اننت پور میں ریگزن کا سامان فروخت کرنے والی دکانوں سے بھری سڑک، عام طور پر کئی نیوز روم میں بیٹھے تجزیہ نگاروں کے مقابلے آندھرا پردیش کی سیاست کے بارے میں زیادہ صحیح معلومات فراہم کر سکتی ہے۔ اننت پور کے کئی عوامی دانشور، جگن موہن ریڈی کو پچھلے الیکشن میں جیتتے ہوئے دیکھ کر حیران رہ گئے تھے، لیکن ریگزن کی دکانوں والے اس علاقہ نے اس کا اندازہ پہلے ہی لگا لیا تھا۔ ریگزن کی ایک دکان کے مالک، ڈاکٹر نارائن سوامی کہتے ہیں، ’’ہم نے انتخاب سے کچھ مہینے قبل، وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے نشان والے زیادہ سے زیادہ سیڈل بیگ کی سلائی شروع کر دی تھی۔‘‘

سیڈل بیگ نے ہوا کا رخ پہچان لیا تھا۔ وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے نشان والے بیگ کی بھاری مانگ نے یہاں سال ۲۰۱۹ کے اسمبلی انتخابات کے نتائج کی پیشن گوئی کر دی تھی۔

۱۹۹۰ کی دہائی میں، یہ دکانیں خاص طور سے سستے اور مضبوط اسکول بیگ کی سلائی کرتی تھیں۔ میں خود ان سے ایک دو بیگ خرید چکا تھا۔ یہ دہائی ختم ہونے کے بعد، اسکول بیگ خریدنے کے لیے جوتے کی دکانیں زیادہ مقبول جگہ بن گئی تھیں۔ اور ریگزن کی دکانوں نے فلمی ستاروں اور سیاسی لیڈروں کی تصویروں کے ساتھ، موٹربائک کے لیے سیڈل بیگ کی فروخت شروع کر دی؛ ساتھ ہی، موٹر سائیکل، آٹورکشہ اور صوفے کے لیے سیٹ کور، اور کار کے کور بھی فروخت کیے جانے لگے تھے۔ سیاسی ڈیزائنر بیگ کی فروخت سال ۲۰۱۹ کے انتخاب آتے آتے آسمان چھونے لگی تھی۔ پچھلی سرکار کے وقت فائدہ اٹھانے والے تیلگو دیشم پارٹی کے ایک ووٹر نے ۲۰۱۹ میں مجھے بتایا، ’’ہم بھوکے رہ سکتے ہیں، لیکن ہم ابھی بھی اپنی پارٹی کے جھنڈے کے ساتھ گھومیں گے۔ اور ہمیں یہ ضرور کرنا چاہیے۔ ہمارے پاس کوئی متبادل نہیں ہے۔‘‘ مجھے یاد ہے کہ وہ جس بائک پر سوار تھے اس پر ٹی ڈی پی کا سیڈل بیگ لٹکا ہوا تھا۔

Outside a rexine shop, motorbike saddlebags with pictures of film stars and politicians
PHOTO • Rahul M.
Outside a rexine shop, motorbike saddlebags with pictures of film stars and politicians
PHOTO • Rahul M.

ریگزن کی دکان کے باہر؛ بائک کے لیے بنائے گئے، فلمی ستاروں اور سیاسی لیڈروں کی تصویروں والے سیڈل بیگ

جیسے ہی وبائی مرض پھیلا، لوگوں میں اپنی پسندیدہ پارٹیوں (اور لیڈروں) کو اپنی بائک پر جگہ دینے میں دلچسپی جاتی رہی۔ اس سے پہلے، ریگزن دکانوں کے سامنے عام طور پر سیاسی پیغامات اور چہروں والے سیڈل بیگ لٹکتے رہتے تھے۔ اب وہ نارمل ڈیزائنوں سے سجائے گئے بیگ یا مشہور کمپنیوں کے لوگو والے بیگ بنا رہے ہیں۔ یہ اس وجہ سے بھی ہو سکتا ہے کہ بازار میں الگ الگ پراڈکٹ کی مانگ لگاتار گر رہی ہے کیوں کہ اس وقت لوگ روزگار کے بحران اور مالی نقصان کا سامنا کر رہے ہیں۔

یہ بھی ہو سکتا ہے کہ لاک ڈاؤن شروع ہونے کے بعد سے عوامی مقامات پر پولیس کی بڑھتی موجودگی کے سبب لوگ اپنی پسند سامنے نہ رکھنا چاہتے ہوں۔ نارائن سوامی بتاتے ہیں، ’’جب پولیس آپ کو کسی بات کے لیے آپ کی بائک کے ساتھ روکتی ہے اور اگر آپ [پولیس والے کی وابستگی والی پارٹی سے] الگ پارٹی کے ہیں، تو آپ مشکل میں پڑ سکتے ہیں۔‘‘

مترجم: محمد قمر تبریز

Rahul M.

Rahul M. is an independent journalist based in Anantapur, Andhra Pradesh, and a 2017 PARI Fellow.

Other stories by Rahul M.
Translator : Mohd. Qamar Tabrez

Mohd. Qamar Tabrez is the Translations Editor, Hindi/Urdu, at the People’s Archive of Rural India. He is a Delhi-based journalist, the author of two books, and was associated with newspapers like ‘Roznama Mera Watan’, ‘Rashtriya Sahara’, ‘Chauthi Duniya’ and ‘Avadhnama’. He has a degree in History from Aligarh Muslim University and a PhD from Jawaharlal Nehru University, Delhi.

Other stories by Mohd. Qamar Tabrez