ٹرین جیسے ہی دادر کے پاس پہنچتی ہے، تلسی بھگت پرانی ساڑیوں میں لپٹے پتّوں کے دو بڑے گٹھروں کے ساتھ تیار ہو جاتی ہیں – ٹرین پوری طرح رکنے بھی نہیں پاتی کہ وہ تقریباً ۳۵-۳۵ کلو کے گٹھروں کو باری باری سے پلیٹ فارم پر پھینکتی ہیں۔ ’’اگر ہم ٹرین کے رکنے سے پہلے بوجھا (وزن) نہیں پھیکیں گے، تو ہمارے لیے اتنے وزن کے ساتھ نیچے اترنا ناممکن ہو جائے گا، کیوں کہ بہت سے لوگ ٹرین میں چڑھنے کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں،‘‘ وہ کہتی ہیں۔

ٹرین سے اتر کر تلسی واپس اسی جگہ جاتی ہیں، جہاں انہوں نے گٹھروں کو پلیٹ فارم پر پھینکا ہوتا ہے۔ ایک گٹھر کو اپنے سر پر اٹھائے وہ بھاری مجمع کے درمیان سے گزرتے ہوئے اسٹیشن کے ٹھیک کباہر، سڑک پر لگے پھول بازار کی طرف چل دیتی ہیں۔ وہاں پہنچ کر وہ اپنی روز کی متعینہ جگہ پر گٹھر کو رکھ دیتی ہیں۔ پھر واپس پلیٹ فارم پر جاتی ہیں اور اپنے دوسرے گٹھر کو بھی پہلے کی ہی طرح سر پر رکھ کر لے آتی ہیں۔ ’’میں ایک بار میں اپنے سر پر صرف ایک ہی بوجھ اٹھاکر لے جا سکتی ہوں،‘‘ وہ کہتی ہیں۔ دونوں گٹھروں کو اسٹیشن سے پھولوں کے بازار تک لے جانے میں انہیں تقریباً ۳۰ منٹ لگتے ہیں۔

لیکن یہ تلسی کے کام کے دن کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ ہے، جو لگاتار ۳۲ گھنٹوں تک چلتا ہے۔ ان پورے گھنٹوں کے دوران وہ تقریباً ۲۰۰ کلومیٹر کا سفر کرتی ہیں، جس میں کم از کم ۷۰ کلو کا وزن ان کے ساتھ ہوتا ہے۔ اور ۳۲ گھنٹے لمبے اس کام کے ختم ہونے پر انہیں ۴۰۰ روپے ملتے ہیں۔

Tulshi collecting palash leaves
PHOTO • Paresh Bhujbal
Tulshi making bundles out of the palash leaves
PHOTO • Paresh Bhujbal

آٹھ گھنٹے تک تلسی، مربیچا پاڑہ میں اپنے گھر کے قریب کے جنگل سے پلاش کے پتّے جمع کرتی ہیں، پھر انہیں لے کر گھر واپس آتی ہیں اور ان کا اچھا سا گٹھر بناتی ہیں

تلسی کے کام کے اس لمبے دن کی شروعات صبح ۷ بجے ہوتی ہے، جب وہ پلاش کے پتّوں کو جمع کرنے کے لیے ممبئی شہر کے شمال میں، تھانے ضلع کے مُربیچا پاڑہ میں اپنے گھر کے پاس کے جنگلوں میں جاتی ہیں۔ وہ دوپہر کے بعد تقریباً ۳ بجے گھر لوٹتی ہیں، اپنے بچوں کے لیے کھانا بناتی ہیں (’’وقت ملا تو میں بھی کھا لیتی ہوں، میں بس نہیں چھوڑ سکتی‘‘)، قرینے سے پتّوں کا گٹھر بناتی ہیں، پھر اپنی بستی سے تقریباً ۱۹ کلومیٹر دور واقع آسن گاؤں اسٹیشن کے لیے بس پکڑتی ہیں (یا بس چھوٹ جانے پر وہ مشترکہ ٹیمپو لیتی ہیں)، اس کے بعد رات کے تقریباً ساڑھے آٹھ بجے سینٹرل لائن کی ٹرین پکڑتی ہیں۔

دو گھنٹے کے بعد، وہ جنوب-وسطی ممبئی کے دادر اسٹیشن پہنچ جاتی ہیں، جو کہ آسن گاؤں سے تقریباً ۷۵ کلومیٹر دور ہے۔ جب وہ سڑک پر اپنی متعینہ جگہ پر بیٹھتی ہیں، اس وقت رات کے ۱۱ بج رہے ہوتے ہیں۔ وہاں ان کے ارد گرد دیگر عورتیں بھی بیٹھی ہوتی ہیں، جن میں سے زیادہ تر تھانے اور پالگھر ضلعوں کی دور دراز کی بستیوں سے آتی ہیں۔

وہاں پر تلسی پتّوں کے کچھ اور گٹھر بناتی ہیں، کچھ دیر آرام اور انتظار کرتی ہیں۔ صبح ۴ بجے سے گاہک آنا شروع ہو جاتے ہیں – یہ عام طور پر ٹھیلہ خونچہ لگانے والے ہوتے ہیں جو پھول، کلفی یا بھیل پوری بیچتے ہیں – اور جو ان پتّوں کا استعمال سامان کو لپیٹنے میں یا پیالے کی شکل میں کرتے ہیں۔ ۸۰ پتّوں کا ہر ایک گٹھر ۵ روپے میں فروخت ہوتا ہے، کبھی کبھی اس سے بھی کم میں۔ تلسی ۸۰ گٹھر فروخت کرتی ہیں – یعنی کل ۶۴۰۰ پتّے۔ دن میں ۱۱ بجے جب سارے خریدار جا چکے ہوتے ہیں، تو تلسی واپس مُربیچا پاڑہ جانے کے لیے ٹرین پکڑتی ہیں۔ وہ دوپہر بعد، ۳ بجے اپنے گھر پہنچ جاتی ہیں۔

۳۲ گھنٹے لمبے اس کام کو مہینہ میں ۱۵ بار کرنے کے بعد تلسی تقریباً ۶۰۰۰ روپے کماتی ہیں، جس میں سے ۶۰ روپے ہر بار بس، ٹیمپو اور ٹرین سے سفر کرنے پر خرچ ہو جاتے ہیں۔

Tulshi adjusting the load of palash leaves
PHOTO • Jyoti Shinoli
Tulshi making bundles beside the road
PHOTO • Jyoti Shinoli

۳۵ کلو کے دو گٹھروں کے ساتھ ٹرین میں چڑھنا اور پھر اترنا روز کا کام ہے؛ دادر کے پھول بازار (دائیں) میں، تلسی رات میں کچھ اور گٹھر بناتی ہیں

کبھی کبھی بارش ہو جانے پر، تلسی پتّوں کو اپنے گھر سے ۴۴ کلومیٹر دور دھسئی گاؤں کے بازار لے جاتی ہیں، لیکن وہاں کم ہی خریدار ملتے ہیں۔ تقریباً ۳۲ گھنٹوں کے لمبے کام کے بعد وہ ایک ’بریک‘ لیتی ہیں اور گھر کا کام کرتی ہیں، اور مرچ، بینگن اور دوسری سبزیاں توڑنے کے لیے اپنے پاڑہ کے قریب کے کھیتوں میں کام کرنے جاتی ہیں۔

بارش کے مہینوں میں وہ زیادہ تر کھیتوں پر ہی کام کرتی ہیں – ایک سال میں اوسطاً مہینے کے ۱۰ دن، ۳۰۰ روپے کی یومیہ اجرت پر۔ ’’ہم بارش کے موسم میں [دادر بازار میں] بیٹھ نہیں سکتے۔ چاروں طرف پانی بھر جاتا ہے،‘‘ وہ کہتی ہیں۔ ’’اس لیے جون سے ستمبر تک، میں وہاں بہت کم جاتی ہوں۔‘‘

مُربیچا پاڑہ – جو کہ ۲۰۰ کُنبوں کی ایک بستی ہے – اور آس پاس کے گاؤوں کی تقریباً ۳۰ دیگر عورتیں پلاش کے پتّوں کو جمع کرتی اور فروخت کرتی ہیں۔ وہ شہاپور یا دادر کے بازاروں میں نیم کے پتّے، جامن اور املی سمیت کئی دیگر قسم کی جنگلی پیداوار بھی فروخت کرتی ہیں۔ ان گاؤوں کے کئی لوگ زرعی مزدور، راج مستری ہیں یا مچھلی پکڑنے کا بھی کام کرتے ہیں۔

تلسی نے، جو اب ۳۶ سال کی ہو چکی ہیں، ۱۵ سال کی عمر سے ہی پلاش کے پتّوں کو جمع کرنا شروع کر دیا تھا۔ انہوں نے اپنی ماں، اور پھر اپنی بڑی بہن کو بھی یہی کام کرتے دیکھا تھا، اور گٹھر بنانے میں ان کی مدد کرتی تھیں۔ ’’میں کبھی اسکول نہیں گئی، یہی میری تعلیم ہے، یہی میں نے سیکھا ہے، اپنی ماں کو پوری زندگی یہی کام کرتے دیکھا ہے،‘‘ وہ کہتی ہیں۔

Tulshi holding a photo frame with her deceased husband’s photograph
PHOTO • Paresh Bhujbal

تلسی کے شوہر سنتوش کی موت تبھی ہوگئی تھی جب وہ تقریباً ۲۸ سال کی تھیں؛ تب سے انہیں اپنے چاروں بچوں کی پرورش تنہا کرنی پڑی ہے

تقریباً ۲۰ سال پہلے تلسی نے دادر کا اپنا پہلا، لمبا سفر کیا تھا۔ ’’مجھے یاد نہیں ہے کہ اُس وقت میں کتنے سال کی تھی، میں اپنی ماں کے ساتھ گئی تھی۔ میں پتّوں کے بھاری گٹھر نہیں اٹھا سکتی تھی، اس لیے میں نے وہ تھیلا اٹھایا جس میں کھانا اور ہنسیا رکھا ہوا تھا،‘‘ وہ یاد کرتے ہوئے بتاتی ہیں۔ ’’اس سے پہلے میں نے صرف بس سے سفر کیا تھا۔ ٹرین میں بیٹھی عورتیں ہم سے الگ تھیں۔ میں حیران تھی کہ یہ کس قسم کی دنیا ہے... دادر اسٹیشن پر، ہر جگہ لوگوں کی بھیڑ تھی۔ میں ڈر گئی، مجھے گھٹن محسوس ہونے لگی تھی۔ میں اپنی ماں کی ساڑی کے پلّو کو پکڑے ہوئے چل رہی تھی، کیوں کہ میں اتنی بھیڑ میں اکیلے نہیں چل سکتی تھی۔ حالانکہ دھیرے دھیرے، مجھے اس کی عادت پڑ گئی۔‘‘

تلسی ۱۷ سال کی عمر میں شادی ہو جانے کے بعد مُربیچا پاڑہ آ گئی تھیں؛ ان کے والدین، دونوں ہی زرعی مزدور، اوکل واڑی گاؤں میں رہتے ہیں، جو کہ وہاں سے تقریباً ایک کلومیٹر دور ہے۔ ان کے سسرال والے ان ۹۷ ما ٹھاکر آدیواسی کنبوں میں شامل تھے، جو ۱۹۷۱-۷۲ میں پاس ہی کے بھاتسا سینچائی پروجیکٹ کے سبب بے گھر ہو گئے تھے۔ (دیکھیں ’بھاتسا پروجیکٹ نے کئی گھر اجاڑ دیے‘)

سال ۲۰۱۰ میں، جب تلسی تقریباً ۲۸ سال کی تھیں، ان کے شوہر سنتوش کی بیماری سے موت ہو گئی – وہ بتاتی ہیں کہ انہیں بواسیر تھا۔ مُربیچا پاڑہ میں کوئی پرائمری ہیلتھ سینٹر نہیں ہے، سب سے قریبی سرکاری اسپتال ۲۱ کلومیٹر دور، شہاپور میں ہے۔ اور وہ اپنا علاج کرانا نہیں چاہتے تھے۔ ’’وہ اقتصادی اور جذباتی طور پر ایک بڑا سہارا تھے،‘‘ وہ بتاتی ہیں۔ ’’ان کے جانے کے بعد ہماری نگرانی کرنے والا کوئی نہیں تھا۔ لیکن ان کی موت کے بعد بھی میں نے خود کو بے سہارا یا کمزور محسوس نہیں ہونے دیا۔ تنہا عورت کو مضبوط ہونا چاہیے۔ ورنہ پتہ نہیں کیا ہو جائے؟‘‘

تلسی کو اپنے چاروں بچوں کی پرورش اکیلے ہی کرنی پڑی – وہ جب کام پر جاتیں، تو انہیں پاڑہ میں اپنے دیور کے پاس چھوڑ جاتیں (ان کے ساس سسر کی موت تبھی ہو گئی تھی جب ان کے شوہر کافی چھوٹے تھے)۔

تلسی کی بڑی بیٹی مُنّی، جو اب ۱۶ سال کی ہے، کہتی ہے، ’’ہم انہیں گھر پر بہت کم ہی دیکھتے ہیں۔ وہ نہ تو کبھی ایک دن کی چھٹی لیتی ہیں اور نہ ہی تھکتی ہیں۔ ہمیں بھی حیرانی ہوتی ہے کہ وہ ایسا کیسے کرتی ہیں۔‘‘ مُنّی ۱۰ویں کلاس میں ہے۔ ’’میں نرس بننا چاہتی ہوں،‘‘ وہ کہتی ہے۔ چھوٹی بیٹی، گیتا ۸ویں کلاس میں ہے؛ سب سے چھوٹا بیٹا مہیندر، ۶ویں کلاس میں ہے۔

سب سے بڑا بیٹا، ۱۸ سالہ کاشی ناتھ، شہاپور کے ڈول کھامب گاؤں کے نیو انگلش ہائی اسکول میں ۱۱ویں کلاس کا طالب علم ہے۔ وہ وہاں ہاسٹل میں رہتا ہے۔ ’’میں اپنی پڑھائی پوری کرکے اچھی تنخواہ والی نوکری پانا چاہتا ہوں،‘‘ وہ کہتا ہے۔ اس کی تعلیم پر سالانہ ۲۰۰۰ روپے کا خرچ آتا ہے، ساتھ ہی سال میں دو بار امتحان کے دوران ۳۰۰ روپے مزید جمع کرنے پڑتے ہیں۔ ’’مجھے صرف کاشی ناتھ کی فیس بھرنی پڑتی ہے۔ باقی بچے ضلع پریشد اسکول میں ہیں [مُربیچا پاڑہ سے دو کلومیٹر دور، سارنگ پوری گاؤں میں]،‘‘ تلسی بتاتی ہیں۔ ’’ان کے تعلیم کے خرچ کی فکر تو ہوتی ہی ہے۔ لیکن میں چاہتی ہوں کہ میرے بچے اچھی تعلیم حاصل کریں۔ ہماری موجودہ حالت سے اُبرنے کا یہی واحد طریقہ ہے۔‘‘

Tulshi cooking at home
PHOTO • Jyoti Shinoli
Tulshi with her children Kashinath (top row left), Munni (2nd row), Geeta (3rd row left) and Kashinath (3rd row right), sitting in the doorway of their house
PHOTO • Jyoti Shinoli

تلسی اپنے بچوں کے لیے کھانا پکانے کا بھی وقت نکالتی ہیں – کاشی ناتھ (اوپر، بائیں)، مُنّی (دوسری قطار)، گیتا اور مہندر (اپنے گھر کے دروازے پر بیٹھے ہوئے)

سال ۲۰۱۱ میں اندرا آواس یوجنا کے تحت تقسیم شدہ ان کے گھر میں ہم جس وقت بات کر رہے ہیں، تلسی ایک بار پھر پتّے توڑنے کے لیے روانہ ہونے کی تیاری کر رہی ہیں، کپڑے کے ایک تھیلے، جس میں ایک ہنسیا ہے، اور ایک پرانی ساڑی کے ساتھ جس میں وہ پتّوں کا گٹھر رکھیں گی۔

اُس رات کو ساڑھے آٹھ بجے، وہ ایک بار پھر دادر تک کے دو گھنٹے کے ٹرین کے سفر پر ہیں۔ پھر، پھولوں کے بازار میں سڑک پر بیٹھ کر، وہ اندھیرے میں پتّوں کے گٹھروں کو ایک ساتھ رکھنا شروع کر دیتی ہیں۔ سڑک پر مناسب روشنی نہیں ہے، اس لیے اُدھر سے لگاتار گزرنے والی گاڑیوں کی ہیڈ لائٹ ان کی مدد کرتی ہے۔ ’’ہم [عورتیں مین مارکیٹ سے دور] باہر بیٹھتے ہیں، رات میں بازار کے اندر ہم محفوظ محسوس نہیں کرتے،‘‘ وہ کہتی ہیں۔ ’’لیکن میں کار، بھیڑ، بدبو، اور دھواں بھری اس بھیڑ کے درمیان بھی سکون محسوس نہیں کرتی ہوں۔ ہمارا پاڑہ یہاں سے بہت چھوٹا ہے، مگر پھر بھی وہاں کھلا کھلا اور گھر جیسا محسوس ہوتا ہے۔ لیکن بغیر پیسوں کے ہم وہاں کا نظم کیسے کر سکتے ہیں؟ اس لیے ہمیں اس شہر میں آنا پڑتا ہے۔‘‘

تلسی دادر بازار میں جب بھی رات کے وقت اپنی ہم پیشہ عورتوں کے ساتھ ہوتی ہیں، تو ۷ روپے کی ایک گلاس چائے سے کام چلاتی ہیں یا پھر کبھی کبھی گھر سے اپنے ساتھ لائی ہوئی بھاکری اور بھاجی کھا لیتی ہیں، اور کبھی اپنی ساتھی عورتوں کے کھانے سے تھوڑا بہت کھا لیتی ہیں۔ اگلی صبح، جب تک سبھی پتّے فروخت نہیں ہو جاتے، وہ انتظار کرتی ہیں۔ ’’اتنا بوجھ میں گھر واپس نہیں لے جا سکتی،‘‘ وہ کہتی ہیں۔

اس کے بعد دوبارہ ٹرین سے آسن گاؤں تک کا دو گھنٹے کا سفر۔ ’’ہمارا چار عورتوں کا گروپ ہے [جو ایک ساتھ کام کرتی اور سفر کرتی ہیں]۔ سفر کے دوران ہم ایک دوسرے سے اپنے سکھ دکھ شیئر کرتے ہیں، ہمارے گھروں میں کیا ہو رہا ہے، آگے کے منصوبہ پر بات کرتے ہیں،‘‘ تلسی بتاتی ہیں۔ ’’لیکن یہ لمبے وقت تک نہیں چلتا۔ بہت زیادہ تھکا ہونے کی وجہ سے ہم اکثر سوتے رہتے ہیں۔‘‘

(مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف ہیں، اور ’روزنامہ میرا وطن‘، ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

Jyoti Shinoli

جیوتی شِنولی پیپلز آرکائیو آف رورل انڈیا (پاری) کی ایک نامہ نگار ہیں؛ وہ پہلے ’می مراٹھی‘ اور ’مہاراشٹر۱‘ جیسے نیوز چینلوں کے ساتھ کام کر چکی ہیں۔

Other stories by Jyoti Shinoli