دیہی ہندوستانی، آزادی کے پیدل سپاہی تھے اور برطانوی حکومت کے خلاف اب تک کی سب سے بڑی لڑائیوں میں سے کچھ کے قائد بھی تھے۔ ان میں سے بے شمار لوگوں نے ہندوستان کو انگریزی حکومت سے آزاد کرانے کے لیے اپنی جان تک قربان کر دی۔ اور ان میں سے کئی، جو ان سخت مظالم کے باوجود ہندوستان کو آزاد ہوتا دیکھنے کے لیے بچ گئے، انہیں بھی جلد ہی بھُلا دیا گیا۔ ۱۹۹۰ کی دہائی کے بعد سے، میں نے آخری باحیات مجاہدینِ آزادی میں سے کئی کی زندگی کو ریکارڈ کیا۔ یہاں آپ کو ان میں سے پانچ کی کہانیاں پڑھنے کو ملیں گی:

جب ’سالیہان‘ نے برطانوی حکومت سے لوہا لیا

دیمتی دیئی سبر اور ان کی سہیلیوں نے اوڈیشہ کے نواپاڑہ میں بندوق بردار انگریز افسروں کو لاٹھیوں سے پیٹا تھا

۱۴ اگست، ۲۰۱۵ | پی سائی ناتھ

پَنی مارہ کے آزادی کے پیدل سپاہی – ۱

جب اوڈیشہ کے غریب دیہی باشندوں نے سمبل پور کورٹ پر قبضہ کر لیا اور اسے چلانے کی کوشش کی

۲۲ جولائی، ۲۰۱۴ | پی سائی ناتھ

پَنی مارہ کے آزادی کے پیدل سپاہی – ۲

اوڈیشہ کی چھوٹی سی بستی، جس نے ’آزادی گاؤں‘ نام پایا

۲۲ جولائی، ۲۰۱۴ | پی سائی ناتھ

لکشمی پانڈا کی آخری لڑائی

آئی این اے کی بدحال مجاہدِ آزادی، جن کا مطالبہ صرف اتنا تھا کہ ملک ان کی قربانی کو تسلیم کرے، جس کی وجہ سے اس بزرگ سپاہی کی لڑائی آزادی کے چھ سال بعد بھی جاری رہی

۵ اگست، ۲۰۱۵ | پی سائی ناتھ

عدم تشدد اور ستیہ گرہ کی شاندار نَو دہائیاں

باجی محمد، جن کی عدم تشدد پر مبنی لڑائی آزادی کے ۶۰ سال بعد تک جاری رہی

۱۴ اگست، ۲۰۱۵ | پی سائی ناتھ

اس کے ساتھ ہی پانچ دیگر کہانیوں کا ایک سیٹ بھی ہے، جو سب سے پہلے ٹائمز آف انڈیا میں شائع ہوئی تھیں، انہیں یہاں مزید تصویروں کے ساتھ پھر سے شائع کیا جا رہا ہے۔ اس ’بُھلائی جا چکی آزادی‘ سیریز کا تانا بانا اُن گاؤوں کے ارد گرد بُنا گیا ہے جو عظیم بغاوتوں کا گہوارہ تھے۔ ہندوستانی جدوجہد آزادی، صرف شہری امیروں کا مسئلہ نہیں تھا اور نہ ہی انہی عوامی گروہوں تک محدود تھا۔ دیہی ہندوستانیوں نے اس میں کہیں بڑی تعداد میں حصہ لیا اور ان کی لڑائی میں آزادی کے معنی کچھ اور بھی تھے۔ مثال کے طور پر، ۱۸۵۷ کی کئی لڑائیاں گاؤوں میں تب لڑی جا رہی تھیں، جب ممبئی اور کولکاتا کے شرفاء انگریزوں کی کامیابی کے لیے دعائیں کر رہے تھے۔ آزادی کے ۵۰ویں سال، یعنی ۱۹۹۷ میں، میں نے اُن میں سے کچھ گاؤوں کا دورہ کیا جہاں کے بارے میں آپ کو درج ذیل کہانیاں پڑھنے کو ملیں گی:

شیرپور: جن کی قربانیاں فراموش کر دی گئیں

اتر پردیش کا وہ گاؤں جس نے ۱۹۴۲ میں جھنڈا لہرایا اور اس کا خمیازہ بھگتا

۱۴ اگست، ۲۰۱۵ | پی سائی ناتھ

گوداوری: اور پولیس کو اب بھی حملے کا انتظار ہے

آندھرا کے رمپا سے َالّوری سیتارام راجو نے انگریزوں کے خلاف ایک بڑی بغاوت کی قیادت کی

۱۴ اگست، ۲۰۱۵ | پی سائی ناتھ

سوناکھن: دو بار ہوا ویر نارائن کا قتل

چھتیس گڑھ میں، ویر نارائن سنگھ نے بھیک نہیں مانگی، لیکن انصاف کے لیے لڑتے ہوئے اپنی جان دے دی

۱۴ اگست، ۲۰۱۵ | پی سائی ناتھ

کَلِّیاسِّیری: سومُکن کی تلاش میں

وہ گاؤں جس نے ہر محاذ پر لڑائی لڑی، انگریزوں، مقامی زمینداروں، اور ذات پات کے خلاف

۱۴ اگست، ۲۰۱۵ | پی سائی ناتھ

کَلِّیاسِّیری: آزادی کے اتنے سال بعد بھی جاری ہے جدوجہد

جب شکاریوں کے دیوتا نے کیرالہ کے کمیونسٹوں کو برطانوی راج مخالف لڑائی میں پناہ دی

۱۴ اگست، ۲۰۱۵ | پی سائی ناتھ

پاری، آخری باحیات مجاہدینِ آزادی، جو اَب اپنی عمر کے ۹۰ویں سال میں ہیں یا اس سے زیادہ عمر کے ہیں، کا پتہ لگانے اور ان کی زندگی کو دستاویز کی شکل میں درج کرنے کی لگاتار کوشش کر رہا ہے۔

مترجم: محمد قمر تبریز

پی سائی ناتھ ’پیپلز آرکائیو آف رورل انڈیا‘ کے بانی ایڈیٹر ہیں۔ وہ کئی دہائیوں سے دیہی ہندوستان کے رپورٹر رہے ہیں اور ’ایوری باڈی لوز گُڈ ڈراٹ‘ نامی کتاب کے مصنف ہیں۔ ان سے یہاں پر رابطہ کیا جا سکتا ہے: @PSainath_org

کے ذریعہ دیگر اسٹوریز پی۔ سائی ناتھ
Translator : Mohd. Qamar Tabrez

محمد قمر تبریز، پیپلز آرکائیو آف رورل انڈیا کے ہندی/اردو کے ٹرانسلیشنز ایڈیٹر ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف ہیں، اور ’روزنامہ میرا وطن‘، ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لال نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔

کے ذریعہ دیگر اسٹوریز Mohd. Qamar Tabrez