تین سال کے ویہان کوڈوتے کو آج بھی جب شیر کے اُس حملے کی یاد آتی ہے، تو وہ ڈر کے مارے اپنی ماں سلوچنا سے جا کر لپٹ جاتا ہے۔

مئی ۲۰۱۸ کی بات ہے، جب ویہان کے والد بیر سنگھ کوڈوَتے (۲۵ سالہ ایک گونڈ آدیواسی) تیندو کے پتّے جمع کرنے اپنی موٹر سائیکل سے جنگل کی طرف جا رہے تھے، تو ان کا یہ چھوٹا بیٹا بھی ساتھ جانے کی ضد کرنے لگا۔ گرمیوں کے دنوں میں وسطی ہندوستان کے جنگلات کے ارد گرد تیندو کے پتے وہاں کے لوگوں کے لیے معاش کا ایک بڑا ذریعہ ہوتے ہیں، جنہیں اکٹھا کرکے یہ لوگ پہلے سُکھاتے ہیں، پھر بیڑی بنانے میں استعمال کرتے ہیں۔

ناگپور ضلع کے رامٹیک تعلقہ کے پنڈکپار گاؤں میں رہنے والے بیر سنگھ اُس دن اپنے گھر سے نکل کر جنگل کے کنارے سے ہوکر گزرنے والی سڑک پر ابھی کچھ ہی کلومیٹر چلے ہوں گے کہ اچانک جھاڑیوں میں چھپا ایک شیر ان کی موٹر سائیکل پر کود پڑا اور اپنے پنجوں سے ان کے اوپر حملہ کر دیا۔

یہ علاقہ پینچ ٹائیگر ریزرو کے قریب ہے۔ شیر کے اس حملے میں باپ بیٹا دونوں ہی بری طرح زخمی ہو گئے، اور پھر انہیں علاج کے لیے ناگپور کے ایک سرکاری اسپتال میں ایک ہفتہ گزارنا پڑا۔ ویہان کے سر پر آٹھ ٹانکے لگے تھے۔

ودربھ میں اس طرح کے حملے اکثر ہوتے رہتے ہیں، جو انسانوں اور شیر کے درمیان بڑھتے تصادم کی طرف اشارہ کرتے ہیں اور اس بات کا ثبوت ہیں کہ جنگلی جانوروں کے گھر تیزی سے سکڑتے جا رہے ہیں۔ دیکھیں: ’شیر آخر کہاں جائیں گے‘

مترجم: محمد قمر تبریز

Jaideep Hardikar

Jaideep Hardikar is a Nagpur-based journalist and writer, and a PARI core team member.

Other stories by Jaideep Hardikar
Text Editor : Sharmila Joshi

Sharmila Joshi is former Executive Editor, People's Archive of Rural India, and a writer and occasional teacher.

Other stories by Sharmila Joshi
Translator : Mohd. Qamar Tabrez

Mohd. Qamar Tabrez is the Translations Editor, Urdu, at the People’s Archive of Rural India. He is a Delhi-based journalist.

Other stories by Mohd. Qamar Tabrez