کَلِّیاسِّیری نے لڑنا کبھی بند نہیں کیا۔ ۱۹۴۷ کے بعد بھی نہیں۔ کیرالہ کے شمالی مالابار میں واقع اس گاؤں نے کئی محاذوں پر لڑائی لڑی ہے۔ جدوجہد آزادی کے وقت اس نے انگریزوں کو چیلنج کیا۔ اس علاقے میں کسانوں کی تحریک اپنے عروج پر تھی، تو اس نے ’جنمیوں‘ (زمینداروں) سے لوہا لیا۔ لیفٹسٹوں کے ذریعہ چھیڑی گئی لڑائی میں، اس نے ذات پات کا مقابلہ کیا۔
کے پی آر رائے رَپّن سوال کرتے ہیں، ’’ہم یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ آزادی کی لڑائی ۱۹۴۷ میں ہی ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئی؟‘‘ رائے رَپّن اُس دور کی تمام لڑائیوں کے دوران ایک اہم شخص تھے۔ ’’اصلاح اراضی کی لڑائی ابھی بھی باقی تھی۔‘‘ رائے رَپّن ۸۶ سال کے ہو چکے ہیں، لیکن انہیں آگے ایسی اور لڑائی دکھائی دے رہی ہے۔ اور وہ ان سب میں شریک ہونا چاہتے ہیں۔ قوم کو خود کفیل بننے کی اپیل کرنے کے لیے، انہوں نے ۸۳ سال کی عمر میں کاسرگوڑ سے ترواننت پورم تک ۵۰۰ کلومیٹر پیدل مارچ کیا تھا۔
وہ دو واقعات جن کی وجہ سے کلیاسیری میں تبدیلی کی لہر آئی، اب بھی ان کے دماغ میں تازہ ہے۔ پہلا واقعہ، ۱۹۲۰ کی دہائی کے شروع میں منگلور میں گاندھی کی آمد تھی۔ انہیں سننے کے لیے اسکولی بچوں سمیت بہت سے لوگ وہاں پہنچے تھے۔ رائے رَپّن کہتے ہیں، ’’تب ہم سبھی کانگریس کے ساتھ تھے۔‘‘
دوسرا واقعہ، ’’ایک چھوٹے سے دلت لڑکے، سومُکن کی پٹائی کا تھا، جو ہمارے بورڈ اسکول میں داخلہ لینا چاہتا تھا۔ اونچی ذات کے لوگوں نے اس کی اور اس کے بھائی کی پٹائی کردی کہ انہوں نے اسکول میں آنے کی ہمت کیسے کی۔‘‘
ذات پات سے متعلق مظالم زیادہ تر وسائل پر قبضہ کو لیکر ہوتے تھے۔ خاص طور سے زمین کو لیکر۔ مالابار ضلع کے چِرَکّل تعلقہ میں واقع کلیاسیری ’جنمی‘ دہشت کا مرکز تھا۔ سال ۱۹۲۸ میں یہاں کی تقریباً ۷۲ فیصد زمینوں پر اونچی ذات کے نائروں کا قبضہ تھا۔ یہاں تھِیّوں اور دیگر پس ماندہ برادریوں کی آبادی کل آبادی کا ۶۰ فیصد تھی، لیکن ان کے قبضے میں صرف ۵۵ء۶ فیصد زمین تھی۔ اس کے باوجود، یہاں اصلاح اراضی تحریک، جو ۱۹۶۰ کی دہائی تک چلی، کامیاب ہونے والی تھی۔
آج، تھِیّا اور دیگر پس ماندہ ذاتوں اور دلتوں کا ۶۰ فیصد زمینوں پر قبضہ ہے۔
۶۳ سالہ کُنہَمبو کہتے ہیں، ’’ہم پہلے غلاموں کی طرح تھے۔‘‘ ان کے والد ایک تھِیّا کسان تھے۔ ’’ہمیں شرٹ پہننے کی اجازت نہیں تھی، ہم بغل کے نیچے صرف ایک تولیہ لپیٹ سکتے تھے۔ جوتا چپّل بھی نہیں۔ اور صرف آدھی دھوتی، نہانے کے ایک چھوٹے تولیہ کی طرح۔‘‘ کچھ مقامات پر نچلی ذات کی عورتوں کو بلاؤز تک پہننے کی اجازت نہیں تھی۔ ’’ہم کچھ سڑکوں پر چل پھر بھی نہیں سکتے تھے۔ ذات پات میں اپنی درجہ بندی کے حساب سے ہمیں اونچی ذات کے لوگوں سے ایک متعینہ جسمانی فاصلہ بناکر رکھنا پڑتا تھا۔‘‘
نچلی ذاتوں کو اسکولوں سے باہر رکھنا اس کا صرف ایک حصہ بھر تھا۔ اس کا اصل مقصد انہیں وسائل سے دور رکھنا تھا۔ اسی لیے، انہیں کسی قسم کی عزت بھی نہیں دی جاتی تھی۔ غریبوں کے خلاف ’جنمی‘ دہشت عام بات تھی۔
سومُکن کی پٹائی ایک ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوئی۔
رائے رَپّن بتاتے ہیں، ’’مالابار کے سبھی قوم پرست لیڈر یہاں آئے۔ کانگریس کے عظیم لیڈر، کیلپّن نے تو یہاں کچھ دنوں تک قیام بھی کیا۔ سبھی نے ذات پات کے خلاف مہم چھیڑی۔ سی ایف اینڈریوز بھی یہاں آئے۔ اور انہوں نے اس مسئلہ کو برطانوی پارلیمنٹ میں بھی اٹھوایا۔ بعد میں، کلیاسیری دلتوں کی تعلیم کا مرکز بن گیا۔‘‘ لوگوں نے دعوت عام کا اہتمام بھی کیا، جس میں مختلف ذاتوں کے لوگ ایک ساتھ کھانا کھاتے۔


