’’جب ہم پڑھنے بیٹھتے ہیں تو ہماری کتاب کاپیوں پر پانی ٹپکتا ہے۔ پچھلے سال [۲۰۲۲] جولائی میں گھر گر گیا تھا۔ ایسا ہر سال ہوتا ہے،‘‘ آٹھ سال کا وشال چوہان بتاتا ہے۔ اس کا یہ گھر بھاری پتھروں اور بانس کا بنا ہوا تھا۔

وشال، آلیگاؤں ضلع پریشد اسکول میں تیسری جماعت کا طالب علم ہے۔ اس کی فیملی کا تعلق بیلدار برادری سے ہے، جو مہاراشٹر میں خانہ بدوش قبیلہ کے طور پر درج ہے۔

’’جب بارش ہوتی ہے تو جھونپڑی کے اندر رہنا مشکل ہو جاتا ہے…الگ الگ جگہوں سے پانی ٹپکنے لگتا ہے،‘‘ وہ مزید بتاتا ہے۔ لہٰذا، شیرور تعلقہ کے آلیگاؤں پاگا گاؤں میں واقع اپنے گھر میں وہ اور اس کی نو سال کی بہن ویشالی ایسی جگہوں کی تلاش کرتے رہتے ہیں جہاں چھت نہیں ٹپک رہی ہو تاکہ وہ پڑھائی کرسکیں۔

تعلیم کے تئیں بہن بھائی کی دلچسپی ان کی دادی شانتا بائی چوہان کے لیے بہت فخر کی بات ہے۔ ’’ہمارے پورے خاندان میں کوئی بھی کبھی اسکول نہیں گیا،‘‘ ۸۰ سالہ بزرگ کہتی ہیں، ’’میرے پوتا پوتی یہاں کے پہلے بچے ہیں جو پڑھنا لکھنا سیکھ رہے ہیں۔‘‘

لیکن جب وہ ان بچوں کے بارے میں بات کرتی ہیں تو ان کے جھریوں والے چہرے پر فخر کے ساتھ غم کی لکیریں بھی نمایاں ہو جاتی ہیں۔ ’’ہمارے پاس ان کے لیے کوئی پکا گھر نہیں ہے جہاں وہ آرام سے پڑھ سکیں۔ روشنی بھی نہیں ہے،‘‘ آلیگاؤں پاگا وستی (بستی یا گاؤں) میں اپنی ترپال کی جھونپڑی کے اندر بیٹھی شانتا بائی کہتی ہیں۔

Left: Nomadic families live in make-shift tarpaulin tents supported by bamboo poles.
PHOTO • Jyoti Shinoli
Right: Siblings Vishal and Vaishali Chavan getting ready to go to school in Alegaon Paga village of Shirur taluka.
PHOTO • Jyoti Shinoli

بائیں: خانہ بدوش کنبے بانس کے کھمبوں کے سہارے کھڑے ترپال کے عارضی خیموں میں رہتے ہیں۔ دائیں: شیرور تعلقہ کے آلیگاؤں پاگا گاؤں میں بہن بھائی، وشال اور ویشالی چوہان اسکول جانے کے لیے تیار ہو رہے ہیں

Vishal studying in his home (left) and outside the Alegaon Zilla Parishad school (right)
PHOTO • Jyoti Shinoli
Vishal studying in his home (left) and outside the Alegaon Zilla Parishad school (right)
PHOTO • Jyoti Shinoli

وشال اپنے گھر میں پڑھائی کرتے ہوئے (بائیں) اور آلیگاؤں ضلع پریشد اسکول کے باہر (دائیں)

پانچ فٹ سے زیادہ لمبائی والے کسی بھی شخص کو بانس کے سہارے کھڑی اس چھت کے مثلث ڈھانچے میں داخل ہونے کے لیے اپنا سر جھکانا پڑے گا۔ ان کا گھر بیلدار، پھانسے پاردھی اور بھیل قبائل سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی ۴۰ جھونپڑیوں کے جھرمٹ کا حصہ ہے۔ یہ پونے ضلع میں آلیگاؤں پاگا گاؤں سے دو کلومیٹر باہر واقع ہے۔ ’’جھونپڑی میں رہنا مشکل ہے،‘‘ شانتا بائی کہتی ہیں، ’’لیکن یہ بچے شکایت نہیں کرتے، ایڈجسٹ ہو جاتے ہیں۔‘‘

خیمے پر تنی ترپال کی چادریں بھی بوسیدہ ہو چکی ہیں۔ نو سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے جب انہوں نے آخری مرتبہ انہیں تبدیل کیا تھا یا کسی طرح کی مرمت کا کام کیا تھا۔

’’میرے والدین ہمیشہ کام کی وجہ سے دور رہتے ہیں،‘‘ وشال اپنے والدین، سبھاش اور چندا کے بارے میں کہتا ہے، جو پونے میں پتھر کی کان میں کام کرتے ہیں۔ وہ پتھر توڑ کر ٹرکوں میں لوڈ کرتے ہیں اور روزانہ سو سو روپے کماتے ہیں۔ اس طرح ان کی مہینے کی مجموعی آمدنی ۶۰۰۰ روپے ہوتی ہے۔ ان پیسوں سے انہیں  پانچ افراد پر مشتمل کنبے کی کفالت کرنی پڑتی ہے۔ ’’تیل، اناج، سب کچھ اتنا مہنگا ہے۔ ہم پیسے کی بچت کیسے کریں گے؟‘‘ وشال کی ماں، ۴۲ سالہ چندا بتاتی ہیں، ’’ہم گھر کیسے بنائیں گے؟‘‘

*****

اگرچہ مہاراشٹر میں خانہ بدوش قبائل کے لیے رہائش فراہم کرنے کی متعدد سرکاری فلاحی اسکیمیں موجود ہیں، لیکن ان کی معمولی کمائی سے کنکریٹ کا مکان بنانا اور مالک مکان بننا چوہان کنبے کے لیے دور کی کوڑی ہے۔ شبری آدیواسی گھرکل اسکیم ، پاردھی گھرکل اسکیم اور یشونت راؤ چوہان مکت وساہٹ یوجنا جیسی اسکیموں سے فائدہ اٹھانے والوں کو ذات کا سرٹیفکیٹ جمع کرنا لازمی ہے۔ ’’کسی بھی گھرکل یوجنا [ہاؤسنگ اسکیم] کے لیے، ہمیں یہ ثابت کرنا ہوگا کہ ہم کون ہیں۔ ہم اپنی ذات کیسے ثابت کریں گے؟‘‘ چندا کہتی ہیں۔

سال ۲۰۱۷ کی اِداتے کمیشن کی رپورٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ پورے ملک میں خانہ بدوش قبائل کے درمیان رہائش کے ناقص انتظامات عام ہیں۔ اس نکتے کو اٹھاتے ہوئے چندا کہتی ہیں، ’’آپ دیکھ سکتی ہیں کہ ہم کیسے جی رہے ہیں۔‘‘ کمیشن کے ذریعہ ۹۰۰۰ کنبوں کے کرائے گئے سروے میں۵۰ فیصد سے زیادہ نیم پکے یا عارضی ڈھانچے میں رہتے ہیں اور ۸ فیصد اپنے گھروالوں کے ساتھ خیموں میں قیام پذیر ہیں۔

Left and Right: Most nomadic families in Maharashtra live in thatched homes
PHOTO • Jyoti Shinoli
Left and Right: Most nomadic families in Maharashtra live in thatched homes.
PHOTO • Jyoti Shinoli

بائیں اور دائیں: مہاراشٹر میں زیادہ تر خانہ بدوش کنبے جھونپڑیوں میں رہتے ہیں

سرکاری اسکیموں تک رسائی کے لیے شناختی دستاویزات کے حصول میں درپیش دشواریوں سے متعلق کئی عرضیاں داخل کی گئی ہیں اور انہیں قومی کمیشن برائے ڈی نوٹیفائیڈ خانہ بدوش اور نیم خانہ بدوش قبائل کے ذریعے موصول ہونے کا ریکارڈ بھی موجود ہے۔ ایسی ۴۵۴ میں سے ۳۰۴ عرضیاں ذات کے سرٹیفکیٹ کے مسائل سے متعلق ہیں۔

مہاراشٹر کی درج فہرست ذاتوں ، درج فہرست قبائل، ڈی نوٹیفائیڈ قبائل (ویمُکت جاتیاں)، خانہ بدوش قبائل، دیگر پسماندہ طبقات، اور خصوصی پسماندہ زمرہ کو ذات کا سرٹیفکیٹ (جاری اور تصدیق کرنے کے ضابطے) کا قانون، ۲۰۰۰ کے تحت ذات کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے لیے درخواست دہندگان کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ اس علاقے کے مستقل رہائشی ہیں یا ان کے آباء اجداد متعلقہ علاقے میں مقررہ تاریخ (ڈی نوٹیفائیڈ قبائل کی صورت میں سال ۱۹۶۱) سے مقیم رہے ہیں۔ شرور میں مقیم ایک سماجی کارکن سنیتا بھوسلے کہتی ہیں، ’’اس شرط کے ساتھ ذات کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنا آسان نہیں ہے۔‘‘

’’ان بھٹکیہ ویمکت جاتی [ڈی نوٹیفائیڈ] کے لوگ کئی نسلوں سے گاؤں گاؤں، ایک ضلع سے دوسرے ضلع میں بھٹک میں رہے ہیں،‘‘ وہ مزید کہتی ہیں، ’’۵۰ سے ۶۰ سال قبل کے رہائشی ثبوت پیش کرنا کیسے ممکن ہے؟  اس قانون میں ترمیم ضروری ہے۔‘‘

پھانسے پاردھی برادری سے تعلق رکھنے والی سنیتا نے ۲۰۱۰ میں کرانتی نامی ایک غیرمنافع بخش تنظیم قائم کی تھی، جو ڈی نوٹیفائیڈ قبائل کے معاملات کو سنبھالتی ہے۔ یہ تنظیم ذات کا سرٹیفکیٹ، آدھار کارڈ، راشن کارڈ اور دیگر سرکاری دستاویزات حاصل کرنے میں بھی لوگوں کی مدد کرتی ہے، تاکہ وہ مختلف سرکاری اسکیموں سے استفادہ حاصل کرسکیں اور ان پر ہونے والے مظالم کے معاملات کو نمٹا سکیں۔ سنیتا کہتی ہیں، ’’۱۳سالوں کے دوران ہم تقریباً ۲۰۰۰ لوگوں کے لیے ذات کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔‘‘

کرانتی پونے ضلع کے دونڈ اور شرور تعلقہ کے ۲۲۹ گاؤوں اور احمد نگر ضلع کے شری گوندا تعلقہ میں رضاکارانہ طور پر کام کرتی ہے۔ یہاں تقریباً ۲۵ ہزار ڈی نوٹیفائیڈ قبائل جیسے پھانسے پاردھی، بیلدار اور بھیل آباد ہیں۔

Left: Poor housing arrangements are common among nomadic tribes who find it difficult to access housing schemes without a caste certificate.
PHOTO • Jyoti Shinoli
Right: The office of the Social Justice and Special Assistance Department, Pune
PHOTO • Jyoti Shinoli

بائیں: خانہ بدوش قبائل کے درمیان رہائش کے ناقص انتظامات عام ہیں، ان کے لیے ذات کا سرٹیفکیٹ کے بغیر ہاؤسنگ اسکیموں تک رسائی حاصل کرنا مشکل ہے۔ دائیں: پونے میں واقع سماجی انصاف اور خصوصی امداد کے محکمے کا دفتر

سنیتا کہتی ہیں کہ سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کا عمل تھکا دینے والا، وقت طلب اور مہنگا ہے۔ ’’آپ کو تعلقہ دفتر کے سفر اور زیروکس [فوٹو کاپی] کے لیے بار بار اپنی جیب سے پیسہ خرچ کرنا پڑتا ہے۔ آپ کو ایک کے بعد ایک کئی کاغذی ثبوت پیش کرنے ہوتے ہیں۔ اس کے بعد لوگ ذات کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کی امید چھوڑ دیتے ہیں،‘‘ سنیتا بتاتی ہیں۔

*****

وکرم برڈے (۳۶) کہتے ہیں، ’’ہمارے پاس کبھی کوئی ایسی جگہ نہیں تھی جسے ہم گھر کہتے۔ مجھے یاد نہیں ہے کہ ہم نے بچپن سے کتنی بار جگہیں بدلی ہیں۔ اب بھی لوگ ہم پر بھروسہ نہیں کرتے۔ اسی وجہ سے ہم نقل مکانی کر رہے ہیں۔ گاؤں والے یہ جان لینے کے بعد کہ ہم کون ہیں، جگہ چھوڑنے کے لیے ہم پر دباؤ ڈالنا شروع کردیتے ہیں۔‘‘

یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدور وکرم کا تعلق پھانسے پاردھی قبیلے سے ہے اور وہ اپنی بیوی ریکھا کے ساتھ ٹین کی چھت والے ایک کمرے کے مکان میں رہتے ہیں۔ ان کا گھر آلیگاؤں پاگا گاؤں سے ۱۵ کلومیٹر دور کرولی گاؤں کے مضافات میں ۵۰ بھیل اور پاردھی خاندانوں کی بستی کا ایک حصہ ہے۔

وکرم  کی عمر ۱۳ سال تھی جب ان کے والدین نے ۲۰۰۸ میں جالنہ ضلع کے جالنہ تعلقہ کے بھیلپوری خورد گاؤں میں ہجرت کر کے آئے تھے۔ ’’مجھے یاد ہے کہ ہم بھیلپوری خورد گاؤں کے باہر کڈاچہ گھر (جھونپڑی) میں رہتے تھے۔ میرے دادا دادی مجھے بتاتے تھے کہ وہ بیڈ میں کہیں رہتے تھے،‘‘ وہ اپنی یاداشت پر زور دیتے ہیں۔ (پڑھیں: کوئی جرم نہیں، لیکن سزا لامتناہی )

سال ۲۰۱۳ میں وہ اپنے کنبے کے ساتھ پونے میں اپنے موجودہ جائے قیام پر ہجرت کر کے آئے تھے۔ وہ اور ان کی اہلیہ ۲۸ سالہ ریکھا پونے ضلع کے مختلف گاؤوں میں زرعی مزدوری کے علاوہ بعض اوقات تعمیراتی مقامات پر بھی مزدوری کرتے ہیں۔ ’’ایک دن میں، ہم کل ۳۵۰ روپے کماتے ہیں۔ کبھی کبھی ہمیں ۴۰۰ روپے بھی مل جاتے ہیں۔ ہمیں دو ہفتوں سے زیادہ کام نہیں ملتا،‘‘ وکرم کہتے ہیں۔

Vikram Barde, a daily-wage worker, lives with his wife Rekha in a one-room house with a tin roof. ' We never had a place to call home,' the 36-year-old says, “I can’t recall how many times we have changed places since my childhood'
PHOTO • Jyoti Shinoli
Vikram Barde, a daily-wage worker, lives with his wife Rekha in a one-room house with a tin roof. ' We never had a place to call home,' the 36-year-old says, “I can’t recall how many times we have changed places since my childhood'.
PHOTO • Jyoti Shinoli

وکرم برڈے ایک یومیہ اجرت والے مزدور، جو اپنی بیوی ریکھا کے ساتھ ٹین کی چھت والے ایک کمرے کے مکان میں رہتے ہیں۔ ’ہمارے پاس کبھی کوئی ایسی جگہ نہیں تھی جسے ہم گھر کہتے،‘ ۳۶ سالہ برڈے کہتے ہیں، ’مجھے یاد نہیں ہے کہ ہم نے بچپن سے کتنی بار جگہیں بدلی ہیں‘

ذات کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کی دراخواست پر وہ دو سال قبل تک ہر مہینے تقریباً ۲۰۰ روپے خرچ کرتے تھے۔ وکرم کو اپنی درخواست کی جانکاری کے لیے مہینے میں چار سے پانچ مرتبہ ۱۰ کلومیٹر دور شرور میں بلاک ڈیولپمنٹ آفس کا سفر کرنا پڑتا تھا۔

’’مشترکہ آٹو کی سواری کا دونوں طرف کا کرایہ ۶۰ روپے بنتا تھا۔  اس کے اوپر زیروکس کے اخراجات۔ پھر دفتر میں کافی دیر تک انتظار کرنا پڑتا تھا۔ یہاں تک کہ میں اپنی یومیہ اجرت سے محروم ہو جاتا تھا۔ میرے پاس اپنی رہائش کا کوئی ثبوت یا ذات کا سرٹیفکیٹ نہیں ہے۔ اس لیے میں نے کوشش چھوڑ دی،‘‘ وکرم بتاتے ہیں۔

ان کے بچے ۱۴ سالہ کرن اور ۱۱ سالہ سوہم پونے کے ملشی تعلقہ کے وڈگاؤں کے رہائشی سرکاری اسکول میں پڑھتے ہیں۔ کرن درجہ نو میں ہے اور سوہم درجہ چھ میں۔ ’’ہمارے بچے ہماری واحد امیدیں ہیں۔ اگر وہ اچھی طرح پڑھتے ہیں، تو انہیں خانہ بدوشوں کی زندگی نہیں گزارنی پڑے گی۔‘‘

پاری کی اس رپورٹر نے پونے ڈویژن کے سماجی انصاف اور خصوصی امداد کے محکمے کے ایک اہلکار سے بات کی تاکہ ان کنبوں کی تعداد معلوم کی جا سکے جنہوں نے سماجی و اقتصادی طور پر کمزور گروہوں کے لیے مخصوص مختلف ہاؤسنگ سکیموں کے تحت مالی امداد حاصل کی ہے۔ افسر نے کہا، ’’پونے کے بارامتی تعلقہ کے پندرے گاؤں کے وی جے این ٹی [ویمکت جاتی نوٹیفائیڈ ٹرائب] سے تعلق رکھنے والے ۱۰ کنبوں کو سال ۲۰۲۱-۲۲ میں ۳ء۸۸ لاکھ روپے مختص کیے گئے تھے۔ اس کے علاوہ خانہ بدوش قبائل کے لیے اس سال [۲۰۲۳] کوئی اور تجویز منظور نہیں کی گئی ہے۔‘‘

ادھر آلیگاؤں پاگا وستی میں شانتا بائی اپنے پوتا پوتی کے لیے ایک خوشگوار مستقبل کا خواب بن رہی ہیں۔ وہ کہتی ہیں، ’’میں پراعتماد ہوں۔ ہم کنکریٹ کی دیواروں والے گھر میں نہیں رہے۔ لیکن میرے پوتا پوتی ضرور اپنا گھر بنائیں گے۔ اور وہ وہاں محفوظ رہیں گے۔‘‘

مترجم: شفیق عالم

Jyoti Shinoli is a Senior Reporter at the People’s Archive of Rural India; she has previously worked with news channels like ‘Mi Marathi’ and ‘Maharashtra1’.

Other stories by Jyoti Shinoli
Editor : Sarbajaya Bhattacharya

Sarbajaya Bhattacharya is a Senior Assistant Editor at PARI. She is an experienced Bangla translator. Based in Kolkata, she is interested in the history of the city and travel literature.

Other stories by Sarbajaya Bhattacharya
Translator : Shafique Alam

Shafique Alam is a Patna based freelance journalist, translator and editor of books and journals. Before becoming a full-time freelancer, he has worked as a copy-editor of books and journals for top-notched international publishers, and also worked as a journalist for various Delhi-based news magazines and media platforms. He translates stuff interchangeably in English, Hindi and Urdu.

Other stories by Shafique Alam