کتاب النسا شیخ ملبے اور کچرے کے انبار کے کنارے کھڑی ہیں، اور رفیق نگر میں اپنے گھر سے ہوکر بہنے والے ایک نالے سے پلاسٹک چُن رہی ہیں۔ ان میں سے کچھ فضلے تو پاس ہی واقع دیونار کی کچرے پھینکنے والی زمین سے یہاں آکر جمع ہو گئے ہیں، جب کہ کچھ کو سیدھے اس کھلے نالے میں پھینکا گیا ہے۔ ہُک لگی لکڑی کی ایک لمبی چھڑی کا استعمال کرتے ہوئے وہ ایک پتلے کالے چیتھڑے میں پھنسی گلابی  رنگ کی پلاسٹک بوتل کو کسی طرح کھینچتی ہیں۔ اس کے بعد وہ اس چھڑی کی مدد سے اپنے کام کی دوسری چیز کی طرف بڑھتی ہیں۔

وہ اس کام کو دن میں تقریباً چھ گھنٹے کرتی ہیں، ان کے نارنگی بال دھوپ میں چمک رہے ہوتے ہیں، ۷۵ سال کی عمر میں بھی اتنی محنت کرنے سے ان کی کمر جھک گئی ہے۔ شیشے کی بیئر کی بوتلیں اور پلاسٹک کی پانی کی بوتلیں قیمتی چیزیں ہیں، جو کوڑے کے دیگر سامانوں کی بہ نسبت زیادہ داموں میں دوبارہ فروخت ہو جاتی ہیں۔ ہر دوسرے دن، جب ۱۲ سے ۱۵ کلو پلاسٹک جمع ہو جاتا ہے، تو کتاب النسا کی بہو زاہدہ تمام چیزوں کو پالیتھین کے ایک بڑے تھیلے میں ڈال اپنے سر پر رکھ کر، وہاں سے ۱۵ منٹ کی پیدل دوری پر واقع بابا نگر علاقے میں کباڑی کی ایک دکان پر لے جاتی ہیں۔ بدلے میں یہ فیملی ۲۰۰-۳۰۰ روپے – یا تقریباً ۱۰۰۰ روپے ہر ہفتہ کما لیتی ہے۔ ’’ہمیں یہ [کام] اپنا پیٹ بھرنے کے لیے کرنا پڑتا ہے،‘‘ کتاب النسا کہتی ہیں۔ ’’مجھے یہ بالکل بھی اچھا نہیں لگتا، لیکن ہم اس کے علاوہ کر بھی کیا سکتے ہیں؟‘‘

کتاب النسا کی جھونپڑی کے قریب ہی ۳۲۴ ایکڑ میں پھیلا دیونار کا کوڑے کچرے پھینکنے کا میدان ہے۔ ممبئی کے ایسے تین میدانوں میں یہ سب سے بڑا ہے۔ (بقیہ دو مُلُند اور کنجور مارگ میں ہیں)۔ یہاں پر اس شہر سے روزانہ نکلنے والے تقریباً ۹۵۰۰ میٹرک ٹن کوڑا کرکٹ کا ۳۵ فیصد حصہ پھینکا جاتا ہے۔ دیونار کا یہ میدان ۲۰۱۶ میں ہی بھر چکا تھا، لیکن آج بھی اس کا استعمال ہو رہا ہے – بامبے ہائی کورٹ نے ٹھوس کچرے کو پھینکنے کے لیے برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن کو اس میدان کا استعمال کرنے کے لیے ’آخری توسیع‘ کے طور پر ۳۱ دسمبر، ۲۰۱۹ تک کی اجازت دی ہے۔

اس میدان کے ارد گرد رفیق نگر جیسی کئی جھونپڑ پٹیاں ہیں۔ یہ شہر کے ایم-ایسٹ وارڈ کا حصہ ہیں، جہاں کی کل آبادی ۸۰۷۷۲۰ ہے (مردم شماری ۲۰۱۱)۔ رفیق نگر کی تنگ گلیوں کے دونوں طرف بند پڑے نالے اور کوڑے کے ڈھیر ہیں۔ کوڑے کے میدان کی بدبو پوری فضا میں چھائی ہوئی ہے۔ مکھیاں اور مچھر بڑی تعداد میں چاروں طرف بھنبھناتے رہتے ہیں۔

کتاب النسا کی جھونپڑی گلی کے آخر میں ہے، اُس نالے کے بالکل کنارے۔ ایک ۱۰۰ مربع فٹ کے کمرے میں ۱۶ لوگ رہتے ہیں – کتاب النسا کے تین بیٹے، زاہدہ اور ۱۱ پوتے پوتیاں۔ ’’تیز بارش کے دوران، نالے کا پانی ہمارے گھر میں گھُس جاتا ہے،‘‘ وہ بتاتی ہیں۔ ’’ہم اپنی اہم چیزیں جیسے دال، چاول اور کچھ کپڑے الماری کے سب سے اوپری خانے میں رکھ دیتے ہیں۔ زیادہ تر سامان گیلے ہو جاتے ہیں۔ پانی کے کم ہونے تک ہم اپنے پڑوسیوں کے گھر [گلی میں اونچائی پر واقع] میں پناہ لیتے ہیں۔‘‘

Left: Kitabun outside her 100-square feet room next to a nallah. Right: It shelters 16 people, including her grandkids
PHOTO • Shraddha Agarwal
Left: Kitabun outside her 100-square feet room next to a nallah. Right: It shelters 16 people, including her grandkids
PHOTO • Shraddha Agarwal

بائیں: کتاب النسا نالے کے بغل میں واقع اپنے ۱۰۰ مربع فٹ کے گھر کے باہر۔ دائیں: اس میں ان کے پوتے پوتیوں سمیت کل ۱۶ لوگ رہتے ہیں

کتاب النسا اور ان کی فیملی کو رفیق نگر میں منتقل ہوئے پانچ سال سے زیادہ کا وقت ہو چکا ہے۔ یہاں آنے سے قبل،  کتاب النسا مشرقی ممبئی کے سیوری سے اترپردیش کے خلیل آباد شہر چلی گئی تھیں اور پھر وہاں سے واپس سیوری آ گئی تھیں۔

ان کے والد سیوری میں ایک فیکٹری میں ٹرکوں پر ہیلپر کا کام کرتے تھے، اور کتاب النسا اسی علاقے کی سڑکوں پر بڑی ہوئیں۔ ’’کھیلتی تھی، کودتی تھی، کھاتی تھی... بس...،‘‘ اپنے آرام و چین سے گزرے بچپن کے دنوں کے بارے میں وہ کہتی ہیں، زور سے ہنستے ہوئے۔ وہ جذباتی انداز میں ان سالوں کو یاد کرتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ان کے تین بڑے بھائی اور ایک خاتونِ خانہ ان کی ماں، ان کا کافی خیال رکھتے تھے۔

کتاب النسا نے پہلی بار ممبئی ۲۵ سال کی عمر میں چھوڑا تھا، جب وہ اپنی عمر سے ۱۲ سال بڑے ایک ٹرک ڈرائیور، شیر علی شیخ سے شادی کرنے کے بعد خلیل آباد گئی تھیں۔ ’’پہلے تو سب کچھ ٹھیک تھا، لیکن ایک سال بعد میں نے اپنے شوہر کا حقیقی چہرہ دیکھا،‘‘ وہ کہتی ہیں۔ وہ ان سے کبھی کبھار ہی بات کرتا، اتنا تنک مزاج تھا کہ معمولی سی بات پر بھی ہنگامہ کھڑا کر دیتا تھا۔

شادی کے تین سال بعد، ایک حادثہ میں شیر علی شیخ کے سر میں گہری چوٹ آئی۔ کتاب النسا کہتی ہیں کہ انہیں پورا واقعہ ٹھیک سے یاد نہیں ہے۔ فیملی کے لوگ شاید ان کی دیکھ بھال نہیں کرنا چاہتے تھے، لہٰذا انہوں نے شیر علی، کتاب النسا اور ان کے دو چھوٹے بچوں کو گھر سے چلے جانے کو کہا۔ ’’تب میں حاملہ تھی، میری کوکھ میں تیسرا بچہ پل رہا تھا۔ ہمارے پاس نہ تو پیسہ تھا اور نہ ہی سر چھپانے کی کوئی جگہ،‘‘ وہ کہتی ہیں۔

کچھ دنوں تک انہوں نے خلیل آباد کی گلیوں میں قیام کیا، کتاب النسا بتاتی ہیں۔ پھر انہیں شہر کے باہر ایک کھیت پر کام مل گیا۔ وہاں وہ کھیت کے مالک کے گھر کی صفائی اور کھیت پر کام کرتیں جس کے بدلے میں انہیں کھانا اور پناہ مل گئی۔ ’’ایک دن میں اپنی سب سے بڑی بیٹی، فرزانہ کو درخت کے نیچے سوتا ہوا چھوڑ کر کام کرنے چلی گئی۔ جب میں واپس لوٹی، تو دیکھا کہ وہ خون سے لت پت مردہ پڑی ہوئی ہے۔ ایک بیل نے اس کو روند دیا تھا۔ وہ صرف تین سال کی تھی،‘‘ کتاب النسا نرمی سے کہتی ہیں۔

اس حادثہ کے بعد، کتاب النسا، شیر علی اور ان کے بچے سیوری کی گلیوں میں لوٹ آئے۔ شیر علی کو پرائیویٹ کار ڈرائیور کی نوکری مل گئی اور اس نے بہت زیادہ شراب پینا شروع کر دیا۔ ’’ایک بار اس نے مجھے چاقو گھونپنے کی کوشش کی تھی۔ کسی طرح میں نے اس کے اوپر ایک اسٹول پھینکا اور وہاں سے بھاگ گئی،‘‘ کتاب النسا نے اس تشدد کے بارے میں بتایا، جس کی وہ اکثر شکار ہونے لگی تھیں۔ ’’وہ مجھے ہر مہینے صرف ۶۰ روپے دیتے تھے۔ اُسی پیسے سے مجھے پورا گھر چلانا ہوتا تھا۔ اس لیے وہ جب کام پر روانہ ہو جاتے، تو میں دوسروں کے گھر جا کر ان کے پانی کے برتن بھرتی تھی، جس سے مجھے ہر ہفتے ۱۵۰ روپے مل جاتے تھے۔ اس پیسے سے میں اپنے بچوں کو کھانا کھلاتی تھی۔‘‘

PHOTO • Shraddha Agarwal

رفیق نگر کی گلیوں کے دونوں طرف بند پڑے نالے اور کچرے کے ڈھیر ہیں۔ ایم-ایسٹ وارڈ، جہاں پر یہ کالونی واقع ہے، کے باشندے اکثر بیماریوں میں مبتلا ہوتے ہیں

تقریباً ۲۰ سال قبل پھیپھڑے کی بیماری کے سبب شیر علی کی موت ہو گئی۔ ’’زندہ تھا تو اچھا تھا۔ مر گیا تو تھوڑے آنسو کم ہو گئے،‘‘ وہ کہتی ہیں۔

کتاب النسا نے اس کے بعد، سیوری کی سڑکوں پر اپنے پانچوں بچوں کی اکیلے پرورش کی۔ وہ پڑوس کی عمارتوں میں گھریلو ملازمہ کا کام کرنے لگیں۔ ’’میں صبح ۷ بجے کام پر نکل جاتی تھی اور شام کو ۴ بجے کے بعد لوٹتی تھی۔ میرا سب سے بڑا بیٹا – جو اُس وقت ۱۰ سال کا تھا – اپنے تین چھوٹے بھائیوں اور ایک بہن کی دیکھ بھال کیا کرتا تھا۔‘‘ دور رہنے پر، کتاب النسا کو ہمیشہ سڑک کے کنارے پڑے اپنے بچوں کی فکر لاحق رہتی تھی۔ ’’میں نہیں چاہتی تھی کہ میرے پیچھے میرے بچوں کے ساتھ کچھ ہو جائے،‘‘ وہ کہتی ہیں۔

جنوری ۱۹۹۳ کے فسادات کے بعد ان کی تشویش میں مزید اضافہ ہونے لگا۔ ایک رات، تقریباً ۹ بجے، کتاب النسا نے دیکھا کہ کچھ آدمی اپنے ہاتھوں میں چاقو اور مٹی کے تیل میں بھگوئے ہوئے کپڑے کی گیند لیے دوڑے چلے آ رہے ہیں۔ ’’ہر ایک چیز تباہ کر دی گئی۔ میرے پڑوسی چیختے چلاتے رہے۔ میں نے اپنے بچوں کے ساتھ خود کو کمرے کے اندر بند کر لیا – تبھی مجھے جلنے کی بو آئی۔ وہ ہمیں جلا دینا چاہتے تھے، لیکن کسی طرح ہم وہاں سے بھاگنے میں کامیاب رہے،‘‘ وہ یاد کرتی ہیں۔

’’انہوں نے میری آنکھوں کے سامنے [سڑک کے کنارے بنے] میرے گھر کو آگ لگا دی۔ میں اپنے بچوں کے ساتھ بھاگی۔ چاروں طرف افراتفری کا عالم تھا۔ ایک آدمی کو چاقو گھونپ کر مار دیا گیا تھا...‘‘ وہ آگے کہتی ہیں۔ ’’وہ دو مہینے میری زندگی کے سب سے خوفناک دن تھے۔ مجھے اپنے بچوں کی جان کا خطرہ تھا، جس کی وجہ سے ہمیں چھپنا پڑا۔‘‘ کتاب النسا بتاتی ہیں کہ کچھ دنوں تک وہ اپنی برادری کے دیگر لوگوں کے ساتھ، سیوری کی ایک سنسان فیکٹری میں رہیں اور باہر شاید ہی کبھی نکلا کرتیں – صرف کھانا یا پیسے کی تلاش میں کبھی کبھار۔

آج، تقریباً ۲۷ سال بعد بھی ان فسادات کی یادیں انہیں خوفزدہ کر دیتی ہیں۔ ’’ہم اپنے بچوں کو بھی زیادہ باہر نہیں نکلنے دیتے تھے،‘‘ وہ کہتی ہیں۔ ہم نہیں جانتے کہ ان کے ساتھ کیا ہو سکتا تھا۔‘‘

Kitabun with her daughter-in-law Zahida (left), who looks after the 11 children (right) of the family
PHOTO • Shraddha Agarwal
Kitabun with her daughter-in-law Zahida (left), who looks after the 11 children (right) of the family
PHOTO • Shraddha Agarwal

کتاب النسا اپنی بہو زاہدہ (بائیں) کے ساتھ، جو فیملی کے ۱۱ بچوں (دائیں) کی دیکھ بھال کرتی ہیں

کتاب النسا کی فیملی اس محدود جگہ پر کسی اور طریقے سے رہتی ہے۔ ان کے ۱۱ پوتے پوتیوں میں سے کوئی بھی اسکول نہیں جاتا – ان کی عمر ساڑھے تین سال سے ۱۶ سال تک ہے۔ (مطمئن ہونے کے لیے، میں نے ایک معروف این جی او سے پوچھا، اور انہوں نے اس کی تصدیق کی۔) ’’ایک ۱۱ سالہ لڑکی سے اسکول میں چھیڑ چھاڑ ہوئی،‘‘ ۲۸ سالہ زاہدہ کہتی ہیں، جو کتاب النسا کے دوسرے بیٹے کی بیوی ہیں۔ ’’امی اور میں اپنے بچوں کو اس ماحول میں نہیں رکھنا چاہتے تھے اس لیے ہم نے انہیں اسکول سے نکال لیا۔ اس کے علاوہ، اسکول کے دوسرے بچے میرے بچوں کو پیٹتے تھے اس لیے کہ ہم لوگ نالے میں رہتے ہیں۔‘‘

زاہدہ رفیق نگر سے تقریباً ۱۳ کلومیٹر دور، سیوری کے ۶-۷ گھروں میں کام کرتی ہیں (وہ ٹرین اور رکشہ سے آتی جاتی ہیں)، جہاں وہ جھاڑو پونچھے لگاتی، برتن اور کپڑے دھوتی ہیں۔ وہ گھر پر سبھی ۱۱ بچوں کی دیکھ بھال کرتی ہیں – جن میں ان کی تین بیٹیاں، چھوٹے دیور کا تین سالہ کا ایک بچہ، اور اپنے شوہر کے بڑے بھائی کے سات بچے شامل ہیں۔ ’’ان کی امّی پانچ سال پہلے انہیں چھوڑ کر چلی گئی تھی،‘‘ وہ بتاتی ہیں۔ ’’وہ اپنے بچوں کی دیکھ بھال نہیں کر سکتی تھی، اس لیے بھاگ گئی۔ اب میں ہی ان کی امی ہوں۔‘‘

زاہدہ گھریلو خادمہ کے طور پر ماہانہ ۵۰۰۰ روپے کماتی ہیں۔ ان کے شوہر ابذل ایک گیراج میں کام کرتے ہیں اور کبھی کبھی ۱۵۰-۲۰۰ روپے روزانہ کماتے ہیں۔ دو دیور کبھی کبھار یومیہ مزدوری کرتے ہیں۔ چوتھا بھائی فیملی سے الگ ہو چکا ہے اور سیوری میں رہتا ہے۔ کتاب النسا کی بیٹی کی شادی ہو چکی ہے اور وہ سیوری میں ہی اپنے شوہر اور سسرال والوں کے ساتھ ایک جھونپڑ پٹی میں رہتی ہے۔

میں نے جب رفیق نگر کا دورہ کیا تھا، تب زاہدہ کی ۶۰ سالہ بزرگ ماں زرینہ، جو پہلے گھریلو ملازمہ ہوا کرتی تھیں، ٹیوبر کلوسس کے اپنے آخری دور میں چل رہی تھیں۔ خود زاہدہ تقریباً دو سالوں سے ٹی بی کے مرض میں مبتلا ہیں۔ کوڑے کے میدان میں اور اس کے آس پاس کام کرنا انتہائی خطرناک ہوتا ہے۔ ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسز کی ۲۰۱۵ کی ایک رپورٹ، جو ایم-ایسٹ وارڈ کے وسیع سروے پر مبنی ہے، بتاتی ہے کہ سروے میں شامل ۵۰ فیصد سے زیادہ لوگ دل کی بیماری، ذیابیطس، سانس لینے میں پریشانی، بلڈ پریشر اور ٹیوبر کلوسس کے مرض میں مبتلا پائے گئے۔

’’بیٹی ہے وہ میری، بہو نہیں،‘‘ کتاب النسا مجھ سے زاہدہ کے بارے میں کہتی ہیں۔ ’’اگر اسے کچھ ہو گیا، تو میرا پورا گھر تباہ ہو جائے گا۔‘‘

کتاب النسا کو اب اپنے پوتے پوتیوں سے امیدیں ہیں – ان کی خواہش ہے کہ وہ دیونار کے باہر زندگی گزاریں۔ ’’میرا کیا ہے، میں کچرے میں پیدا ہوئی تھی، کچرے میں ہی مروں گی،‘‘ وہ کہتی ہیں۔ ’’میں زندگی بھر جدوجہد کرتی رہی۔ میں اللہ سے دعا کرتی ہوں کہ وہ مجھے اپنے پاس بلا لیں۔ نہیں تو، میں ان تمام تناؤ کی وجہ سے پاگل ہو جاؤں گی۔‘‘

(مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف ہیں، اور ’روزنامہ میرا وطن‘، ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

Shraddha Agarwal

شردھا اگروال نے سوفیا کالج، ممبئی سے سوشل کمیونی کیشنز میڈیا (ایس سی ایم) ڈپارٹمنٹ سے ڈپلومہ کیا ہے۔ وہ پیپلز آرکائیو آف رورل انڈیا کی کانٹینٹ کوآرڈی نیٹر ہیں۔

Other stories by Shraddha Agarwal