بھانو بین بھرواڑ کو بناس کانٹھا ضلع میں واقع اپنے ۵ء۲ ایکڑ کھیت پر گئے ایک سال کا عرصہ گزر چکا ہے۔ ایک وقت تھا جب وہ اور ان کے شوہر روزانہ وہاں جاتے تھے۔ اس زمین پر وہ اپنے سال بھر کھانے کے لیے باجرہ، مونگ اور جوار اگاتے تھے۔ ۲۰۱۷ میں گجرات میں آنے والے تباہ کن سیلاب سے قبل یہ زمین ان کی روزی روٹی کا بنیادی ذریعہ تھی۔ سیلاب نے ان کی زمین کا ایک حصہ تباہ کر دیا۔ ’’اس کے بعد ہماری غذا بدل گئی،‘‘ ۳۵ سالہ بھانو بین کہتی ہیں۔ ’’ہم نے وہ فصلیں خریدنا شروع کیں جنہیں ہم اپنے کھیتوں میں اگاتے تھے۔‘‘

آدھے ایکڑ کے کھیت سے انہیں تقریباً چار کوئنٹل (۴۰۰ کلو) باجرے کی پیداوار حاصل ہوتی تھی۔ فی الحال اگر وہ اسے خریدتی ہیں تو منڈی میں اسی مقدار کی قیمت تقریباً ۱۰ ہزار روپے ہوگی۔ وہ کہتی ہیں، ’’اگر مہنگائی کو بھی مدنظر رکھا جائے تو بھی آدھے ایکڑ کھیت میں باجرے کی کاشت پر ہمارے اخراجات بازار کی قیمت کا نصف ہوں گے۔ دوسری فصلوں کے اعداد و شمار بھی اسی طرح کے ہیں۔ ہر وہ فصل جو [ہم اگاتے تھے] اس کی قیمت دو گنی ہو گئی ہے۔‘‘

بھانو بین، ان کے ۳۸ سالہ شوہر بھوجا بھائی اور ان کے تین بچے بناس کانٹھا کے کانکریج تعلقہ کے توتانا گاؤں میں رہتے ہیں۔ جب وہ اپنی زمین کاشت کرتے تھے تو بھوجا بھائی اپنی آمدنی میں اضافے کے لیے زرعی مزدور کے طور پر بھی کام کرتے تھے۔ لیکن انہیں ۲۰۱۷ کے بعد قریبی کھیتوں میں اور ۳۰ کلومیٹر دور پاٹن میں تعمیراتی مقامات پرکل وقتی مزدور کے طور پر کام کرنا پڑا ہے۔ بھانو بین کہتی ہیں، ’’وہ اب بھی کام کی تلاش میں باہر گئے ہیں۔ جب انہیں کام ملتا ہے تو وہ روزانہ تقریباً ۲۰۰ روپے کما لیتے ہیں۔‘‘

بھانو بین اور بھوجا بھائی کی سب سے چھوٹی اولاد سہانا اسی سال پیدا ہوئی تھی جس سال تباہ کن سیلاب آیا تھا۔ اپنی پیشانی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بھانو بین کہتی ہیں کہ انہیں یقین نہیں ہو رہا ہے کہ اس کے بعد پانچ سال گزر چکے ہیں۔

گجرات کے کئی اضلاع بشمول بناس کانٹھا، پاٹن، سریندرنگر، اراولی اور موربی میں جولائی ۲۰۱۷ میں شدید بارش درج کی گئی تھی۔ یہ طوفان بحیرہ عرب اور خلیج بنگال دونوں مقامات پر ایک ہی وقت میں پیدا ہونے والے کم دباؤ کے نظام کی وجہ سے آیا تھا۔ یہ ایک نادر واقعہ تھا۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی رپورٹ کے مطابق اس علاقے میں ۱۱۲ سال میں سب سے زیادہ بارش ہوئی تھی۔

PHOTO • Parth M.N.
PHOTO • Parth M.N.

بائیں: بھانو بین بھرواڑ اپنی بیٹی، چار سالہ سہانا کے ساتھ بناس کانٹھا ضلع کے توتانا گاؤں میں اپنے گھر کے باہر۔ دائیں: آلو کاٹتے ہوئے بھانو بین بتاتی ہیں کہ کس طرح ۲۰۱۷ کے سیلاب میں ان کے کھیت مکمل طور پر زیر آب آگئے تھے

بناس کانٹھا میں ہونے والی سالانہ اوسط بارش کا تقریباً ۱۶۳ فیصد اس سال ۲۴ سے ۲۷ جولائی کے درمیان ہوئی تھی، جو کہ پورے جولائی میں عام طور ۳۰ فیصد رہتی ہے۔ اس کی وجہ سے پانی جمع ہو گیا، ڈیموں کے کنارے ٹوٹنے لگے اور تند سیلاب آگیا۔ حالات اس وقت خراب ہو گئے جب کانکریج تعلقہ میں توتانا سے متصل کھریا گاؤں کے قریب نرمدا نہر میں شگاف پڑ گیا۔

ریاست میں سیلاب کی وجہ سے کم از کم ۲۱۳ افراد ہلاک ہو ئے اور تقریباً ۱۱ لاکھ ہیکٹیئر زرعی اراضی اور ۱۷۰۰۰ ہیکٹیئر باغبانی کا رقبہ متاثر ہوا تھا۔

بھانو بین اپنے گھر کے باہر آلو کاٹتے ہوئے یاد کرتی ہیں، ’’ہمارا پورا کھیت زیر آب آگیا تھا۔ سیلاب کا پانی اپنے ساتھ بہت ساری ریت لے آیا۔ اگرچہ چڑھا ہوا سیلاب کا پانی کچھ دنوں بعد اتر گیا، لیکن ریت مٹی کے ساتھ مل گئی۔‘‘

مٹی سے ریت کو الگ کرنا ناممکن ہو گیا ہے۔ وہ مزید کہتی ہیں، ’’سیلاب نے ہماری زمین کو بنجر بنا دیا۔‘‘

اب مزدوری ہی دسترخوان کو آباد رکھنے کا واحد ذریعہ ہے، بھانو بین کا کنبہ اب کاربوہائیڈریٹس، پروٹین اور سبزیوں پر مشتمل متوازن غذا کا متحمل نہیں ہوسکتا ہے۔ ننھی سہانا کو اس کی پیدائش کے بعد متوازی غذا بمشکل ہی ملی ہے۔ وہ وضاحت کرتی ہیں، ’’پہلے ہم صرف سبزیاں یا پھل اور دودھ خریدتے تھے، کیونکہ ہمارے پاس اناج تھا۔ اب ہمیں ان تمام چیزوں میں کمی لانی ہوگی۔‘‘

وہ کہتی ہیں، ’’مجھے یاد نہیں ہے کہ ہم نے آخری مرتبہ کب سیب خریدا تھا۔ اگر ہم آج خریدنے کے متحمل ہیں، تو ہمیں معلوم نہیں کہ کل ہمیں کام ملے گا یا نہیں۔ لہذا ہم اضافی رقم بچاتے ہیں۔ ہمارا کھانا زیادہ تر دال، چاول اور روٹی پر مشتمل ہوتا ہے۔ پہلے اگر ہم کھچڑی بناتے تھے، تو ہر ایک کلو چاول میں ۵۰۰ گرام دال ملاتے تھے۔ اب یہ مقدار صرف ۲۰۰ گرام کے آس پاس ہے۔ ہمیں کسی طرح اپنا پیٹ بھرنا ہے۔‘‘

تاہم، غذائی عدم توازن نے سوء تغذیہ جیسے ناپسندیدہ اثرات مرتب کیے ہیں، جن سے مزید مسائل پیدا ہوتے ہیں۔

سہانا اکثر تھک جاتی ہے اور اس کی قوت مدافعت کمزور ہے، اس کی ماں کہتی ہیں۔ ’’وہ اپنے آس پاس کے دوسرے بچوں کی طرح کھیل نہیں سکتی اور ان سے جلد تھک جاتی ہے۔ وہ اکثر بیمار بھی رہتی ہے۔‘‘

PHOTO • Parth M.N.

سہانا (بائیں) اپنے دوست مہدی خان (درمیان میں) کے ساتھ بات چیت کر رہی ہے۔ وہ پانچ سال سے کم عمر کے ۳۷ بچوں میں شامل تھی جو ۲۰۲۱ میں اپنے گاؤں میں ایک سروے کے دوران سوء تغذیہ کا شکار پائے گئے تھے

جون ۲۰۲۱ میں توتانا میں بچوں کے صحت کے سروے سے معلوم ہوا تھا کہ سہانا سوء تغذیہ (غذائیت کی کمی) کا شکار ہے۔ گاؤں کے پانچ سال سے کم عمر کے ۳۲۰ بچوں پر کیے گئے سروے میں ۳۸ میں غذائیت کی کمی پائی گئی تھی۔ سہانا ان میں سے ایک تھی۔ موہن پرمار کہتے ہیں، اس سروے میں ’’بچوں کے قد، وزن اور عمر کا ڈیٹا اکٹھا کرکے ان کا تجزیہ کیا گیا تھا۔‘‘ پرمار گجرات میں انسانی حقوق کی ایک تنظیم، نوسرجن ٹرسٹ کے کارکن ہیں۔ اس تنظیم نے پورے بناس کانٹھا ضلع میں یہ مطالعہ کیا تھا۔

پوشن ابھیان کے ذریعہ تیار کردہ گجرات کی غذائیت پروفائل کے ڈیٹا نوٹ کے مطابق، ۲۰۱۹۔۲۰ میں تقریباً ہر صحت عامہ کے اشارے پر احمد آباد، وڈودرا، سورت اور دیگر اضلاع کے ساتھ  بناس کانٹھا  سب سے زیادہ متاثرہ سرفہرست پانچ اضلاع میں شامل تھا۔

نیشنل فیملی ہیلتھ سروے ۲۰۱۹۔۲۱ ( این ایف ایچ ایس۔۵ ) پر مبنی ڈیٹا نوٹ کے مطابق گجرات میں کم وزن والے پانچ سال سے کم عمر کے ۲۳ لاکھ (۳ء۲ ملین) بچوں میں ۱۷ لاکھ کا تعلق بناس کانٹھا سے تھا۔ اس ضلع میں ۱۵ لاکھ بچے اپنی عمر کے لحاظ سے چھوٹے قد کے ہیں، اور تقریباً ۱ لاکھ بچے عمر اور قد کے لحاظ سے کم وزن کے ہیں، جو ریاست کے کل کا  بالترتیب ۵ء۶ فیصد اور ۶ء۶ فیصد ہیں۔

ناقص غذائیت کا ایک نتیجہ خون کی کمی کے روپ میں اجاگر ہوتا ہے۔ ۸۰ فیصد معاملوں کے ساتھ گجرات اس معاملے میں ہندوستان کی تمام ریاستوں میں سرفہرست ہے۔ بناس کانٹھا میں پانچ سال سے کم عمر کے تقریباً ۸ء۲ لاکھ بچے خون کی کمی (انیمیا) کا شکار ہیں۔

مناسب غذا تک رسائی کے بغیر سہانا جیسے بچوں اور ان کے کنبوں کی صحت خطرے میں ہے۔ موسمیاتی تبدیلی سے پیدا شدہ انتہائی واقعات سنگین صورتحال کو سنگین تر بنا رہے ہیں۔

گجرات ریاستی ایکشن پلان برائے موسمیاتی تبدیلی ‘ نے درجہ حرارت اور بارش، اور سمندر کی سطح میں اضافے کی شناخت ’’موسمیاتی تبدیلی کے بنیادی خطرات‘‘ کے طور پر کی ہے۔ ہندوستان میں خشک سالی اور سیلاب کا مطالعہ کرنے والے اینٹی سپیٹ تحقیقی پروجیکٹ کا کہنا ہے کہ پچھلی دہائی میں بارش کی بے ترتیبی میں اضافے اور تند سیلاب نے مقامی لوگوں کے لیے نئے چیلنجز پیدا کیے ہیں۔ پروجیکٹ کے محققین کا کہنا ہے کہ بناس کانٹھا میں کسان اور دیگر افراد ’’اب خشک سالی اور سیلاب کے متضاد اثرات سے نمٹنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں کیونکہ یہ اکثر وقوع پذیر ہونے لگے ہیں۔‘‘

PHOTO • Parth M.N.
PHOTO • Parth M.N.

بائیں:الابھائی پرمار اپنے تین سالہ پوتے یوراج کے ساتھ سدروسن گاؤں میں اپنے گھر پر۔ دائیں: توتانا کا ایک کھیت جہاں ریت مٹی کے ساتھ جم گئی ہے

الا بھائی پرمار (۶۰ سالہ) کی اس سال مانسون کے دوران چار فصلیں تباہ ہوئیں۔ ’’میں نے فصلیں بوئی تھیں، لیکن شدید بارش انہیں اپنے ساتھ بہا لے گئی،‘‘ وہ بناس کانٹھا ضلع کے سدروسن گاؤں میں اپنے گھر میں بیٹھے ہوئے کہتے ہیں۔ ’’ہم نے گندم، باجرہ اور جوار کی فصل لگائی تھی، جس پر ۵۰ ہزار روپے کی لاگت آئی تھی۔ اس میں سے زیادہ تر کا نقصان ہو چکا ہے۔‘‘

الا بھائی کہتے ہیں، ’’آپ آج کے دور میں موسم کی پیشن گوئی نہیں کر سکتے۔‘‘ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ کسانوں کو پیداوار میں کمی کا سامنا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس کی وجہ سے انہیں زرعی مزدور کے طور پر کام کرنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔ ’’اگرچہ ہمارے پاس ۱۰  ایکڑ زرعی زمین ہے، لیکن میرا بیٹا کسی اور کے کھیت یا تعمیراتی مقام پر مزدوری کرنے پر مجبور ہے۔‘‘

الا بھائی کا کہنا ہے کہ ۱۵ سے ۲۰ سال پہلے کاشتکاری میں اتنی پریشانی نہیں تھی۔ ’’ہمیں مسائل کا سامنا تھا۔ لیکن ضرورت سے زیادہ بارش اتنی عام نہیں تھی۔ ہلکی بارش اب بالکل نہیں ہوتی ہے۔ ان حالات میں آپ مناسب فصل کیسے اگا سکتے ہیں؟‘‘

گجرات میں اناج (اناج اور دالوں) کی کل فصل کا رقبہ ۲۰۱۰-۱۱ سے ۲۰۲۰-۲۱ کی دہائی میں ۹ء۴ ملین سے کم ہو کر ۶ء۴ ملین (۴۹ لاکھ سے ۴۶ لاکھ) ہیکٹیئر رہ گیا۔ اور اگرچہ چاول کے زیر کاشت رقبہ میں تقریباً ۱۰۰۰۰۰ ہیکٹیئر کا اضافہ ہوا، لیکن اس عرصے میں گندم، باجرہ اور جوار جیسے اناج کی کھیتی میں کمی واقع ہوئی ہے۔ بناس کانٹھا میں باجرے کی سب سے زیادہ کھیتی ہوتی تھی، لیکن اس فصل کے رقبہ میں تقریباً ۳۰۰۰۰ ہیکٹیئر کی کمی آئی ہے۔

اس دہائی کے دوران گجرات میں مجموعی طور پر اناج کی پیداوار، خاص طور پر باجرہ اور گندم  کی پیداوار میں ۱۱ فیصد کی کمی آئی ہے، جب کہ دالوں کی پیداوار میں ۱۷۳ فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ الابھائی اور بھانو بین کے گھروں میں زیادہ تر دال اور چاول کیوں کھائے جاتے ہیں۔

احمد آباد میں خوراک کے حق پر کام کرنے والی آر ٹی آئی کارکن پَنکتی جوگ کہتی ہیں کہ کسان نقد فصلوں (تمباکو اور گنے) کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔ وہ کہتی ہیں، ’’اس سے کھانے کی مقدار اور کنبوں کی غذائی تحفظ متاثر ہو رہی ہے۔‘‘

PHOTO • Parth M.N.
PHOTO • Parth M.N.

بائیں: الا بھائی یوراج کو لے کر فکر مند ہیں۔ اس کا وزن کم ہے اور قوت مدافعت کمزور ہے۔ دائیں: یوراج اپنے والد کے ساتھ اپنے گھر پر

بڑھتی ہوئی مہنگائی نے اناج اور سبزیوں کو الا بھائی کی دسترس سے دور کر رکھا ہے۔ وہ کہتے ہیں، ’’جب کاشتکاری باقاعدگی سے ہوتی ہے، تو مویشیوں کو بھی چارہ ملتا ہے۔ اگر فصل ناکام ہو جاتی ہے تو ہم چارے سے محروم ہو جاتے ہیں، اور ہمیں اسے بازار سے کھانے کی چیزوں کے ساتھ خریدنا پڑتا ہے۔ لہذا ہم وہ چیز خریدتے ہیں جو سستی ہو۔‘‘

الا بھائی کے تین سالہ پوتے یوراج کا وزن کم ہے۔ وہ کہتے ہیں، ’’میں اس کے بارے میں فکر مند ہوں کیونکہ اس کی قوت مدافعت کمزور ہے۔ قریب ترین سرکاری ہسپتال یہاں سے ۵۰ کلومیٹر سے بھی زیادہ دور ہے۔ اگر اسے فوری علاج کی ضرورت پیش آئے تو ہم کیا کریں گے؟‘‘

جوگ کہتی ہیں، ’’غذائیت کی کمی کے شکار بچوں کو بیماریوں کا زیادہ خطرہ رہتا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ریاست میں صحت عامہ کی خراب سہولت کی وجہ سے لوگ پرائیویٹ اسپتالوں میں جاتے ہیں۔ ’’صحت کے اخراجات کا فیملیز پر اضافی بوجھ ہے۔ قبائلی علاقوں میں [جیسے بناس کانٹھا] یہ رہن رکھنے [یعنی قرض لینے] کی ایک بڑی وجہ ہے۔‘‘

جوگ نے مزید کہا کہ ریاست میں نافذ کی جانے والی خوراک کی اسکیموں میں کھانے کی مقامی عادات پر غور نہیں کیا جاتا ہے۔ وہ کہتی ہیں، ’’آپ سب کو ایک ہی کھانا نہیں کھلا سکتے۔ لوگوں کی غذائی ترجیحات علاقوں، خطوں اور برادریوں کے لحاظ سے مختلف ہوتی ہیں۔ گجرات میں گوشت خوری کی حوصلہ شکنی کی مہم بھی چلائی جا رہی ہے۔ یہ مہم ان علاقوں میں بھی چلائی جا رہی ہے جہاں لوگ باقاعدگی سے گوشت اور انڈے کھاتے تھے۔ اب وہ سمجھتے ہیں کہ یہ گناہ ہے۔‘‘

سال ۲۰۱۶-۱۸ کے جامع نیشنل نیوٹریشن سروے کے مطابق، ۸ء۴۳ فیصد کے قومی اوسط کے برعکس گجرات میں ۱ء۶۹ فیصد مائیں/ نگہداشت کرنے والی عورتیں سبزی خور تھیں۔ دو سے چار سال کی عمر کے بچوں میں، صرف ۵ء۷ فیصد کو انڈے دستیاب تھے، جو پروٹین کا ایک اہم ذریعہ ہیں۔ اگرچہ ریاست میں پانچ سے نو سال کے درمیان ۱۷ فیصد بچے انڈے کھاتے ہیں، لیکن یہ تعداد اب بھی کم ہے۔

بھانو بین کو معلوم ہے کہ سہانا کو اپنی عمر کے ابتدائی دو سالوں میں اچھی خوراک نہیں ملی۔ وہ کہتی ہیں، ’’لوگ ہم سے کہتے ہیں کہ اسے صحت بخش کھانا دیا جائے۔ لیکن اگر یہ ہمارے لیے بہت مہنگا ہے تو ہم کیا کریں؟ ایک وقت تھا کہ ہم صحت بخش کھانا کھا سکتے تھے۔ سہانا کے دو بڑے بھائی ہیں۔ لیکن وہ ہمارے کھیت کے بنجر ہونے سے پہلے پیدا ہوئے تھے۔ وہ غذائیت کی کمی کا شکار نہیں ہیں۔‘‘

پارتھ ایم این ایک آزاد صحافی ہیں جو ٹھاکر فیملی فاؤنڈیشن کے گرانٹ کے ذریعہ صحت عامہ اور شہری آزادی کے موضوعات پر رپورٹنگ کرتے ہیں۔ ٹھاکر فیملی فاؤنڈیشن نے اس رپورٹ کے مواد پر کسی طرح کا ادارتی کنٹرول استعمال نہیں کیا ہے۔

مترجم: شفیق عالم

Parth M.N.

Parth M.N. is a 2017 PARI Fellow and an independent journalist reporting for various news websites. He loves cricket and travelling.

Other stories by Parth M.N.
Editor : Vinutha Mallya

Vinutha Mallya is Consulting Editor at People’s Archive of Rural India. She was formerly Editorial Chief and Senior Editor at PARI.

Other stories by Vinutha Mallya
Translator : Shafique Alam

Shafique Alam is a Patna based freelance journalist, translator and editor of books and journals. Before becoming a full-time freelancer, he has worked as a copy-editor of books and journals for top-notched international publishers, and also worked as a journalist for various Delhi-based news magazines and media platforms. He translates stuff interchangeably in English, Hindi and Urdu.

Other stories by Shafique Alam