ناگی شوا کرناٹک کے باندی پور نیشنل پارک کے کنارے واقع لوکّیر گاؤں میں اپنی فیملی کے ساتھ رہتی ہیں۔ وہ کروبا گوڑا برادری سے ہیں، اور گھریلو ملازمہ کے طور پر کام کرتی ہیں۔

انھوں نے چھ مہینے کے دوران، کرناٹک کے چامراج نگر ضلع میں ہندوستان کے بڑے ٹائیگر ریزروس میں سے ایک، باندی پور نیشنل پارک کے آس پاس اپنی روزمرہ کی زندگی – درختوں، کھیتوں اور فصل کی کٹائی، جانوروں، اپنی فیملی – کی تصویریں کھینچیں۔ یہ پہلی بار تھا جب انھوں نے کیمرہ (Fujifilm FinePix S8630) کا استعمال کرنا سیکھا۔ ان کا یہ تصویری مضمون جنگلی جانوروں کے ساتھ زندگی بسر کرنے کے بارے میں ایک بڑے شراکتی فوٹوگرافی پروجیکٹ کا حصہ اور ’پاری‘ پر شائع چھ مضامین کے ایک سلسلہ کا دوسرا مضمون ہے (اس کا پہلا حصہ، جیمّا نے جب تیندوے کو دیکھا ۸ مارچ ۲۰۱۷ کو شائع ہوا تھا۔)

PHOTO • Nagi Shiva

’’مجھے اپنے لوگوں کی تصویریں لینا پسند تھا۔ دوسرے لوگوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ ہم کن مسائل کا سامنا کرتے ہیں اور یہاں ہم کیسے رہتے ہیں،‘‘ ۳۳ سالہ ناگی شوا کہتی ہیں۔ ’’میں اور تصویریں کھینچنا چاہتی ہوں، لیکن مجھے زیادہ وقت نہیں ملتا۔ میں گھر لوٹتی گایوں کی تصویریں لینا چاہتی ہوں۔ بارش کے بعد اب یہاں چاروں طرف ہریالی ہے۔ مجھے چرتی ہوئی بھیڑ یا بکریوں یا تالاب سے پانی پیتے پرندوں کی تصویر لینا پسند ہے۔‘‘

PHOTO • Nagi Shiva

تنہا درخت: ’’اس درخت کو جگلا گَنتی مارا [لڑائی کرنے والا پیڑ] کہا جاتا ہے۔ اسے کوئی بھی اپنے گھر یا کھیتوں میں نہیں لگاتا ہے، کیوں کہ ان کا ماننا ہے کہ یہ درخت گھر میں تنازع کا سبب بنے گا۔ لمبے وقت سے اس کا یہی نام ہے۔ ہم اس کا استعمال نہیں کرتے؛ ہم اسے صرف جلانے کی لکڑی کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں۔‘‘

PHOTO • Nagi Shiva

کھیتوں میں کام کرتے ہوئے: ’’یہ میرے گاؤں کے پاس ہے، عورتیں پھلیاں توڑ رہی تھیں۔ اس تصویر میں موجود سبھی عورتیں میری جان پہچان کی ہیں۔ میں نے یہ تصویر صبح ۷ بجے کھینچی تھی؛ صرف اس تصویر کو لینے کے لیے میں باہر گئی تھی۔ اکیلے مرد ہی نہیں، بلکہ عورتیں بھی صبح سویرے کھیتوں میں کام کرنے جاتی ہیں۔ میں بھی کھیتوں میں کام کیا کرتی تھی، لیکن اب میرے پاس دوسرا روزگار ہے۔ ہم سبھی جنگل کے قریب کے کھیتوں میں کڑی محنت کرتے ہیں۔‘‘

PHOTO • Nagi Shiva

گوی رُدریشور: ’’یہ ہمارے علاقے کا منظر ہے، ہمارے پاس پہاڑیاں اور جنگل ہیں، ہم یہیں رہتے ہیں۔ یہ گوی رُدریشور مندر کی پہاڑی ہے؛ یہ ٹائیگر ریزروس کی خندق سے پرے ہیں۔ پہاڑی کے اندر ایک مورتی ہے، اور ایک غار ہے جو پہاڑی کی چوٹی کی طرف نکلتی ہے۔ کوئی بھی اس کے اندر نہیں جا سکتا، لیکن ایک چھوٹا راستہ ہے اور اندر سانپ ہیں۔ پہاڑی کی چوٹی پر ایک چھوٹا سا مندر ہے اور ہم پہاڑی پر چل کر جا سکتے ہیں۔ ہاتھی اور باگھ پہاڑی کی چوٹی کے پاس آتے ہیں، لیکن ہم سبھی وہاں جا چکے ہیں۔ ہم وہاں پرارتھنا کر سکتے ہیں۔ یہ میرے گاؤں سے تقریباً ایک کلومیٹر دور، لوکّیر کے پاس ہے۔‘‘

PHOTO • Nagi Shiva

گھر کے سامنے بیلوں کے ساتھ بھائی: ’’یہ گھر بنگلور کے ریڈی نام کے ایک آدمی کا ہے۔ ہم انھیں جانتے ہیں، ان کی فیملی نے گاؤں کے اسکول کو اقتصادی مدد فراہم کرنے میں تعاون دیا ہے۔ وہ اسکولی بچوں کو وظیفہ اور نوٹ بُک مہیا کراتے ہیں۔ پہلے میں اسی گھر میں ہاؤس کیپر کا کام کرتی تھی۔ اس گھر کے سامنے، میرا بھائی اپنے بیلوں کو واپس اپنے گھر لے جا رہا ہے۔ وہ اپنی گایوں کو اپنے کھیت میں چراتا ہے۔ یہ بیل اسی کے ہیں۔ اب ہمارے گاؤوں کے پاس باہری لوگوں نے اس قسم کے کئی بڑے گھر بنا لیے ہیں۔‘‘

PHOTO • Nagi Shiva

بیل: ’’یہ بیل میرے بھائی کا ہے۔ گایوں سے کسانوں کو کاشت کاری میں بہت مدد ملتی ہے۔ وہ کھیتوں میں بھی کڑی محنت کرتے ہیں،اسی لیے ہم ان کی پوجا کرتے ہیں۔ ہم اس بیل کو بساوا کہتے ہیں۔

PHOTO • Nagi Shiva

کھانا لے جاتی عورت: ’’یہ میری بہن ہے۔ وہ صبح سے کھیتوں میں کام کرنے والے اپنے شوہر کے لیے کھانا لے جا رہی ہے۔‘‘

PHOTO • Nagi Shiva

جنگل میں آگ: ’’مجھے نہیں معلوم کہ جنگل میں آگ کس نے جلائی تھی۔ ہو سکتا ہے کہ جنگل میں جانے والے کسی شخص نے اسے جلایا ہو، کسی نے بیڑی پیتے وقت ماچس کی تیلی پھینکی ہوگی۔ یا پھر یہ قدرتی طور پر ہو سکتا ہے، یہ ممکن ہے۔ کوئی ایسا آدمی جو جنگلوں میں اپنے مویشیوں کو چرانے لے جاتا ہے یا جو جنگل میں جاتا ہے، اسی نے یہ کیا ہوگا۔ یہ لوکّیر کے پاس ہے، محکمہ جنگلات کے لوگ اسے بجھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اسے بجھانے کے لیے انھوں نے رات کے ۱۱ بجے تک کام کیا۔‘‘

PHOTO • Nagi Shiva

مور: ’’ہمارے جنگل میں بہت سارے خوبصورت پرندے اور جانور ہیں، جیسے کہ یہ خوبصورت مور۔ میں نے یہ تصویر اُس جگہ کے پاس لی تھی، جہاں میں کام کرتی ہوں۔ وہاں ایک پہاڑی ہے اور یہ مور چٹان کے اوپر تھا۔ یہ بالکل ساکت اور بڑی خوبصورتی سے کھڑا تھا۔‘‘

PHOTO • Nagi Shiva

کھیت کی جُتائی: ’’ہم کھیتوں میں کام کرتے ہیں۔ ہم جُتائی کرتے ہیں، بوائی کرتے ہیں اور فصل حاصل کرتے ہیں۔ ہم جنگل کے پاس رہتے ہیں، پھر بھی کھیتی کرتے ہیں۔ ہم راگی، جوار اور پیاز اُگاتے ہیں۔ یہاں بہت زیادہ پانی نہیں ہے، اور زیادہ تر لوگ اپنی فصلوں کی سینچائی کے لیے بارش پر منحصر ہیں۔‘‘

PHOTO • Nagi Shiva

بھیڑ چرانا: ’’ہم مویشیوں پر منحصر ہیں، وہ ہمارا معاش ہیں۔ ہم انھیں جنگل میں چراتے ہیں۔ لوگ بھیڑ اور بکریاں پالتے ہیں۔ ہمیں اون ملتا ہے۔ کبھی کبھی کچھ پیسے حاصل کرنے کے لیے ہم ایک یا دو بکریوں یا بھیڑوں کو فروخت کر دیتے ہیں۔ میرے گاؤں میں کئی لوگ آمدنی کے لیے اس پر منحصر ہیں۔ سبھی کے پاس تقریباً ۵۰ بھیڑیں اور بکریاں ہیں۔ ہمارے پاس ۲۵ بکریاں ہیں، لیکن کوئی بھیڑ نہیں ہے۔ ہمارے پاس انھیں چرانے کے لیے کوئی چرواہا نہیں ہے، میری ماں اب کافی بوڑھی ہو چکی ہیں اور باہر نہیں جا سکتیں۔ ہم بھیڑوں کو باہر نہیں چھوڑ سکتے، ہمیں ان کے ساتھ ہی رہنا پڑتا ہے ورنہ وہ واپس نہیں آئیں گی، ان کا شکار بھی ہو سکتا ہے۔ بکریاں گم ہونے پر بھی لوٹ آئیں گی۔ اس تصویر میں میرا بھتیجہ انھیں چرا رہا ہے۔ بھیڑیں میری بہن کی ہیں اور بکریاں میری ہیں۔‘‘

PHOTO • Nagi Shiva

پنچ پھول سے نقاشی: ’’یہ میرے بہنوئی ہیں۔ وہ پنچ پھول کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ [تیزی سے پھول دینے والا پودا، پنچ پھول (Lantana camara) اب ایک بڑے حصے میں پھیل گیا ہے، خاص کر نیشنل پارک کے اندر]۔ ان کا نام بساوا ہے اور وہ جسمانی طور سے معذور ہیں۔ ہمارے پاس ایک سیلف ہیلپ گروپ ہے، جس میں نو خواتین اور صرف ایک مرد ہے۔ بساوا واحد مرد ہیں۔ ہم نے گروپ کا نام لانتانا سنگھم رکھا ہے۔ ہم نے پنچ پھول سے بنے فرنیچر اور دیگر اشیاء تیار کرنے کے لیے ٹریننگ لی۔ مجھے ۱۵۰ روپے کی یومیہ اجرت مل رہی تھی۔ یہ ہمارے ذریعے کی گئی محنت کے حساب سے کافی نہیں تھا۔ اس لیے میں نے چھوڑ دیا اور اس کے بدلے گھر کا کام کرنا شروع کر دیا۔‘‘

PHOTO • Nagi Shiva

تربیت: ’’یہ میری بہن ہیں، جو گُڈّیکیرے گاؤں کی جینو کروبا آدیواسی لڑکیوں کو پنچ پھول کا کام سکھا رہی ہیں۔ مرد جنگل سے پنچ پھول لاتے ہیں اور عورتیں اسے صاف کرتی ہیں۔

اس کام کو جیئرڈ مارگلیز نے کرناٹک کے منگلا گاؤں میں واقع مریَمّا چیریٹیبل ٹرسٹ کے اشتراک سے کیا۔ یہ ۲۰۱۶۔ ۲۰۱۵ کے فل برائٹ نہرو اسٹوڈنٹ ریسرچ گرانٹ کی وجہ سے ممکن ہو پایا، جو کہ یونیورسٹی آف میری لینڈ بالٹی مور کاؤنٹی  کا ایک گریجویٹ اسٹوڈنٹ ایسوسی ایشن ریسرچ گرانٹ ہے، ساتھ ہی اسے مریما چیریٹیبل ٹرسٹ سے بھی مدد ملی۔ لیکن اس میں سب سے بڑی شراکت خود فوٹوگرافرز کی رہی، جنہوں نے پوری تندہی اور محنت سے کام کیا۔ متن کا ترجمہ کرتے وقت بی آر راجیو کا قیمتی تعاون بھی شامل حال رہا۔ تمام تصویروں کے کاپی رائٹس، پاری کے کریٹو کامنس یوز اور ری پروڈکشن پالیسیوں کے مطابق، پوری طرح سے فوٹوگرافرز کے پاس محفوظ ہیں۔ ان کے استعمال یا دوبارہ اشاعت سے متعلق کوئی بھی سوال پاری سے کیا جا سکتا ہے۔

اس سلسلہ کے دیگر تصویری مضامین:

جب جیمّا نے تیندوے کو دیکھا

باندی پور میں فصل والے گھر

باندی پور کے پرنس سے قریبی سامنا

’یہی وہ جگہ ہے جہاں تیندوا اور ٹائیگر حملہ کرتے ہیں‘

’میں نے جب یہ تصویر کھینچی اس کے بعد ہی یہ بچھڑا غائب ہوگیا‘

(مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف ہیں، اور ’روزنامہ میرا وطن‘، ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

Nagi Shiva

ناگی شیوا لوکّیر گاؤں میں رہتی ہیں، جو ہندوستان کے بڑے ٹائیگر ریزروس میں سے ایک، باندی پور نیشنل پارک کے کنارے واقع ہے۔ وہ گھریلو ملازمہ کے طور پر معاش حاصل کرتی ہیں۔

Other stories by Nagi Shiva