/media/uploads/Articles/Shalini Singh/meerutfootballstory/no_free6.jpg


دنیا بھر کے لاکھوں لوگوں پر ورلڈ کپ کا بخار چڑھا ہوا ہے۔ لیکن، میرٹھ کے فٹ بال بنانے والوں سے ملنے کے بعد، شالنی سنگھ کو صنعت کی اس سچائی کا علم ہوا، جو ابھی تک کسی کو معلوم نہیں تھا

تین دوست جنوبی دہلی کے ایک پب میں ورلڈ کپ دیکھتے وقت جتنے پیسے بیئر (شراب) خریدنے میں خرچ کرتے ہیں، اتنے ہی پیسے میرٹھ کے پاس واقع کھیرکھی گاؤں کی ۱۷ افراد پر مشتمل ایشوری کی فیملی کو ایک مہینہ کی آمدنی سے ملتے ہیں۔ یہ لوگ گاؤں میں فٹ بال کی سلائی کرکے ماہانہ صرف ایک ہزار روپے کماتے ہیں۔ گھر کے سارے افراد صبح سویرے اٹھ جاتے ہیں، عورتیں گھریلو کام کاج سے فارغ ہونے کے بعد اور مردوں کو باہر بھیج کر اپنے کام پر لگ جاتی ہیں۔ بچے بھی ان کی مدد کرتے ہیں۔ مرد گھر سے باہر جاکر روزانہ سات گھنٹے سخت محنت و مزدوری کرتے ہیں۔ ایشوری، جو اپنی عمر کے ساٹھویں سال میں چل رہی ہیں، کہتی ہیں کہ مردوں کو اپنی عورتوں کے اس کام کو کرنے سے کوئی پریشانی نہیں ہے، کیوں کہ یہ کام انھیں گھر سے باہر جاکر نہیں کرنا پڑتا، بلکہ انھیں صرف تبھی باہر نکلتا پڑتا ہے، جب انھیں کسی خام مال کی ضرورت ہو یا پھر تیار مال کو بازار تک پہنچانا ہو۔ اس فیملی کی آمدنی کا ایک چھوٹا ذریعہ ان کا کھیت کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا بھی ہے۔ حالانکہ میرٹھ کے آس پاس کے تقریباً ۵۰ گاؤوں میں جہاں فٹ بال کی سلائی کا ہی کام چلتا ہے، اس پیشہ سے منسلک دیگر لوگوں کے پاس اضافی آمدنی کا کوئی دوسرا ذریعہ نہیں ہے۔

ایشوری کی فیملی کا تعلق دلت ذات سے ہے۔ میرٹھ کے آس پاس کے ۵۰ گاؤوں میں ’فٹ بال کی سلائی‘ کرنے والے زیادہ تر مزدور یا تو مسلمان ہیں یا پھر بے زمین دلت۔ اوسطاً ایک دن میں سات گھنٹے کام کرنے کے بعد ایک بالغ مزدور تین فٹ بال تیار کر سکتا ہے؛ جب کہ ایک بچہ زیادہ سے زیادہ دو کی سلائی کر سکتا ہے۔ اس کے لیے انھیں صرف تین روپے ملتے ہیں اگر فٹ بال کا سائز چھوٹا یا اوسط درجہ کا ہوا تو، لیکن بڑے سائز کا ہونے پر انھیں ۵ روپے دیے جاتے ہیں۔ چھ لوگوں کی فیملی، ایک دن میں آٹھ فٹ بال بنا لیتی ہے اور اس طرح یہ فیملی ایک مہینہ میں ۶۰۰ سے ۹۰۰ روپے سے زیادہ آمدنی کی امید نہیں کر سکتی، یہ بھی بازار کی مانگ پر منحصر ہے۔ فٹ بال کی قیمت خردہ بازار میں بھی ۱۰۰ سے لے کر ۳۰۰ روپے تک ہو سکتی ہے۔ اگر سلائی ٹھیک سے نہ ہونے کی شکایت ملتی ہے، تو ٹھیکہ دار ری پیئر کی قیمت مزدور کی اجرت سے کاٹ لیتا ہے۔ بھاری نقصان، مثال کے طور پر بلیڈر کے پنکچر ہوجانے پر فٹ بال کی پوری قیمت اس کو بنانے والے کی مزدوری سے کاٹ لی جاتی ہے۔

ایسا کہا جاتا ہے کہ عالمی سطح پر فٹ بال بنانے میں ہندوستان کا نمبر پاکستان کے بعد دوسرا ہے؛ پاکستان کا سیال کوٹ اور ہندوستان میں جالندھر اور میرٹھ کھیل سے متعلق اشیاء بنانے کے اہم مراکز ہیں۔ اس سال کے ورلڈ کپ کے لیے، سیال کوٹ نے جرمنی کو تقریباً ساڑھے ۵ کروڑ فٹ بال ایکسپورٹ کیے؛ جالندھر کے پاس ۲۰۰۲ کا ’اسٹار کانٹریکٹ‘ تھا۔ ورلڈ کپ جیسے جیسے آگے بڑھ رہا ہے، فٹ بال کی مانگ میں تیزی سے اضافہ ہوتا جا رہا ہے، کچھ ٹھیکہ دار تو ایک دن میں ایک مینوفیکچرنگ یونٹ کو ۲۵ ہزار فٹ بال بنانے کے لیے کہتے ہیں۔ لیکن، اس نایاب اور شاندار موقع پر ایک فٹ بال بنانے کی مزدوری صرف ۵۰ پیسے بڑھائی گئی ہے۔ یونین کی کمی، مول بھاؤ کی طاقت اور گزر بسر کا کوئی دوسرا متبادل نہ ہونے کی وجہ سے گاؤوں والے آسان سے اس بات کے لیے راضی بھی ہوگئے۔ اگر وہ مزدور کی موجودہ شرح پر کام کرنے سے انکار کردیں، تو کوئی دوسرا کم قیمت پر بھی کام کرنے کے لیے تیار ہو جائے گا، اس لیے وہ سوچتے ہیں کہ کم از کم ’’کچھ تو‘‘ کما رہے ہیں۔

سیسولا، جسے فٹ بال بنانے والوں کا ’ہیڈکوارٹر‘ تصور کیا جاتا ہے، یہاں کی تنگ گلیوں اور چھوٹے چھوٹے گھروں میں عورتوں اور بچوں کو لکڑی کے ایک ٹکڑی پر پیٹھ جھکائے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جہاں وہ دو سرے والی سوئیوں سے ربر کے چھوٹے چھوٹے رنگین ٹکڑوں کو آپس میں سل رہی ہوتی ہیں۔ اکثر سلائی کرتے ہوئے ان کی نازک انگلیوں میں یہ سوئیاں چبھ جاتی ہیں، ساتھ ہی ریشم کے جس دھاردار دھاگے سے فٹ بال کے ان ٹکڑوں کی سلائی کی جاتی ہے، اس سے بھی ان کے ہاتھ زخمی ہو جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ آنکھوں کی بینائی پر جو فرق پڑتا ہے، وہ الگ۔ یہ دیر تک سلائی کے کام میں لگے رہنے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ ’’انھیں کسی نے بھی ٹھیک ڈھنگ سے بیٹھنے کی ٹریننگ نہیں دی ہے،‘‘ مقامی کارکن شیر محمد خان کہتے ہیں، ’’جس کی وجہ سے انھیں پیٹھ کے درد وغیرہ کی بیماری ہونے لگتی ہے۔‘‘ چونکہ مقامی سطح پر ان کے لیے طبی سہولیات موجود نہیں ہیں، اس لیے وہ اپنی پریشانیوں کا علاج جھٹ پٹ تیار ہوجانے والے گھریلو نسخے سے کر لیتے ہیں۔ اگر کبھی کبھار کوئی ڈاکٹر آ بھی جائے، تو اس کی فیس اتنی اونچی ہوتی ہے، یہ اسے برداشت نہیں کر سکتے۔

ورلڈ کپ کا سیزن ہونے کی وجہ سے بچے اب زیادہ تر وقت اسکول سے باہر ہی رہتے ہیں؛ بڑھتی ہوئی مانگ نے انھیں اس بات کے لیے مجبور کر دیا ہے کہ وہ گھر پر رہ کر زیادہ سے زیادہ فٹ بال کی سلائی کریں، جس سے ان کی فیملی کی آمدنی میں اضافہ ہوگا۔ خان بتاتے ہیں کہ گاؤں میں صرف ایک پرائمری اسکول ہے۔ پرائیویٹ اسکولوں میں ایک بچہ کی ماہانہ فیس کم از کم ۵۰۰ روپے ہے، جس میں کاپی کتاب کا خرچ بھی شامل ہے، اس لیے یہ مزدور اپنے بچوں کو وہاں نہیں بھیج سکتے۔ یہاں زیادہ تر گھروں میں تین سے زائد بچے ہیں، اس لیے ان کی تعلیم کا انتظام کرنا مشکل ہے۔ اسی لیے زیادہ تر کنبوں کے لیے بچوں کو کام پر لگانا ہی بہتر طریقہ نظر آتا ہے۔


/static/media/uploads/Articles/Shalini Singh/meerutfootballstory/no_free4.jpg


ٹھیکہ دار کی طرف سے جو کہانی سنائی گئی، وہ کچھ حد تک بہتر لگتی ہے۔ سیسولا کے مٹھی بھر ٹھیکہ داروں میں سے ایک ۶۰ سالہ چندر بھان بھی ہیں۔ ان کے مطابق، فٹ بال کے سائز کے حساب سے ہر ایک کی مزدوری طے ہے: سب سے چھوٹے کی ۴ روپے، اور بڑے کی ساڑھے ۵ روپے۔ لیکن، جب ان سے یہ کہا گیا کہ گاؤوں والوں نے کچھ اور ہی قیمت بتائی ہے، تو وہ انکار میں اپنا سر ہلانے لگتے ہیں۔ چندر بھان جیسے ٹھیکہ دار ربر انڈسٹری کے ایجنٹوں سے سنتھیٹک فٹ بال میٹریل، چادر (یا بڑے ٹکڑوں) کی شکل میں ۲۶ روپے فی چادر کے حساب سے خریدتے ہیں۔ پھر ان چادروں کو پانچ کونے والے ٹکڑوں میں مشین سے کاٹا جاتا ہے۔ ایک چادر یا شیٹ سے صرف ایک فٹ بال بنتا ہے۔ اس میں دیگر اخراجات بھی جوڑ دیجئے: دھاگہ ۲۲۰ روپے فی کلو؛ باقی ۳ روپے (یا چار، اگر آپ چاہیں) مزدوری کے لیے، اس طرح ایک فٹ بال بنانے کی مجموعی لاگت تقریباب ۳۱ یا ۳۲ روپے آتی ہے۔ اپنی آنکھیں چراتے ہوئے، چندربھان کہتے ہیں کہ وہ اس فٹ بال کو زیادہ سے زیادہ ایک یا دو روپے کے منافع پر ڈسٹری بیوٹر کو بیچتے ہیں۔ مزدوری کی شرح میں گزشتہ ۱۰ برسوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ ’’ہم نے بھی اسی ریٹ پر کام کیا ہے،‘‘ چندربھان کہتے ہیں۔ کساد بازاری کی بات کرنے پر وہ کچھ اور بڑبڑانے لگتے ہیں۔

جب ان سے ری پیئر کی قیمت مزدوری میں سے کاٹنے اور اگر ان کے ریٹ پر کوئی راضی نہ ہوا، تو کسی دوسرے سے کام کرانے کی دھمکی سے متعلق سوال پوچھنے پر چندر بھان نے جواب دیا کہ وہ کسی بھی قسم کے نقصان کی بھرپائی اپنی جیب سے کرتے ہیں، باقی چیزوں کے لیے وہ کاروباری جواب دیتے ہیں۔ ’’اس ملک میں بے روزگاری بہت زیادہ ہے؛ ہم کم از کم انھیں کام تو دے رہے ہیں تاکہ وہ اپنا گھر چلا سکیں۔‘‘ چندربھان کے دو بچے ہیں؛ ان میں سے ایک تو ان کا کام میں ہاتھ بٹاتا ہے، جب کہ دوسرا کالج میں ہے۔ ’’میں اپنے دوسرے بچے کو سپلائر یا ڈسٹری بیوٹر بناؤں گا،‘‘ وہ کہتے ہیں۔

بچہ مزدوری کے خلاف ’گلوبل مارچ‘ ایک بین الاقوامی سماجی تحریک ہے، جس میں فٹ بال انڈسٹری سے بچہ مزدوری کو ختم کرنے کی لڑائی بھی شامل ہے۔ سال ۲۰۰۲ میں، انھوں نے فیفا (عالمی فٹ بال کپ کی بین الاقوامی تنظیم) سے اپیل کی تھی کہ وہ کھیل سے متعلق اشیاء، خاص کر فٹ بال بنانے والی اکائیوں میں کام کرنے والے بچوں کی پریشانیوں پر بھی توجہ دیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ فیفا نے ورلڈ فیڈریشن آف اسپورٹنگ گڈس انڈسٹری کے ساتھ مل کر ایک ضابطہ اخلاق جاری کیا ہے، جس کے تحت ہندوستان اور پاکستان دونوں جگہوں پر فٹ بال بنانے والی انڈسٹری کی نگرانی کی جائے گی۔ ’گلوبل مارچ‘ کے مطابق، فیفا خود بھی اپنے اس ضابطہ اخلاق پر عمل کرنے میں ناکام رہی ہے، حالانکہ اس نے اس صنعت سے بچہ مزدوری کو ختم کرنے کا عہد کیا تھا۔ جالندھر اور میرٹھ میں فٹ بال بنانے والی صنعت میں اب بھی ۱۰ ہزار بچے کام کر رہے ہیں۔ ’گلوبل مارچ‘ کے صدر، کیلاش ستیارتھی کہتے ہیں کہ ان کے گروپ کی ہندوستانی شاخ، ’بچپن بچاؤ آندولن‘ میرٹھ کے جانی خورد بلاک میں ۱۰ گاؤوں کو ’بچہ دوست گاؤوں‘ کے طور پر تیار کرنے کے بارے میں سوچ رہی ہے، جہاں پر اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ بچے روزانہ اسکول جا رہے ہیں۔ دورالا بلاک کا پوہلی گاؤں اس کوشش کی ایک مثال بتایا گیا۔

دریں اثنا، سیسولا میں اگر آپ بچوں سے یہ سوال پوچھیں گے کہ فٹ بال کا بہترین کھلاڑی کون ہے، تو وہ ایک ساتھ زور سے چلاتے ہوئے کہیں گے، ’’دھونی! سچن!‘‘ ان سے جب آپ یہ پوچھیں گے کہ ورلڈ کپ میں کون ہارے گا، تو جواب ملے گا: ’’پاکستان!‘‘ خان ہنستے ہوئے کہتے ہیں کہ فٹ بال بنانے کے کام میں لگے ہوئے یہ بچے صرف کرکٹ کے بارے میں جانتے ہیں۔

یہ اسٹوری سب سے پہلے تہلکہ میں شائع ہوئی تھی: http://archive.tehelka.com/story_main18.asp?filename=hub070806No_Free_PF.asp

ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @Tabrez_Alig You can contact the translator here:

Shalini Singh

شالی سنگھ دی ویک میگزین سے وابستہ صحافی ہیں اور دہلی میں رہتی ہیں۔ وہ عورت و مرد کے مسائل، ثقافت، سماجی تبدیلیوں اور حالاتِ حاضرہ پر لکھتی ہیں۔ وہ ’پاری‘ کی بانی ٹیم کا حصہ ہیں۔

Other stories by Shalini Singh