دیپا جب اسپتال سے لوٹیں، تو انہیں معلوم نہیں تھا کہ انہیں کاپر ٹی لگایا جا چکا ہے۔

انہوں نے ابھی دوسرے بچے (ایک اور بیٹا) کو جنم دیا تھا اور وہ نس بندی کروانا چاہتی تھیں۔ لیکن، بچے کی پیدائش سیزیرئن آپریشن کے ذریعے ہوئی تھی اور دیپا بتاتی ہیں، ’’ڈاکٹر نے مجھ سے کہا کہ ایک ساتھ دونوں آپریشن نہیں کیا جا سکتا۔‘‘

ڈاکٹر نے اس کی جگہ انہیں کاپر ٹی لگوانے کا مشورہ دیا۔ دیپا اور ان کے شوہر نوین (بدلے ہوئے نام) کو لگا کہ یہ صرف ایک مشورہ ہے۔

ڈیلیوری کے تقریباً چار دن بعد، مئی ۲۰۱۸ میں ۲۱ سالہ دیپا کو دہلی کے سرکاری دین دیال اپادھیائے اسپتال نے چھٹی دے دی۔ نوین کہتے ہیں، ’’ہم نہیں جانتے تھے کہ ڈاکٹر نے کاپر ٹی لگا دیا ہے۔‘‘

یہ تو انہیں ایک ہفتہ بعد پتہ چل پایا، جب اس علاقے کی آشا کارکن نے دیپا کے اسپتال کی رپورٹ دیکھی، جسے نوین اور دیپا نے نہیں پڑھا تھا۔

کاپر ٹی بچہ دانی میں لگایا جانے والا ایک مانع حمل آلہ (آئی یو ڈی) ہے، جسے حمل سے بچنے کے لیے بچہ دانی میں ڈالا جاتا ہے۔ ۳۶ سالہ آشا کارکن (منظور شدہ سماجی صحت کارکن) سشیلا دیوی ۲۰۱۳ سے ہی اس علاقے میں کام کر رہی ہیں، جہاں دیپا رہتی ہیں۔ وہ بتاتی ہیں، ’’اسے ایڈجسٹ ہونے میں تین مہینے لگ سکتے ہیں، اور اس کے سبب کچھ عورتوں کو بے چینی ہو سکتی ہے۔ اسی لیے، ہم مریضوں کو [چھ مہینے تک] باقاعدہ جانچ کے لیے ڈسپینسری آنے کے لیے کہتے ہیں۔‘‘

حالانکہ، دیپا کو شروع کے تین مہینے کوئی پریشانی نہیں ہوئی اور وہ اپنے بڑے بیٹے کی بیماری میں الجھی ہوئی تھیں؛ اور باقاعدہ جانچ کے لیے نہیں جا پائیں۔ انہوں نے کاپر ٹی کا استعمال جاری رکھنے کا فیصلہ کر لیا۔

Deepa at her house in West Delhi: preoccupied with her son’s illness, she simply decided to continue using the T
PHOTO • Sanskriti Talwar

دیپا، مغربی دہلی میں واقع اپنے گھر میں: وہ اپنے بیٹے کی بیماری کی وجہ سے اتنی مصروف تھیں کہ انہوں نے کاپر ٹی کا استعمال جاری رکھا

ٹھیک دو سال بعد، مئی ۲۰۲۰ میں جب دیپا کو حیض آیا، تو انہیں بہت تیز درد ہونے لگا اور اس کے ساتھ ہی ساری پریشانیاں شروع ہو گئیں۔

جب درد کچھ دنوں تک لگاتار بنا رہا، تو وہ اپنے گھر سے تقریباً دو کلومیٹر دور، دہلی کے بکّروالا علاقے کے عام آدمی محلہ کلینک (اے اے ایم سی) گئیں۔ دیپا کہتی ہیں، ’’ڈاکٹر نے آرام کے لیے کچھ دوائیں لکھیں۔‘‘ وہ اُس ڈاکٹر سے ایک مہینہ تک صلاح لیتی رہیں۔ وہ آگے کہتی ہیں، ’’جب میری حالت بہتر نہیں ہوئی، تو انہوں نے مجھے بکّروالا کے دوسرے محلہ کلینک کی ایک خاتون ڈاکٹر کے پاس جانے کے لیے کہا۔‘‘

بکّروالا کے محلہ کلینک کے میڈیکل آفیسر ڈاکٹر اشوک ہنس سے جب میں نے بات کی، تو انہیں اس معاملہ کے بارے میں کچھ یاد نہیں آیا۔ وہ ایک دن میں دو سو سے زیادہ مریضوں کو دیکھتے ہیں۔ انہوں نے مجھے بتایا، ’’اگر ہمارے پاس ایسا کوئی معاملہ آتا ہے، تو ہم علاج کرتے ہیں۔ ہم صرف حیض سے جڑی بے ترتیبی کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ورنہ ہم الٹرا ساؤنڈ کرانے اور دوسرے سرکاری اسپتال جانے کی صلاح دیتے ہیں۔‘‘ آخر میں، کلینک نے دیپا سے الٹرا ساؤنڈ کرانے کو کہا تھا۔

بکّروالا کے ایک دوسرے محلہ کلینک کی ڈاکٹر امرتا نادر کہتی ہیں، ’’جب وہ یہاں آئی تھی، اس نے مجھے صرف اپنے حیض کی بے ترتیبی کے بارے میں بتایا۔ اس کی بنیاد پر پہلی بار میں ہی میں نے اسے آئرن اور کیلشیم کی دوا لینے کو کہا۔ اس نے مجھے کاپر ٹی استعمال کرنے کے بارے میں نہیں بتایا۔ اگر اس نے بتایا ہوتا، تو ہم الٹرا ساؤنڈ کے ذریعے اس کی جگہ معلوم کرنے کی کوشش کرتے۔ لیکن اس نے اپنے الٹرا ساؤنڈ کی ایک پرانی رپورٹ کو دکھایا، جس میں سب کچھ ٹھیک دکھائی دے رہا ہے۔‘‘ حالانکہ، دیپا کہتی ہیں کہ انہوں نے ڈاکٹر کو کاپر ٹی کے بارے میں بتایا تھا۔

مئی ۲۰۲۰ میں پہلی بار تیز درد شروع ہونے کے بعد ان کی پریشانیاں تیزی سے بڑھنے لگیں۔ وہ بتاتی ہیں، ’’حیض تو پانچ دن میں بند ہو گیا، جیسا کہ عام طور پر ہوتا ہے میرے ساتھ۔ لیکن، آنے والے مہینوں میں مجھے غیر معمولی طور پر بلیڈنگ (خون آنا) ہونے لگی۔ جون میں مجھے دس دنوں تک خون آتا رہا۔ اگلے مہینے یہ بڑھ کر ۱۵ دن ہو گیا۔ ۱۲ اگست سے یہ ایک مہینہ تک چلتا رہا۔‘‘

مغربی دہلی کے نانگلوئی-نجف گڑھ روڈ پر، سیمنٹ سے بنے دو کمرے کے اپنے مکان میں لکڑی کے پلنگ پر بیٹھی دیپا بتاتی ہیں، ’’میں ان دنوں بہت کمزور ہو گئی تھی۔ یہاں تک کہ چلنے میں بھی مجھے بہت پریشانی ہوتی تھی۔ مجھے چکر آتے تھے، میں صرف لیٹی رہتی تھی اور کوئی کام نہیں کر پاتی تھی۔ کبھی کبھی پیٹ میں بہت تیز درد اٹھتا تھا۔ زیادہ تر ایسا ہوتا تھا کہ مجھے ایک دن میں چار بار کپڑے بدلنے پڑتے تھے، کیوں کہ تیز بلیڈنگ کے سبب کپڑے خون سے بھیگ جاتے تھے۔ بستر بھی گندا ہو جاتا تھا۔‘‘

Deepa and Naveen with her prescription receipts and reports: 'In five months I have visited over seven hospitals and dispensaries'
PHOTO • Sanskriti Talwar

دیپا اور نوین نسخہ اور رپورٹ کے ساتھ: ’پانچ مہینے تک میں نے سات اسپتالوں اور دواخانوں میں چکر لگایا

پچھلے سال جولائی اور اگست مہینے میں دیپا دو بار بکّروالا کے چھوٹے کلینک گئیں۔ دونوں بار ڈاکٹر نے انہیں دوائیں لکھیں۔ ڈاکٹر امرتا نے مجھے بتایا، ’’ہم اکثر حیض کی بے ترتیبی والے مریضوں کو دوا لکھنے کے بعد، ایک مہینہ تک اپنے حیض کے سائیکل کو نوٹ کرنے کے لیے کہتے ہیں۔ کلینک پر ہم صرف ان کا معمولی علاج کر سکتے ہیں۔ آگے جانچ کے لیے، میں نے اسے سرکاری اسپتال کے شعبہ امراض خواتین جانے کی صلاح دی۔‘‘

اس کے بعد، دیپا پچھلے سال اگست کے دوسرے ہفتے میں بس پکڑ کر پاس میں (ان کے گھر سے تقریباً ۱۲ کلومیٹر دور) واقع رگھوبیر نگر کے گرو گوبند سنگھ اسپتال گئیں۔ اس اسپتال کے ڈاکٹر نے اسے ’مینوریجیا‘ (غیر معمولی طور پر زیادہ یا لمبے عرصے تک خون آنا) کا مسئلہ بتایا۔

دیپا کہتی ہیں، ’’دو بار میں اس اسپتال کے شعبہ امراض خواتین میں گئی۔ ہر بار انہوں نے مجھے دو ہفتے کی دوا لکھی۔ لیکن درد نہیں رکا۔‘‘

۲۴ سال کی ہو چکی دیپا نے دہلی یونیورسٹی سے سیاسیات میں گریجویشن کیا ہے۔ وہ صرف تین مہینے کی تھیں، جب ان کے والدین بہار کے مظفرپور سے دہلی آئے تھے۔ ان کے والد ایک پرنٹنگ پریس میں کام کرتے تھے اور اب ایک اسٹیشنری کی دکان چلاتے ہیں۔

ان کے ۲۹ سالہ شوہر نوین، جنہوں نے دوسری کلاس تک پڑھائی کی ہے، راجستھان کے دوسہ ضلع سے ہیں اور لاک ڈاؤن کی شروعات سے پہلے تک ایک اسکول میں بس کنڈکٹر کے طور پر کام کرتے تھے۔

ان کی شادی اکتوبر ۲۰۱۵ میں ہوئی، اور جلد ہی دیپا حاملہ ہو گئیں۔ اپنی فیملی کے مالی حالات کو دیکھتے ہوئے وہ صرف ایک بچہ چاہتی تھیں۔ حالانکہ، ان کا بیٹا تب سے بیمار رہتا ہے جب وہ صرف دو مہینے کا تھا۔

وہ بتاتی ہیں، ’’اسے ڈبل نیمونیا کی سنگین بیماری ہے۔ ہم نے اس کے علاج پر ہزاروں روپے خرچ کیے۔ ڈاکٹروں نے جتنے روپے مانگے، ہم نے دیے۔ ایک بار ایک اسپتال کے ایک ڈاکٹر نے ہمیں بتایا کہ اس کی بیماری کو دیکھتے ہوئے اس کا بچنا مشکل ہے۔ تبھی ہمارے ممبران اسمبلی نے زور دیکر کہا کہ انہیں ایک بچہ اور چاہیے۔‘‘

The couple's room in their joint family home: 'I felt too weak to move during those days. It was a struggle to even walk. I was dizzy, I’d just keep lying down'
PHOTO • Sanskriti Talwar
The couple's room in their joint family home: 'I felt too weak to move during those days. It was a struggle to even walk. I was dizzy, I’d just keep lying down'
PHOTO • Sanskriti Talwar

مشترکہ فیملی والے ان کے گھر میں میاں بیوی کا کمرہ: ’میں ان دنوں چلنے میں بہت کمزوری محسوس کرتی تھی۔ اپنے پیروں پر کھڑا ہونا بھی بہت مشکل تھا۔ مجھے چکر آتے تھے، میں صرف لیٹی رہتی تھی‘

شادی سے پہلے کچھ مہینوں تک، دیپا ایک پرائیویٹ پرائمری اسکول میں بطور ٹیچر کام کرتی تھیں اور مہینہ میں ۵۰۰۰ روپے کماتی تھیں۔ اپنے بیٹے کی بیماری کے سبب انہیں اپنی نوکری جاری رکھنے کا خیال چھوڑنا پڑا۔

اس کی عمر اب پانچ سال ہے اور اس کا دہلی کے رام منوہر لوہیا اسپتال (آر ایم ایل) میں علاج چل رہا ہے، جہاں اسے وہ بس سے ہر تین مہینے بعد جانچ کے لیے لے جاتی ہیں۔ کبھی کبھی ان کے بھائی اپنی موٹر سائیکل پر بیٹھا کر انہیں اسپتال چھوڑ دیتے ہیں۔

اسی باقاعدہ جانچ کے لیے وہ ۳ ستمبر، ۲۰۲۰ کو آر ایم ایل اسپتال گئی تھیں اور انہوں نے اسپتال کے شعبہ امراض خواتین جانا طے کیا، تاکہ وہ اپنے مسئلہ کا کوئی حل ڈھونڈ سکیں، جسے دوسرے اسپتال اور کلینک ٹھیک نہیں کر پائے تھے۔

دیپا کہتی ہیں، ’’اسپتال میں لگاتار ہونے والے درد کے اسباب کا پتہ لگانے کے لیے ان کا ایک الٹرا ساؤنڈ کرایا گیا، لیکن اس سے کچھ بھی نہیں پتہ چلا۔ ڈاکٹر نے بھی کاپر ٹی کی حالت معلوم کرنے کی کوشش کی، لیکن ایک دھاگے تک کا پتہ نہیں چلا۔ انہوں نے بھی دوائیں لکھیں اور دو تین مہینے کے بعد پھر سے آنے کو کہا۔‘‘

غیر معمولی طور پر خون آنے کے اسباب کا پتہ نہیں چل پانے کی وجہ سے دیپا ۴ ستمبر کو ایک دوسرے ڈاکٹر سے ملیں۔ اس بار وہ اپنے علاقہ کے ایک پرائیویٹ کلینک کے ڈاکٹر کے پاس گئیں۔ دیپا نے بتایا، ’’ڈاکٹر نے مجھ سے پوچھا کہ اتنی زبردست بلیڈنگ کے باوجود میں کیسے خود کو سنبھال رہی ہوں۔ انہوں نے بھی کاپر ٹی ڈھونڈنے کی کوشش کی، لیکن انہیں نہیں ملا۔‘‘ انہوں نے جانچ کے لیے ۲۵۰ روپے کی فیس جمع کی۔ اسی دن فیملی کے ایک رکن کی صلاح پر انہوں نے ایک پرائیویٹ لیب میں ۳۰۰ روپے خرچ کرکے پیلوک ایکس رے کروایا۔

رپورٹ میں لکھا تھا: ’کاپر ٹی کو ہیمی پیلوس کے اندرونی حصہ میں دیکھا گیا ہے۔‘

Deepa showing a pelvic region X-ray report to ASHA worker Sushila Devi, which, after months, finally located the copper-T
PHOTO • Sanskriti Talwar
Deepa showing a pelvic region X-ray report to ASHA worker Sushila Devi, which, after months, finally located the copper-T
PHOTO • Sanskriti Talwar

دیپا پیلوک حصہ کا ایکس رے آشا کارکن سشیلا دیوی کو دکھاتے ہوئے؛ انہوں نے کئی مہینوں کے بعد آخرکار کاپر ٹی کو ڈھونڈ ہی لیا

مغربی دہلی کی ماہر امراض خواتین ڈاکٹر جیوتسنا گپتا بتاتی ہیں، ’’اگر ڈیلیوری کے فوراً بعد یا سیزیرئن کے بعد کاپر ٹی لگا دیا جائے، تو اس بات کا قوی امکان ہوتا ہے کہ وہ ایک طرف جھک جائے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دونوں معاملوں میں بچہ دانی کا دہانہ بہت بڑا ہوتا ہے اور اسے عام سائز کا ہونے میں کافی وقت لگتا ہے۔ اس دوران کاپر ٹی اپنا محور بدل سکتا ہے اور ٹیڑھا ہو سکتا ہے۔ اگر عورت حیض کے دوران بہت تیز درد محسوس کرتی ہے، تو بھی یہ اپنی جگہ بدل سکتا ہے یا ٹیڑھا ہو سکتا ہے۔

آشا کارکن سشیلا دیوی کہتی ہیں کہ ایسی شکایتیں کافی عام ہیں۔ وہ کہتی ہیں، ’’ہم اکثر عورتوں کو کاپر ٹی کو لیکر شکایت کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ کئی بار وہ ہم سے کہتی ہیں کہ وہ ان کے ’پیٹ میں پہنچ گیا‘ ہے اور وہ اسے نکلوانا چاہتی ہیں۔‘‘

نیشنل فیملی ہیلتھ سروے۔۴ (۲۰۱۵-۱۶) کے مطابق، صرف ڈیڑھ فیصد عورتیں ہی مانع حمل کے طور پر آئی یو ڈی استعمال کرتی ہیں۔ جب کہ ملک میں ۱۵-۳۶ سال کی ۳۶ فیصد عورتیں نس بندی کا انتخاب کرتی ہیں۔

دیپا کہتی ہیں، ’’میں دوسروں سے سنا کرتی تھی کہ کاپر ٹی سبھی عورتوں کے لیے نہیں ہے اور اس سے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ لیکن مجھے دو سالوں تک کوئی پریشانی نہیں ہوئی۔‘‘

کئی مہینوں تک درد اور بہت زیادہ بلیڈنگ کا سامنا کرنے کے بعد، پچھلے سال ستمبر میں دیپا نے طے کیا کہ وہ شمال مغربی دہلی کے پیتم پورہ کے سرکاری بھگوان مہاویر اسپتال میں خود  کو دکھائیں گی۔ اسپتال میں سیکورٹی محکمہ میں کام کرنے والی ایک رشتہ دار نے مشورہ دیا کہ وہ وہاں کووڈ۔۱۹ جانچ کرانے کے بعد ہی کسی ڈاکٹر سے ملیں۔ اس لیے، ۷ ستمبر ۲۰۲۰ کو انہوں نے اپنے گھر کے پاس کے ایک دواخانہ سے ٹیسٹ کرایا۔

وہ کووڈ متاثرہ پائی گئیں اور انہیں دو ہفتوں کے لیے کوارنٹائن رہنا پڑا۔ جب تک وہ کووڈ جانچ میں نگیٹو نہیں پائی گئیں، تب تک وہ اسپتال جاکر کاپر ٹی نہیں نکلوا سکیں۔

'We hear many women complaining about copper-T', says ASHA worker Sushila Devi; here she is checking Deepa's oxygen reading weeks after she tested positive for Covid-19 while still enduring the discomfort of the copper-T
PHOTO • Sanskriti Talwar

آشا کارکن سشیلا دیوی کہتی ہیں، ’ہم اکثر کئی عورتوں کو کاپر ٹی کو لیکر شکایت کرتے ہوئے سنتے ہیں؛ یہاں وہ ہفتوں پہلے دیپا کے کووڈ پازیٹو پائے جانے کے بعد، اس کے آکسیجن لیول کی جانچ کر رہی ہیں، جب کہ اسی دوران وہ کاپر ٹی کے سبب درد کا سامنا بھی کر رہی ہیں

پچھلے سال جب مارچ ۲۰۲۰ میں ملک بھر میں لاک ڈاؤن کا اعلان کیا گیا اور اسکول بند کر دیے گئے، تو ان کے شوہر نوین، جو ایک اسکول بس کے کنڈکٹر تھے، کی ماہانہ ۷۰۰۰ روپے والی نوکری چھوٹ گئی۔ اور ان کے پاس اگلے پانچ مہینے تک کوئی کام نہیں تھا۔ پھر وہ ایک قریبی ریستوراں میں ایک ہیلپر کے طور پر کام کرنے لگے، جہاں انہیں کبھی کبھی ایک دن میں ۵۰۰ روپے مل جاتے تھے۔ (اس مہینے جاکر انہیں بکّروالا علاقے میں مورتی بنانے کی ایک فیکٹری میں ماہانہ ۵۰۰۰ روپے پر ایک نوکری ملی ہے۔)

۲۵ ستمبر کو دیپا کی کووڈ جانچ نگیٹو آئی اور وہ بھگوان مہاویر اسپتال میں اپنی جانچ کا انتظار کرنے لگیں۔ ایک رشتہ دار نے ان کی ایکس رے رپورٹ ایک ڈاکٹر کو دکھائی، جس نے کہا کہ اس اسپتال میں کاپر ٹی نہیں نکالا جا سکتا ہے۔ بلکہ انہیں واپس دین دیال اپادھیائے اسپتال (ڈی ڈی یو) جانے کو کہا گیا، جہاں مئی ۲۰۱۸ میں انہیں آئی یو ڈی لگایا گیا تھا۔

دیپا کو ڈی ڈی یو کے شعبہ امراض خواتین کے باہر کلینک میں ایک ہفتہ (اکتوبر ۲۰۲۰ میں) انتظار کرنا پڑا۔ وہ بتاتی ہیں، ’’میں نے ڈاکٹر سے کاپر ٹی نکالنے اور اس کی جگہ نس بندی کرنے کی درخواست کی۔ لیکن انہوں نے مجھ سے کہا کہ کووڈ کے سبب ان کا اسپتال نس بندی کا آپریشن نہیں کر رہا ہے۔‘‘

ان سے کہا گیا کہ جب وہاں یہ خدمت بحال ہوگی، تو وہ نس بندی کے دوران ان کے اندر سے کاپر ٹی نکال دیں گے۔

انہیں اور دوائیں لکھ دی گئیں۔ دیپا نے پچھلے سال اکتوبر کے وسط میں مجھے بتایا، ’’ڈاکٹر نے کہا کہ اگر کوئی مسئلہ ہوگا، تو ہم دیکھ لیں گے؛ لیکن اسے دواؤں سے ٹھیک ہو جانا چاہیے۔‘‘

(اس رپورٹر نے نومبر ۲۰۲۰ میں ڈی ڈی یو اسپتال کے شعبہ امراض خواتین کی او پی ڈی کا دورہ کیا اور صدر شعبہ سے دیپا کے معاملے کو لیکر بات کی، لیکن اس دن ڈاکٹر ڈیوٹی پر نہیں تھی۔ وہاں موجود دوسری ڈاکٹر نے کہا کہ مجھے اسپتال کے میڈیکل ڈائرکٹر سے اجازت لینے کی ضرورت ہے۔ پھر میں نے ڈائرکٹر کو کئی بار فون کیا، لیکن ان کی طرف سے کوئی جواب نہیں آیا۔)

PHOTO • Priyanka Borar

’مجھے نہیں معلوم کہ اس نے کس اوزار سے کاپر ٹی نکالنے کی کوشش کی تھی...دائی نے مجھ سے کہا کہ اگر میں نے کچھ اور مہینوں تک اسے نہیں نکلوایا، تو میری جان کو خطرہ ہوگا‘

ڈائریکٹریٹ آف فیملی ہیلتھ، دہلی کے ایک سینئر افسر کہتے ہیں، ’’سبھی سرکاری اسپتال وبائی مرض کے انتظام کے بوجھ کی وجہ سے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، کیوں کہ شہر پر وبائی مرض کا بہت برا اثر پڑا ہے۔ ایسے میں جب کئی اسپتالوں کو کووڈ اسپتالوں میں بدل دیا گیا ہو، تو خاندانی منصوبہ بندی جیسی باضابطہ خدمات میں رکاوٹ پیدا ہوئی ہے۔ نس بندی جیسے مستقل حل خاص طور پر متاثر ہوئے ہیں۔ لیکن، ٹھیک اسی دوران عارضی طریقوں کا استعمال بڑھ گیا ہے۔ ہم اپنی طرف سے پوری کوشش کر رہے ہیں کہ یہ تمام خدمات جاری رہیں۔‘‘

ہندوستان میں فاؤنڈیشن آف ری پروڈکٹو ہیلتھ سروسز (ایف آر ایچ ایس) کی کلینکل سروسز کی ڈائرکٹر رشمی اردے کہتی ہیں، ’’پچھلے سال کافی لمبے وقت تک خاندانی منصوبہ بندی کی خدمات دستیاب نہیں تھیں۔ اس دوران کافی سارے لوگوں کو ضروری خدمات حاصل نہیں ہوئیں۔ اب حالات پہلے کے مقابلے بہتر ہیں، سرکاری گائیڈلائنس کے ساتھ ان سہولیات کو حاصل کیا جا سکتا ہے۔ لیکن، ان خدمات کی فراہمی ابھی وبائی مرض آنے سے پہلے کے وقت جتنی نہیں ہو پائی ہے۔ اس کا خواتین کی صحت پر طویل مدتی اثر پڑے گا۔‘‘

پس و پیش کی حالت میں اپنے مسئلہ کے حل کے لیے، پچھلے سال ۱۰ اکتوبر کو دیپا نے اپنے علاقہ کی ایک دائی سے رابطہ کیا۔ انہوں نے اسے ۳۰۰ روپے دیے اور کاپر ٹی نکلوا لیا۔

وہ کہتی ہیں، ’’مجھے نہیں معلوم کہ اس نے کاپر ٹی نکالنے کے لیے کسی اوزار کا استعمال کیا یا نہیں۔ ہو سکتا ہے کہ اس نے کیا ہو۔ اس نے میڈیسن کی پڑھائی کر رہی اپنی بیٹی کی مدد لی اور انہیں اسے (کاپر ٹی) نکالنے میں ۴۵ منٹ لگے۔ دائی نے مجھ سے کہا کہ اگر میں اسے نکلوانے میں کچھ اور مہینے انتظار کرتی، تو میری جان کو خطرہ ہو سکتا تھا۔‘‘

کاپر ٹی نکلوانے کے بعد سے دیپا کا بے ترتیب حیض اور درد کا مسئلہ ختم ہو گیا ہے۔

الگ الگ اسپتالوں اور کلینک کے نسخہ اور رپورٹ کو اپنے بستر پر سنبھالتے ہوئے انہوں نے مجھ سے پچھلے سال ستمبر میں کہا تھا، ’’ان پانچ مہینوں میں، میں کل سات اسپتالوں اور دواخانوں میں گئی ہوں۔‘‘ جب کہ اس دوران انہیں اس پر کافی سارا پیسہ خرچ کرنا پڑا، جب کہ ان کے اور نوین دونوں کے پاس کوئی کام نہیں تھا۔

دیپا نے عزم کر رکھا ہے کہ انہیں اور بچے نہیں چاہیے اور وہ نس بندی کرانا چاہتی ہیں۔ وہ سول سروس کا امتحان دینا چاہتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں، ’’میں نے ایپلی کیشن فارم لے لیا ہے۔‘‘ انہیں امید ہے کہ وہ اس کے ذریعے اپنی فیملی کی مدد کر پائیں گی، جو وہ وبائی مرض اور کاپر ٹی کی وجہ سے نہیں کر پا رہی تھیں۔‘‘

پاری اور کاؤنٹر میڈیا ٹرسٹ کی جانب سے دیہی ہندوستان کی بلوغت حاصل کر چکی لڑکیوں اور نوجوان عورتوں پر ملگ گیر رپورٹنگ کا پروجیکٹ پاپولیشن فاؤنڈیشن آف انڈیا کے مالی تعاون سے ایک پہل کا حصہ ہے، تاکہ عام لوگوں کی آوازوں اور ان کی زندگی کے تجربات کے توسط سے ان اہم لیکن حاشیہ پر پڑے گروہوں کی حالت کا پتا لگایا جا سکے۔

اس مضمون کو شائع کرنا چاہتے ہیں؟ براہِ کرم [email protected] کو لکھیں اور اس کی ایک کاپی [email protected] کو بھیج دیں۔

مترجم: محمد قمر تبریز

Sanskriti Talwar

Sanskriti Talwar is an independent journalist based in New Delhi. She reports on gender issues.

Other stories by Sanskriti Talwar
Illustration : Priyanka Borar

Priyanka Borar is a new media artist experimenting with technology to discover new forms of meaning and expression. She likes to design experiences for learning and play. As much as she enjoys juggling with interactive media she feels at home with the traditional pen and paper.

Other stories by Priyanka Borar
Translator : Mohd. Qamar Tabrez

Mohd. Qamar Tabrez is the Translations Editor, Hindi/Urdu, at the People’s Archive of Rural India. He is a Delhi-based journalist, the author of two books, and was associated with newspapers like ‘Roznama Mera Watan’, ‘Rashtriya Sahara’, ‘Chauthi Duniya’ and ‘Avadhnama’. He has a degree in History from Aligarh Muslim University and a PhD from Jawaharlal Nehru University, Delhi.

Other stories by Mohd. Qamar Tabrez