پرمود کمار نے شکست تبھی مانی جب کال لگاتار آنے لگے۔ ’’اپنا آدھار دیں یا اپنا نمبر چھوڑ دیں،‘‘ فون کرنے والے نے کہا۔

سال ۲۰۱۸ کی پہلی شش ماہی کے بعد سے، کمار کے گاؤں، ددیورا میں اس قسم کے کال بہت زیادہ آنے لگے تھے۔ اس لیے وہ اپنا موبائل نمبر بھلے ہی بنا کسی پہچان کے تین سال سے استعمال کر رہے تھے، لیکن ۲۰۱۸ کے وسط میں انھیں ایک صبح سائیکل سے چار کلومیٹر دور پرساڈا بازار میں سِم کارڈ فروش کی دکان پر جانا پڑا۔ ’’کوئی سوال نہیں پوچھا گیا۔ دکاندار نے میرا آدھار لیا اور مجھے ایک چھوٹی کالی مشین پر دو بار بٹن دبانے کے لیے کہا۔ میں کمپیوٹر اسکرین پر اپنی تصویر دیکھ سکتا تھا۔ اس نے کہا کہ میرا سِم پہلے کی طرح کام کرتا رہے گا،‘‘ کمار یاد کرتے ہیں۔

اُس آسان کام کے بعد، کمار کی اُجرت غائب ہونے لگی۔

محکمہ مواصلات (ڈی او ٹی) نے ۲۰۰۵ میں ہی سِم کارڈ رکھنے والوں کی شناخت کی تصدیق کرنے کی ضرورت کی بات کہی تھی، اور اسے ’سنگین سیکورٹی کی تشویش کا موضوع‘ بتایا تھا۔ سال ۲۰۱۴ میں، ڈی او ٹی نے اس قدم کو بدل دیا تھا – اب ہر صارف کو اپنا آدھار نمبر درج کرنا ہوگا۔

جنوری ۲۰۱۷ میں، ایئرٹیل پیمنٹس بینک کھولنے والا ہندوستان کا پہلا موبائل خدمت فراہم کنندہ بن گیا؛ اس کی ویب سائٹ نے ’ہر ہندوستانی کے لیے یکساں، مؤثر اور قابل اعتماد بینکنگ تجربہ‘ کا وعدہ کیا۔

سیتاپور ضلع کے گاؤں میں، ان واقعات نے ایک چھوٹے سے کسان اور مزدور، ۳۳ سالہ کمار کی زندگی کو اُلٹ دیا۔ انھوں نے اور ان کی فیملی اور گاؤں کے کئی لوگوں نے ایئرٹیل سِم کارڈ کا استعمال کیا۔

Pramod Kumar, Meenu Devi and their three children outside their house in Dadeora village of Uttar Pradesh
PHOTO • Puja Awasthi

اترپردیش کے ددیورا گاؤں میں پرمود کمار، مینو دیوی اور ان کے تین بچے: ’ڈجیٹل انڈیا کے جادو‘ میں پھنس گئے

جس وقت ان کے سِم کارڈ کی تصدیق کی جا رہی تھی، کمار مہاتما گاندھی قومی دیہی روزگار قانون (منریگا) کے تحت جھاور تالاب کی کھدائی کر رہے تھے۔ انھوں نے ایک دن میں ۱۷۵ روپے کمائے۔ سال ۲۰۱۶ میں، انھوں نے ۴۰ دن کام کیے تھے اور ان کی مزدوری پرساڈا کے یوپی الہ آباد گرامین بینک کے ان کے کھاتے میں جمع کی گئی تھی، یہی کھاتہ انھوں نے اپنے جاب کارڈ میں لکھوایا تھا۔

’’سرکاری کام میں بہت اچھا پیسہ نہیں ہے۔ لیکن یہ گھر کے پاس دستیاب ہے۔ میرے والدین بوڑھے ہیں اور انھیں دیکھ بھال کی ضرورت ہے۔ مجھے اپنے بچوں کے ساتھ وقت گزارنے کا موقع ملتا ہے،‘‘ کمار کہتے ہیں، جو کبھی کبھی ۲۰۰ روپے یومیہ پر پرائیویٹ روڈ کنسٹرکشن ٹھیکہ داروں کے ساتھ بھی کام کرتے ہیں۔ اپنے گاؤں سے تقریباً ۱۰۰ کلومیٹر دور، لکھنؤ میں تعمیراتی مقامات پر وہ کبھی کبھی ایک دن میں ۳۰۰ روپے تک کما سکتے ہیں۔

اگست سے دسمبر ۲۰۱۷ تک، کمار نے ۲۴ دنوں تک تالاب کے لیے پتھریلی زمین کو کھودنے کا کام کیا۔ انھوں نے ۴۲۰۰ روپے کمائے۔ لیکن عام طور پر کام پورا ہونے کے ۱۵ دنوں کے اندر جمع کی جانے والی مزدوری دکھائی نہیں دیتی تھی۔ ان کے گاؤں کے کچھ دیگر لوگوں کی بھی مزدوری غائب ہو گئی تھی۔

کمار نے سنگتِن کسان مزدور سنگٹھن نامی ایک مقامی تنظیم کی مدد سے، اپنے پیسے کا پتہ لگانے کے لیے الگ الگ طریقے اپنائے۔ انھوں نے یقینی بنایا کہ کام پر ان کی حاضری کا باقاعدہ ذکر کیا جائے۔ چیک کرنے کے لیے وہ ہر مہینے بینک جاتے تھے۔ دو بار وہ تقریباً چھ کلومیٹر دور، مچھریہٹہ کے منریگا بلاک سطح کے دفتر بھی گئے۔ ’’میں نے ان سے کمپیوٹر میں چیک کرنے کی گزارش کی کہ میرا پیسہ کہاں ہے۔ انھوں نے کہا کہ میرا پیسہ میرے اکاؤنٹ میں بھیج دیا گیا ہے۔ اگر کمپیوٹر نے یہ کہا، تو اسے سچ ہونا چاہیے،‘‘ کمار کہتے ہیں۔

ویڈیو دیکھیں: ’میرا پیسہ ابھی باقی ہے‘

جنوری ۲۰۱۸ تک، بغیر اجرت والے مزدوروں کی بڑھتی جدوجہد نے یہ واضح کر دیا کہ کمپیوٹر، درحقیقت سب کچھ نہیں جانتے تھے۔

اس کا انکشاف سب سے پہلے منریگا کے ایڈیشنل افسر (سیتاپور)، وکاش سنگھ نے کیا۔ مزدوری کی ادائیگی نہ ہونے سے متعلق پوچھے گئے مختلف سوالوں، اور اپنے دفتر میں بار بار ہونے والے احتجاج کے جواب میں، سنگھ نے غائب مزدوری کے خلاف احتجاج کرنے والوں کو بتایا کہ یہ پیسے ۹۸۷۷ ایئرٹیل پیمنٹس بینک (اے پی بی) کھاتوں میں جا رہے ہیں، جو ضلع بھر میں جنوری ۲۰۱۷ سے کھولے گئے تھے۔ مزدوری کی ادائیگی کے علاوہ، اِن کھاتوں میں گیس سبسڈی، جننی سرکشا یوجنا کا پیسہ، زرعی فائدہ، وظیفہ اور بہت کچھ آئے تھے۔ سیتاپور میں ۷۶ء۶۳ لاکھ روپے ایسے کھاتوں میں منتقل کیے گئے تھے۔

اسٹیٹ اسپانسرڈ فائدوں کی سیدھے بین کھاتوں میں منتقلی (ڈائریکٹ بینیفٹ ٹرانسفر) دسمبر ۲۰۱۳ میں شروع کی گئی تھی، کیوں کہ ڈی بی ٹی مشن کا کہنا ہے کہ یہ ’مستفدین کو ہدف بنانے‘ اور ’دھوکہ دہی میں کمی‘ میں کارگر ہے۔

منریگا مزدوری کو ۲۰۱۴ میں منتقلی کی فہرست میں جوڑا گیا تھا۔ پھر دیہی ترقیاتی وزارت کی بار بار کی ہدایات نے مزدوری حاصل کرنے والے شخص کے بینک کھاتوں کو ان کے آدھار نمبر سے جوڑنا لازمی کر دیا۔ سرکار کا دعویٰ ہے کہ اس نے ادائیگی کو زیادہ مؤثر بنا دیا ہے۔

سیتاپور میں، سنگھ بتاتے ہیں کہ اس طرح کی منتقلی ’’زیادہ تر غریب اور غیر تعلیم یافتہ‘‘ لوگوں کو کی گئی، جنہیں یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ ان کے نام پر کھاتے موجود ہیں۔ اس طرح کے کھاتے کھولنے کے لیے ان کی رضامندی ’آدھار پر مبنی سِم کی تصدیق‘ کرتے وقت آن لائن فارم پر ایک باکس ٹِک کرنے کے لیے کہہ کر حاصل کی گئی تھی۔ نتیجتاً، فائدہ کی منتقلی ان کھاتوں میں چلی گئی۔ اس کے بعد ہندوستانی خصوصی شناخت اتھارٹی کے ایک بے سمت نقصاندہ گائڈ لائن پر عمل کیا گیا کہ آدھار نمبر کے ساتھ حتمی طور پر جمع کیا گیا بینک اکاؤنٹ خود بخود وہ کھاتہ بن جائے گا جس میں ڈی بی ٹی کے تحت مختص پیسہ بھیجا جائے گا۔

’’یہ ڈجیٹل انڈیا کا جادو ہے،‘‘ سنگھ کہتے ہیں۔ ’’ہم منریگا کارڈ ہولڈر کے لیے ایک اکاؤنٹ نمبر فیڈ کرتے ہیں۔ ہم صرف یہ مان سکتے ہیں کہ پیسے اس اکاؤنٹ میں جا رہے ہیں۔ اگر کوئی تبدیلی کی جاتی ہے [مثال کے طور پر، اگر آدھار سے منسلک ایک نیا اکاؤنٹ ادائیگی کے لیے دیا جاتا ہے]، تو ہمارے پاس یہ جاننے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ سسٹم اس کی اجازت نہیں دیتا ہے۔‘‘

کیا بہتر بیداری یہ یقینی بنائے گی کہ ایسا نہ ہو؟ سنگھ ہنسنے لگتے ہیں۔ ’’کوئی کیا بیداری پیدا کرے گا؟ یہ کہ ایئرٹیل سِم لینا جرم ہے؟ بغیر رضامندی کے، بنا دستاویزوں کے، کھاتے کھولے جار ہے ہیں۔ ہوا میں بنائی گئی یہ ایک نئے طرح کی بینکنگ ہے۔ کوئی اتنا محتاط کیسے ہو سکتا ہے؟‘‘

Pramod Kumar with his brother Sandeep Kumar in the fields
PHOTO • Puja Awasthi
A message from Airtel Payments Bank
PHOTO • Puja Awasthi

بائیں: پرمود کمار اپنے بھائی سندیپ کمار کے ساتھ: ’یہ ہمارے کھیت ہیں۔ ہمیں پیسے کی دقت ہے‘۔ دائیں: ایئرٹیل پیمنٹس بینک کا ایک پیغام

کمار کو معلوم نہیں ہے کہ انھوں نے اے پی بی اکاؤنٹ کیسے حاصل کیا۔ ’’سِم کارڈ اکاؤنٹ کھولتا ہے۔ پیسہ آدھار میں چلا جاتا ہے،‘‘ وہ بتاتے ہیں۔ ایسے کھاتوں میں اپنے پیسے کا پتہ لگانے والے دیگر لوگوں سے متاثر ہو کر، کمار نے ۱۴ کلومیٹر دور، ہردوئی چنگی ٹال روڈ پر واقع ایئرٹیل ڈیلر کے دفتر کا دورہ کیا، جہاں ٹیمپو سے جانے میں انھیں ایک طرف کا کرایہ ۶۰ روپے دینا پڑا۔ ’’دکان میں موجود آدمی نے میرا آدھار مانگا۔ پھر اس نے ایک نمبر ڈائل کیا۔ اس سے پتہ چلا کہ میرے پاس [ایئرٹیل] کھاتہ میں ۲۱۰۰ روپے ہیں [کمار کی زیر التوا مزدوری، ۴۲۰۰ روپے کا آدھا]۔ اس نے مجھے ۱۰۰ روپے [نقد] یہ کہتے ہوئے دیے کہ اس کے پاس اس دن بس اتنا ہی ہے اور مجھے بقیہ رقم کے لیے کسی اور دن آنے کے لیے کہا۔‘‘

کمار ۱۲ دن بعد (۲۵ جون ۲۰۱۸ کو) وہاں دوبارہ گئے اور بقیہ ۲۰۰۰ روپے نقد میں حاصل کیے۔ کمار نے جب دوسرے لوگوں کے ساتھ آٹھ دیگر دنوں کے پیسے کے لیے بلاک دفتر پر احتجاج کیا، تو اس کے بعد ۱۴۰۰ روپے اچانک پرساڈا کے الہ آباد گرامین بینک کے ان کے پہلے کھاتہ میں دکھائی دینے لگے۔ کمار نے اس رقم کو نقدی کی شکل میں نکال لیا۔ بقیہ چار دنوں کی مزدوری، ۷۰۰ روپے ابھی بھی غائب ہیں۔

اس درمیان، ان کی فیملی نے رشتہ داروں سے ۵۰۰۰ روپے قرض لیے۔ اس مدت میں اپنے والدین اور پانچ دیگر بھائی بہنوں کے ساتھ مشترکہ خاندان میں رہنے سے کمار کی مالی تنگی میں کچھ کمی آئی۔ ان کے تین بچے ہیں، اور نامعلوم قسم کی لگاتار کھانسی رہتی ہے۔ ’’ایسا نہیں ہے کہ ہمارے پاس کھانے کے لیے کچھ نہیں تھا،‘‘ ان کی بیوی، ۲۶ سلہ مینو دیوی کہتی ہیں۔ ’’لیکن ہم اپنی بیٹی کی جلد کے دانے کا علاج کرانے کے لیے کسی پرائیویٹ ڈاکٹر کے پاس لے جانے میں اس پیسے کا استعمال کر سکتے تھے، دانے سے اس کی پوری پیٹھ بھر گئی ہے۔

کمار نے اے پی بی اکاؤنٹ کو سنبھال رکھا ہے۔ انھیں ایک پیغام ملا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ اس میں ابھی بھی ۵۵ روپے ہیں، شاید سود کی شکل میں، ان کا خیال ہے۔ جب وہ اس پیسے کو لینے کے لیے ہردوئی چُنگی والی دکان میں گئے، تو انھیں بتایا گیا کہ صرف ۱۰۰ کے ضربوں میں پیسہ نکالنے کی اجازت ہے۔

اس تشویش میں کہ ان کی مزدوری ابھی بھی اس کھاتہ میں جا سکتی ہے، انھوں نے منریگا کے کام کے لیے درخواست دینا بند کر دیا۔

ان لوگوں کا کیا جنہوں نے ایسے کھاتے کھولے؟ اے پی بی کے ایک ترجمان نے اس رپورٹر کو بتایا، ’’خوردہ فروشوں کے خلاف پہلے ہی مناسب کارروائی کی جا چکی ہے۔‘‘

(مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف، اردو ’روزنامہ میرا وطن‘ کے نیوز ایڈیٹر ہیں، اور ماضی میں ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

Puja Awasthi

پوجا اوستھی ایک فری لانس پرنٹ اور آن لائن جرنلسٹ ہیں، اور ایک ابھرتی ہوئی فوٹو گرافر جو لکھنؤ میں مقیم ہیں۔ انھیں یوگا کرنا، سفر کرنا اور ہاتھ سے بنی ہوئی تمام چیزیں پسند ہیں۔

Other stories by Puja Awasthi