سی تاریخ تھی جب وہ ان سے ملے تھے، تاہم گاندھی جی کی یادوں نے ان کی زندگی کو ایک نئی سمت عطا کی۔ گنگپا کو سفر کرنا پسند ہے – ان کا ماننا ہے کہ گاندھی بننے کے لیے سفر اور تحمل ضروری ہے۔

گنگپّا (جن کا اصلی نام یہی ہے) کہتے ہیں کہ اب ان کا نام گنگولپّا ہے کیوں کہ لوگ غلطی سے انہیں اسی نام سے پکارنے لگے ہیں۔ وہ گاندھی جیسا حلیہ اختیار کرنے کے لیے اپنے سینے کے آر پار مقدس دھاگہ پہنتے ہیں۔ وہ اپنی پیشانی اور اپنے پیروں پر کُم کُم لگاتے ہیں، اور گاندھی کے لباس میں کبھی کبھی ’سادھو‘ کی طرح اپنے ہاتھ سے لوگوں کو دعائیں دیتے ہیں۔

PHOTO • Rahul M.

گنگپّا کی انجان بیوی، مِڈّی انجنمّا، بائیں سے تیسری، اپنی فیملی کے ساتھ

ان کی خیالی ذات پر مبنی شناخت نے مقامی مندر کے دروازے ان کے لیے کھول دیے ہیں۔ دن میں انہیں مندر کے احاطہ میں پتھر سے بنی بینچ پر آرام کرنے کی اجازت حاصل ہے۔ وہ مندر کے نل سے غسل کرتے ہیں اور اپنے میک اپ کو دھوتے ہیں۔

اپنی بیوی، مِڈّی انجنمّا اور ان کی فیملی کے ساتھ گنگپّا کا رشتہ ایک دہائی سے تناؤ بھرا رہا ہے۔ اسی دوران ان کی بڑی بیٹی نے خودکشی کر لی تھی۔ وہ بتاتے ہیں، ’’میں جنگل میں گڑھے کھودنے کے لیے کولّا پلّی گیا ہوا تھا۔ جب میں گھر لوٹا تو میری بیٹی مر چکی تھی۔ میں ابھی بھی نہیں جانتا کہ اس کی موت کیوں ہوئی تھی۔ اور کوئی بھی مجھے یہ نہیں بتاتا ہے کہ وہ مری کیوں۔ میں اُس فیملی میں واپس کیسے جا سکتا ہوں؟‘‘ اپنی بیٹی کو یاد کرتے ہوئے ان کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگتے ہیں۔

حالانکہ انجنمّا نے دو سال سے گنگپّا سے بات نہیں کی ہے اور ان کے غیر متوقع طریقوں سے وہ نفرت کرتی ہیں، لیکن پھر بھی وہ انہیں بہت یاد کرتی ہیں اور چاہتی ہیں کہ وہ گھر واپس آ جائیں۔ ’’برہ کرم ان سے کہو کہ وہ واپس آ جائیں۔ میرے پاس نہ تو موبائل فون ہے اور نہ ہی پیسے کہ میں مہینے کے لیے کافی پاؤڈر خرید سکوں۔ بچوں [ان کی چھوٹی بیٹی کے دو بیٹے ہیں] کو دینے کے لیے میرے پاس چھُٹّے پیسے نہیں ہیں۔‘‘ انجنمّا اننت پور سے تقریباً ۱۰۰ کلومیٹر دور، گورنٹلا گاؤں میں اپنی چھوٹی بیٹی کے ساتھ رہتی ہیں، وہیں پر میری ان سے ملاقات ہوئی تھی۔

بائیں: گنگپّا پیسے کمانے کے لیے متعدد گاؤوں اور قصبوں کے میلے اور بازاروں میں جاتے ہیں۔ دائیں: اپنا میک اپ اور لباس چیک کرنے کے لیے وہ بائیک کا ایک شیشہ استعمال کرتے ہیں، جو انہیں کہیں سے مل گیا تھا

گھر چھوڑنے کے بعد، گنگپّا نے کھیتوں پر کام کرنا جاری رکھا۔ انہوں نے بہت زیادہ شراب پینا شروع کر دیا۔ سال ۲۰۱۶ میں، کھیت میں کام کرنے کے دوران وہ بیہوش ہوکر گر پڑے۔ گنگپّا یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں، ’’مالا پُنّامی [ایک سالانہ تہوار] کے بعد میں نے زرعی مزدور کے طور پر کام کرنا بند کر دیا تھا۔ کچھ دنوں تک میں نے رسیاں بنانے کا کام کیا، لیکن اس سے زیادہ پیسے نہیں ملتے تھے۔‘‘

یہی وہ وقت تھا جب انہیں گاندھی کی یاد آئی اور انہوں نے خود کو ان کے رنگ میں ڈھالنے کا فیصلہ کیا۔

گنگپّا نے گاندھی کا اپنا لباس روزمرہ کے سامانوں سے تیار کیا ہے۔ مہاتما کی طرح خود کو ’چمکتا ہوا‘ بنانے کے لیے وہ ۱۰ روپے کے پلاسٹک باکس سے پانڈ کا پاؤڈر استعمال کرتے ہیں۔ گاندھی جیسا چشمہ پہننے کے لیے انہوں نے سڑک کے کنارے کی ایک دکان سے سستا دھوپ کا چشمہ خریدا ہے۔ مقامی بازار سے ۱۰ روپے میں خریدی گئی لاٹھی وہ چلنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اپنا میک اپ اور لباس چیک کرنے کے لیے وہ موٹرسائیکل کے ایک چھوٹے سے شیشہ کا استعمال کرتے ہیں، جو انہیں کہیں سے مل گیا تھا۔

کھیتوں میں کام کرتے وقت گنگپّا اکثر چھوٹا پینٹ پہنتے تھے۔ وہ کہتے ہیں، ’’اب میں دھوتی پہنتا ہوں اور تین یا چار دن میں ایک بار اپنے سر کے بال منڈواتا ہوں۔‘‘ اگرچہ وہ سگریٹ اور شراب پیتے ہیں، لیکن گاندھی کے لباس میں ہونے پر وہ اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ وہ صاف ستھرے رہیں۔ وہ آس پاس کے گاؤوں اور قصبوں میں لگنے والے میلے اور ماہانہ بازاروں کا سفر کرتے ہیں اور ایک دن میں ۱۵۰ روپے سے لیکر ۶۰۰ روپے تک کماتے ہیں۔ وہ فخر سے کہتے ہیں، ’’میں نے ایک پرشا [گاؤں کے میلہ] میں تقریباً ۱۰۰۰ روپے کمائے تھے۔‘‘

a man and a woman
PHOTO • Rahul M.

بائیں: گنگپّا کی شکل و صورت میں تبدیلی نے ان کے لیے کئی دروازے کھول دیتے ہیں۔ دائیں: کروبا پوجمّا، جو سفر میں ہمیشہ ان کے ساتھ ہوا کرتی تھیں، اب خود سے کہیں دور چلی گئی ہیں

وہ بتاتے ہیں، ’’آج میں لگاتار چھ گھنٹے تک کھڑا رہا کیوں کہ آج کدیری پُنّامی ہے۔‘‘ یہ تہوار اننت پور ضلع کے کدیری علاقہ کے گاؤوں میں سال میں ایک بار تب منایا جاتا ہے، جب چودہویں کا چاند پورے شباب پر ہو۔

کچھ مہینے قبل، پاس کے پُٹّا پرتھی شہر جاتے ہوئے گنگپّا کی ملاقات کروبا پوجمّا سے ہوئی، جو ۷۰ سالہ ایک بیوہ ہیں۔ وہ پُٹّا پرتھی اور پینو کونڈا کے درمیان ۳۵ کلومیٹر لمبی سڑک پر بھیک مانگا کرتی تھیں۔ وہ بتاتی ہیں، ’’ایک دن شام کو جب میں گھر جا رہی تھی، تو انہیں اکیلے بیٹھے ہوئے دیکھا۔ میں نے ان سے پوچھا کہ وہ کیا کرتے ہیں۔ انہوں نے مجھ سے کہا کہ کیا میں ان کے ساتھ چل سکتی ہوں۔ میں راضی ہو گئی۔ انہوں نے کہا، ’براہ کرم ساتھ چلو۔ ہم جہاں بھی جائیں گے، میں تمہیں خیال رکھوں گا‘۔‘‘ اس طرح پوجمّا نے گنگپّا کے ساتھ سفر کرنا شروع کر دیا۔ وہ گاندھی کا لباس پہننے میں ان کی مدد کرتیں، ان کی پیٹھ پرپاؤڈر لگاتیں، اور ان کے کپڑے دھوتی تھیں۔

گنگپّا کے ساتھ پوجمّا کی پارٹنرشپ آسان نہیں تھی۔ وہ بتاتی ہیں، ’’ایک رات وہ کہیں چلے گئے، اور کافی دیر تک واپس نہیں لوٹے۔ میں اکیلی تھی۔ مجھے کافی ڈر لگ رہا تھا۔ آس پاس بہت سے لوگ تھے اور میں لوہے کے ایک شیڈ کے نیچے بیٹھی ہوئی تھی۔ مجھے کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ کیا کروں۔ مجھے رونے کا من کرنے لگا کیوں کہ اس وقت میرے پاس کوئی نہیں تھا۔ وہ کافی دیر بعد لوٹے، ان کے ہاتھ میں رات کا کھانا تھا!‘‘

PHOTO • Rahul M.

گاؤں کے ایک تہوار کے لیے تیار ہوتے ہوئے: پوجمّا گاندھی کا ’لباس‘ پہننے میں گنگپّا کی مدد کرتی ہیں، ان کی پیٹھ پر پاؤڈر لگاتی ہیں – اور وہ خود بھی اپنا کچھ میک اپ کر لیتے ہیں

گنگپّا اور پوجمّا اننت پور قصبہ کے مضافات میں رہتے ہیں، جو کہ شاہراہ سے قریب ہے۔ وہ ایک ریستوراں کے باہر سوتے ہیں، جس کا مالک گاندھی جی کا عقیدت مند ہے۔ گنگپّا عام طور سے صبح ۵ بجے سوکر اٹھتے ہیں اور رات میں ۹ بجے سو جاتے ہیں، ٹھیک ویسے ہی جیسے وہ کھیتوں میں کام کرنے کے دوران کیا کرتے تھے۔

بعض دفعہ انہیں رات کا کھانا اسی ریستوراں سے مل جاتا ہے، جس کے باہر وہ سوتے ہیں۔ کبھی کبھی وہ صبح کا ناشتہ سڑک کے کنارے کی دکان سے خریدتے ہیں، اور دوپہر کا کھانا نہیں کھاتے۔ گنگپّا اس بات کا خیال رکھتے ہیں کہ پوجمّا کو پیٹ بھر کھانا ملے۔ اور جب انہیں کبھی اچھا کھانا کھانے کی طبعیت کرتی ہے، تو وہ راگی، چاول اور چکن خرید کر لاتے ہیں اور پوجمّا سڑک پر عارضی چولہے میں مُڈھّا [راگی اور چاول، جو کہ رائل سیما خطہ کا مخصوص کھانا ہے] اور چکن کری بناتی ہیں۔

یہ ایک سادہ زندگی ہے۔ اور اس سے بہتر ہے جو پہلے ہوا کرتی تھی۔ گاندھی ہونے کا مطلب ہے کہ اب انہیں کھانے اور رہنے کی فکر نہیں کرنی پڑتی۔ تاہم، گنگپّا کو اس بات کا افسوس ہے کہ آج کل ہر کوئی گاندھی کو یاد نہیں کرتا۔ وہ ایسا کیسے نہیں کر سکتے؟ وہ بتاتے ہیں، ’’کچھ نوجوان لڑکے میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ میں گاندھی جیسے کپڑے پہننا بند کر دوں۔ انہوں نے مجھ سے کہا کہ سرکار گاندھی کو کرنسی نوٹ سے ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے، اس لیے آپ ان کے جیسا کپڑا کیوں پہننا چاہتے ہیں؟‘‘

پوسٹ اسکرپٹ: پوجمّا کچھ دن پہلے گنگپّا کو چھوڑ کر اپنے گھر چلی گئیں۔ گنگپّا بتاتے ہیں، ’’وہ اُگاڈی تہوار کے آس پاس چلی گئی تھی۔ وہ واپس نہیں آئے گی۔ وہ وہیں پر بھیک مانگے گی۔ میں نے اسے ۴۰۰ روپے دیے تھے۔ اب مجھے اکیلا ہی رہنا پڑے گا۔‘‘

مترجم: محمد قمر تبریز

Rahul M.

Rahul M. is an independent journalist based in Anantapur, Andhra Pradesh, and a 2017 PARI Fellow.

Other stories by Rahul M.
Translator : Mohd. Qamar Tabrez

Mohd. Qamar Tabrez is the Translations Editor, Hindi/Urdu, at the People’s Archive of Rural India. He is a Delhi-based journalist, the author of two books, and was associated with newspapers like ‘Roznama Mera Watan’, ‘Rashtriya Sahara’, ‘Chauthi Duniya’ and ‘Avadhnama’. He has a degree in History from Aligarh Muslim University and a PhD from Jawaharlal Nehru University, Delhi.

Other stories by Mohd. Qamar Tabrez