01-TOI-FS 21-PS-Godavari-and the police still await an attack.jpg

رمپا کے محروم کیے جا چکے قبائلی۔ زمین کا مسئلہ مغربی گوداوری میں پیدا ہو رہا ہے اور یہاں مشرق میں زور پکڑ رہا ہے


ہم جیسے ہی جیپ سے نیچے اُترے، قلعہ بند راجا وومنگی پولس اسٹیشن کے اندر سپاہیوں نے گھبرا کر اپنی اپنی پوزیشن لے لی۔ یہ اسٹیشن خود ہی پولس کی نگرانی میں ہے۔ خصوصی مسلح پولس اس کو چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہے۔ یہ دیکھ کر بھی کہ ہم صرف کیمرہ سے لیس ہیں، ان کا تناؤ کم نہیں ہوا۔ مشرقی گوداوری کے اس حصہ میں پولس اسٹیشن کی فوٹوگرافی کرنا ممنوع ہے۔

اندرونی گلیارے کی سیکورٹی پر مامور، ہیڈ کانسٹیبل نے یہ جاننا چاہا کہ ہم کون لوگ ہیں۔ صحافی؟ ماحول تھوڑا نرم ہوا۔ ’’آپ دیر سے کارروائی نہیں کر رہے ہیں؟‘‘ میں نے سوال کیا۔ ’’آپ کے اسٹیشن پر تو ۷۵ سال پہلے حملہ ہوا تھا۔‘‘

’’کون جانتا ہے؟‘‘ اس نے فلسفیانہ انداز میں کہا۔ ’’آج دوپہر کو بھی یہ ہو سکتا ہے۔‘‘

آندھرا پردیش کے اس قبائلی علاقے کو ’’ایجنسی‘‘ ایریا کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اگست ۱۹۲۲ میں یہاں کے لوگوں نے بغاوت کر دی تھی۔ شروع میں جو کچھ مقامی غصے کی وجہ سے ہوا، اس نے بعد میں وسیع سیاسی معنی اختیار کر لیا۔ ایک غیر آدیواسی، ایلوری رام چندر راجو (جنھیں لوگ سیتا رام راجو کے نام سے جانتے ہیں)، نے منیم بغاوت کی قیادت کی تھی۔ مقامی لوگ اسے اسی نام سے یاد کرتے ہیں۔ یہاں، لوگ صرف مسائل کا حل ہی نہیں چاہتے تھے۔ ۱۹۲۲ تک آتے آتے، انھوں نے خود راج (برطانوی حکومت) کو اکھاڑ پھینکنے کی لڑائی شروع کر دی۔ باغیوں نے ایجنسی ایریا میں موجود متعدد پولس اسٹیشنوں، جس میں سے ایک راجا وومنگی کا پولس اسٹیشن بھی ہے، پر حملے کرکے اپنے مقاصد کا اظہار کر دیا تھا۔

اس علاقہ کے بہت سے مسائل، جس کی وجہ سے لوگوں نے انگریزوں سے لڑائی لڑی، وہ ۷۵ سالوں کے بعد اب بھی موجود ہیں۔


02-MISC-13 02A-PS-Godavari-and the police still await an attack.jpg

مشرقی گوداوری میں سیتا رام راجو کا مجسمہ


راجو کے ننگ دھڑنگ ساتھیوں نے گوریلا جنگ میں انگریزوں کو مات دے دی تھی۔ ان سے مقابلہ کرنے میں ناکام انگریزوں نے بغاوت کو کچلنے کے لیے مالابار اسپیشل فورس کو وہاں بلا لیا۔ یہ دستہ جنگل میں لڑنے میں ماہر تھا اور وائرلیس سیٹ سے لیس تھا۔ اس بغاوت کا خاتمہ ۱۹۲۴ میں راجو کی موت سے ہوا۔ پھر بھی، انگریزوں کے لیے، جیسا کہ تاریخ نویس ایم وینکٹا رنگیا نے لکھا ہے: ’’اس نے عدم تعاون کی تحریک سے زیادہ پریشانی کھڑی کی۔‘‘

اس سال سیتا رام راجو کی ۱۰۰ویں سالگرہ ہے، انھیں ۲۷ سال کی عمر میں ہی ہلاک کر دیا گیا تھا۔


03-MISC-13 24A-PS-Godavari-and the police still await an attack.jpg

کرشنا دیوی پیٹ میں سیتا رام راجو کی سمادھی (مزار)


نوآبادیاتی حکومت نے پہاڑی قبیلوں کو برباد کر دیا۔ ۱۸۷۰ اور ۱۹۰۰ کے درمیان، راج نے بہت سے جنگلات کو ’’ذخائر‘‘ قرار دے دیا اور پوڈو (منتقلی) کاشت کاری پر پابندی لگا دی۔ جلد ہی انھوں نے آدیواسیوں کو جنگل کی چھوٹی پیداوار جمع کرنے کے حق سے محروم کر دیا۔ محکمہ جنگلات اور اس کے ٹھیکہ داروں نے اس حق کو چھین لیا۔ اس کے بعد، انھوں نے آدیواسیوں کے درمیان سے زبردستی مزدوروں کو اپنے یہاں کام پر لگانا شروع کیا، اکثر بغیر کسی اجرت کے۔ یہ پورا علاقہ غیر آدیواسیوں کے قبضے میں چلا گیا۔ اکثر، سزا کے طور پر ان کی زمینیں ان سے چھین لی جاتی تھیں۔ اس طرح کے قدموں سے پورے علاقے کی اقتصادیات چرمرا گئی۔

’’بے زمین لوگ آج سب سے زیادہ پریشان ہیں،‘‘ رمایَمّا بتاتی ہیں، جو کہ رمپا کی ایک کویا آدیواسی ہیں۔ ’’۵۰ سال پہلے کیا حالت تھی، میں نہیں جانتی۔‘‘

راجو کے لیے رمپا منظر عام پر آنے کی جگہ تھی۔ ۱۵۰ گھروں والے اس چھوٹے سے گاؤں میں، رما یمّا سمیت تقریباً ۶۰ لوگوں کے پاس اپنی زمین نہیں ہے۔

ایسا ہمیشہ نہیں تھا۔ ’’ہمارے ماں باپ نے تقریباً ۱۰ روپے کا قرض لینے کی وجہ سے اپنی زمین کھودی،‘‘ وہ بتاتی ہیں۔ اور، ’’آدیواسیوں کے بھیس میں آنے والے باہری لوگ ہماری زمینوں پر قبضہ کر رہے ہیں۔‘‘ یہاں جس کے پاس سب سے زیادہ زمین تھی، وہ میدانی علاقوں سے یہاں آیا تھا اور ریکارڈ آفس میں کام کرتا تھا۔ اس نوکری نے اسے اس علاقے کی زمینوں کے کاغذات تک رسائی مہیا کی۔ اور لوگوں کا ماننا ہے کہ اس نے ان کاغذات کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی تھی۔ اب اس کی فیملی کھیتی کے موسم میں ہر روز تقریباً ۳۰ لوگوں سے مزدوری کراتی ہے۔ ایک ایسے گاؤں میں یہ ایک انوکھی بات ہے، جہاں پر لوگوں کے پاس زیادہ سے زیادہ تین ایکڑ یا اس سے بھی کم زمین ہے۔

زمین کا مسئلہ مغربی گوداوری ضلع میں پیدا ہو رہا ہے۔ اور مشرق میں پھیل رہا ہے۔ ایک آدیواسی ترقیاتی ایجنسی افسر کا کہنا ہے کہ آدیواسیوں کی زیادہ تر زمین، ’’آزادی کے بعد ختم ہوگئی، حالانکہ ان کے حقوق کی حفاظت کی جانی چاہیے تھی۔‘‘ اس علاقے کی تقریباً ۳۰ فیصد زمین ۱۹۵۹ سے ۱۹۷۰ کے درمیان خرد برد ہوئی۔ عجیب بات ہے کہ ’’ ۱۹۵۹ کا آندھرا پردیش اسٹیٹ لینڈ ٹرانسفر ریگولیشن ایکٹ بھی اسے نہیں روک سکا۔‘‘ یہ قانون، جو ریگولیشن ۷۰؍۱ کے نام سے مشہور ہے، اس کا بنیادی مقصد اسی کو روکنا تھا۔ اب اس قانون کو مزید ہلکا کرنے کی کوشش چل رہی ہے۔


04-TOI-FS 27-PS-Godavari-and the police still await an attack.jpg

رمپا کے ایک اور بے زمین گھرانے کی پی کرشنمّا اپنی فیملی کی موجودہ جدوجہد کے بارے میں بتاتی ہیں


آدیواسیوں اور غیر آدیواسیوں کی لڑائی پیچیدہ ہے۔ یہاں پر غیر آدیواسی غریب بھی ہیں۔ تناؤ کے باوجود، اب تک وہ آدیواسیوں کے غصے کا شکار نہیں ہوئے ہیں۔ اس کا تعلق تاریخ سے ہے۔ بغاوت کے دوران راجو نے یہ ہدایات جاری کی تھیں کہ صرف انگریزوں اور سرکاری اداروں پر حملے کیے جائیں گے۔ رمپا کے باغیوں کی نظر میں ان کی جنگ صرف انگریزوں سے تھی۔

آج، غیر آدیواسیوں کا خوشحال طبقہ قبائلیوں اور خود اپنے لوگوں، دونوں کا ہی استحصال کرتا ہے۔ اور یہاں کی ادنیٰ نوکرشاہی بنیادی طور پر غیر آدیواسیوں پر مشتمل ہے۔ ریگولیشن ۷۰؍۱ کے توڑ بھی نکال لیے گئے ہیں۔ ’’زمین کو پٹّہ پر دینے کا رواج یہاں عام ہے،‘‘ کونڈا پلّی گاؤں کی بے زمین کویا آدیواسی پوٹّاو کامراج بتاتی ہیں۔ پٹّہ پر دی گئی زمین شاید ہی کبھی اپنے مالک کے پاس واپس لوٹتی ہے۔ بعض باہری لوگ قبائلی زمین پر قبضہ کرنے کے لیے آدیواسی عورت کو اپنی دوسری بیوی بنا لیتے ہیں۔ کونڈا پلّی سیتارام راجو کے اثر والے علاقے میں پڑتا ہے۔ انگریزوں نے یہاں سے باغیوں کو انڈمان جزیرے میں بھیج دیا، جس سے سارے قبیلے بکھر گئے اور گاؤں تباہ ہو گیا۔

آدیواسی برادریوں کو اس طرح الگ کردینے کا مطلب ہے اس زمانے کی ڈائریکٹ مشہور یادوں کو منتشر کر دینا۔ لیکن راجو کا نام اب بھی جادو بکھیر رہا ہے۔ اور مسائل جوں کے توں ہیں۔ چھوٹی جنگلاتی پیداوار کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے،‘‘ ویزاگ ضلع کے مامپا گاؤں کے کامراجو سومولو مذاقیہ انداز میں کہتے ہیں۔ ’’یہاں پر اب بہت کم جنگل بچا ہے۔‘‘ بقول رما یمّا، اس کا مطلب ہے غریبوں کی پریشانیوں میں مزید اضافہ، کیوں کہ جہاں وہ رہتے ہیں، وہاں انھیں ’’غذا کے طور پر صرف کانجی واٹر دستیاب ہے۔‘‘ مشرقی گوداوری کا ہندوستان کے امیر دیہی ضلعوں میں شمار ہونا، ان کے لیے کس بھی طرح فائدہ مند نہیں ہے۔


05-TOI-FS 17 & TOI-FS 09-PS-Godavari-and the police still await an attack.jpg

غریبوں کے پاس ’’اکثر کھانے کے طور پر صرف کانجی واٹر دستاب ہوتا ہے،‘‘ رمپا کی بے زمین کویا آدیواسی رمایما (بائیں) بتاتی ہیں۔ ’’امیر لوگ ہمیشہ ایک جگہ جمع ہوتے ہیں،‘‘ کونڈا پلی گاؤں کی بے زمین کویا آدیواسی پوٹاو کامراج (دائیں) کہتے ہیں۔


آدیواسیوں کے درمیان بھی اب درجہ بندی شروع ہو گئی ہے۔ ’’امیر کویا قبائلی اپنی زمین پٹّے پر ہمیں نہیں دیتے، بلکہ باہری لوگوں کو دے دیتے ہیں،‘‘ کونڈا پلی کے پوٹاو کامراج بتاتے ہیں۔ ’’امیر ہمیشہ اکٹھے ہوتے ہیں۔‘‘ سرکاری نوکریاں کم ہی آدیواسیوں کو ملتی ہیں۔ اور ان علاقوں کے بے زمین مزدوروں کو سال کے کئی مہینوں تک کوئی کام نہیں ملتا۔

اُجرت کو لے کر مغربی گوداوری میں جدوجہد شروع ہو چکی ہے، جو مشرقی علاقے تک بھی پھیل سکتی ہے۔ اس کے علاوہ، امیر غیر آدیواسی بعض قبائلی سرداروں کو چن رہے ہیں۔ مامپا میں، پنچایت کا صدر، جو ایک آدیواسی ہے، اب ایک بڑا زمیندار ہے۔ اس کی فیملی کے پاس تقریباً ۱۰۰ ایکڑ زمین ہے۔ ’’وہ پوری طرح باہری لوگوں کے ساتھ ہے۔‘‘ سومولو بتاتے ہیں۔

راج ایلوری سیتا رام راجو کا ان کی زندگی میں انتخاب کرنے میں ناکام رہا۔ انھیں ۵۰ ایکڑ زرخیز دینا بھی کوئی کام نہ آیا۔ انگریز اس بات کا پتہ نہیں لگا سکے کہ وہ آدمی جس کی کوئی ذاتی پرخاش نہیں تھی، اسے آدیواسیوں سے اتنا لگاؤ کیوں تھا۔ انگریزوں کی ایک رپورٹ میں یہ تک کہا گیا تھا کہ وہ ’’کسی کلکتہ خفیہ سوسائٹی کا ممبر تھا‘‘۔ راج کے علاوہ، میدانی علاقوں کے کچھ لیڈر، جس میں کانگریس کے ٹاپ لیڈر شامل تھے، نے ان کی (راجو کی) مخالفت کی تھی۔ کئی نے ۲۴۔۱۹۲۲ میں ان کی بغاوت کو کچلنے کا اعلان بھی کیا تھا۔ مدراس لیجسلیٹو کونسل میں، سی آر ریڈی جیسے لیڈروں نے کہا تھا کہ جب تک اس بغاوت کو کچل نہ دیا جائے، اس کے اسباب کی جانچ نہیں کی جانی چاہیے۔

تاریخ نویس مرلی اتلوری تو یہاں تک کہتے ہیں کہ خود ’’قوم پرست‘‘ پریس بھی ان سے عداوت رکھتا تھا۔ تیلگو جریدہ، دی کانگریس، نے لکھا تھا کہ اگر اس بغاوت کو کچل دیا گیا، تو اسے ’’خوشی‘‘ ہوگی۔ ’آندھرا پتریکا‘ نے اس بغاوت پر حملہ کیا۔


07-MISC-13 25A-PS-Godavari-and the police still await an attack.jpg

سیتا رام راجو کا ٹوٹا ہوا مزار (سمادھی)


انتخاب کی کارروائی مرنے کے بعد ہوئی، جیسا اتلوری دکھاتے ہیں۔ جب انھیں مار دیا گیا، تو آندھرا پتریکا نے راجو کے لیے ’’ولہلّا سے روحانی مسرت‘‘ مانگی۔ ستیہ گرہیوں نے ان کا موازنہ جارج واشنگٹن سے کیا۔ کانگریس نے انھیں شہید کا درجہ عطا کیا۔ ان کی وراثت کو اپنے نام کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ ریاستی حکومت ان کے ۱۰۰ویں یومِ پدائش پر اس سال کافی پیسہ خرچ کرنے والی ہے۔ اس کے اندر کے بعض لوگ تو ریگولیشن ۷۰؍۱ میں ترمیم کرنے تک کی بات کر رہے ہیں، اس سے آدیواسیوں کو مزید نقصان اٹھانا پڑے گا۔

کرشنا دیوی پیٹ میں راجو کی سمادھی کے بزرگ کیئرٹیکر (نگراں) گجالا پیڈپّن، کو تین سالوں سے تنخواہ نہیں ملی ہے۔ اس علاقہ کے لوگوں میں عام غصہ دنوں دن بڑھتا جا رہا ہے۔ ویزاگ۔مشرقی گوداوری سرحد پر، کٹّر لیفٹسٹوں کا اثر بڑھتا جا رہا ہے۔

’’ہمارے اجداد نے ہمیں بتایا تھا کہ سیتا رام راجو قبائلیوں کے لیے کس طرح لڑے تھے،‘‘ کونڈا پلّی کے پوٹاو کامراج بتاتے ہیں۔ کیا کامراج اپنی زمینیں واپس لینے کے لیے آج لڑیں گے؟ ’’ہاں۔ ہم جب بھی ایسا کرتے ہیں تو پولس ہمیشہ نائڈوؤں اور امیروں کی مدد کرتی ہے۔ لیکن ہمیں اپنی طاقت پر بھروسہ ہے، اور ایک نہ ایک دن ہم ضرور لڑیں گے۔‘‘


08-MISC-13 12A-PS-Godavari-and the police still await an attack.jpg

سیتا رام راجو کا مجسمہ

 

لگتا ہے کہ ہیڈ کانسٹیبل کا پولس اسٹیشن پر حملہ ہونے کا خدشہ صحیح تھا۔ یہ حملہ آج دوپہر کو بھی ہو سکتا ہے۔

 

یہ اسٹوری سب سے پہلے ٹائمز آف انڈیا کے ۲۶ اگست، ۱۹۹۷ کے شمارہ میں شائع ہوئی۔

ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @Tabrez_Alig You can contact the translator here:

پی سائی ناتھ ’پیپلز آرکائیو آف رورل انڈیا‘ کے بانی ایڈیٹر ہیں۔ وہ کئی دہائیوں سے دیہی ہندوستان کے رپورٹر رہے ہیں اور ’ایوری باڈی لوز گُڈ ڈراٹ‘ نامی کتاب کے مصنف ہیں۔ ان سے یہاں پر رابطہ کیا جا سکتا ہے: @PSainath_org

Other stories by P. Sainath