’’ایک دن میں بھی ہندوستان کے لیے اولمپکس میں میڈل جیتنا چاہتی ہوں،‘‘ اسپورٹس اکیڈمی کے قریب سے گزرنے والی تار کول کی سڑک پر طویل مشق کے بعد اپنی سانسیں درست کرتی ہوئی وہ کہتی ہے۔ اس کے تھکے اور زخم خوردہ ننگے پاؤں چار گھنٹے کی سخت ٹریننگ کے بعد بالآخر زمین پر رک گئے ہیں۔

لمبی دوری کی یہ ۱۳ سالہ رنر جدید دور کے کسی فیشن کی وجہ سے ننگے پاؤں نہیں ہے۔ ’’میں ننگے پاؤں اس لیے دوڑتی ہوں کیونکہ میرے والدین مہنگے جوتے خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے ہیں،‘‘ وہ کہتی ہے۔

ورشا کدم، پربھنی کے زرعی مزدور وشنو اور دیو شالا کی بیٹی ہیں۔ پربھنی، اکثر خشک سالی کی زد میں آنے والے ریاست کے مراٹھواڑہ علاقے کے غریب ترین اضلاع میں سے ایک ہے۔ ان کی فیملی ماتنگ برادری سے تعلق رکھتی ہے، جو مہاراشٹر میں درج فہرست ذات کے طور پر درج ہے۔

’’مجھے دوڑنا اچھا لگتا ہے،‘‘ یہ کہتے ہوئے اس کی آنکھوں میں چمک آ جاتی ہے۔ ’’پانچ کلومیٹر کی بلڈھانہ اربن فاریسٹ میراتھن میری پہلی دوڑ تھی، جو میں نے ۲۰۲۱ میں پوری کی تھی۔ میں بہت خوش تھی کیوں کہ میں نے دوسرا مقام حاصل کیا تھا اور اپنی زندگی کا پہلا میڈل بھی جیتا تھا۔ میں زیادہ سے زیادہ مقابلے جیتنا چاہتی ہوں،‘‘ پختہ عزم سے بھری یہ نوعمر لڑکی کہتی ہے۔

اس کے ماں باپ نے دوڑ کے تئیں اس کے جنون کو اسی وقت پہچان لیا تھا، جب وہ صرف آٹھ سال کی تھی۔ ’’میرے  ماموں پاراجی گائکواڑ ایک ریاستی سطح کے ایتھلیٹ تھے۔ وہ اب آرمی میں ہیں۔ انھیں سے متاثر ہو کر میں نے دوڑنا شروع کیا تھا،‘‘ وہ مزید کہتی ہے۔ سال ۲۰۱۹ میں اس نے ریاستی سطح کے انٹر اسکول مقابلے میں چار کلومیٹر کی کراس کنٹری دوڑ میں دوسرا مقام حاصل کیا تھا اور، ’’اس سے مجھے دوڑ کے مقابلے میں آگے بڑھنے کا مزید اعتماد حاصل ہوا۔‘‘

arsha Kadam practicing on the tar road outside her village. This road used was her regular practice track before she joined the academy.
PHOTO • Jyoti Shinoli
Right: Varsha and her younger brother Shivam along with their parents Vishnu and Devshala
PHOTO • Jyoti Shinoli

بائیں: اپنے گاؤں کے باہر تارکول کی سڑک پر مشق کرتی ورشا کدم۔ اکیڈمی میں شامل ہونے سے پہلے یہی سڑک اس کا پریکٹس ٹریک ہوا کرتی تھی۔ دائیں: اپنے والدین – وشنو اور دیو شالا – اور چھوٹے بھائی شیوم کے ساتھ ورشا

وبائی مرض کے سبب مارچ ۲۰۲۰ سے اس کا اسکول جانا بند ہو گیا۔ ’’میرے والدین کے پاس آن لائن کلاسز کے لیے فون [اسمارٹ فون] نہیں تھا،‘‘ ورشا بتاتی ہے۔ اس خالی وقت کا استعمال اس نے دوڑنے کی مشق کرنے کے لیے کیا۔ وہ دو گھنٹے صبح اور دو گھنٹے شام کو پریکٹس کرنے لگی۔

اکتوبر ۲۰۲۰ میں ۱۳ سال کی عمر میں اس نے شری سمرتھ ایتھلیٹکس اسپورٹس ریزیڈنشیل اکیڈمی میں داخلہ لیا، جو مہاراشٹر کے پربھنی ضلع کے پمپلا گاؤں ٹھومبرے کے مضافات میں واقع ہے۔

اکیڈمی میں پسماندہ برادریوں سے تعلق رکھنے والے ۱۳ دیگر بچے (آٹھ لڑکے اور پانچ لڑکیاں) بھی تربیت حاصل کرتے ہیں۔ ان میں سے کچھ کا تعلق ریاست کی مخصوص پسماندہ قبائلی گروپوں (پی وی ٹی جی) سے ہے۔ ان کے والدین کسان، گنے کی کٹائی کرنے والے مزدور، زرعی مزدور اور زبردست خشک سالی کے شکار مراٹھواڑہ خطہ سے آئے مہاجر مزدور ہیں۔

یہاں سے تربیت حاصل کرنے کے بعد ان نوعمر ایتھلیٹوں نے ریاستی اور قومی سطح کے مقابلوں میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے، اور ان میں سے کئی بچوں نے بین الاقوامی سطح پر بھی ہندوستان کی نمائندگی کی ہے۔

شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے ایتھلیٹ سال بھر اکیڈمی میں رہتے ہیں اور وہیں سے پربھنی کے اسکول کالجوں میں اپنی پڑھائی کرنے جاتے ہیں۔ پربھنی وہاں سے ۳۹ کلومیٹر دور ہے۔ یہ ایتھلیٹ صرف چھٹیوں میں ہی اپنے گھر جاتے ہیں۔ ’’ان میں سے کچھ صبح کے اسکول میں جاتے ہیں اور باقی دوپہر میں جاتے ہیں۔ مشق کا وقت اسی کے حساب سے طے کیا جاتا ہے،‘‘ اکیڈمی کے بانی روی راسکاٹلا بتاتے ہیں۔

’’یہاں کے بچوں میں کھیل کود کے لیے کافی امکانات ہیں، لیکن جب ان کا کنبہ دو وقت کے کھانے کے انتظام کے لیے جدوجہد کر رہا ہو تو ان کے لیے اسے بطور پیشہ اختیار کرنا مشکل ہے،‘‘ روی کہتے ہیں، جو ۲۰۱۶ میں اکیڈمی شروع کرنے سے پہلے ضلع پریشد کے اسکولوں میں کھیل کے استاد تھے۔ ’’میں نے ایسے [دیہی] بچوں کو بہت چھوٹی عمر سے ہی بغیر کسی اجرت کے بہترین تربیت فراہم کرکے کوچنگ دینے کا فیصلہ کیا،‘‘ ۴۹ سالہ کوچ کا کہنا ہے کہ وہ کوچنگ، تربیت، خوراک اور جوتوں کے لیے ہمیشہ اسپانسرز کی تلاش میں رہتے ہیں۔

Left: Five female athletes share a small tin room with three beds in the Shri Samarth Athletics Sports Residential Academy.
PHOTO • Jyoti Shinoli
Right: Eight male athletes share another room
PHOTO • Jyoti Shinoli

بائیں: شری سمرتھ ایتھلیٹکس اسپورٹس ریزیڈنشیل اکیڈمی میں پانچ خواتین ایتھلیٹ تین بستروں پر مشتمل ٹین کی چھت والا ایک کمرہ شیئر کرتی ہیں۔ دائیں: آٹھ مرد ایتھلیٹ دوسرے کمرے میں رہتے ہیں

The tin structure of the academy stands in the middle of fields, adjacent to the Beed bypass road. Athletes from marginalised communities reside, study, and train here
PHOTO • Jyoti Shinoli

بیڈ بائی پاس روڈ سے ملحق کھیتوں کے بیچ میں واقع یہ اکیڈمی ایک عارضی ٹین کا ڈھانچہ ہے، جسے نیلے رنگ سے پینٹ کیا گیا ہے۔ پسماندہ طبقات کے ایتھلیٹ یہاں رہ کر پڑھائی کرتے ہیں اور تربیت حاصل کرتے ہیں

بیڈ بائی پاس روڈ سے ملحق کھیتوں کے بیچ میں واقع یہ اکیڈمی ٹین کا ایک عارضی ڈھانچہ ہے، جسے نیلے رنگ سے پینٹ کیا گیا ہے۔ ڈیڑھ ایکڑ اراضی پر بنی یہ اکیڈمی پربھنی کی ایک ایتھلیٹ جیوتی گوتے کے والد شنکراؤ کی ملکیت ہے۔ وہ ریاستی ٹرانسپورٹ آفس میں چپراسی کا کام کرتے تھے۔ جیوتی کی ماں باورچی کا کام کرتی ہیں۔

’’ہم ٹین کی چھت والے گھر میں رہتے تھے۔ میں کچھ سرمایہ لگانے کے قابل ہو گئی تو ہم نے اپنا ایک منزلہ گھر بنا لیا۔ میرے بھائی [مہاراشٹر پولیس کانسٹیبل] بھی پہلے سے زیادہ کما رہے ہیں،‘‘ جیوتی بتاتی ہیں، جنہوں نے اپنی زندگی دوڑ کے لیے وقف کر رکھی ہے۔ انہوں نے محسوس کیا کہ ان کا کنبہ ’روی سر‘ کو ان کی اسپورٹس اکیڈمی کے لیے اپنی زمین پیش کرنے کا متحمل ہوسکتا ہے اور انہیں ان کے والدین اور ان کے بھائی کی حمایت حاصل ہے۔ ’’یہ باہمی مفاہمت کے تحت ہوا ہے،‘‘ وہ مزید کہتی ہیں۔

اکیڈمی میں ٹین کے بنے صرف دو کمرے ہیں۔ ان کمروں کا سائز تقریباً ۱۵ ضرب ۲۰ فٹ ہے اور دونوں کمروں کے بیچ کی دیوار بھی ٹین سے ہی بنائی گئی ہے۔ ایک کمرہ لڑکیوں کے لیے مخصوص ہے اور عطیہ کنندگان کی طرف سے ملنے والے تین بیڈ کو پانچ لڑکیاں شیئر کرتی ہیں۔ دوسرا کمرہ لڑکوں کے لیے ہے اور ان کے گدے کنکریٹ کے فرش پر بچھے ہوئے ہیں۔

دونوں کمروں میں ایک ایک ٹیوب لائٹ اور پنکھا لگا ہوا ہے، جو کبھی کبھار آنے والی بجلی سے چلتے ہیں۔ اس علاقے میں گرمیوں کا درجہ حرارت ۴۲ ڈگری تک جا سکتا ہے اور سردیوں میں کم ہوکر ۱۴ ڈگری تک پہنچ سکتا ہے۔

کھلاڑیوں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے مہاراشٹر کی ریاستی کھیل کود پالیسی، ۲۰۱۲ کے تحت ریاست میں اسپورٹس کمپلیکس، اکیڈمیز اور کیمپس کی تعمیر اور کھیلوں کا سامان فراہم کرنا لازمی ہے۔

حالانکہ، روی بتاتے ہیں، ’’دس سال سے یہ پالیسیاں صرف کاغذوں پر ہی ہیں۔ زمین پر کوئی حقیقی عمل درآمد نہیں ہوا ہے۔ حکومت ٹیلنٹ کی پہچان میں ناکام رہی ہے۔ کھیلوں کے عہدیداروں میں بہت بے حسی پائی جاتی ہے۔‘‘

یہاں تک کہ ۲۰۱۷ میں ہندوستان کے کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل کے ذریعہ داخل کردہ ایک آڈٹ رپورٹ میں بھی اس بات کا اعتراف کیا گیا ہے کہ کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے کو تعلقہ سطح سے ریاستی سطح تک ترقی دینے کے کھیلوں کی پالیسی کا مقصد پورا نہیں ہوا ہے۔

Left: Boys showing the only strength training equipments that are available to them at the academy.
PHOTO • Jyoti Shinoli
Right: Many athletes cannot afford shoes and run the races barefoot. 'I bought my first pair in 2019. When I started, I had no shoes, but when I earned some prize money by winning marathons, I got these,' says Chhagan
PHOTO • Jyoti Shinoli

بائیں: اکیڈمی میں خود کے لیے دستیاب طاقت کی ٹریننگ کے آلات دکھاتے ہوئے لڑکے۔ دائیں: بہت سے کھلاڑی جوتے نہیں خرید سکتے اور ننگے پاؤں ہی ریس میں دوڑتے ہیں۔ ’میں نے جوتوں کی پہلی جوڑی ۲۰۱۹ میں خریدی تھی۔ جب میں نے دوڑنا شروع کیا تو میرے پاس جوتے نہیں تھے، لیکن جب میں نے میراتھن جیت کر کچھ انعامی رقم حاصل کی تو ایک جوڑی خرید لی،‘ چھگن کہتی ہیں

Athletes practicing on the Beed bypass road. 'This road is not that busy but while running we still have to be careful of vehicles passing by,' says coach Ravi
PHOTO • Jyoti Shinoli

بیڈ بائی پاس روڈ پرپریکٹس کرتے کھلاڑی۔ کوچ روی کا کہنا ہے کہ ’یہ سڑک اتنی مصروف نہیں ہے لیکن پھر بھی دوڑتے ہوئے وہاں سے گزرنے والی گاڑیوں سے ہمیں محتاط رہنا پڑتا ہے‘

روی کا کہنا ہے کہ وہ پرائیویٹ کوچنگ سے اکیڈمی کے روزمرہ کے اخراجات کا انتظام کرتے ہیں۔ ’’میرے بہت سے طلباء جو اب مشہور و معروف میراتھن رنر ہیں، اپنی انعامی رقم عطیہ کر دیتے ہیں۔‘‘

اپنے محدود مالی وسائل اور سہولیات کے باوجود، اکیڈمی کھلاڑیوں کے لیے غذائیت سے بھرپور خوراک کو یقینی بناتی ہے۔ چکن یا مچھلی ہفتے میں تین سے چار بار فراہم کی جاتی ہے۔ باقی دنوں میں ہری سبزیاں، کیلا، جوار، باجرہ، بھاکری، پھوٹی پھلیاں جیسے مٹکی، مونگ، چنا اور انڈے دیے جاتے ہیں۔

ایتھلیٹ صبح ۶ بجے سے تارکول کی سڑک پر پریکٹس شروع کرتے ہیں اور ۱۰ بجے تک جاری رکھتے ہیں۔ پھر شام کو ۵ بجے کے بعد  وہ اسی سڑک پر تیز رفتار دوڑ کی مشق کرتے ہیں۔ ’’یہ سڑک اتنی مصروف نہیں ہے لیکن دوڑتے ہوئے ہمیں پھر بھی گزرنے والی گاڑیوں سے ہوشیار رہنا پڑتا ہے۔ میں ان کی حفاظت کو لے کر بہت محتاط رہتا ہوں،‘‘ ان کے کوچ وضاحت کرتے ہیں۔ ’’تیز رفتار دوڑ کا مطلب ہے کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ فاصلہ طے کرنا، مثال کے طور پر ۲ منٹ ۳۰ سیکنڈ میں ایک کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنا ضروری ہے۔‘‘

ورشا کے والدین اس دن کے منتظر ہیں جب قومی سطح کی ایتھلیٹ بننے کے ان کی بیٹی کے خواب پورے ہو جائیں گے۔ وہ ۲۰۲۱ کے بعد سے مہاراشٹر میں منعقد ہونے والے کئی میراتھنوں میں حصہ لے رہی ہیں۔ ’’ہم چاہتے ہیں کہ وہ دوڑ میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرے۔ ہم اسے اپنا تمام تر تعاون دے رہے ہیں۔ وہ ہمارا اور ملک کا سر فخر سے بلند کرے گی،‘‘ ان کی ماں خوشی سے کہتی ہیں۔ ’’ہم واقعی اسے مقابلوں میں دوڑتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں۔ ہم دیکھنا چاہتے ہیں کہ وہ کیسی کارکردگی دکھاتی  ہے،‘‘ ان کے شوہر وشنو کہتے ہیں۔

یہ جوڑا سال ۲۰۰۹ میں اپنی شادی کے بعد سے باقاعدگی سے کام کے سلسلے میں ہجرت کرتا تھا۔ جب ورشا (ان کی سب سے بڑی اولاد) تین سال کی تھی، تو وہ گنے کی کٹائی کی مزدوری کے کام کی تلاش میں اپنے گاؤں سے باہر ہجرت کر کے جاتے تھے۔ وہ خیموں میں قیام کرتے اور ہمیشہ مصرف سفر رہتے تھے۔ ’’ٹرکوں میں مسلسل سفر کی وجہ سے ورشا بیمار ہو جاتی تھی، اس لیے ہم نے جانا چھوڑ دیا،‘‘ دیو شالا یاد کرتی ہیں۔ اس کے بجائے انہوں نے گاؤں کے آس پاس کام تلاش کرنا شروع کیا جہاں، ’’عورتوں کو روزانہ ۱۰۰ روپے اور مردوں کو ۲۰۰ روپے ملتے ہیں،‘‘ وشنو کہتے ہیں، جو سال میں چھ مہینے ہجرت کر کے شہر بھی جاتے ہیں۔ ’’میں ناسک اور پونے جاتا ہوں اور سیکورٹی گارڈ کے طور پر یا کسی تعمیراتی مقام پر، یا کبھی کبھی نرسریوں میں کام کرتا ہوں۔‘‘ وشنو ۵ سے ۶ مہینوں کے دوران ۲۰ ہزار سے ۳۰ ہزار روپے کما لیتے ہیں۔ دیو شالا اپنے دوسرے بچوں، ایک لڑکی اور ایک لڑکے، کو اسکول بھیجنے کے لیے یہاں رک جاتی ہیں۔

اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود ورشا کے والدین ورشا کے لیے مناسب جوتوں کی ایک جوڑی فراہم نہیں کر سکے ہیں۔ لیکن نوعمر ایتھلیٹ نے یہ کہتے ہوئے اسے خارج کر دیا کہ ’’میں اپنی رفتار اور دوڑنے کی تکنیک پر زیادہ توجہ دینے کی کوشش کرتی ہوں۔‘‘

Devshala’s eyes fills with tears as her daughter Varsha is ready to go back to the academy after her holidays.
PHOTO • Jyoti Shinoli
Varsha with her father. 'We would really like to see her running in competitions. I wonder how she does it,' he says
PHOTO • Jyoti Shinoli

بائیں: دیو شالا کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر جاتی ہیں، کیونکہ ان کی بیٹی ورشا اپنی چھٹیوں کے بعد اکیڈمی واپس جانے کے لیے تیار ہے۔ دائیں: ورشا اپنے والد کے ساتھ۔ ’ہم واقعی اسے مقابلوں میں دوڑتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں۔ ہم دیکھنا چاہتے ہیں کہ وہ کیسی کارکردگی دکھاتی  ہے ،‘ وہ کہتے ہیں

*****

چھگن بومبَلے ایک میراتھن رنر ہیں، جنہیں ایک جوڑی جوتا خریدنے کے لیے اپنی پہلی ریس جیتنے تک انتظار کرنا پڑا۔ ’’میں نے جوتوں کی اپنی پہلی جوڑی ۲۰۱۹ میں خریدی تھی۔ جب میں نے دوڑنا شروع کیا، تو میرے پاس جوتے نہیں تھے، لیکن جب میں نے میراتھن جیت کر کچھ انعامی رقم حاصل کی تو جوتا خرید لیا،‘‘ وہ اپنے پیروں میں موجود نہایت ہی بوسیدہ جوتوں کی جوڑی دکھاتے ہوئے کہتے ہیں۔

اندھ قبیلے سے تعلق رکھنے والے اس ۲۲ سالہ کھلاڑی کے والدین زرعی مزدور ہیں، اور ان کی فیملی ہنگولی ضلع کے کھمبالا گاؤں میں رہتی ہے۔

اب ان کے پاس جوتے ہیں، لیکن بغیر جرابوں کے، جنہیں وہ نہیں خرید سکتے۔ وہ چیتھڑے ہو چکے تلووں کے نیچے اسفالٹ کی سڑک کو محسوس کر سکتے ہیں۔ ’’یقینا، یہ تکلیف دیتے ہیں۔ مصنوعی ٹریک اور اچھے جوتے دونوں تحفظ  فراہم کرتے ہیں اور چوٹیں کم لگتی ہیں،‘‘ وہ اس رپورٹر کو اپنی حقیقت سے آگاہ کرتے ہیں۔ ’’ہم اپنے والدین کے ساتھ کھیت میں بغیر چپل کے کام کرنے، گھومنے پھرنے، کھیلنے اور پہاڑیوں پر چڑھنے کے عادی ہیں۔ لہذا، یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے،‘‘ وہ اکثر لگنے والے زخموں کو خارج کرتے ہوئے کہتے ہیں۔

چھگن کے والدین، ماروتی اور بھاگیرتا کے پاس کوئی زمین نہیں ہے۔ وہ زرعی مزدوری سے ملنے والی اجرت پر انحصار کرتے ہیں۔ ’’کبھی ہم کسی کھیت میں کام کرتے ہیں۔ کبھی کسانوں کے بیلوں کو چرانے کے لیے لے جاتے ہیں۔ کوئی بھی کام جو ہمارے پاس آتا ہے ہم کر لیتے ہیں، ’’ماروتی کہتے ہیں۔ وہ دونوں مل کر ۲۵۰ روپے یومیہ کماتے ہیں۔ اور انہیں مہینے میں صرف ۱۰ سے ۱۵ دن کا ہی کام مل پاتا ہے۔

ان کے رنر بیٹے چھگن اپنے کنبے کی کفالت کے لیے شہر، تعلقہ، ریاستی اور ملکی سطح پر بڑی اور چھوٹی میراتھنوں میں حصہ لیتے رہتے ہیں۔ ’’پہلے تین فاتحین کو انعامی رقم ملتی ہے۔ کبھی ۱۰ ہزار روپے، کبھی ۲۵ ہزار روپے،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ ’’مجھے سال میں ۸ سے ۱۰ مقابلوں میں حصہ لینے کا موقع ملتا ہے۔ ہر ایک کو جیتنا مشکل ہے۔ میں نے ۲۰۲۲ میں دو مقابلے جیتے اور تین دیگر میں رنر اپ رہا۔ تب میں نے تقریباً ۴۲ ہزار روپے کمائے تھے۔‘‘

Left: 22-year-old marathon runner Chhagan Bomble from Andh tribe in Maharashra
PHOTO • Jyoti Shinoli
Right: Chhagan’s house in Khambala village in Hingoli district. His parents depend on their earnings from agriculture labour to survive
PHOTO • Jyoti Shinoli

بائیں: مہاراشٹر کے اندھ قبیلے سے تعلق رکھنے والے ۲۲ سالہ میراتھن رنر چھگن بومبلے۔ دائیں: ہنگولی ضلع کے کھمبالا گاؤں میں چھگن کا گھر۔ ان کے والدین زندہ رہنے کے لیے زرعی مزدوری سے حاصل ہونے والی کمائی پر منحصر ہیں

کھمبالا گاؤں میں چھگن کے ایک کمرے کا گھر میڈل اور ٹرافیوں سے بھرا ہوا ہے۔ ان کے والدین ان کے میڈل اور سرٹیفکیٹ پر بہت فخر کرتے ہیں۔ ’’ہم اناڑی [ناخواندہ] لوگ ہیں۔ میرا بیٹا دوڑ کر زندگی میں کچھ حاصل کرے گا،‘‘ ۶۰ سالہ ماروتی کہتے ہیں۔ ’’یہ سونے سے بھی زیادہ قیمتی ہے،‘‘ چھگن کی ۵۶ سالہ ماں بھاگیرتا اپنے چھوٹے سے کچے مکان کے فرش پر پھیلے ہوئے میڈل اور سرٹیفکیٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ہنستی ہیں۔

چھگن کہتے ہیں، ’’میں بڑے مقابلوں کی تیاری کر رہا ہوں۔ مجھے اولپمک میں حصہ لینا ہے۔‘‘ ان کی آواز میں ایک مخصوص عزم ہے۔ لیکن انہیں مشکلات کا اندازہ ہے۔ ’’ہمیں کم از کم کھیلوں کی بنیادی سہولیات کی ضرورت ہے۔ ایک رنر کے لیے سب سے بہتر کارکردگی کا مطلب کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ فاصلہ طے کرنا ہوتا ہے۔ اور مٹی یا تارکول کی سڑکوں کا وقت مصنوعی ٹریک سے مختلف ہوتا ہے۔ نتیجے کے طور پر، قومی اور بین الاقوامی دوڑ کے مقابلوں یا اولمپکس کے لیے منتخب ہونا مشکل ہو جاتا ہے،‘‘ وہ تفصیل سے بتاتے ہیں۔

پربھنی کے ان ابھرتے ہوئے ایتھلیٹوں کو طاقت کی ٹریننگ کے لیے دو ڈمبل اور چار پی وی سی جم پلیٹوں سے اپنا کام چلانا پڑ رہا ہے۔ ’’پربھنی ہی نہیں، پورے مراٹھواڑہ میں ریاستی حکومت کی ایک بھی اکیڈمی نہیں ہے،‘‘ روی بتاتے ہیں۔

وعدے اور پالیسیاں تو بہت ہیں۔ سال ۲۰۱۲ میں بنی ریاست کی کھیل کود پالیسی کو اب ۱۰ سال سے زیادہ ہو چکے ہیں، جس کے تحت تعلقہ سطح پر کھیلوں کا بنیادی ڈھانچہ فراہم کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ کھیلو انڈیا کے آنے کے بعد بھی حالات تبدیل نہیں ہوئے، جس کے تحت مہاراشٹر حکومت کو ۳۶ کھیلو انڈیا سنٹر (ہر ضلع میں ایک) بنانے کے لیے ۶۳ کروڑ روپے فراہم کیے گئے تھے۔

Left: Chhagan participates in big and small marathons at city, taluka, state and country level. His prize money supports the family. Pointing at his trophies his mother Bhagirata says, 'this is more precious than any gold.'
PHOTO • Jyoti Shinoli
Right: Chhagan with his elder brother Balu (pink shirt) on the left and Chhagan's mother Bhagirata and father Maruti on the right
PHOTO • Jyoti Shinoli

بائیں: چھگن لگاتار شہر، تعلقہ، ریاستی اور ملکی سطح پر بڑے اور چھوٹے میراتھنوں میں حصہ لیتے ہیں۔ ان کی انعامی رقم کنبے کی کفالت میں کام آتی ہے۔ ان کی ٹرافی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ان کی ماں بھاگیرتا کہتی ہیں، ’یہ سونے سے بھی زیادہ قیمتی ہے۔‘ دائیں: بڑے بھائی بالو اور چھگن بائیں طرف کھڑے ہیں اور چھگن کی ماں بھاگیرتا اور باپ ماروتی بائیں طرف

ہندوستان میں ’کھیلوں کے پاور ہاؤس‘ مہاراشٹر کے دیہی علاقوں میں بین الاقوامی معیار کے ۱۲۲ نئے اسپورٹس کمپلیکس کا وجود میں آنا ابھی باقی ہے۔ ان کمپلیکس کا اعلان وزیر اعلی ایکناتھ شندے نے جنوری ۲۰۲۳ میں مہاراشٹر اسٹیٹ اولمپک گیمز کے آغاز کے دوران کیا تھا۔

پربھنی کے ضلع اسپورٹس آفیسرنریندر پوار ٹیلی فون پر بتاتے ہیں، ’’ہم اکیڈمی بنانے کے لیے جگہ تلاش کر رہے ہیں۔ اور تعلقہ سطح کے اسپورٹس کمپلیکس کی تعمیر جاری ہے۔‘‘

اکیڈمی میں زیر تربیت ایتھلیٹوں کو نہیں معلوم کہ انہیں کس پر یقین کرنا چاہیے۔ چھگن کہتے ہیں، ’’یہ بات افسوسناک ہے کہ جب ہم اولمپکس میں میڈل جیتتے ہیں تو سیاستداں، یہاں تک کہ عام شہری بھی ہماری موجودگی کو تسلیم کرتے ہیں۔ لیکن تب تک ہم گمنام ہی رہتے ہیں۔ کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے کے لیے ہماری جدوجہد نظر نہیں آتی۔ میں نے اس بات کو اس وقت اور شدت سے محسوس کیا جب اولمپئن پہلوانوں کو انصاف کے لیے لڑتے اور ان کی حمایت کی بجائے ان کے ساتھ وحشیانہ سلوک ہوتے دیکھا۔‘‘

وہ مسکراتے ہوئے کہتے ہیں ، ’’لیکن ہم کھلاڑی پیدائشی طور پر بہادر ہوتے ہیں۔ مصنوعی رننگ ٹریک ہو یا کسی جرم کے خلاف انصاف کا معاملہ ہو، ہم اپنی آخری سانس تک لڑنا نہیں چھوڑیں گے۔‘‘

مترجم: شفیق عالم

Jyoti Shinoli is a Senior Reporter at the People’s Archive of Rural India; she has previously worked with news channels like ‘Mi Marathi’ and ‘Maharashtra1’.

Other stories by Jyoti Shinoli
Editor : Pratishtha Pandya

Pratishtha Pandya is a Senior Editor at PARI where she leads PARI's creative writing section. She is also a member of the PARIBhasha team and translates and edits stories in Gujarati. Pratishtha is a published poet working in Gujarati and English.

Other stories by Pratishtha Pandya
Translator : Shafique Alam

Shafique Alam is a Patna based freelance journalist, translator and editor of books and journals. Before becoming a full-time freelancer, he has worked as a copy-editor of books and journals for top-notched international publishers, and also worked as a journalist for various Delhi-based news magazines and media platforms. He translates stuff interchangeably in English, Hindi and Urdu.

Other stories by Shafique Alam