سال ۲۰۲۳ مصروفیات سے بھرا سال تھا۔

جنوری اور ستمبر کے درمیان تقریباً ہر دن، ہندوستان میں لوگوں نے سخت موسم کا سامنا کیا۔ ستمبر میں لوک سبھا نے خواتین ریزرویشن بل پاس کیا تاکہ لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں میں زیادہ خواتین پہنچ سکیں، مگر یہ قانون ۲۰۲۹ میں ہی نافذ ہو پائے گا۔ اس درمیان نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کی طرف سے جاری اعداد و شمار نے بتایا کہ ۲۰۲۲ میں خواتین کے خلاف جرائم کے ۴ لاکھ ۴۵ ہزار ۲۵۶ معاملے درج ہوئے۔ اگست میں سپریم کورٹ نے صنفی قدامت پرستی سے نمٹنے کے لیے ایک ہینڈ بک جاری کی، جس میں ’اسٹیریو ٹائپ کو فروغ دینے والے‘ کچھ الفاظ کے متبادل بتائے گئے تھے، جب کہ سپریم کورٹ کی پانچ ججوں کی بینچ نے ہم جنس افراد کی شادی کے لیے قانونی منظوری کے خلاف فیصلہ دیا۔ نو ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہوئے اور خبروں میں فرقہ وارانہ اور ذات پات پر مبنی اسباب سے ہونے والی وارداتیں حاوی رہیں۔ مارچ ۲۰۲۲ اور جولائی ۲۰۲۳ کے درمیان ہندوستان میں کل ارب پتیوں کی تعداد ۱۶۶ سے بڑھ کر ۱۷۴ ہو گئی۔ سال کے پہلے نو مہینوں میں ۲۹-۱۵ سال کی عمر کے لوگوں کے درمیان بے روزگاری کی اوسط شرح ۳ء۱۷ فیصد کے آس پاس رہی۔

*****

سال بھر میں اتنا سب ہونے کے دوران لائبریری ضروری رپورٹس جمع کرکے انہیں رکھتی رہی۔

ان میں بل اور قانون، کتابیں، قرارداد اور چارٹر، مضامین اور مجموعوں سے لے کر لغت، سرکاری رپورٹ، پمفلیٹ، سروے، تصانیف اور یہاں تک کہ ہماری ایک کہانی پر مبنی کامک بُک بھی شامل ہے۔

اس سال ہمارے نئے پروجیکٹوں میں سے ایک تھا لائبریری بلیٹن۔ خاص موضوعات پر پاری کی اسٹوریز اور وسائل کا وقتاً فوقتاً جاری ہونے والا راؤنڈ اپ۔ ہم نے اس سال ایسے چار بلیٹن جاری کیے – خواتین کی صحت پر، وبائی مرض سے متاثر مزدوروں پر، ملک میں کوئیر لوگوں کی حالت اور دیہی ہندوستان میں تعلیم کی صورتحال پر۔

ان رپورٹوں میں موسمیاتی ذمہ داریوں سے متعلق غیر برابری سے پتہ چلا کہ کیسے دنیا کی سب سے امیر ۱۰ فیصد آبادی کل کاربن اخراج میں تقریباً نصف کے لیے ذمہ دار ہے، جو گلوبل وارمنگ روکنے کے لیے ضروری حدود سے زیادہ ہے۔ یہ سب ۲۰۱۵ کے پیرس معاہدہ کے باوجود ہو رہا ہے، جو ماحولیات کے خطرات پر قابو پانے کے لیے اوسط عالمی درجہ حرارت کو سابق صنعتی سطحوں سے ۵ء۱ ڈگری کے اندر رکھنے کی ضرورت پر بضد تھا۔ ظاہر ہے کہ ہم راستے سے کافی بھٹک چکے ہیں۔

سال ۲۰۰۰ کے بعد سے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں ۴۰ فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ سندھ۔گنگا کا میدان، جہاں ملک کی تقریباً ۴۰ فیصد آبادی رہتی ہے، اب ہندوستان کا سب سے آلودہ علاقہ بن چکا ہے، اور دنیا کے تمام بڑے شہروں کے مقابلے دہلی کی ہوا سب سے آلودہ رہی۔ ہماری ڈیسک پر پہنچی کئی رپورٹوں سے اس بات کا اشارہ ملتا ہے کہ حالانکہ پورا ہندوستان ماحولیاتی تبدیلی کے خطرے سے دوچار ہے، مگر جھارکھنڈ اور اوڈیشہ جیسی کچھ ریاستیں خاص طور پر خطرے کی زد میں ہیں۔

PHOTO • Design courtesy: Dipanjali Singh

سال ۲۰۲۰ میں ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق خطرات کے سبب ملک میں تقریباً ۲۰ کروڑ لوگوں کو نقل مکانی کرنی پڑی تھی۔ انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار انوائرمنٹ اینڈ ڈیولپمنٹ کی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک کی تقریباً ۹۰ فیصد افرادی قوت کو اگر غیر منظم مانیں، تو اثردار سماجی تحفظ وقت کا تقاضا بن چکا ہے۔

جو بچے اپنے گھر والوں کے ساتھ نقل مکانی کرتے ہیں، ان کی تعلیم کے سوال غیر رسمی روزگار اور مہاجرت سے جڑے ہیں۔ دہلی این سی آر اور بھوپال میں مہاجر خاندانوں کے ایک سروے سے پتہ چلا کہ مہاجر خاندانوں کے تقریباً ۴۰ فیصد بچے اسکول نہیں جا پائے تھے۔

پیریاڈک لیبر فورس سروے کے سہ ماہی بلیٹن محنت کشوں کی حصہ داری اور بے روزگاری کی شرح کے ساتھ ساتھ ابتدائی، ثانوی اور متعلقہ شعبوں میں افرادی قوت کی تقسیم کے تناسب پر نظر رکھنے میں مددگار رہے۔

PHOTO • Design courtesy: Siddhita Sonavane

میڈیا کا بدلتا منظرنامہ اس سال عام تشویش کا موضوع رہا۔ ایک محدود سروے سے پتہ چلا کہ ایک تہائی ہندوستانی روزانہ ٹیلی ویژن دیکھتے ہیں، جب کہ تقریباً ۱۴ فیصد لوگ ہی روز اخبار پڑھتے ہیں۔ دوسری رپورٹ میں پتہ چلا کہ ۹ء۷۲ کروڑ ہندوستانی انٹرنیٹ کے سرگرم صارف ہیں۔ جن لوگوں نے آن لائن مقامی اخبار پڑھے، ان میں سے ۷۰ فیصد نے ہندوستانی زبانوں میں انہیں پڑھا۔

حقوق تک رسائی کے لیے کوئیر لوگوں کے لیے گائڈ جیسی دستاویزوں نے انصاف پر مبنی قانون کے نظام کی طرفداری کرنے والی بحث کو آگے بڑھایا۔ سال کے دوران چھپی لغات اور ہینڈ بُک تمام جنسی طبقات کے لیے شمولیتی لغت کے استعمال کو فروغ دینے والی کارآمد گائڈ رہیں۔

PHOTO • Design courtesy: Dipanjali Singh
PHOTO • Design courtesy: Siddhita Sonavane

مشکل سائنسی الفاظ اور عام لوگوں کے درمیان موجود فاصلوں کو ختم کرنے والی کلائمیٹ ڈکشنری نے ہمیں ماحولیات کے بارے میں اور مضبوطی سے بولنے میں مدد کی۔ اس ایٹلس نے دنیا کے گھٹتے لسانی تنوع پر روشنی ڈالی اور خطرے میں آئیں ہندوستان کی تقریباً ۳۰۰ زبانوں کی دستاویزی شکل پیش کی۔

پاری لائبریری میں ’زبان‘ کو اپنی جگہ ملی! درجنوں رپورٹوں کے درمیان اس میں فرسٹ ہسٹری لیسنز شامل ہوئے جس نے بنگالی، اس کی بولیوں اور ان کی تاریخ میں تبدیلی کا پتہ لگا کر زبان اور اقتدار کے تعلقات کو اجاگر کیا۔ لائبریری نے ہندوستان کے لسانی سروے کو بھی جگہ دینی شروع کی، جن میں سے ایک آ چکی ہے اور اگلے سال کئی اور رپورٹ آنے والی ہیں۔

۲۰۲۳ مصروفیات سے بھرا سال تھا۔ ۲۰۲۴ اور بھی زیادہ مصروف ہوگا۔ نیا کیا ہے، اسے جاننے کے لیے یہاں آتے رہیے!

PHOTO • Design courtesy: Dipanjali Singh

پاری لائبریری کو رضاکارانہ مدد فراہم کرنے کے لیے [email protected] پر لکھیں۔

اگر آپ کو ہمارا کام پسند ہے، اور آپ پاری کی مدد کرنا چاہتے ہیں، تو براہ کرم ہم سے [email protected] پر رابطہ کریں۔ ہمارے ساتھ کام کرنے کی خواہش رکھنے والے فری لانس اور آزاد قلم کاروں، نامہ نگاروں، فوٹوگرافروں، فلم سازوں، ترجمہ نگاروں، ایڈیٹروں، خاکہ نگاروں اور محققین کا خیر مقدم ہے۔

پاری ایک غیر منافع بخش تنظیم ہے اور ہم ان لوگوں کی مالی مدد پر منحصر ہیں جو ہماری کثیر لسانی آن لائن ویب سائٹ اور آرکائیو کو پسند کرتے ہیں۔ اگر آپ پاری کی مالی مدد کرنا چاہتے ہیں، تو براہ کرم یہاں کلک کریں۔

مترجم: محمد قمر تبریز

PARI Library

The PARI Library team of Dipanjali Singh, Swadesha Sharma and Siddhita Sonavane curate documents relevant to PARI's mandate of creating a people's resource archive of everyday lives.

Other stories by PARI Library
Translator : Mohd. Qamar Tabrez

Mohd. Qamar Tabrez is the Translations Editor, Urdu, at the People’s Archive of Rural India. He is a Delhi-based journalist.

Other stories by Mohd. Qamar Tabrez