’’کوئی مسئلہ نہیں۔ غیر معمولی کچھ بھی نہیں۔ سب کچھ ٹھیک تھا۔ زندگی حسب معمول چل رہی تھی،‘‘ ۳۳ سالہ دنیش چندر سُتھار کہتے ہیں، جو اپنی فیملی کی فائلوں اور رپورٹوں کے درمیان بیٹھے ہوئے یاد کر رہے ہیں کہ اس ناگہانی واقعہ سے پہلے روزمرہ کے حالات کیسے تھے۔

راجستھان کے بانسی گاؤں میں، سُتھار کے گھر کی دیوار پر ان کی متوفی بیوی کی تصویر لگی ہوئی ہے۔ بھاونا دیوی کی تصویر وہی ہے جو دنیش کی فائلوں میں ہے۔ یہ تصویر ۲۰۱۵ میں ان کی شادی کے کچھ مہینوں بعد کھینچی گئی تھی، اور اسے ایک سرکاری اسکیم کے لیے درخواست فارم میں لگایا گیا تھا۔

پانچ سال گزر چکے ہیں، دنیش ان کاغذات اور تصویروں کو اپنے پاس سنبھال کر رکھے ہوئے ہیں، جو ان کی مختصر شادی شدہ زندگی کی نشانی ہے۔ وہ دو لڑکوں – تین سال کے چراغ اور دیوانش کے والد ہیں۔ بڑی سادڑی میونسپلٹی کے ۵۰ بستروں والے کمیونٹی ہیلتھ سینٹر (سی ایچ سی) میں نس بندی کے عمل کے بعد جب آنت میں سوراخ ہو جانے سے بھاونا کی موت ہوئی، تب دیوانش صرف ۲۹ دن کا تھا اور اس کا نام بھی نہیں رکھا گیا تھا۔

دنیش – جن کے پاس بی ایڈ کی گری ہے اور وہ بانسی سے چھ کلومیٹر دور، بڑوال کے ایک پرائیویٹ اسکول میں ٹیچر کے طور پر ۱۵ ہزار روپے کماتے ہیں – واقعات کی کڑی کو جوڑنے، کسی ڈھیلی کڑی، کسی ایسی خامی کو تلاش کرنے کی پوری کوشش کرتے ہیں، جس نے ان کا گھر اجاڑ دیا۔ اور آخر میں خود کو ہی قصوروار ٹھہراتے ہیں۔

’’کیا یہ اس لیے ہوا کیوں کہ میں آپریشن کے لیے راضی ہو گیا تھا، میں نے ڈاکٹروں پر بھروسہ کر لیا جو لگاتار کہہ رہے تھے کہ سب ٹھیک ہے؟ مجھے مزید معلومات حاصل کرنی چاہیے تھی۔ مجھے آپریشن کے لیے راضی نہیں ہونا چاہیے تھا اور نہ ہی کسی پر بھروسہ کرنا چاہیے تھا۔ یہ میری غلطی ہے،‘‘ دنیش کہتے ہیں، جو ۲۴ جولائی، ۲۰۱۹ کو اپنی بیوی کی موت کے بعد سے کئی بار ان سنگین سوالات کا سامنا کرتے رہے ہیں۔

موت سے بمشکل ایک ماہ قبل، ۲۵ جون، ۲۰۱۹ کو ۲۵ سالہ بھاونا نے ایک صحت مند بچے، دیوانش کو جنم دیا تھا۔ دوسرا حمل اور زچگی، پہلے کی طرح ہی معمول کے مطابق تھی۔ چتوڑگڑھ ضلع کے بڑی سادڑی بلاک میں ان کے گاؤں سے تقریباً ۶۰ کلومیٹر دور، بڑی سادڑی کے سی ایچ سی میں ان کی رپورٹ، جانچ اور یہاں تک کہ ڈلیوری (زچگی) بھی معمول کے مطابق تھی۔

Bhavna Suthar underwent permanent sterilisation at the CHC in Bari Sadri on July 16, 2019; she died a week later
PHOTO • Anubha Bhonsle

۱۶ جولائی، ۲۰۱۹ کو بڑی سادڑی کے کمیونٹی سیلتھ سینٹر میں بھاونا سُتھار کی مستقل نس بندی کی گئی؛ ایک ہفتہ بعد ان کی موت ہو گئی

زچگی کے تقریباً ۲۰ دن بعد، بھاونا جب ۳۸۸۳ کی آبادی والے ایک گاؤں، بانسی میں اپنی ماں کے گھر پر تھیں، تو ایک منظور شدہ سماجی صحت کارکن (آشا) نے انہیں معمول کی جانچ اور خون کا ٹیسٹ کرانے کے لیے سی ایچ سی آنے کو کہا۔ بھاونا کو کوئی کمزوری نہیں تھی، لیکن انہوں نے اس کے ساتھ جانے کا فیصلہ کیا۔ ان کی ماں بھی ان کے ساتھ گئیں۔ ’’آشا کارکن جب ہمارے گھر آئی، تو اس نے آپریشن کا کوئی ذکر نہیں کیا تھا،‘‘ بھاونا کی ماں نے دنیش کو بتایا تھا۔

معائنہ اور جانچ کے بعد، آشا کارکن اور وہاں ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر نے انہیں نس بندی کا آپریشن کرانے کی صلاح دی۔

’’ان کے دو بچے پہلے سے ہی تھے اور چونکہ میاں بیوی فیملی پلاننگ یا مانع حمل کے کسی طریقے کا استعمال نہیں کر رہے تھے، اس لیے آپریشن کرنا بہتر تھا۔ جھنجھٹ ختم،‘‘ ڈاکٹر اور آشا کارکن نے ان کی ماں کے سامنے بھاونا سے کہا تھا۔

جب ۱۰ویں کلاس تک پڑھی ہوئی بھاونا نے کہا کہ وہ اس پر غور کریں گی اور گھر لوٹنے کے بعد اپنے شوہر کے ساتھ نس بندی کے بارے میں صلاح و مشور کریں گی، تو انہیں بتایا گیا کہ اسے فوراً کرنا سب سے اچھا رہے گا۔ ’’ان کے سی ایچ سی میں اُس دن نس بندی کیمپ لگایا گیا تھا۔ اس لیے انہوں نے اسی دن ہمیں ایسا کرنے کے لیے آمادہ کیا، یہ کہتے ہوئے کہ وہ زچگی سے ویسے بھی صحت یاب ہو رہی ہیں، اور اگر وہ اس کے ساتھ ہی آپریشن بھی کرا لیتی ہیں، تو انہیں بار بار پریشانی سے گزرنا نہیں پڑے گا،‘‘ دنیش نے ڈاکٹر کے ذریعہ کہی گئی بات کو یاد کرتے ہوئے بتایا۔ بیوی کا فون آنے کے بعد وہ اسکول سے سیدھے سی ایچ سی پہنچے تھے۔

’’یہ عجیب لگ رہا تھا۔ سچ کہوں تو، ہم نے درحقیقت نس بندی کے بارے میں سوچا نہیں تھا۔ ہم بعد میں ایسا کر لیتے، لیکن میں یہ سب پہلی بار سن رہا تھا۔ اور میں نے اپنی رضامندی دے دی،‘‘ دنیش بتاتے ہیں۔

’’اس کے بعد پہلے جیسا کچھ نہیں تھا،‘‘ انہوں نے کہا۔

The loss is palpable, but Dinesh is determined to to get whatever justice can look like in the face of this catastrophe
PHOTO • Anubha Bhonsle

نقصان کی تلافی تو نہیں کی جا سکتی، لیکن دنیش بربادی کو لیکر جو بھی انصاف مل سکتا ہے، اسے پانے کے لیے پر عزم ہیں

بھاونا ان پانچ عورتوں میں شامل تھیں، جنہوں نے ۱۶ جولائی، ۲۰۱۹ کو بڑی سادڑی کے سی ایچ سی میں مستقل نس بندی کا آپریشن کرایا تھا۔ ایم بی بی ایس ڈاکٹر کے ذریعہ منی لیپ طریقے کا استعمال کرتے ہوئے، سب سے پہلے ان کی نس بندی کی گئی۔ چار دیگر کو ان کے آپریشن کے دو گھنٹے کے بعد چھٹی دے دی گئی۔ بھاونا کو جب تین گھنٹے بعد ہوش آیا، تو ان کے پیٹ میں درد ہو رہا تھا۔ انہوں نے ان کو ایک انجیکشن دیا اور رات بھر سی ایچ سی میں رہنے کے لیے کہا کیوں کہ ان کا بلڈ پریشر بہت زیادہ تھا۔ اگلے دن بھی ان کے پیٹ میں درد کم نہیں ہوا، لیکن انہیں چھٹی دے دی گئی۔

اسی ڈاکٹر نے مجھے بے رخی سے کہا، آپریشن کے بعد درد ہونا عام بات ہے؛ اسے گھر لے جاؤ،‘‘ دنیش یاد کرتے ہیں۔

رات میں بھاونا کا پیٹ سوج گیا، درد بہت تیز ہونے لگا تھا۔ صبح میں، میاں بیوی دوبارہ سی ایچ سی پہنچے۔ ایکس رے اور سونوگرافی کے بعد، بھاونا کو پھر سے اسپتال میں داخل کر لیا گیا۔ انہیں کچھ معلوم نہیں تھا کہ کیا غلط ہوا ہے۔ اگلے تین دنوں تک، انہیں ایک دن میں انٹراوینس (آئی وی) فلوئڈ کی چھ بوتلیں چڑھائیگئیں۔ دو دنوں تک انہیں ایک لقمہ کھانا کھانے کی بھی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ پیٹ میں سوجن کم ہوئی، پھر دوبارہ بڑھ گئی۔

آپریشن کے پانچ دن بعد، رات میں تقریباً ۱۰ بجے، جس ڈاکٹر نے نس بندی کی تھی، اس نے دنیش کو بتایا کہ انہیں آگے کے علاج کے لیے، تقریباً ۹۵ کلومیٹر دور، اُدے پور کے سرکاری اسپتال میں منتقل کرنا ہوگا۔ ’’انہوں نے نجی گاڑی منگوائی، جس کا کرایہ (۱۵۰۰ روپے) میں نے ادا کیا اور سی ایچ سی سے اپنے ایک کمپاؤنڈر کو بھی ہمارے ساتھ بھیجا۔ لیکن مسئلہ کیا تھا؟ میں تب بھی نہیں جانتا تھا۔ آپریشن سے متعلق کچھ۔ بس اتنا ہی۔‘‘

رات کے ۲ بجے جب وہ اُدے پور کے مہارانا بھوپال سرکاری اسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں پہنچے، تو تازہ ایکس رے کیا گیا اور انہیں ایک دیگر حصہ میں عورتوں اور بچوں کے وارڈ میں جانے کے لیے کہا گیا۔ وہاں، بھاونا کو پھر سے داخل کرنے کے عمل سے گزرنا پڑا۔

اور تب، دنیش نے پہلی بار محسوس کیا کہ کوئی سنگین غلطی ہوئی ہے، جب بھاونا کا علاج کرنے سے جھجک رہے ڈیوٹی پر تعینات ڈاکٹر نے کہا، ’’ہم دوسرے اسپتالوں کی غلطیوں کا علاج نہیں کرتے ہیں۔‘‘

Dinesh is left with two sons, three-year-old Chirag (in the photo with relatives) and Devansh, who was just 29 days old when Bhavna, his mother, died of a punctured intestine
PHOTO • Anubha Bhonsle

دنیش کے دو بیٹے ہیں، تین سالہ چراغ (تصویر میں رشتہ داروں کے ساتھ) اور دیوانش، جو صرف ۲۹ دن کا تھا جب بھاونا، اس کی ماں کی موت آنت میں سوراخ ہونے سے ہو گئی تھی

آخرکار، ۲۲ جولائی کو انہیں داخل کرنے اور سونوگرافی کروانے کے بعد، دنیش کو بتایا گیا کہ دو آپریشن فوری طور پر کیے جا رہے ہیں – پہلا، ان کے فضلہ کو نکالنے کے لیے ایک ٹیوب ڈالنے اور دوسرا ان کی آنت میں ہوئے سوراخ کی مرمت کرنے کے لیے۔ انہیں بتایا گیا کہ اگلے ۴۸ گھنٹے نازک ہیں۔

آپریشن کے بعد ڈاکٹروں نے دنیش کو بتایا کہ بڑی سادڑی کے سی ایچ سی میں ان کی بیوی کی نس بندی کرتے وقت، ڈاکٹر کی چھری سے ان کی آنٹ میں سوراخ ہو گیا تھا اور اسی وجہ سے ان کے پیٹ سے فضلہ نکل رہا تھا، جس سے ان کے پورے جسم میں انفیکشن ہو گیا تھا۔

اگلے ۴۸ گھنٹوں کے لیے، بھاونا کو زبردست نگرانی میں رکھا گیا۔ ان کے بچے اپنے دادا دادی کے ساتھ تھے۔ ان کے شوہر، چائے اور پانی پر گزارہ کرتے ہوئے کچھ بہتری کا اشارہ ملنے کا انتظار کرتے رہے۔ لیکن بھاونا کی حالت میں کوئی بہتری نہیں ہوئی، اور ۲۴ جولائی، ۲۰۱۹ کو شام سوا ۷ بجے ان کا انتقال ہو گیا۔

چتوڑگڑھ میں واقع غیر سرکاری تنظیم، پریاس نے حقوق انسانی قانون نیٹ ورک کے ساتھ مل کر اس معاملہ کو اٹھایا اور دسمبر ۲۰۱۹ میں اس کے حقائق کا پتا لگانے کی کوشش کی۔ انہوں نے پایا کہ بھاونا کی نس بندی، صحت اور خاندانی فلاح و بہبود کی وزارت، حکومت ہند کے ذریعے طے کردہ مرد و خواتین کی نس بندی کی خدمات کے پیمانوں (۲۰۰۶) کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے کی گئی تھی۔

ان کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھاونا کو بہلا کر کمیونٹی ہیلتھ سینٹر لایا گیا اور بغیر کسی سابقہ اطلاع یا مشورہ کے جبراً ان کی مستقل نس بندی کر دی گئی۔ آپریشن کے بعد بھی، سی ایچ سی کے ڈاکٹروں نے ان کے اہل خانہ کو اپنی لاپروائی کے نتیجہ میں آنت میں ہونے والے سوراخ کے بارے میں بتایا نہیں، اور اسے ٹھیک کرنے کے لیے کوئی سرجری نہیں کی۔ اس کے علاوہ، سی ایچ سی یا اُدے پور کے اسپتال میں کسی نے بھی انہیں سرکار کی فیملی پلاننگ سے متعلق نقصان کی تلافی کی اسکیم، ۲۰۱۳ کے بارے میں نہیں بتایا، جس کے تحت فیملی نس بندی کے فوراً بند موت ہو جانے پر ۲ لاکھ روپے کے معاوضہ کا مطالبہ کر سکتی ہے۔

پریاس کی ڈائرکٹر، چھایا پچولی بتاتی ہیں کہ بھاونا کا معاملہ اس بات کی واضح مثال ہے کہ نس بندی کے بارے میں سرکار کی رہنما ہدایات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نس بندی ’کیمپوں‘ کا ٹارگیٹ کو پورا کرنے والا نظریہ کس طرح جاری ہے، اور عورتوں کی صحت اور حقوق سے کیسے کھلواڑ کیا جا رہا ہے۔

’’ایک عورت کو سوچنے، غور کرنے اور دوبارہ سوچنے کے لیے مناسب وقت دیا جانا چاہیے کہ کیا وہ اور اس کا ساتھی سرجری کے لیے تیار ہیں،‘‘ رہنما ہدایات کا حوالہ دیتے ہوئے پچولی کہتی ہیں۔ ’’کسی بھی طرح سے اسے صرف اس لیے سرجری کرانے کے لیے مجبور نہیں کیا جانا چاہیے کہ وہاں ایک کیمپ لگا ہوا ہے اور اعلی افسران سے اس کے لیے عورتوں کو جمع کرنے کا دباؤ ہے۔ سرکار کہہ سکتی ہے کہ وہ اب ’ٹارگیٹ‘ سے نہیں چلتے ہیں، پھر بھی ہم جانتے ہیں کہ عورتوں کو نس بندی کے لیے منانے کے لیے صحت سے وابستہ ملازمین پر دباؤ ڈالا جاتا ہے اور ضلع [انتظامیہ] کو اس کے یہاں کی گئی نس بندی کی بنیاد پر تولا جاتا ہے، بلکہ سب سے اچھی کارکردگی کرنے والے ضلعوں کو سرکار کے ذریعہ اعزاز سے بھی نوازا جاتا ہے۔ یہ روایت بند ہونی چاہیے۔

’’کیمپ کا نظریہ صحیح معنوں میں بند ہونا چاہیے، صرف محفوظ سرجری کو آسان بنانے کے لیے ہی نہیں بلکہ کسی پیچیدگی کو دور کرنے کے لیے نس بندی سے پہلے اور بعد میں بہتر دیکھ بھال کے لیے بھی،‘‘ پچولی اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے آگے کہتی ہیں۔ ’’اس کے بجائے، نس بندی کو بنیادی صحت خدمات کے اندر ایک باقاعدہ سرگرمی کے طور پر مجتمع کیا جانا چاہیے۔ اور طبی عہدیداروں کو صلاح و مشورہ کے ہنر سے لیس ہونے کی ضرورت ہے، جسے دیکھ بھال کے ضروری عناصر کے طور پر فروغ دیا جانا چاہیے۔‘‘

Dinesh Suthar is holding on to papers and photographs that mark his brief married life with Bhavna
PHOTO • Anubha Bhonsle
Dinesh Suthar is holding on to papers and photographs that mark his brief married life with Bhavna
PHOTO • Anubha Bhonsle

دنیش سُتھار اپنے پاس اُن کاغذات اور تصویروں کو سنبھال کر رکھے ہوئے ہیں، جو ان کی مختصر شادی شدہ زندگی کی نشانی ہیں

راجستھان میں اپنے کام کے دوران پریاس نے عورتوں کے ایسے کئی معاملے دیکھے ہیں، جن کی نس بندی ناکام رہی، لیکن انہوں نے کبھی بھی معاوضہ کا دعویٰ اس لیے نہیں کیا کیوں کہ انہیں معلوم نہیں تھا کہ وہ اس کے لیے اہل ہیں۔

’’اکثر، عورتوں کو نس بندی کے لیے راضی کر لیا جاتا ہے، انہیں یا ان کے شریک حیات / فیملی کو اس بارے میں مناسب معلومات فراہم کیے بغیر ہی کہ اس طریقہ عمل میں واقعی میں کیا کیا ہوتا ہے۔ بعض معاملوں میں پیدا ہونے والی پیچیدگیوں پر کبھی بات نہیں کی جاتی ہے، اور نہ ہی عورتوں کو ان کے لیے کبھی تیار کیا جاتا ہے۔ انہیں کبھی بھی یہ صلاح نہیں دی جاتی ہے کہ اگر نس بندی ناکام رہی یا صحت سے متعلق کوئی پیچیدگی پیدا ہوئی، تب ویسی حالت میں کیا کرنا ہے۔ شاید ہی انہیں کبھی معاوضہ کے بارے میں مطلع کیا جاتا ہے کہ ناکامی، موت، پیچیدگی کی حالت میں وہ اس کا دعویٰ کر سکتی ہیں،‘‘ پچولی بتاتی ہیں۔

اس قسم کے ہر پیمانے کی خلاف ورزی سے متاثر ہونے کے باوجود، دنیش نے اپنی فیملی کے نقصان کو صبر کے ساتھ تسلیم کر لیا ہے۔ اب وہ درس و تدریس کے کام پر لوٹنے، اپنا لنچ خود پیک کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ ’’ایک دن میں خالی لنچ باکس لیکر چلا گیا تھا،‘‘ وہ مسکراتے ہوئے کہتے ہیں۔

سُتھار فیملی کے لیے یہ ایک بڑا نقصان ہے، لیکن وہ جانتے ہیں کہ انہیں نئے سرے سے شروعات کرنی ہوگی۔ وہ اپنے پکّے گھر میں کچھ تعمیراتی کام کرا رہے ہیں۔ ٹیلی ویژن چل رہا ہے، اوکھلی اور موسل کی آواز ایک کونے سے آ رہی ہے، اور پڑوس کی عورتیں دیوانش کی دیکھ بھال کر رہی ہیں۔

فیملی نے بھاونا کے علاج سے لیکر ان کی موت ہونے تک، دواؤں اور نقل و حمل پر ۲۵ ہزار روپے خرچ کیے، اور دنیش اس تباہی کے لیے جو بھی انصاف مل سکتا ہے اسے پانے کے لیے پر عزم ہیں۔ ۲ لاکھ روپے کے معاوضہ کے لیے ان کی درخواست چتوڑگڑھ کے چیف میڈیکل آفیسر کے دفتر میں زیر التوا ہے۔ ’’میرے پاس جو کچھ بھی تھا، میں نے خرچ کر دیا،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ ’’اگر وہ یہاں ہوتی تو اچھا تھا۔‘‘

کور کی خاکہ نگاری: لبنی جنگی بنیادی طور پر مغربی بنگال کے نادیا ضلع کے ایک چھوٹے سے قصبہ کی رہنے والی ہیں، اور فی الحال کولکاتا کے سینٹر فار اسٹڈیز اِن سوشل سائنسز سے بنگالی مزدوروں کی مہاجرت پر پی ایچ ڈی کر رہی ہیں۔ وہ خود سے سیکھی ہوئی ایک مصور ہیں اور سفر کرنا پسند کرتی ہیں۔

پاری اور کاؤنٹر میڈیا ٹرسٹ کی جانب سے دیہی ہندوستان کی بلوغت حاصل کر چکی لڑکیوں اور نوجوان عورتوں پر ملگ گیر رپورٹنگ کا پروجیکٹ پاپولیشن فاؤنڈیشن آف انڈیا کے مالی تعاون سے ایک پہل کا حصہ ہے، تاکہ عام لوگوں کی آوازوں اور ان کی زندگی کے تجربات کے توسط سے ان اہم لیکن حاشیہ پر پڑے گرہوں کی حالت کا پتہ لگایا جا سکے۔

اس مضمون کو شائع کرنا چاہتے ہیں؟ براہِ کرم [email protected] کو لکھیں اور اس کی ایک کاپی [email protected] کو بھیج دیں۔

مترجم: محمد قمر تبریز

Mohd. Qamar Tabrez is PARI’s Urdu/Hindi translator since 2015. He is a Delhi-based journalist, the author of two books, and was associated with newspapers like ‘Roznama Mera Watan’, ‘Rashtriya Sahara’, ‘Chauthi Duniya’ and ‘Avadhnama’. He has a degree in History from Aligarh Muslim University and a PhD from Jawaharlal Nehru University, Delhi. You can contact the translator here:

Anubha Bhonsle is a 2015 PARI fellow, an independent journalist, an ICFJ Knight Fellow, and the author of 'Mother, Where’s My Country?', a book about the troubled history of Manipur and the impact of the Armed Forces Special Powers Act.

Other stories by Anubha Bhonsle