uploads/Articles/P. Sainath/Nine decades of non-violence/bhaji_mohammad_nabrangpur_1826_ev.jpg

uploads/Articles/P. Sainath/Nine decades of non-violence/bhaji_mohammad_nabrangpur_1826_ev.jpg

آزادی کی دس کہانیاں ۔ ۱۰: باجی محمد، جن کی عدم تشدد پر مبنی لڑائی آزادی کے بعد ۶۰ برسوں تک جاری رہی


’’ہم خیمہ کے اندر بیٹھے ہوئے تھے، انھوں نے اسے پھاڑ کر زمین پر گرا دیا۔ ہم تب بھی بیٹھے رہے،‘‘ بزرگ مجاہدِ آزادی نے ہمیں بتایا۔ ’’انھوں نے زمین پر اور ہمارے اوپر پانی پھینکا۔ انھوں نے زمین کو گیلا کردیا تاکہ ہمیں وہاں بیٹھنے میں دشواری ہو۔ لیکن ہم تب بھی بیٹھے رہے۔ اس کے بعد جب میں تھوڑا پانی پینے کے لیے باہر گیا اور ٹونٹی کے سامنے جھکا، تو انھوں نے میرے سر پر وار کیا، جس سے میری کھوپڑی ٹوٹ گئی۔ مجھے فوراً اسپتال لے جایا گیا۔‘‘

باجی محمد ہندوستان کے آخری زندہ بچے مجاہدینِ آزادی میں سے ایک ہیں۔ قومی سطح پر تسلیم شدہ اُن چار یا پانچ مجاہدینِ آزادی میں سے ایک، جو اڈیشہ کے کوراپٹ علاقے میں اب بھی زندہ ہیں۔ وہ ۱۹۴۲ کے برطانوی مظالم کی بات نہیں کر رہے ہیں۔ (حالانکہ ان کے پاس اس کے بارے میں بھی بہت کچھ بتانے کے لیے موجود ہے۔) بلکہ وہ نصف صدی کے بعد، ۱۹۹۲ میں بابری مسجد کو توڑے جانے کے دوران اپنے اوپر ہوئے حملے کے بارے میں بتا رہے ہیں۔ ’’میں وہاں ۱۰۰ رکنی امن ٹیم کے طور پر موجود تھا۔‘‘ لیکن اس ٹیم کو کوئی پیس (امن) نہیں بخشا گیا۔ بزرگ گاندھی وادی مجاہد، جو پہلے ہی ۷۵ سال سے زیادہ کی عمر کے ہو چکے تھے، کو اپنے سر کے زخم کی وجہ سے ۱۰ دنوں تک اسپتال میں اور ایک مہینہ تک وارانسی کے آشرم میں علاج کے لیے گزارنے پڑے۔

وہ جب اپنی کہانی بیان کر رہے ہیں، تو ان کے چہرے پر غصے کی ذرا بھی آنچ نہیں ہے۔ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ یا بجرنگ دَل کے خلاف بھی نفرت کا کوئی جذبہ ان کے اندر نہیں ہے، جنھوں نے ان کے اوپر یہ حملہ کیا تھا۔ وہ ایک شریف بوڑھے آدمی ہیں، جو ہمیشہ مسکراتے رہتے ہیں۔ وہ گاندھی کے ایک مضبوط بھکت (پیروکار) ہیں۔ وہ ایک ایسے مسلمان ہیں، جو نبرنگ پور میں گئوکشی مخالف لیگ کی قیادت کر رہے ہیں۔ ’’حملے کے بعد بیجو پٹنائک میرے گھر پر آئے اور مجھے کھری کھوٹی سنائی۔ وہ اس بات کو لے کر فکرمند تھے کہ میں اِس عمر میں بھی پرامن احتجاج کرنے میں سرگرم ہوں۔ پہلے بھی، جب میں نے ۱۲ سالوں تک مجاہدِ آزادی کے اس پنشن کو قبول نہیں کیا تھا، تو انھوں نے مجھے ڈانٹ پلائی تھی۔‘‘

باجی محمد ایک ختم ہوتے قبیلہ کی بارونق یادگار ہیں۔ لاتعداد دیہی ہندوستانیوں نے ہندوستان کی آزادی کے لیے قربانیاں دی ہیں۔ لیکن، وہ نسل جو ملک کو یہاں تک لے کر آئی، وہ دھیرے دھیرے ختم ہو رہی ہے، ان میں سے زیادہ تر کی عمر ۸۰ یا ۹۰ کی دہائی سے گزر رہی ہے۔ باجی کی عمر ۹۰ سال کے آس پاس ہے۔

’’۱۹۳۰ کی دہائی میں، میں اسکول میں تھا، لیکن میٹرک سے زیادہ نہیں پڑھ سکا۔ میرے گرو سدا شیو ترپاٹھی تھے، جو بعد میں اڈیشہ کے وزیر اعلیٰ بنے۔ میں کانگریس پارٹی میں شامل ہو گیا اور اس کی نبرنگ پور اکائی کا صدر بنا (جو اُس وقت بھی کوراپٹ ضلع کا حصہ تھا)۔ میں نے ۲۰ ہزار لوگوں کو کانگریس کا ممبر بنایا۔ اس علاقے کی خمیر بہت اچھی تھی۔ اور یہ ستیہ گرہ کے لیے بہترین جگہ ثابت ہوئی۔‘‘

تاہم، جس وقت ہزاروں لوگ کوراپٹ کا رخ کر رہے تھے، باجی محمد نے کہیں اور کا رخ کیا۔ ’’میں گاندھی جی کے پاس گیا۔ میں انھیں دیکھنا چاہتا تھا۔‘‘ لہٰذا انھوں نے ’’ایک سائیکل لی، دوست لکشمن ساہو، کوئی پیسہ نہیں، اور یہاں سے رائے پور گیا۔‘‘ ۳۵۰ کلومیٹر کی دوری، وہ بھی کافی دشوار، پہاڑی راستوں سے ہوکر۔ ’’وہاں سے ہم نے وَردھا کے لیے ٹرین پکڑی اور سیواگرام پہنچے۔ ان کے آشرم میں بہت بڑے بڑے لوگ تھے۔ ہمیں کافی تعجب ہوا اور تشویش بھی۔ کیا ہمیں اُن سے کبھی ملنے کا موقع ملے گا؟ ان کے سکریٹری مہادیو دیسائی سے پوچھیے، لوگوں نے ہم سے کہا۔

’’دیسائی نے ہم سے کہا کہ ہم اُن سے شام کو ۵ بجے، جب وہ چہل قدمی کرتے ہیں، بات کر سکتے ہیں۔ یہ ٹھیک ہے، میں نے سوچا۔ آرام سے ملاقات ہوگی۔ لیکن وہ بہت تیز چلتے تھے۔ میری دوڑ کے برابر ان کی چال تھی۔ آخرکار، میں ان کے پاس نہیں پہنچ سکا، لہٰذا میں نے ان سے درخواست کی: براہِ کرم رک جائیے: میں صرف آپ کو دیکھنے کے لیے اڈیشہ سے چل کر یہاں آیا ہوں۔

’’انھوں نے بڑے مزے سے کہا: ’تم کیا دیکھوگے؟ میں بھی ایک انسان ہوں، دو ہاتھ، دو پیر، دو آنکھیں۔ کیا تم اڈیشہ میں ایک ستیہ گرہی ہو؟‘ میں نے جواب دیا کہ میں نے ایسا بننے کا ارادہ کیا ہے۔

’’ ’جاؤ‘، گاندھی نے کہا۔ ’جاؤ لاٹھی کھاؤ۔ ملک کے لیے قربانی دو۔‘ سات دنوں کے بعد، ہم یہاں وہی کرنے کے لیے واپس لوٹے، جیسا کہ انھوں نے ہمیں حکم دیا تھا۔‘‘ باجی نے، جنگ مخالف احتجاج کے طور پر نبرنگ پور مسجد کے باہر ستیہ گرہ کیا۔ اس کی پاداش میں انھیں ’’جیل میں چھ مہینے گزارنے پڑے اور ۵۰ روپے کا فائن دینا پڑا۔ اُن دنوں یہ رقم کم نہیں تھی۔‘‘

انھوں نے مزید واقعے بتائے۔ ’’ایک موقع پر، جیل میں، لوگ پولیس پر حملہ کرنے کے لیے جمع ہو گئے۔ میں بیچ میں کودا اور اسے روک دیا۔ ’مریں گے لیکن ماریں گے نہیں‘، میں نے کہا۔‘‘

’’جیل سے باہر آنے کے بعد، میں نے گاندھی کو لکھا: ’اب کیا؟‘ اور ان کا جواب آیا: ’دوبارہ جیل جاؤ‘۔ لہٰذا میں نے ویسا ہی کیا۔ اس دفعہ چار مہینوں کے لیے۔ لیکن تیسری بار، انھوں نے ہمیں گرفتار نہیں کیا۔ لہٰذا، میں نے گاندھی سے پھر پوچھا: ’اب کیا؟‘ اور انھوں نے کہا: ’اسی نعرہ کے ساتھ لوگوں کے درمیان جاؤ‘۔ لہٰذا ہم ہر بار ۲۰۔۳۰ لوگوں کے ساتھ ۶۰ کلومیٹر پیدل چل کر گاؤں گاؤں جاتے تھے۔اس کے بعد بھارت چھوڑو آندولن آیا، اور چیزیں بدل گئیں۔

’’۲۵ اگست، ۱۹۴۲ کو ہم سبھی لوگوں کو گرفتار کرکے جیل میں ڈال دیا گیا۔ نبرنگ پور کے پپبرنڈی میں پولیس کی فائرنگ ہوئی، جس کی وجہ سے ۱۹ لوگ وہیں ہلاک ہوگئے۔ بہت سے لوگ زخمی ہونے کی وجہ سے بعد میں موت کے شکار ہوئے۔ ۳۰۰ سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے تھے۔ کوراپٹ ضلع میں ایک ہزار سے زیادہ لوگوں کو جیل جانا پڑا۔ بہت سے لوگوں کو گولی مار دی گئی یا پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔ کوراپٹ میں ۱۰۰ سے زیادہ شہید تھے۔ ویر لکھن نائک (مشہور قبائلی لیڈر، جنہوں نے انگریزوں کا مقابلہ کیا تھا) کو پھانسی دے دی گئی۔‘‘

باجی کا کندھا، احتجاجیوں کے خلاف ڈھائے گئے مظالم میں ہل گیا تھا۔ ’’تب میں نے کوراپٹ جیل میں پانچ سال گزارے۔ وہاں میں نے لکھن نائک کو دیکھا تھا، جہاں سے انھیں برہم پور جیل منتقل کر دیا گیا تھا۔ وہ میرے سامنے والی سیل میں تھے اور جب ان کی پھانسی کا پیغام آیا، تو میں ان کے ساتھ ہی تھا۔ میں آپ کی فیملی کو کیا بتاؤں، میں نے ان سے پوچھا تھا۔ ’ان سے کہئے گا، مجھے کوئی فکر نہیں ہے،‘ انھوں نے جواب دیا تھا۔ ’غم صرف اتنا ہے کہ میں اس سوراج کو دیکھنے کے لیے زندہ نہیں رہوں گا، جس کے لیے ہم نے لڑائی لڑی‘۔‘‘

باجی نے خود دیکھا۔ انھیں یومِ آزادی سے قبل رہا کر دیا گیا تھا ’’نئے آزاد ملک میں چلنے پھرنے کے لیے۔‘‘ ان کے بہت سے ساتھی، جن میں مستقبل کے وزیر اعلیٰ سدا شیو ترپاٹھی بھی تھے، ’’سبھی ۱۹۵۲ کے انتخابات، جو کہ آزاد ہندوستان میں پہلی بار ہوئے، میں ایم ایل اے بن گئے۔‘‘ لیکن باجی نے کبھی انتخاب نہیں لڑا۔ کبھی شادی نہیں کی۔

’’میں نے اقتدار یا عہدہ حاصل کرنا نہیں چاہا،‘‘ وہ بتاتے ہیں۔ ’’میں جانتا تھا کہ میں دوسرے طریقوں سے خدمت کر سکتا ہوں۔ جس طرح گاندھی ہم سے چاہتے تھے۔‘‘ وہ کئی دہائیوں تک پکّے کانگریسی رہے۔ ’’لیکن، اب میرا واسطہ کسی بھی پارٹی سے نہیں ہے،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ ’’میں بغیر پارٹی والا ہوں۔‘‘

اس نے انھیں ایسے کسی بھی کام کو کرنے سے نہیں روکا، جس کا تعلق ان کے حساب سے عوام سے تھا۔ اسی وقت سے ہی ’’میں نے ۱۹۵۶ میں وِنوبا بھاوے کی بھودان تحریک میں حصہ لیا۔‘‘ وہ جے پرکاش نارائن کی بعض تحریکوں کے بھی حامی رہے۔ ’’وہ ۱۹۵۰ کی دہائی میں یہاں دو بار ٹھہرے۔‘‘ کانگریس نے انھیں کئی بار الیکشن لڑنے کے لیے کہا۔ ’’لیکن میں، سَتّا دَل سے زیادہ سیوا دَل تھا۔‘‘

مجاہدِ آزادی باجی محمد کے لیے، گاندھی سے ملنا ’’میری جدوجہد کا سب سے بڑا صلہ تھا۔ اس سے زیادہ کوئی اور کیا مانگ سکتا ہے؟‘‘ مہاتما گاندھی کے مشہور احتجاجی مارچوں میں سے ایک میں اپنی تصویر ہمیں دکھاتے ہوئے ان کی آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔ یہ ان کے خزانے ہیں، انھوں نے بھودان تحریک کے دوران اپنی ۱۴ ایکڑ زمینیں دے دی تھیں۔ جنگِ آزادی کے دوران ان کے سب سے پسندیدہ لمحے کون سے تھے؟ ’’ان میں سے ہر ایک۔ لیکن ظاہر ہے، سب سے حسین لمحہ تھا مہاتما سے ملنا، ان کی آواز سننا۔ وہ میری زندگی کا سب سے بڑا لمحہ تھا۔ صرف ایک پچھتاوا ہے، وہ یہ کہ انھوں نے ایک ملک یا قوم کے طور پر جو خواب دیکھا تھا، وہ اب بھی پورا نہیں ہوا ہے۔‘‘

حسین مسکراہٹ کے ساتھ واقعی ایک شریف اور بزرگ آدمی۔ اور ایک قربانی جو اُن کے بوڑھے کندھوں پر بیٹھی ہوئی ہے۔

یہ مضمون سب سے پہلے دی ہندو  اخبار میں ۲۳ اگست، ۲۰۰۷ کو شائع ہوا تھا۔

ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @Tabrez_Alig You can contact the translator here:

پی سائی ناتھ ’پیپلز آرکائیو آف رورل انڈیا‘ کے بانی ایڈیٹر ہیں۔ وہ کئی دہائیوں سے دیہی ہندوستان کے رپورٹر رہے ہیں اور ’ایوری باڈی لوز گُڈ ڈراٹ‘ نامی کتاب کے مصنف ہیں۔ ان سے یہاں پر رابطہ کیا جا سکتا ہے: @PSainath_org You can contact the author here: