ویڈیو دیکھیں: مارچ کی موسیقی

’’گرمیوں میں میں واسودیو ہوں اور سردیوں میں ایک کسان،‘‘ تقریباً ۷۰ سال کی عمر کے بِوا مہادیو گالے نے کہا۔ واسودیو فرقہ کے لوگ بھگوان کرشن کی پوجا کرتے ہیں اور بھیگ مانگنے کے لیے گھر گھر جا کر علاقائی بھگتی گیت گاتے ہیں۔

بِوا گالے ناسک ضلع کے پینٹھ تعلقہ کے رایتلے گاؤں سے ۲۰-۲۱ فروری کو ناسک شہر میں ہونے والی کسان ریلی میں شریک ہونے آئے تھے۔ واسودیو کی شکل میں – جو کہ ان کی فیملی کا روایتی پیشہ ہے – وہ پینٹھ تعلقہ کے کئی گاؤوں میں جاتے ہیں۔ اور ستمبر سے فروری تک وہ اپنے گاؤں میں ایک کسان کے طور پر کام کرتے ہیں۔

کئی کسان پچھلے ہفتہ کی ریلی میں اپنے روایتی موسیقی آلات ساتھ لے کر آئے تھے۔ یہ احتجاجی مظاہرہ، جو ۲۰ فروری کو شروع ہوا تھا، ۲۱ فروری کی رات کو تب ختم کر دیا گیا، جب سرکار نے کسانوں کے مطالبات کو پورا کرنے کے لیے رضامندی ظاہر کی اور انھیں تحریری یقین دہانی کرائی۔

PHOTO • Sanket Jain
PHOTO • Sanket Jain

بائیں: مارچ کے پہلے دن (۲۰ فروری، ۲۰۱۹) ورلی آدیواسی، ۵۰ سالہ سونیا ملکری روایتی تارپا بجا رہے تھے۔ سونیا مہاراشٹر کے پالگھر ضلع کے وکرم گڑھ تعلقہ کے ساکھرے گاؤں سے آئے تھے اور ناسک کے مہامارگ بس اسٹیشن پر، جہاں مہاراشٹر بھر کے کئی ضلعوں کے ہزاروں کسان جمع تھے، تارپا بجا رہے تھے۔ دائیں: ۵۵ سالہ وسنت سہارے، مہاراشٹر کے ناسک ضلع کے سُرگانا تعلقہ کے وانگن سُلے گاؤں کے رہنے والے ہیں۔ وہ پاوری بجا رہے تھے۔ وسنت کوکنا آدیواسی برادری سے ہیں اور محکمہ جنگلات کی دو ایکڑ زمین پر کھیتی کرتے ہیں

PHOTO • Sanket Jain

بِوا گالے چِپلی بجاتے ہوئے بھکتی لوک گیت گا رہے ہیں۔ وہ بھگوان کرشن کی پوجا کرنے والے فرقہ سے ہیں، جو گھر گھر جاتے ہیں اور بھیک مانگنے کے لیے لوک بھکتی گیت گاتے ہیں۔ وہ ناسک ضلع کے پینٹھ تعلقہ کے رایتلے گاؤں سے آئے تھے

PHOTO • Sanket Jain

گلاب گاوِت (بائیں)، عمر ۴۹ سال، تُنتُنا (ایک تار والا ساز) بجا رہے تھے۔ وہ مہاراشٹر کے ناسک ضلع کے دنڈوری تعلقہ کے فوپشی گاؤں سے ہیں۔ فوپشی گاؤں کے ہی، ۵۰ سالہ بھاؤ صاحب چوہان (دائیں، لال ٹوپی پہنے ہوئے)، کھنجری (ایک موسیقی آلہ) بجا رہے تھے۔ گاوِت اور چوہان دونوں، احتجاجی مظاہرہ میں دنڈوری تعلقہ کے دیگر کسانوں کے ساتھ، کسانوں کی تعریف میں گیت گا رہے تھے

PHOTO • Sanket Jain

مہاراشٹر سرکار کے نمائندوں اور آل انڈیا کسان سبھا کے لیڈروں کے درمیان میٹنگ کے نتیجہ کا انتظار کرتے کسان، ۲۱ فروری کی رات کو گاتے اور رقص کرتے ہوئے

(مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف، اردو ’روزنامہ میرا وطن‘ کے نیوز ایڈیٹر ہیں، اور ماضی میں ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

Sanket Jain

سنکیت جین، مہاراشٹر کے کولہا پور میں مقیم ایک آزاد دیہی صحافی اور پاری والنٹیئر ہیں۔

Other stories by Sanket Jain