بالا صاحب لونڈھے کے خواب و خیال میں بھی نہیں تھا کہ ۲۰ سال قبل لیا گیا ان کا فیصلہ آج ان کے لیے مصیبت بن جائے گا۔ مہاراشٹر کے پونے ضلع کے چھوٹے سے قصبہ فُرسُنگی کے ایک حاشیہ کے کسان کنبے میں پیدا ہوئے لونڈھے نے چھوٹی عمر سے ہی اپنے کھیتوں میں کام کرنا شروع کر دیا تھا، جہاں وہ بنیادی طور پر کپاس اُگاتے تھے۔ جب وہ ۱۸ سال کے ہوئے، تو انہوں نے کچھ اضافی آمدنی حاصل کرنے کے لیے بطور ڈرائیور بھی کام کرنے کا فیصلہ کیا۔
’’ایک دوست نے مویشیوں کی نقل و حمل کا کاروبار کرنے والی ایک مسلمان فیملی سے میرا تعارف کرایا،‘‘ ۴۸ سالہ لونڈھے کہتے ہیں۔ ’’انہیں ڈرائیوروں کی ضرورت تھی، اس لیے مجھے کام پر رکھ لیا گیا۔‘‘
لونڈھے ایک ہمت ور نوجوان تھے۔ انہوں نے اس تجارت کی باریکیوں کو سمجھا تھا۔ تقریباً ایک دہائی کے بعد انہیں احساس ہوا کہ انہوں نے بہت کچھ سیکھ لیا ہے اور کافی بچت بھی کر لی ہے۔
’’میں نے ۸ لاکھ روپے میں ایک سیکنڈ ہینڈ ٹرک خریدا، اور اس کے بعد بھی میرے پاس نقد ۲ لاکھ روپے تھے،‘‘ وہ بتاتے ہیں۔ ’’گزشتہ ۱۰ سالوں میں، میں نے بازار میں کسانوں اور تاجروں سے رابطے قائم کیے تھے۔‘‘
لونڈھے کا کاروبار منافع بخش ثابت ہوا۔ اسی کاروبار کی بدولت انہوں نے فصلوں کی گرتی قیمتوں، مہنگائی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے سبب اپنی پانچ ایکڑ زمین سے ہوئے نقصان کی تلافی کی تھی۔
کام سیدھا تھا۔ ایسے کسانوں سے مویشی خریدنا جو انہیں گاؤں کے ہفتہ وار بازاروں میں فروخت کرنا چاہتے تھے اور ان پر اپنا کمیشن رکھ کر ذبیحہ خانوں یا کسانوں کے کسی دوسرے گروپ کو فروخت کرنا جو ان مویشیوں کو خریدنا چاہتے تھے۔ اس کاروبار سے تقریباً ایک دہائی تک منسلک رہنے کے بعد ۲۰۱۴ میں انہوں نے اپنی تجارت کو مزید ترقی دینے کی غرض سے دوسرا ٹرک خریدا۔
لونڈھے کہتے ہیں کہ پیٹرول کی قیمت، گاڑی کی دیکھ بھال کے اخراجات اور ڈرائیور کی تنخواہ کو الگ کرنے کے بعد ان کی اوسط ماہانہ آمدنی تقریباً ۱ لاکھ روپے ہو جاتی تھی۔ انہیں اس بات سے فرق نہیں پڑتا تھا کہ وہ ان معدودے چند ہندوؤں میں شامل تھے جو ایک ایسا کاروبار کرتے تھے جس پر مسلم قریشی برادری کا غلبہ تھا۔ وہ کہتے ہیں، ’’وہ اپنے رابطوں اور انعامات کو لے کر فراخ دل تھے۔ میں نے سوچا کہ میرے قدم جم گئے ہیں۔‘‘








