راجیو کمار اوجھا کو یہ نہیں معلوم کہ زیادہ تناؤ والی چیز کیا ہے: اچھی فصل کاٹنا یا اسے فروخت کرنے کی کوشش کرنا۔ ’’آپ کویہ عجیب لگ سکتا ہے، لیکن کٹائی کے سیزن کے آخر میں اچھی فصل ملتے ہی میری پریشانی شروع ہوجاتی ہے،‘‘ انہوں نے شمال وسطی بہار کے چومُکھ گاؤں میں اپنے پرانے گھر کے برآمدے میں بیٹھے ہوئے کہا۔

مظفرپور ضلع کے بوچہا بلاک میں واقع گاؤں میں اپنی پانچ ایکڑ زمین پر ۴۷ سالہ اوجھا، خریف کے موسم (جون- نومبر) میں دھان، اور ربیع (دسمبر- مارچ) کے دوران گیہوں اور مکئی کی کھیتی کرتے ہیں۔ ’’ہمیں اچھی فصل حاصل کرنے کے لیے موسم، پانی، محنت اور کئی دیگر چیزوں کو ایک ساتھ آنے کی ضرورت ہوتی ہے،‘‘ انہوں نے نومبر ۲۰۲۰ میں مجھے بتایا تھا۔ ’’لیکن اس کے بعد بھی، کوئی بازار نہیں ہے۔ مجھے گاؤں میں کمیشن ایجنٹ کو اپنا اناج فروخت کرنا پڑتا ہے، اور اس کے ذریعہ طے کی گئی قیمت پر بیچنا پڑتا ہے۔‘‘ پھر کمیشن پانے کے لیے وہ ایجنٹ اسے تھوک کاروباری کو فروخت کرتا ہے۔

اوجھا نے ۲۰۱۹ میں کچے دھان کا اپنا ذخیرہ ۱۱۰۰ روپے فی کوئنٹل کے حساب سے فروخت کیا تھا – یہ اس وقت کی ۱۸۱۵ روپے کی ایم ایس پی (کم از کم امدادی قیمت) سے ۳۹ فیصد کم تھا۔ ’’میرے پاس کوئی متبادل نہیں تھا۔ ایجنٹ ہمیشہ کم قیمت پر خریدتے ہیں کیوں کہ وہ جانتے ہیں کہ ہم [فروخت کرنے کے لیے] کہیں اور نہیں جا سکتے۔ اس لیے ہمیں مشکل سے کوئی فائدہ ہوتا ہے،‘‘ انہوں نے کہا۔

بہار کا کسان ایک ایکڑ میں دھان لگانے کے لیے ۲۰ ہزار روپے خرچ کرتا ہے، اوجھا نے بتایا۔ ’’مجھے ایک ایکڑ سے ۲۰-۲۵ کوئنٹل فصل ملتی ہے۔ ۱۱۰۰ روپے فی کوئنٹل پر، میں چھ مہینے کی سخت محنت کے بعد ۲-۷ ہزار روپے [فی ایکڑ] کا منافع کما سکتا ہوں۔ کیا آپ کو لگتا ہے کہ یہ ایک اچھا سودا ہے؟‘‘

اوجھا کی طرح، بہار کے بہت سے کسان اپنی فصلوں کی بہتر قیمت پانے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں، خاص کر ریاست کے ذریعہ ۲۰۰۶ میں بہار زرعی پیداوار منڈی قانون، ۱۹۶۰ کو منسوخ کرنے کے بعد۔ اس کے ساتھ ہی ریاست میں زرعی پیداوار مارکیٹ کمیٹی (اے پی ایم سی) منڈی نظام کو ختم کر دیا گیا تھا۔

Rajiv Kumar Ojha's five-acre farmland in Chaumukh village
PHOTO • Parth M. N.

چومکھ گاؤں میں راجیو کمار اوجھا کا پانچ ایکڑ کھیت

یہ بتاتا ہے کہ ستمبر ۲۰۲۰ میں پاس کیے گئے تین نئے زرعی قوانین سے بقیہ ہندوستان کے کسانوں کو کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ لاکھوں کسان ۲۶ نومبر، ۲۰۲۰ سے دہلی کی سرحدوں پر اور پورے ملک میں نئے قوانین کی مخالفت کر رہے ہیں۔

یہ تینوں قوانین ہیں زرعی پیداوار کی تجارت و کاروبار (فروغ اور سہل آمیزی) کا قانون، ۲۰۲۰ ؛ کاشت کاروں (کو با اختیار بنانے اور تحفظ فراہم کرنے) کے لیے قیمت کی یقین دہانی اور زرعی خدمات پر قرار کا قانون، ۲۰۲۰ ؛ اور ضروری اشیاء (ترمیمی) قانون، ۲۰۲۰ ۔ انہیں سب سے پہلے ۵ جون، ۲۰۲۰ کو آرڈیننس کی شکل میں پاس کیا گیا تھا، پھر ۱۴ ستمبر کو پارلیمنٹ میں زرعی بل کے طور پر پیش کیا گیا اور اسی ماہ کی ۲۰ تاریخ کو موجودہ حکومت کے ذریعہ جلد بازی میں قانون میں بدل دیا گیا۔

ان میں سے زرعی پیداوار کی تجارت و کاروبار قانون، ۲۰۲۰ ریاستوں کے اے پی ایم سی قوانین کو منسوخ کرتا ہے۔ یہ قانون کسانوں کو ریاستی حکومتوں کے ذریعہ ریگولیٹیڈ منڈیوں (اے پی ایم سی) کے باہر کے تجارتی علاقوں تک پہنچانے کی اجازت دیتا ہے، جس سے پرائیویٹ کمپنیوں کے لیے زرعی پیداوار کی خرید کرنے کا راستہ کھل جائے گا۔ اس کا مقصد زرعی شعبہ کو لبرل بنانا ہے، اور ان قوانین کی حمایت کرنے والوں کا دعویٰ ہے کہ کسانوں کو اب بچولیوں کے ذریعہ اپنی پیداوار فروخت نہیں کرنی پڑے گی۔

بہار نے اسی سوچ کے ساتھ اپنے اے پی ایم سی قانون کو منسوخ کیا تھا، لیکن ۱۴ سالوں میں کسانوں کی حالت بد سے بدتر ہو گئی ہے۔ قومی نمونہ سروے (۷۰واں دور) کے مطابق، بہار ہندوستان کی ایسی صرف چھ ریاستوں میں سے ایک ہے، جہاں کسان فیملی کی ماہانہ آمدنی ۵ ہزار روپے سے کم ہے۔

’’کئی ماہرین اقتصادیات نے کہا تھا کہ بہار ہندوستان میں نئے بازار کی جانب مائل انقلاب کا قائد بننے جا رہا ہے،‘‘ چنڈی گڑھ کے زرعی ماہر اقتصادیات، دیوندر شرما نے کہا۔ ’’دلیل یہ دی گئی تھی کہ نجی سرمایہ کاری کسانوں کے لیے بہتر قیمت کو یقینی بنائے گی۔ لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا ہے۔‘

بہار کی وزارت زراعت کے ایک افسر نے اس حالت کی تصدیق کی۔ ’’بدقسمتی سے، ہمارے پاس ۲۰۰۶ کے بعد سے [زرعی شعبہ میں] آنے والی نجی سرمایہ کاری کے بالکل صحیح اعدادوشمار دستیاب نہیں ہیں۔ لیکن اے پی ایم سی کو ردّ کرنے سے بہار میں نجی ماڈل کو کافی فروغ حاصل ہوا ہے،‘‘ افسر نے کہا۔ ’’مثال کے طور پر، پورنیہ کے کسان [ریاست سے] باہر کے ان تاجروں کو اپنے کیلے فروخت کر رہے ہیں، جو اُن کے گھر کا دورہ کرتے ہیں۔‘‘

نیشنل کونسل آف اپلائیڈ اکنامک ریسرچ (این سی اے ای آر) کے ذریعہ ۲۰۱۹ میں شائع ، اسٹڈی آن ایگریکلچر ڈائگنوسٹکس فار دی اسٹیٹ آف بہار اِن انڈیا کے مطابق، بہار میں دھان، گیہوں، مکئی، دال، سرسوں اور کیلا سمیت تقریباً ۹۰ فیصد فصلیں گاؤں کے اندر کمیشن ایجنٹوں اور تاجروں کو فروخت کی جاتی ہیں۔ ’’۲۰۰۶ میں اے پی ایم سی قانون کو منسوخ کرنے کے باوجود، بہار میں نئے بازاروں کی تعمیر اور موجودہ بازاروں میں سہولیات کو مضبوط بنانے کے لیے نجی سرمایہ کاری نہیں ہوئی، جس سے بازار کی کثافت میں کمی آئی ہے،‘‘ رپورٹ میں بتایا گیا ہے۔

A locked Primary Agriculture Credit Society (PACS) centre in Khapura, where farmers can sell their paddy. Procurement by the PACS centres has been low in Bihar
PHOTO • Parth M. N.
A locked Primary Agriculture Credit Society (PACS) centre in Khapura, where farmers can sell their paddy. Procurement by the PACS centres has been low in Bihar
PHOTO • Parth M. N.

کھپورہ کی پرائمری ایگریکلچر کریڈٹ کمیٹی (پیکس) مرکز پر تالا لگا ہے، جہاں کسان اپنا دھان فروخت کر سکتے ہیں۔ بہار میں پیکس مراکز کے ذریعہ خرید میں کمی آ رہی ہے

اے پی ایم سی، جو کسانوں، تاجروں اور زرعی کوآپریٹو کمیٹیوں جیسی ایجنسیوں کی منتخب اکائیاں ہیں، کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ بڑے خریدار کسانوں کا استحصال نہ کریں۔ ’’انہیں ختم کرنے کی بجائے، ان میں اصلاح، اور ان کے نیٹ ورک میں توسیع کرنی چاہیے تھی، تاکہ یہ یقیینی بنایا جا سکے کہ وہ کسانوں سے مزید خریدیں،‘‘ اے پی ایم سی کے ماہر اور آئی آئی ایم احمد آباد میں سنٹر فار مینجمنٹ اِن ایگریکلچر (سی ایم اے) کے صدر، پروفیسر سُکھپال سنگھ نے کہا۔ ’’کسی تیار شدہ متبادل کے بغیر انہیں ختم کرنے سے حالت مزید خراب ہو گئی ہے۔‘‘

بہار میں اے پی ایم سی قانون کو منسوخ کرنے کے نتائج دور رس رہے ہیں۔ این سی اے ای آر کی رپورٹ کے مطابق، ۲۰۰۶ کے بعد اہم فصلوں کی قیمتیں تو بڑھی ہیں، لیکن قیمتوں کے عدم استحکام میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ ’’ہمیں مستحکم قیمتوں کی ضرورت ہے، غیر مستحکم کی نہیں۔ ورنہ، ہمیں جلد بازی میں فروخت کرنا پڑے گا،‘‘ اوجھا نے کہا۔ دیوندر شرما کو ڈر ہے کہ نئے قوانین کے پوری طرح نافذ ہونے کے بعد پورے ہندوستان میں کسانوں کو اسی طرح کے اتار چڑھاؤ کا سامنا کرنا پڑے گا۔

کمیشن ایجنٹ کو بیچنے کے علاوہ، اوجھا ریاست کے ذریعہ چلائی جا رہی پرائمری ایگریکلچر کریڈٹ کمیٹی (پیکس) کو بھی اپنا دھان فروخت کر سکتے ہیں، جسے بہار میں اے پی ایم سی قانون کے منسوخ ہونے کے بعد قائم کیا گیا تھا، جو مرکزی حکومت کے ذریعہ طے کردہ ایم ایس پی پر خریدتی ہے۔ لیکن، این سی اے ای آر کے ۲۰۱۹ کے مطالعہ کے مطابق، بہار میں پیکس کے ذریعہ خرید بیحد کم رہی ہے – ۹۱ اعشاریہ ۷ فیصد دھان کمیشن ایجنٹوں کو فروخت کیا گیا تھا۔

’’پیکس کی خرید فروری تک چلتی ہے،‘‘ اوجھا نے کہا۔ ’’میں نومبر میں اپنے دھان کی کٹائی کرتا ہوں۔ ربیع سیزن، جو دسمبر میں شروع ہوتا ہے، کی تیاری شروع کرنے کے لیے مجھے پیسے کی ضرورت پڑتی ہے۔ اگر میں دھان کا ذخیرہ رکھتا، اور بارش ہوتی، تو پوری فصل خراب ہوجاتی۔‘‘ ذخیرہ کرنے کے لیے وافر سہولیات کی کمی اوجھا کو اس بات سے روکتی ہے کہ وہ پیکس کو فروخت کرنے کے لیے انتظار کریں۔ ’’اس میں کافی خطرہ ہے۔‘‘

پٹنہ کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ، کمار روی نے بتایا کہ پیکس مراکز میں خرید کا عمل نومبر میں شروع ہوتا ہے۔ ’’سردی کے سبب بہت سارے دھان میں نمی آ جاتی ہے۔ جو کسان اپنی فصل کو خشک رکھنے کا انتظام کر لیتے ہیں، وہ اسے پیکس کو فروخت کرتے ہیں، جس کی دیکھ بھال ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اور ریاست کے کوآپریٹو ڈپارٹمنٹ کے ذریعہ کی جاتی ہے۔

چومُکھ گاؤں میں پیکس مرکز کے صدر، اجے مشرا نے بتایا کہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ خرید کے لیے متعینہ مقدار طے کرتا ہے۔ ’’ہر پیکس کی ایک حد ہوتی ہے، جسے وہ پار نہیں کر سکتا۔ پچھلے سیزن [۲۰۱۹-۲۰] میں، ہماری حد ۱۷۰۰ کوئنٹل کی خرید کرنے کی تھی،‘‘ انہوں نے کہا۔ ’’چومکھ [گرام پنچایت] میں تقریباً ۲۰ ہزار کوئنٹل کی پیداوار ہوتی ہے۔ میں بری حالت میں ہوں۔ واپس لوٹا دینے کی وجہ سے کسان اکثر مجھے گالی دیتے ہیں۔ لیکن میں کچھ اور نہیں کر سکتا۔‘‘

Small and marginal farmers end up dealing with agents, says Ajay Mishra, chairman of the PACS centre in Chaumukh
PHOTO • Parth M. N.

چھوٹے اور غریب کسانوں کو ایجنٹوں سے سودا کرنا پڑتا ہے، چومکھ میں پیکس مرکز کے صدر اجے مشرا کہتے ہیں

این سی اے ای آر کی رپورٹ کے مطابق، ۲۰۱۵-۱۶ میں بہار میں تقریباً ۹۷ فیصد کسانوں کے پاس چھوٹے اور کم زمین کے ٹکڑے تھے۔ یہ اعدادوشمار ہندوستان کے ۸۶ اعشاریہ ۲۱ فیصد کے اوسط سے بہت زیادہ ہے۔ ’’چھوٹے اور غریب کسانوں کو ایجنٹوں سے سودا کرنا پڑتا ہے، جب کہ بڑے کسان پیکس کو اپنی فصلیں فروخت کرتے ہیں،‘‘ مشرا نے کہا۔

پیکس صرف دھان کی خرید کرتی ہے، اس لیے اوجھا اپنی گیہوں اور مکئی کی فصل ایم ایس پی سے کم قیمت پر ایجنٹوں کو فروخت کرتے ہیں۔ ’’میں چار کلو مکئی فروخت کرنے کے بعد مشکل سے ایک کلو آلو خرید سکا،‘‘ انہوں نے کہا۔ ’’اس سال [۲۰۲۰]، میں نے لاک ڈاؤن کے سبب اپنی مکئی ۱۰۰۰ روپے فی کوئنٹل میں فروخت کی۔ پچھلے سال، یہ ۲۲۰۰ روپے تھی۔ ہم ایجنٹوں کے رحم و کرم پر ہیں۔‘‘

کم قیمت دینے کے علاوہ، ایجنٹ اکثر ترازو میں بھی ہیر پھیر کرتے ہیں، ۴۰ سالہ کسان کمل شرما نے کہا، جن کے پاس پٹنہ کے پالی گنج بلاک کے کھپورہ گاؤں میں پانچ ایکڑ زمین ہے۔ ’’وہ ہر ایک کوئنٹل میں سے پانچ کلو چُرا لیتا ہے۔ اے پی ایم سی کے ترازو اور ایجنٹوں کے ترازو ہمیشہ یکساں ذخیرہ کے الگ الگ وزن دکھاتے ہیں،‘‘ انہوں نے کہا۔

’’اگر کوئی ایجنٹ کسی کسان کو دھوکہ دیتا ہے، تو انہیں صارفین کی عدالت میں جانا پڑتا ہے۔ کتنے کسان ایسا کر سکتے ہیں؟‘‘ سی ایم اے کے پروفیسر سکھپال سنگھ نے کہا۔ اے پی ایم سی میں کام کرنے والے تاجروں کو لائسنس دیا جاتا ہے اور انہیں ان کاموں کے لیے ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے، انہوں نے کہا۔ ’’تمام وابستگان کے لیے مناسب برتاؤ والے ضابطوں کے بنا زرعی بازار نہیں ہو سکتے۔ اے پی ایم سی اس ضابطہ کو لیکر آئی تھی۔‘‘

ایجنٹوں کے ذریعہ خراب سودا بہت سے لوگوں کو بہار سے نقل مکانی کرنے پر مجبور کرتا ہے، کمل شرما نے کہا۔ ’’ہماری کمائی اتنی نہیں ہوتی کہ ہم انہیں بہتر اجرت پر کام پر رکھ سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ پنجاب اور ہریانہ چلے جاتے ہیں۔‘‘

Left: Kamal Sharma in his farm in Khapura. Right: Vishwa Anand says farmers from Bihar migrate to work because they can't sell their crops at MSP
PHOTO • Parth M. N.
Left: Kamal Sharma in his farm in Khapura. Right: Vishwa Anand says farmers from Bihar migrate to work because they can't sell their crops at MSP
PHOTO • Parth M. N.

بائیں: کمل شرما کھپورہ میں اپنے کھیت پر۔ دائیں: وشو آنند کہتے ہیں کہ بہار کے کسان کام کی تلاش میں اس لیے ہجرت کرتے ہیں کیوں کہ وہ اپنی فصل ایم ایس پی پر فروخت نہیں کر سکتے

پنجاب اور ہریانہ میں اُگائے جانے والے زیادہ تر گیہوں اور دھان کی خرید اِن ریاستوں کی حکومتوں کے ذریعہ کی جاتی ہے۔ ’’وہاں کے کسانوں کو مناسب قیمت ملتی ہے اس لیے وہ مزدوروں کو بہتر اجرت دے سکتے ہیں،‘‘ چومکھ کے ایک زرعی کارکن، وشو آنند نے کہا۔ ’’ہم بہار میں کام نہیں کرنے کے لیے مزدوروں کو قصوروار نہیں ٹھہرا سکتے۔ اگر کسان اپنی فصل ایم ایس پی پر فروخت کر پاتے، تو وہ یہاں سے ہجرت نہیں کرتے۔‘‘

بہار کے کئی ضلعوں کے کسانوں نے، جن سے میں نے اکتوبر- نومبر ۲۰۲۰ میں بات کی تھی، کہا کہ حکومت کو ایم ایس پی پر فصلوں کی خرید کو لازمی بنانا چاہیے۔ اس وقت دہلی کے باہر چل رہے کسانوں کے احتجاجی مظاہروں میں بھی اسی مطالبہ کو دوہرایا جا رہا ہے۔

کسان ان قوانین کو اپنے معاش کے لیے تباہ کن سمجھ رہے ہیں کیوں کہ یہ قوانین بڑے کارپوریٹ کو کسانوں اور زراعت پر زیادہ اختیار فراہم کرتے ہیں۔ نئے قوانین کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی)، زرعی پیداوار کی مارکیٹنگ کمیٹیوں (اے پی ایم سی)، ریاست کے ذریعہ خرید وغیرہ سمیت، کاشتکاروں کی مدد کرنے والی بنیادی شکلوں کو بھی کمزور کرتے ہیں۔ ان قوانین کی اس لیے بھی تنقید کی جا رہی ہے کیوں کہ یہ ہر ہندوستانی کو متاثر کرنے والے ہیں۔ یہ ہندوستان کے آئین کی دفعہ ۳۲ کو کمزور کرتے ہوئے تمام شہریوں کے قانونی چارہ جوئی کے حق کو ناکارہ کرتے ہیں۔

’’[مرکزی] حکومت قیمت طے کرتی ہے اور پھر ان کسانوں کو بھول جاتی ہے جو ایم ایس پی پر فروخت نہیں کر سکتے۔ اگر کوئی ایم ایس پی سے کم قیمت پر خرید کرتا ہے تو حکومت اسے جرم قرار کیوں نہیں دے سکتی؟‘‘ آنند نے کہا۔ ’’جب تاجر انہیں دھوکہ دیتے ہیں تو وہ کہاں جائیں؟‘‘

کھپورہ میں، کمل شرما اور ان کی بیوی پونم اُس ۲۵۰۰ روپے کو واپس پانے کا انتظار کر رہے ہیں، جسے ایک تاجر نے ۱۲ سال پہلے ان سے قرض لیا تھا۔ ’’یہ ہماری دھان کی فصل کو لے جانے کے لیے گاڑی کے لیے پیشگی ادائیگی تھی،‘‘ کمل نے کہا۔

’’یہ ہمارے لیے آج بھی ایک بڑی رقم ہے، لیکن اُس وقت اور بھی بڑی رقم تھی۔ آج کھاد کے ایک پیکٹ کی جتنی قیمت ہے، اُس وقت اس کا پانچواں حصہ ہوا کرتی تھی،‘‘ پونم نے کہا۔ ’’لیکن بہار میں ایسے واقعات ہوتے رہتے ہیں۔ اب تو ہمیں حیرانی بھی نہیں ہوتی۔‘‘

مترجم: محمد قمر تبریز

Parth M. N.

Parth M.N. is a 2017 PARI Fellow and an independent journalist reporting for various news websites. He loves cricket and travelling.

Other stories by Parth M. N.
Translator : Mohd. Qamar Tabrez

Mohd. Qamar Tabrez is the Translations Editor, Hindi/Urdu, at the People’s Archive of Rural India. He is a Delhi-based journalist, the author of two books, and was associated with newspapers like ‘Roznama Mera Watan’, ‘Rashtriya Sahara’, ‘Chauthi Duniya’ and ‘Avadhnama’. He has a degree in History from Aligarh Muslim University and a PhD from Jawaharlal Nehru University, Delhi.

Other stories by Mohd. Qamar Tabrez