ایم اِندر کمار، کرناٹک کے چامراج نگر ضلع کے باندی پور نیشنل پارک کے پاس واقع منگلا گاؤں کے رہنے والے ہیں۔ ان کی فیملی کے پاس بہت پہلے زمین تھی، لیکن اب نہیں ہے۔ ۳۸ سالہ اِندر اپنی بیوی اور دو بچوں کے ساتھ رہتے ہیں۔ ان کے بچے بس سے اسکول جاتے ہیں، جو ۱۹ کلومیٹر دور، گُنڈلوپیٹ میں ہے۔

اندر اپنے گاؤں میں وائلڈ لائف کی ایک یادگاری دکان میں مینیجر ہیں، جو مریمّا خیراتی ٹرسٹ کے کام میں مدد کرتی ہے۔ وہ مویشیوں پر جنگلی جانوروں کے حملوں کی دستاویز بندی کرکے بھی ٹرسٹ کی مدد کرتے ہیں۔ ٹرسٹ کے کام میں شامل ہے ٹائیگر ریزرو کے آس پاس کے گاؤوں میں رہنے والوں کو مالی معاوضہ فراہم کرنا جب وہ ٹائیگر، تیندوے اور جنگلی کُتّے جیسے شکاریوں کے حملے میں اپنے مویشیوں کو کھو دیں۔

PHOTO • M. Indra Kumar

ان کا تصویری مضمون جنگلی جانوروں کے ساتھ زندگی بسر کرنے کے بارے میں ایک بڑے شراکتی فوٹوگرافی پروجیکٹ کا حصہ اور ’پاری‘ پر شائع چھ تصویری مضامین کے سلسلہ کا پانچواں مضمون ہے۔

PHOTO • M. Indra Kumar

مویشی چرانے والے: ’’مویشی چرانے والا اپنی گایوں کو پانی پلانے کے لیے جنگل کے پاس واقع جھیل میں لا رہا ہے۔ وہ یہ کام انھیں چرانے سے پہلے اور بعد میں کرتے ہیں۔ جنگل میں پانی نہیں ہوتا، اس لیے وہ یہاں آتے ہیں۔ بہت سے لوگ اپنے مویشیوں کو جنگل میں چرانے لے جاتے ہیں۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں تیندوے اور ٹائیگر حملہ کرتے ہیں۔‘‘

PHOTO • M. Indra Kumar

فصل کٹائی: ’’یہ آدمی اپنے کھیت میں کام کر رہا تھا۔ پس منظر میں، آپ پہاڑ کی ڈھلان پر بنجر زمین کو دیکھ سکتے ہیں – یہی وہ جگہ ہے جہاں تھوڑی دیر بعد ان کی گائے کا شکار کر لیا گیا تھا۔ انھوں نے مجھے فون کیا اور بتایا کہ ان کی گائے کا شکار کر لیا گیا ہے، تب دوپہر کے ۱۲ بج رہے تھے۔ یہ اس قسم کا ایک واقعہ تھا، لیکن ایسے کئی حملے ہوئے ہیں۔ یہ چرواہوں کی آنکھوں کے سامنے ہو سکتا ہے۔ میں نے یہ تصویر لی اور پھر ان کی گائے کا شکار ہو گیا۔‘‘

PHOTO • M. Indra Kumar

تیندوے کا حملہ: ’’یہ ہائبرڈ گائے ہے جس پر تیندوے نے حملہ کیا تھا۔ اس آدمی نے گایوں کو چرنے کے لیے بنجر زمین کی طرف ہانک دیا تھا اور خود پاس کے اپنے کھیت میں کرنے لگا [پچھلی تصویر]۔ تھوڑی دیر بعد اس نے دیکھا کہ سبھی گائیں ڈر کے مارے بھاگ رہی ہیں۔ جب وہ اس جگہ پہنچا، تو دیکھا کہ اس کی گائے ماری جا چکی تھی۔‘‘

PHOTO • M. Indra Kumar

مریمّا مندر: ’’یہ آس پاس کے ۱۵ گاؤوں کے لیے سب سے بڑا مندر ہے۔ یہ مریمّا ہیں، ہمارے گاؤں کی دیوی۔ ہر پانچ سال میں، ہم ان کے لیے اس مندر میں ایک بڑا میلہ لگاتے ہیں، اس سال بھی یہ میلہ لگا تھا۔ کبھی انھیں ٹائیگر کی سواری کرتے دکھایا جاتا ہے تو کبھی شیر کی۔‘‘

PHOTO • M. Indra Kumar

ویر بھدر کُنیتھا: ’’یہ ویر بھدر کُنیتھا [ایک مقبول فوک آرٹ اور رقص کی شکل] ہے۔ یہ خوشی کے مواقع، جیسے شادیوں یا گھریلو تقریبات میں کلش کی رسم بھی ادا کرتے ہیں۔ انھیں فنّی مظاہرہ کے لیے مدعو کرنا مبارک تصور کیا جاتا ہے۔ ایسا مانا جاتا ہے کہ یہ بد روحوں کو دور کر سکتے ہیں۔ انھیں اس سال مریمّا کے ہمارے میلہ کے دوران اپنی پیشکش کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔‘‘

PHOTO • M. Indra Kumar

بھالو کی کھال والے ڈھولکیے: ’’ان کا تعلق کروبا گوڑا برادری سے ہے۔ انھیں بھی میلہ کے دوران اپنے فن کا مظاہرہ کرنے کے لیے مدعو کیا جاتا ہے۔ وہ اپنے سر پر بھالو کا چہرہ پہنے ہوئے ہیں۔‘‘

PHOTO • M. Indra Kumar

گلی کی روشنی: ’’یہ میلہ کے دوران روشنی سے جگمگاتی میرے گاؤں کی بنیادی سڑک ہے۔‘‘

PHOTO • M. Indra Kumar

آسمان: ’’جب میں ٹہلنے گیا تھا تب یہ تصویر کھینچی تھی۔ مجھے یہ درخت اور آسمان بہت پسند ہے، اس لیے میں نے یہ تصویر لی۔ پچھلے ہفتہ ایک تیندوا اس درخت کے پاس دیکھا گیا تھا۔‘‘

PHOTO • M. Indra Kumar

باڑے میں گائے: ’’ایک تیندوے نے اس گائے پر حملہ کیا تھا۔ اس کی گردن زخمی ہے۔ ایک گائے چرانے والے نے یہ دیکھا اور تیندوے کو مار بھگایا۔ پھر اس گائے کو واپس گھر لایا گیا اور گئوشالہ میں باندھ دیا گیا۔ اب یہ ٹھیک ہو رہی ہے۔ عام طور پر، ٹائیگر کے ذریعے کیا گیا شکار تیندوے سے بالکل الگ ہوتا ہے۔ ٹائیگر کے مقابلے تیندوے کا شکار بے ترتیب ہوتا ہے۔‘‘

PHOTO • M. Indra Kumar

ٹائیگر کا حملہ: ’’اس گائے کو ایک ٹائیگر نے کھا لیا تھا۔ ٹائیگر جب شکار کرتا ہے، تو اسے گھسیٹ پر کچھ دور لے جاتا ہے اور پھر کھا جاتا ہے۔ وہ جانور کے پچھلے حصے کو کھانا شروع کرتا ہے۔ وہ پہلے دودھ والے حصے کو کھاتا ہے، پھر پچھلی ٹانگوں کو۔ وہ بہت صفائی سے کھاتا ہے۔ پونچھ کو ہٹا دیتا ہے۔ مجھے معلوم نہیں کیوں۔ ٹائیگر کے ذریعے کیے گئے ہر شکار میں یہی خاصیت دیکھنے کو ملتی ہے۔ صرف ٹائیگر ہی اس قسم کی بڑی گایوں کو مارتے ہیں اور وہ شکار کو دور تک گھسیٹ سکتے ہیں۔ ہم [دو شکاریوں کے درمیان کا] فرق بتاتے کے لیے پیروں کے نشان کو دیکھ سکتے ہیں، اور جان سکتے ہیں کہ وہ ٹائیگر تھا یا تیندوا۔ یہ آدمی ییلاچٹّی کا رہنے والا ہے۔ اس کے پاس تقریباً ۱۰-۱۲ گائیں ہیں۔ محکمہ جنگلات سے معاوضہ کے طور پر ۱۰ ہزار روپے ملنے چاہئیں، لیکن کسی کو بھی ۳ ہزار روپے سے زیادہ نہیں ملے ہیں۔ اس آدمی کو محکمہ جنگلات سے ابھی تک کوئی معاوضہ نہیں ملا ہے، لیکن ہمارے خیراتی ٹرسٹ نے ان کو ۵ ہزار روپے دیے ہیں۔‘‘

اس کام کو جیئرڈ مارگلیز نے کرناٹک کے منگلا گاؤں میں واقع مریَمّا چیریٹیبل ٹرسٹ کے اشتراک سے کیا۔ یہ ۲۰۱۶۔ ۲۰۱۵ کے فل برائٹ نہرو اسٹوڈنٹ ریسرچ گرانٹ کی وجہ سے ممکن ہو پایا، جو کہ یونیورسٹی آف میری لینڈ بالٹی مور کاؤنٹی  کا ایک گریجویٹ اسٹوڈنٹ ایسوسی ایشن ریسرچ گرانٹ ہے، ساتھ ہی اسے مریما چیریٹیبل ٹرسٹ سے بھی مدد ملی۔ لیکن اس میں سب سے بڑی شراکت خود فوٹوگرافرز کی رہی، جنہوں نے پوری تندہی اور محنت سے کام کیا۔ متن کا ترجمہ کرتے وقت بی آر راجیو کا قیمتی تعاون بھی شامل حال رہا۔ تمام تصویروں کے کاپی رائٹس، پاری کے کریٹو کامنس یوز اور ری پروڈکشن پالیسیوں کے مطابق، پوری طرح سے فوٹوگرافرز کے پاس محفوظ ہیں۔ ان کے استعمال یا دوبارہ اشاعت سے متعلق کوئی بھی سوال پاری سے کیا جا سکتا ہے۔

اس سلسلہ کے دیگر تصویری مضامین:

جب جیمّا نے تیندوے کو دیکھا

’ہمارے پاس پہاڑیاں اور جنگل ہیں، ہم یہیں رہتے ہیں‘

باندی پور میں فصل والے گھر

باندی پور کے پرنس سے قریبی سامنا

’میں نے جب یہ تصویر کھینچی اس کے بعد ہی یہ بچھڑا غائب ہوگیا‘

(مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف، اردو ’روزنامہ میرا وطن‘ کے نیوز ایڈیٹر ہیں، اور ماضی میں ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

M. Indra Kumar

ایم اِندر کمار کرناٹک کے باندی پور نیشنل پارک کے پاس منگلا گاؤں میں رہتے ہیں۔ وہ وائلڈ لائف کی ایک مقامی یادگاری دکان پر بطور مینیجر کام کرتے ہیں۔

Other stories by M. Indra Kumar